اندر کی توڑ پھوڑ کا عمل

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 25 اپريل 2015

سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ان کی شادی تھی۔ میری ٹوڈ سے شادی کے دوسرے دن ہی لنکن کو احساس ہو گیا کہ وہ دونوں زندگی کے ہر شعبے میں بالکل متضاد مزاج کے مالک ہیں اور کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ ان کی خواہشات، تربیت اور ذوق بالکل مختلف تھے۔ مثلا ً میری ٹوڈ بڑی نمائش پسند اورشیخی خور تھی۔

وہ پیرس والوں کے لہجے میں فرانسیسی بولتی، وہ ساری ریاست میں سب سے زیادہ پڑھی لکھی عورت تھی۔ لیکن اس کے برعکس لنکن اپنی ساری زندگی میں تین سو دن سے زیادہ اسکول نہ گیا تھا۔ میری ٹوڈ کو اپنے خاندان پر بہت ناز تھا۔ اس کے رشتے دارگورنر اور فوج میں جرنیل وغیرہ تھے اور اس کا چچا بحری فوج کا سیکریٹری تھا۔

لیکن لنکن کو اپنے خاندان اور شجرہ خاندان پرکسی قسم کا فخرنہ تھا۔ اسپرنگ فیلڈ کی رہائش کے دوران میں اس کا فقط ایک رشتے دار اسے ملنے آیا۔ میری ٹوڈ لباس اور نمائش کی بے حدشوقین تھی، اس کے برعکس لنکن کو اپنی شکل و شباہت میں ذرا دلچسپی نہ تھی۔ بعض اوقات تو اس کی پتلون کے پائنچے اس کے پاؤں میں اٹک رہے ہوتے اور وہ میلے چکٹ ہوتے تھے۔

میری ٹوڈ کو آداب محفل سے پوری واقفیت تھی اور وہ ان کا بے حد خیال رکھتی تھی، لیکن لنکن کی زیادہ عمر ایک خستہ حال کمرے میں گزری۔ کھانے کی میز پر اسے چھری کانٹے کا استعمال نہ آتا تھا ْ جس سے میری کو بے حد کوفت ہوتی تھی۔ میری بڑی مغرور اور ضدی تھی لیکن لنکن بڑا منکسر تھا، میری بڑی حاسد تھی اور اگر لنکن کسی عورت کی طرف یونہی سرسری نظر سے دیکھ بھی لیتا تو وہ ہنگامہ بر پا کر دیتی اور اس کا حسد اس قدر غیر معقول، تلخ اور بے بنیاد تھا کہ آج بھی پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔

ان کی منگنی کے چند روز بعد ہی لنکن نے اسے خط لکھا کہ وہ اس سے اس قدر محبت نہیں کرتا کہ اس سے شادی کر سکے اس نے یہ خط اپنے جو شو اسپیڈ کو دیا کہ میری ٹو ڈ کو پہنچا دے اسپیڈ نے یہ خط کھولا اسے پڑھا اور پھاڑ کر آتش دان میں پھینک دیا اور لنکن سے کہا کہ وہ خود میری ٹوڈ سے ملے اس نے ایسا ہی کیا جب میری ٹوڈ کو معلوم ہوا کہ وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو وہ رونے لگی، لنکن کی سب سے بڑی کمزوری عورت کے آنسو تھے۔

لہذا اس نے اسے اپنے بازؤں میں لے لیا اور اپنے الفا ظ واپس لے لیے۔ یکم جنوری 1841ء شادی کا دن مقرر ہوا، شادی کی تیاری ہو چکی تھی مگر لنکن غائب تھا کیوں؟ اس کیوں کا جواب میری ٹوڈ کی بہن نے بعد میں ان الفاظ سے دیا ’’و ہ پاگل ہے‘‘ دراصل شادی سے پہلے لنکن کا دماغ اس صدمے سے چکرا گیا تھا، وہ ایک کمرے میں پڑا بس یہی الفاظ بار بار دہرا رہا تھا میں زندہ نہیں رہنا چاہتا، اس کے دوستوں نے اس کی جیبوں کی تلاشی لی تو ایک چا قو نکلا اگر وہ تھوڑی دیر بعد میں آتے تو وہ خود کشی کر چکا ہوتا، وقتی طور پر ان کی شادی ملتوی کر دی گئی۔

اس کے بعد لنکن نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ پر در خط لکھا یہ خط لفظ بہ لفظ ذیل میں درج ہے ۔ ’’اب میں قابل رحم اور بدقسمت ترین آدمی ہوں اگر میرے موجودہ احساسات بنی نوع انسان کے سارے خاندان میں تقسیم کر دیے جائیں تو دنیا میں ایک شخص بھی نظر نہ آئے گا کیا میری حالت کبھی بہتر ہو گی۔ اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں انتہائی دکھ سے کہتا ہوں کہ میری حالت کبھی بہتر نہ ہو گی، لیکن موجودہ دلی اور ذہنی کیفیت میرے لیے ناقابل برداشت ہے مجھے مر جانا چاہیے۔

یہی میری دکھ کا واحد علاج ہے۔‘‘  اس واقعے کے تقریباً دو برس بعد تک لنکن میری ٹوڈ سے بے تعلق رہا۔ آخر ایک دن ایک کمرے میں میری ٹوڈ نے لنکن سے کہا کہ اس سے شادی کرنا اس کا فرض ہے اور لنکن نے یہ فرض قبول کر لیاْ۔ شادی کے بعد ایک صبح مسٹر اور مسز لنکن ایک بورڈ نگ ہا ؤس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے، لنکن کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی ۔

جس پر اس کی بیوی کو غصہ آ گیا اس نے چائے کی گرم پیالی اٹھا کر لنکن کے منہ پر دے ماری دوسرے لوگ اس کی اس حرکت پر بے حد پریشان ہوئے لنکن خاموش بیٹھا رہا اور اس نے اپنی بیوی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا اس نے اسے لعن ملامت بھی نہ کی وہ اسی حالت میں بیٹھا رہا کہ بورڈ نگ ہاؤس کی مالکہ نے ایک کپڑے سے اس کا منہ اور لباس صاف کیا۔ اس نوعیت کے کئی واقعات لنکن کی گھریلو زندگی میں اکثر پیش آتے رہتے تھے۔ لیکن ہمیں لنکن کی بیوی کو زیادہ کڑی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ انجام کار وہ پاگل ہو گئی اور پاگل ہونے سے پہلے ہی پاگل پن کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے تھے۔

ابراہام لنکن کے متعلق جو بات لوگوں کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنی ازدواجی زندگی کے تیئس خوش گوار سال کسی شکایت یا غصے کے بغیر گزار دیے۔ آج کل پاکستانی سماج جن خوفناک عذابوں میں مبتلا ہے ان میں عدم برداشت سر فہرست ہے عدم برداشت وہ نفیساتی کیفیت ہے جس سے انسان کی زندگی کا سارا توازن درہم ، برہم ہو کے رہ جاتاہے۔

آج ہمارے معاشرے کے زیادہ تر عذابوں کی ذمے داری اسی پر عائد ہوتی ہے اس کیفیت کے حامل شخص آگے چل کر اپنے آپ کو بھی برداشت نہیں کر پاتے ہیں۔ اس کے مریض بات بات پر اپنے آپے سے باہر اور لڑنے مرنے پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں ان کی زندگی کے تمام تعلقات، تمام رشتے، تمام ذمے داریاں ایک عذاب بن کر ان کے اندر داخل ہو جاتے ہیں یاد رہے آپ اپنے اندر کے عذابوں کی تکلیف سے کبھی نجات حاصل نہیں کر سکتے اور آپ کے اندر کی توڑ پھوڑ کا عمل ایک روز آپ کے پورے وجود کو زمین بوس کر دیتا ہے اور آپ اس ناکارہ وجو د میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو دوسروں کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتاہے۔

اور آپ ایسے کاٹھ کباڑ میں تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں جس کو پھنکنا سب کے لیے لازمی ہو جاتا ہے ہمارے سماج کے 90 فیصد سے زیادہ مسائل نے اسی سے جنم لیا ہے یاد رہے مسائل لمحوں میں جنم لیتے ہیں اور خاتمے کے لیے عمر بیت جاتی ہے اور اکثر تمام عمر بھی ناکافی رہتی ہے ۔

اس بات کو بھی ذہن میں رکھیے گا کہ اکثر مسائل کے سائے مرنے کے بعد بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور آپ حساب دیتے دیتے تھک کر چور ہو جاتے ہیں یہ ایک ایسی بیماری ہے جو سما ج کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے چاہے سیاست ہو چاہے مذہبی معاملہ یا معاشرتی معاملہ ہو ہم اپنے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ ہمیں اگر فلاح پانی ہے تو ہمیں اپنے اند ر لنکن جیسی برداشت پیدا کرنا ہو گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔