شناخت کا بحران

مقتدا منصور  جمعرات 9 اپريل 2015

جیسے جیسے دنیا عالمگیرگاؤں(Global Village) کی شکل اختیارکر رہی ہے، وہیں، تارک الوطن افراد کے لیے مسائل پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بالخصوص ترقی پذیر ممالک سے عوام کی بہت بڑی تعداد نے روزگارکی دستیابی، بہتر سماجی سہولیات اور پرسکون حالات زندگی کی خاطر ترقی یافتہ ممالک کا رخ کیا۔

ان تمام سہولیات سے تو بہرحال وہ فیضیاب ہورہے ہیں، لیکن ساتھ ہی شناخت کے بحران کا بھی شکار ہوتے چلے گئے۔ ایسا کیوں ہوا یہ سمجھنے کے لیے تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔تاریخ میں انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت یا نقل مکانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی کہ خود انسان کی اس کرہ ارض پر اپنی تاریخ۔ انسان نے زیادہ تر بنجر اور بے آب وگیاہ علاقوں سے زرخیز علاقوں کی طرف ہجرت کی۔

لیکن تاریخ میں ایسے واقعات بھی موجود ہیں، جب انسانوں کے گروہوں نے جذبات سے مغلوب ہوکر سرسبزوشاداب علاقوں سے بنجر وبیابان علاقوں کی طرف مراجعت کی۔لیکن کبھی آنے والے یعنیInvaders اور کبھی مقامی لوگ یعنی Indigenous Peopleشناخت کی بحران کا شکار ہوئے۔یہی سبب ہے کہ اس کرہ ارض پرجہاں دیگر ان گنت انسانی مسائل ہیں،وہیںشناخت کا بحران بھی انتہائی اہم اور نازک معاملہ ہے۔لہٰذا تاریخ کے تناظر میں اس کا مطالعہ ضروری ہے۔

دنیا کی معلوم تاریخ میں بڑے پیمانے پر پہلی معلوم ہجرت آریائی اقوام کی نظر آتی ہے۔جو5ہزار سال قبل مشرقی یورپ اور وسط ایشیاء کو تاراج کرتے ہوئے ایران اور ہندوستان تک پہنچے۔برصغیر ہند کے اصل(Indigenous) باشندے دراوڑ تھے،جو طبعاً صلح جو، نرم خو اورمعاملہ فہم تھے،جب کہ آنے والے جنگجو، تلخ گو، مگر خوبرو تھے۔انھوں نے دراوڑوں کو جنوب کی جانب دھکیل دیا ، جو باقی بچے انھیں دلت بنا دیا۔

یوں شمالی ہند آریاؤں کا ہوا اور جنوبی ہند دراوڑوں کا۔ مگر چپقلش کئی صدیاں گذرنے کے بعدآج تک موجود ہے۔ یعنی دکن والوں نے کبھی رام کو اوتار نہیں مانا ، تو شمال والوں نے راون کوہمیشہ ولن گردانا۔ گویا دونوں اقوام یا نسلوں کے درمیان ہزاروں برس سے عقیدے کے نام پر ہی سہی ایک قسم کی سرد جنگ آج تک جاری ہے۔

تاریخ کی دوسری بڑی نقل مکانی قوم بنی اسرائیل کی ہے، جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے۔ سورۃ یوسف کے مطابق جب حضرت یعقوبؑ کو معلوم ہوا کہ ان کا چہیتا پسر یوسفؑ زندہ وسلامت مصر میں موجود ہے، تو انھوں نے مصر جانے کا قصد کیا اور اپنے قبیلے کے ساتھ1800قبل مسیح میں مصر پہنچے۔ سرخ و سپید رنگت، تیکھے نقش اور طویل قامت رکھنے والے بنی اسرائیلوں نے آبنوسی رنگ، بھدے نقوش اور پستہ قد مصریوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور دریائے نیل  کے شمالی کنارے کوجو کہ نہایت سرسبز وشاداب تھا، اپنے لیے منتخب کیا۔ساڑھے چار سو برس تک انھوں نے خود کومصرکے اصل باشندوں سے دور رکھا،جو نیک سیرت، نیک طینت اور سادہ لوح انسان تھے۔

مگر نسلی برتری کا تفاخرتعلقات کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بنارہا۔ یہ اپنے وطن فلسطین کو یاد کرتے اور آہیں بھرتے۔ تا آنکہ ان کے قبیلے میں حضرت موسیٰ کا جنم ہوا۔ جب موسیٰ کی پیغمبری کے چرچے عام ہوئے تو بنی اسرائیل کے بوڑھے ان سے کہتے کہ ’’اے موسیٰ اگر تو خدا کا نبی ہے تو ہمیں اپنے وطن فلسطین واپس لے چل۔‘‘ (حوالہ: عہد نامہِ قدیم)۔ بالآخر فرعونِ مصر سے معرکہ ہوا اور بنی اسرائیل اپنے وطن مولوف یعنی فلسطین کی طرف واپس ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب انسانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلاط نہیں ہوتا تو کسی ایک کو پسپائی یا وہ جگہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جہاں اس نے سکونت اختیار کی ہے۔

نقل مکانی کا تیسرا بڑا واقعہ بخت نصر کے حملوں کے نتیجے میں قوم یہود کا فلسطین سے باہر نکلنا ہے۔ مگر اس مرتبہ یہ ماضی کی طرح مجتمع ہوکر نہیں نکلے، بلکہ جس کے جہاں سینگ سمائے وہاں چلاگیا۔ کچھ ترکی وخراسان کے راستے روس تک جاپہنچے۔ زیادہ تر  نے مشرقی وسطی یورپ کو اپنا مسکن بنایا۔ قوم بنی اسرائیل کی جہاں بہت سی منفی عادات و اطوار سامنے آتی ہیں، وہیں بعض مثبت خصوصیات بھی سامنے آتی ہیں۔ جب یہ مصر گئے تو انھوں نے اپنی زبان (عبرانی) کو مصریوں کے زبان سے الگ تھلگ رکھا اور اس میں مصری زبان کی آمیزش نہیں ہونے دی۔

اپنے تہذیبی اور تمدنی ورثے کی نسل پرستی کی حد تک حفاظت کی۔ مصر تو پورا قبیلہ ساتھ گیا تھا اور ساڑھے چار سو برس بعد ایک ساتھ واپس ہوا۔ مگر بخت نصر کے حملے کے بعد وہ بکھر گئے۔ یہ ان کا سیاسی وسماجی ویژن تھا کہ دو ہزار برس تک دربدر ،خاک بسر رہنے کے باجود اپنے تمدنی ورثے کو بکھرنے نہیں دیا۔

ان کے بڑوں نے اپنی قوم کو تین عزائم دیے اور پوری قوم ان پر ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہی۔ اول، اپنی زبان(عبرانی) کو فنا نہیں ہونے دینا۔ دوئم، اپنے اصل وطن یروشلم ایک دن ضرور واپس جائیں گے۔ سوئم ، اپنی پوری توجہ حصول علم پر مرکوز رکھیں گے اور روزگار منفعت بخش کاروبار کے ذریعے حاصل کریں گے۔

یہودی زعماء اور مدبرین  نے اپنی نسلوں کی انھی خطوط پر تربیت کی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی کل آبادی میں صرف ایک فیصد ہونے  کے باوجود دنیا  کے اوسطاً60 فیصد مفکر، فلسفی اور سائنسدان یہودی ہیں۔ دنیا کے انتہائی اہم اور منفعت بخش کاروبار یا کلیتاً یہودیوں کی ملکیت ہیں، یا پھر ان میں بڑا شئیر یہودیوں کا ہے۔ امریکا کی کل آبادی کا 4 فیصد ہیں،  مگر امریکی معیشت ان کے گرد گھومتی ہے۔عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤں یہودیوں کی مرضی سے ہوتا ہے۔

سونے اور جواہر کے بڑے بیوپاری یہودی ہیں۔ ذرایع ابلاغ اور اہم عالمی تجارتی مراکز کی اکثریت پر یہودی حاوی ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ چار ہزار سال سے وہ حالت سفر میں ہیں دو مرتبہ طویل ہجرتوں کا عذاب جھیلا ہے اور تلخ ترین تجربات سے گذرے ہیں۔

چوتھی ہجرت یورپ  کے بدقماشوں،  بدکرداروں اور بھگوڑوں کی نئی دنیا یعنی امریکا کی جانب ہوئی۔  نئی دنیا جسے 1510ء کے لگ بھگ کولمبس نے دریافت کیا تھا، لیکن جلد ہی یورپ سے آنے والے طالع آزماؤں کی جنت بن گیا۔

جس طرح مشرقی یورپ سے آنے والے آریاؤں نے ہندوستان کی سیاسی و سماجی زندگی کو تاراج کیا اوراصل باشندوں (دراوڑوں)کو دلت بنادیا۔بالکل اسی طرح یورپ سے امریکا جانے والوں نے وہاں کے اصل باشندوں (ریڈانڈینز)کو غلام بنا کر ان کا بدترین استحصال کیا۔آج بھی اس براعظم کے اصل باشندے امریکا کی ہوشربا ترقی میں نہ کوئی کردار ہے اور انھیں اس سے مستفیض ہونے کا حق حاصل ہے۔ وہ میکسیکو جیسے دوردراز علاقوں میں انتہائی پسماندہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعدبہترروزگار، عمدہ سماجی سہولیات اوربچوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر ترقی پذیر ممالک سے عوام کے مختلف طبقات  بہت بڑی تعداد میں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کی جانب کھنچنا شروع ہوئے۔مگر  سرد جنگ کے خاتمے تک ہمیں ایسے شواہد نہیں ملتے کہ اجتماعی طور پر تارک الوطن لوگوں نے اپنی سابقہ شناخت پر اس شدت کے ساتھ اصرار کیا ہو، جیسا کہ اب کیا جا رہا ہے۔ہوسکتا ہے کہ انفرادی سطح پر اس قسم کے جذبات پائے جاتے ہوں۔

تاہم  ان کا اجتماعی اظہاراس طرح بڑے پیمانے پر سامنے نہیں آیا۔ لہٰذا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ دہائیوں کے دوران یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی اور اس کے پس پشت کیا عوامل ہیں؟پہلاجواب یہ ہے کہ انسان مختلف وجوہات کی بنیاد پر نقل مکانی تو کرتا ہے، مگر اس کے لیے مقامی معاشرت میں ضم ہونا اس وقت انتہائی مشکل ہوجاتا ہے،جب وہ ایک کمیونٹی کی شکل میں ہو۔ دوسرے انسانی تاریخ کی درج بالا چار بڑی ہجرتوں کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسانی گروہ کسی ایک جگہ سے دوری جگہ نقل مکانی کرتے ہیں تو دو صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔

اول، تارک الوطن مقامی آبادی پر حاوی آجاتے ہیںاور انھیں انتہائی زد پذیر زندگی گذارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ دوئم ، آنے والے مقامی معاشرت میں ضم ہوجاتے ہیں یا پھر قوم بنی اسرائیل کی طرح ساڑھے چار سو برس بعد بھی اپنے وطن مالوف کی طرف واپسی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا مغرب میں قیام پذیر یا وہاں کی شہریت رکھنے والے تیسری دنیا  کے شہریوں کو سوچنا ہوگا کہ انھیں کیا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟ آیا انھیں اپنی ثقافتی روایات کی خاطر ان ممالک میں حاصل سہولیات کو ترک کرتے ہوئے اپنے سابقہ وطن واپس ہوجانا چاہیے؟یا اپنی ثقافتی روایات کو ترک کرتے ہوئے ان معاشروں کا حصہ بن جانا چاہیے، جہاں وہ کئی دہائیوں سے بہتر روزگار، سماجی سہولیات اور پرسکون زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ حالیہ شناختی بحران سے نکلنے کے لیے انھیں ان دو راستوں میں سے کسی ایک کا بہرحال انتخاب کرنا ہوگا۔ کیونکہ ان معاشروں میں رہتے ہوئے اپنی سابقہ ثقافتی روایات پر اصرار انھیں نئے مسائل کا شکار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔