بے سمت مسافر

مقتدا منصور  پير 13 اپريل 2015

9 ماہ تک کسی بڑی تبدیلی کا انتظار کرتے کرتے تھک کر تحریک انصاف بالآخر انھی اسمبلیوں میں واپس پہنچ گئی، جنھیں وہ ایک سے زائد مرتبہ جعلی اور چوروں، اچکوں اور لٹیروں کی آماجگاہ قرار دے چکی تھی تاہم پارلیمان میں واپسی بہرحال ایک مستحسن اقدام ہے، جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ مگر کیا اس واپسی کا کوئی اخلاقی جواز ہے؟ اس پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ چاہے دیر سے ہی سہی، بہرحال وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ضرور ہوئی ہے کہ جمہوریت کا سفر پارلیمان سے باہر نہیں اندر جاری رہتا ہے۔ مگر ساتھ ہی اسے اپنے ان بیانات اور رویوں پر شرمسار بھی ہونا چاہیے، جو گزشتہ کئی برسوں سے بالعموم، جب کہ دھرنے کے دوران بالخصوص اپنائے رکھے۔ تحریک انصاف کی طرز سیاست کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاسی نظریات، رویوں اور تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

تحریک انصاف 25 اپریل 1996 کو وجود میں آئی۔ اس کے بانی عمران خان معروف کرکٹر رہے ہیں۔ کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں لاہور میں کینسر اسپتال قائم کرکے ایک نیک کام کیا، جو ان کی توقیر میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ مگر کچھ عرصہ بعد انھیں یہ وجدان ہوا یا کسی نے باور کرایا کہ خدمت خلق محدود شعبہ ہے، تبدیلی کے لیے سیاست کے میدان میں اترنا ضروری ہے۔ یوں عمران خان سماجی خدمت سے نکل کر سیاست کے میدان میں داخل ہوگئے۔

شروع میں ان کی خواہش تھی کہ ان کی جماعت روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کی حامل کہلائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے دست راست نعیم الحق کے ذریعے قومی محاذ آزادی کے مرکزی رہنما اظہر جمیل سے رابطہ کیا تاکہ بائیں بازو کے معروف سیاسی رہنما معراج محمد خان کو تحریک انصاف میں لایا جاسکے۔ طویل مشاورت کے بعد قومی محاذ آزادی دسمبر 1997 میں تحریک انصاف میں ضم ہوگئی اور معراج محمد خان اس کے مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر ہوگئے۔ حالانکہ راقم سمیت معراج محمد خان سے عقیدت رکھنے والے کئی اہل قلم نے اس انضمام کی مخالفت کی تھی۔

راقم کا موقف تھا کہ قومی محاذ آزادی گوکہ ایک چھوٹی جماعت سہی، مگر مضبوط نظریاتی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ جماعت ورکنگ کلاس کے علاوہ تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے جذبات و احساسات کی ترجمان ہے، اس لیے اسے برقرار رہنا چاہیے۔ راقم کا یہ بھی خیال تھا کہ عمران خان کی شخصیت کو سامنے رکھیں تو یہ قربت زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گی۔ بہرحال جن خدشات کا اظہار انضمام کے وقت کیا گیا تھا، وہ درست ثابت ہوئے اور قومی محاذ آزادی اپریل 2003 میں تحریک انصاف سے الگ ہوگئی۔

اکتوبر1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا، تو عمران خان نے ان کی بھرپور حمایت کی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انھیں یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ پرویز مشرف انھیں اپنا وزیراعظم منتخب کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی جماعت نے 2001 میں ہونے والے ریفرنڈم میں پرویز مشرف کی بھرپور حمایت کی۔ مگر اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ بمشکل میانوالی کی اپنی نشست حاصل کرسکے۔ مگر پھر بھی وزارت عظمیٰ کا خواب ان کی آنکھوں میں سجا رہا۔ مگر جب پرویز مشرف کے معاونین نے مسلم لیگ (ق) کو اقتدار دلانے کے لیے پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنائی تو ان کے خواب بکھر گئے اور دل ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد وہ پرویز مشرف کے مخالفین کے ساتھ جاملے۔

دسمبر 2011 میں لاہور کے مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ تحریک انصاف کے لیے نئی آکسیجن ثابت ہوا۔ مگر واضح سیاسی نظریات کی عدم موجودگی کی وجہ سے تحریک انصاف کی قیادت یہ فیصلہ نہیں کرپائی کہ عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کا کس طرح فائدہ اٹھایا جائے۔ لہٰذا کامیابی کے نشے میں چور تحریک انصاف نے ہر جماعت کے نکالے ہوئے یا نکلے ہوئے افراد کو اپنی آغوش میں لینا شروع کردیا۔ یوں پہلے سے منتشر خیالات کی حامل جماعت مزید فکری انتشار کا شکار ہوگئی۔ لیکن ساتھ ہی انھیں یہ گمان بھی ہوگیا کہ وہ ملک کے طول وعرض میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیں گے۔ حالانکہ مئی 2013 کے عام انتخابات سے دو ماہ قبل ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 30 سے 40 تک نشستیں مل سکیں گی۔ انھوں نے نہ صرف انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے بلکہ اس سابق چیف جسٹس کو بھی الزامات میں لپیٹ دیا، جس کی بحالی کے لیے وہ اور ان کی جماعت جوش وخروش دکھاتی رہی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں 1970ء سے اب تک کل 10 عام انتخابات ہوچکے ہیں، جن میں سوائے 1970ء کے انتخابات کو چھوڑ کر باقی سبھی انتخابات متنازع رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سبھی جماعتیں پارلیمان میں سرجوڑ کر بیٹھیں اور جس طرح 18 ویں ترمیم منظور کی، اسی طرح انتخابی اصلاحات لانے کے لیے قانون سازی کریں اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا طریقہ کار وضع کریں۔ مگر عمران خان نے کوئی صائب راستہ اختیار کرنے کے بجائے 124 روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیے رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ جن قوتوں پر تکیہ تھا ‘ وہ ملک کی مخدوش صورت حال‘ خطے اور عالمی سیاست کے بدلتے تیوروں کے باعث ان کی مدد نہیں کر سکیں‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف بند گلی میں پھنس گئی۔ انھیں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا شکر گزار ہونا چاہیے، جن کی مصالحانہ کوششوں کے باعث وہ اس بحرانی کیفیت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ پھر استعفے دینے کے باوجود وہ قومی اسمبلی میں بھی جا پہنچے۔جہاں ان پر جملے کسے گئے اور مذاق اڑایا گیا۔

عمران خان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے ذہن میں جو بات سما جائے، وہ بڑی مشکل سے نکلتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے رہے حالانکہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی گفت و شنید نہیں ہو سکتی جو اس ملک کے آئین اور نظام حکمرانی کو تسلیم نہ کرتے ہوں۔ تاآنکہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ نہیں ہوگیا۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی سیاست کنفیوژن پر مبنی ہے۔

وقت اور حالات نے ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی قیادت کی سوچ، مبہم اور غیر واضح ہے، جس کی وجہ سے ان میں ملک کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ تحریک انصاف کے فکری کنفیوژن کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف اپنے جلسوں میں یہ فیشن ایبل نوجوانوںکو اپنی جانب کھینچنے کے لیے جدید موسیقی کا اہتمام کرتی ہے، جب کہ دوسری طرف مذہبی شدت پسند عناصر کی وکالت کرتی اور بنیاد پرست جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتی ہے لہٰذا تحریک انصاف کو ایک بے سمت مسافر کہنا کسی طور غلط نہ ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔