ایک سدا بہار پرانی نئی کہانی

وسعت اللہ خان  منگل 28 اپريل 2015

پیارے بچو ،

ایک تھا بادشاہ جو بہت خوش لباس تھا مگر کچے کانوں کے ساتھ ساتھ خوشامد پسند بھی تھا۔لہذا بہت سے عیار تاجر بادشاہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر بھانت بھانت کی گھٹیا پوشاکیں دساور سے سستی خرید کر نہایت مہنگے داموں بادشاہ کو پیش کر کے اپنا الو سیدھا کر لیا کرتے تھا۔ہوتے ہوتے بادشاہ کی اس کمزوری کی شہرت بیرونی ملکوں تک پھیلتی چلی گئی۔

جب دو ٹھگوں تک یہ خبر پہنچی تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں اور وہ اس بادشاہ کی مملکت میں دور دراز کا سفر کرکے پہنچے۔ان ٹھگوں نے مقامی لوگوں میں مشہور کردیا کہ وہ ایسا  نایاب کپڑا بننے کے ماہر ہیں جو صرف عقلمندوں کو ہی نظر آتا ہے۔بے وقوف جتنی بھی کوشش کرلیں وہ اس کپڑے کو نہیں دیکھ سکتے۔

بادشاہ تک جب اس نایاب کپڑے کی شہرت پہنچی تو اس نے ان عجوبہِ روزگار کاریگروں کو بلا بھیجا۔دونوں ٹھگوں کو شاہی بگھی میں انتہائی عزت اور طمطراق کے ساتھ دربار میں لایا گیا اور انھوں نے کورنش بجاتے ہوئے بادشاہ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنے کے بعد اس بے نظیر کپڑے کی خوبیوں کے بارے میں وہ وہ افسانہ طرازیاں کیں کہ پوچھو مت۔ بادشاہ کو اس عجوبہ کپڑے سے تو خیر دلچسپی تھی ہی مگر اس سے بھی زیادہ اس بات میں دلچسپی تھی کہ جب وہ اس نادر کپڑے کی  پوشاک زیبِ تن کرے گا تو جس جس مشیر وزیر کو یہ پوشاک دکھائی نہیں دے گی اس کی عقلمندی کا بھانڈا فوراً پھوٹ جائے گا۔ یوں ان بے وقوف وزیروں مشیروں کی جگہ بادشاہ صحیح معنوں میں عقلمند نائبین کا تقرر کر سکے گا۔

چنانچہ ٹھگوں کی فرمائش پر محل کے ایک گوشے میں کھڈیاں لگائی گئیں اور اس نایاب کپڑے کا دھاگہ بنانے کے لیے ٹھگوں کو شاہی خزانے سے لاکھوں روپے ترنت جاری کردیے گئے۔ٹھگ سارا سارا دن خالی کھڈیوں پر کھٹا پٹ کرتے رہتے اور شام کو بادشاہ سے ملے ہوئے پیسے سے خوب مزے اڑاتے۔

بادشاہ اتنا بیتاب تھا کہ وہ ہر ہفتے اپنے معتمد و راز داں وزیرِ دربار کو یہ دیکھنے کے لیے بھیجتا کہ کتنا کپڑا تیار ہوچکا۔بے چارا وزیر ہر بار خالی کھڈیوں کو پلکیں جھپکا جھپکا کر دیکھتا مگر بادشاہ کو یہ بیان دیتا کہ حضور کا اقبال بلند رہے۔کپڑا توقع سے زیادہ  تیزی سے بنا جا رہا ہے اور نہایت شاندار بھی ہے۔

اس دوران ٹھگوں نے کپڑے کا میٹریل منگوانے کے بہانے بادشاہ سے کئی بار بھاری بھاری رقمیں اینٹھیں۔اور جب انھیں لگنے لگا کہ اب بادشاہ کا پیمانہِ صبر کسی بھی دن لبریز ہو سکتا ہے تو ایک روز انھوں نے وزیر سے کہا کہ کپڑے کا پہلا تھان تیار ہوچکا ہے اور بادشاہ سلامت جب بھی چاہیں ہم اس تھان میں سے  پوشاک تیار کرسکتے ہیں۔بس اتنی سی درخواست  ہے کہ چونکہ کپڑا نازک ہے اس لیے ظلِ الہی کو یہ پوشاک  زیبِ تن کرانے کا اعزاز بھی ہمیں ہی بخشا جائے۔بادشاہ نے جب یہ خبر سنی تو خوشی سے جھوم اٹھا کہ جو پوشاک اس کے لیے تیار ہوئی ہے وہ دنیا کے کسی اور حکمران کو نصیب نہیں۔

حکمِ عالی کے بموجب شاہی نقارچیوں نے ہر خاص و عام کے لیے قریہ قریہ جلوسِ شاہی کی تاریخ و تفصیلات کا ڈھنڈورا پیٹا تاکہ رعایا بھی اس مبہوت کرنے والے شاہی لباسِ فاخرہ کی جھلک دیکھ سکے جو صرف عقل مندوں کو ہی نظر آسکتا ہے۔

جب جلوس کا دن آیا تو دونوں ٹھگ یوں ظاہر کرتے ہوئے آئے گویا پوشاک اپنے ہاتھوں پر دھرے تھال میں لائے ہیں۔بادشاہ کی جانب سے پہلے تو ان بن کاروں کو ایک ایک سونے کی اشرفیوں سے بھرا ایک ایک تھیلہ اور نقرئی دھاگے سے سیا گیا زربفتی دو شالہ پیش کیا گیا۔اس کے بعد بادشاہ نے تالی بجا کر تخلیہ طلب کیا تاکہ لباسِ نادر زیبِ تن کرسکے۔

دونوں ٹھگوںنے بادشاہ کے کپڑے ایک ایک کرکے اتارے اور انھیں لپیٹ کے ایک طرف رکھ دیا۔پھر نئی پوشاک پہنائی۔بادشاہ نے محسوس کیا جیسے نیا لباس پہننے کے باوجود اسے سوائے اپنے عریاں جسم کے کچھ نظر نہیں آرہا۔تاہم اس نے منہ سے ایک لفظ نہ نکالا مبادا بن کاروں پر یہ راز فاش ہوجائے کہ وہ کوئی عقل مند بادشاہ نہیں اور پھر اگر یہ راز رعایا تک پہنچ گیا تو توقیرِ شاہی خاک میں مل جائے گی۔

چنانچہ بادشاہ نے اپنے بازوؤں اور سینے پر ہاتھ پھیر کے اس عجوبہ پوشاک کی تعریفوں کے پل باندھ دیے اور خوشی خوشی مرصع بگھی میں سوار ہوگیا جس کے پیچھے معمول کا شاندار لباس پہنے  وزرا و امرا کے منقش زین والے گھوڑے تھے۔

جب یہ شاندار جلوس شاہی محل سے برآمد ہوا تو دورویہ کھڑی رعایا کے ٹھٹ نے باآوازِ بلند بادشاہ سلامت کی جے ہو کے نعرے بلند کیے۔بھانڈوں کی ٹولیوں نے بے مثال پوشاک کی قصیدہ خوانی شروع کردی ، امرا ایک ساتھ مبارک سلامت جاپنے لگے اور بادشاہ سلامت شاہی بگھی میں فرطِ جذبات میں سینہ پھلا کے کھڑے ہوگئے تاکہ اپنی رعایا کے والہانہ پن کا جواب ہاتھ ہلا کر دے سکیں۔غرض جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہا۔

مجمعِ عام میں ایک پانچ سات برس کا بچہ بھی اپنے باپ کی انگلی پکڑے شاہی لباس کی جھلک کا منتظر تھا۔جب بادشاہ کی سواری سامنے سے گذری تو بچے کے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’ بابا بادشاہ توننگا ہے ‘‘۔ باپ نے اپنا ہاتھ مضبوطی سے بچے کے منہ پر رکھ دیا مبادا بات پھیل جائے اور بلاوجہ کوئی مصیبت  ٹوٹ پڑے۔اس پر قریب کھڑے ایک شخص نے کہا کیوں اس معصوم پر ناحق ظلم کرتے ہو۔یہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے کہ بادشاہ ننگا ہے۔ایک اور شخص نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا بالکل صحیع بات ہے۔

ایک اور شخص نے ساتھ کھڑے ایک اور شخص کے کان میں کہا لگتا ہے بادشاہ بغیر کپڑوں کے ہے۔اور پھر کان در کان یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی۔ کچھ منچلوں نے آوازے کسنا شروع کردیے بادشاہ ننگا ہے اور پھر یہ آوازیں بڑھتی چلی گئیں۔بادشاہ نے جب یہ حالات دیکھے تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جلوس محل کی جانب پلٹانے کا حکم دیا۔اور پھر بادشاہ ننگا ہے ، بادشاہ بے وقوف ہے، بادشاہ کے کپڑے ہی نہیں کی آوازیں محل کے صدر دروازے تک تعاقب کرتی رہیں۔

خجالت آمیز غصے سے تھر تھر کانپتے بادشاہ نے محل میں داخل ہوتے ہی ہنگامی دربار طلب کرلیا اور ہر وزیر و مشیر اور عمال کو پیش ہونے کا حکم صادر کیا۔بادشاہ نے وزیرِ امورِ دربار سے کہا کہ ان بن کاروں کو فوراً مشکوں میں کس کے پیش کیا جائے جنہوں نے ہمارے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیا۔مگر جب وزیرِ دربار نے لجلجاتے ہوئے کہا کہ حضور وہ ٹھگ تو سونے کی اشرفیوں بھرے تھال اور دوشالے لے کر صبح ہی چمپت ہوگئے تھے اور اب تو وہ مملکت کی سرحد عبور کرنے والے ہوں گے۔

اس پر بادشاہ کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے اور اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وزیرِ دربار کی مشکیں کس کے اسے جلاد کے حوالے کردیا جائے کیونکہ اسے اچھی طرح سے اس جعلسازی کا علم تھا پھر بھی یہ نمک حرام ہمیں ہر ہفتے سب اچھا کی رپورٹ دیتا تھا۔وزیرِ دربار نے فرطِ خوف سے سجدہ ریز ہوتے ہوئے کہا بجا فرمایا حضور ، مگر میں نے آپ کو حقیقت یوں نہیں بتائی مبادا آپ مجھے بے وقوف سمجھ کر عہدے ِسے برطرف کردیں۔ حالانکہ مجھے بھی حضور کی طرح وہ کپڑا کبھی بھی کسی کھڈی پر بنتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔

وزیرِ دربار کی جانب سے اس طنزیہ چوٹ پر بادشاہ کا چہرہ ذرا دیر کے لیے خجل ضرور ہوا مگر بادشاہ نے خود پر قابو پا کر روایتی رعب دار آواز میں سپاہیوں سے کہا لے جاؤ اس نابکار کو کہ جس کے سبب رعایا کے سامنے ہمارا ٹھٹھہ ہوا۔

بادشاہ نے دونوں ٹھگوں کو دربار میں متعارف کرانے والے شہریوں کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی دستہ مقرر کیا۔چوبیس گھنٹے میں ہی ملزم ہاتھ آگئے اور انھیں وزیرِ دربار کے ہمراہ محل کے سامنے عوام کی کثیر تعداد کے روبرو پھانسی دے دی گئی۔لوگوں نے بادشاہ کی انصاف پروری  اور فراست کے نعرے لگائے اور ایک بار پھر ہنسی خوشی رہنے لگے۔

تو بچو کیسی لگی یہ کہانی۔ارے نہیں بھئی یہ تو پونے دو سو سال پہلے ڈینش ادیب ہینز کرسچن اینڈرسن نے لکھی تھی۔مگر تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔مجھے بھی ہربار یہی لگتا ہے جیسے یہ کہانی آج ہی لکھی گئی ہو۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔