حکایت اور کَرن پھول

رئیس فاطمہ  اتوار 3 مئ 2015
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

انسانی مزاج کا یہ عجیب پہلو ہے کہ وہ براہ راست نصیحت کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن قصے کہانیوں اور حکایتوں کے ذریعے بہت کچھ سیکھ اور سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے خاص طور پر بچوں کو جو کچھ سمجھانا ہو اسے بہ انداز دیگر ہی سمجھانا چاہیے۔

اسی طرح بادشاہ، سلاطین اور راجوں مہاراجوں کو نیکی کی طرف راغب کرنے اور رعایا کے حقوق غصب نہ کرنے کے حوالوں سے انھیں بھی بہت کچھ بہروپیے اور نقال سکھایا کرتے تھے۔ اس طرح ایک تو وہ درباری بہروپیے بادشاہوں کے غیظ و غضب سے بچے رہتے تھے، دوسری طرف عقل مند اور باضمیر حکمران ان حکایتوں اور چٹکلوں سے نصیحت بھی پکڑتے تھے اور غلطیوں سے تائب بھی ہو جاتے تھے۔

وہ جو کہاوت ہے کہ ’’بھلے گھوڑے کو ایک چابک‘ اور بھلے آدمی کو ایک نصیحت کافی ہوتی ہے‘‘ ورنہ تو ’’مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘ والی بات صادق آتی ہے۔ ہماری کلاسیکی داستانیں خاص طور پر ’انوار سہیلی، بیتال پچیسی، الف لیلیٰ، طلسم ہوش ربا اور بہت سی دوسری داستانیں، علامتوں، استعاروں، تشبیہات اور حکایتوں سے لبریز قصوں سے بھری پڑی ہیں۔ لکھنے والا بین السطور جو کہنا چاہتا ہے۔ وہ بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے اور پڑھنے والا اس میں سے نصیحت کے کرن پھول اور موتی چن لیتا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے اطراف کی ہوائیں کچھ پسندیدہ نہیں ہیں۔ کوئی لمحہ نہیں جاتا کہ ایک نیا زخم، ایک نیا قتل، ایک نئی واردات اور ’’مرے پہ سو درّے‘‘ کے مصداق کرسی نشینوں اور ان کے حواریوں کے تکلیف دہ بیانات ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ قلم میں بھی وقت برداشت ختم ہو گئی ہے۔ سفارش کا بازار سجا ہے جس میں اولین ترجیح ’’دوست نوازی‘‘ ہے۔ بس کوئی بھی شخص کسی قصیدے کے یا پاؤں چھونے کے عوض سرفراز ہوا اور کسی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا تو وہ سب سے پہلے ذہین، قابل اور جینیئن لوگوں کو ہٹا کر اپنے دوستوں کو نواز کر اپنا راستہ بناتا ہے تا کہ اس کی نااہلی چھپی رہے۔

اس مایوس کن صورتحال میں کیا لکھے اور کیونکر لکھے؟ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ آج کچھ حکایتوں کو پھر سے یاد کر لیا جائے۔ ویسے تو چکنے گھڑے پہ پانی کی ایک بوند بھی نہیں ٹھہرتی لیکن کیا حرج ہے یہ امید کر لینے میں کہ ہو سکتا ہے کسی سیاسی جماعت کا سربراہ کوئی وزیر باتدبیر یا کوئی سچ کے موتیوں کا متلاشی اس بحر ذخار سے کوئی موتی نکال لے؟

حجاج بن یوسف کا شمار عام طور پر ایک ظالم حکمران کے طور پر ہوتا ہے۔ ایک بار بھرے کے لوگوں بالخصوص تاجر برادری اشیائے خور و نوش اور اجناس بیچنے والوں پر اس نے بہت زیادہ سختیاں اور سزائیں دینا شروع کر دی تھیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی اس کے ظلم کا نشانہ بنتا اور سزا پاتا۔ چنانچہ تاجروں کا ایک وفد ایک بہت بڑے عالم کے پاس گیا اور فریاد کی کہ کسی طرح حجاج کے ظلم سے نجات دلوائی جائے۔ عالم نے حجاج کو اس کے رویے پر ملامت کی اور اسے اپنی اصلاح کرنے کو کہا۔ حجاج نے عالم کی بات احترام اور توجہ سے سنی اور بولا۔ ’’میں جو کچھ کر رہا ہوں، وہ میری نظر میں درست ہے اور یہ میرے دائرہ اختیار میں بھی ہے کہ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھوں۔

لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ کر رہا ہوں، اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ بلکہ وہی کرتا ہوں جس کے یہ مستحق ہیں۔ اس کا میں آپ کو ثبوت بھی پیش کر سکتا ہوں۔

اگر میں غلط ثابت ہوا تو آپ جو کہیں گے وہ کروں گا۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے خزانے سے خالص سونے کی چند اشرفیاں منگوائیں اور انھیں عالم کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھیے ان اشرفیوں میں ذرہ برابر بھی کھوٹ یا ملاوٹ نہیں ہے۔ وزن بھی پورا ہے۔ اب آپ ان اشرفیوں کو بازار لے جائیے اور جو چاہیں خرید لائیے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ آپ سامان اسی سے خریدیے گا جو یہ تصدیق کرے کہ اشرفیوں میں کھوٹ یا ملاوٹ قطعی نہیں ہے۔ اور وزن بھی پورا ہے۔ جب آپ سامان خرید لیں تو دکان کے مالک کو بھی ساتھ لیتے آئیے گا۔ آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔‘‘

عالم وہ اشرفیاں لے کر بازار میں نکلے۔ مگر جس دکان پہ گئے اس نے کہا کہ نہ صرف وزن کم ہے بلکہ سونے میں کھوٹ بھی ہے۔ عالم نے ان تاجروں کو بھی آزمایا جنھوں نے انھیں حجاج کے پاس بھیجا تھا۔ لیکن انھوں نے بھی اشرفیوں کے عوض کم دام کا مال دینا چاہا کہ اشرفیاں کھوٹی اور وزن میں کم تھیں۔ وہ لاکھ یقین دلاتے، کسوٹی پر پرکھنے کو کہتے۔ وہ کسوٹی پر بھی پرکھتے اور ترازو میں بھی تولتے پھر بھی وہ نہ مانتے کہ اشرفیاں خالص سونے کی ہیں۔ عالم سارا دن اشرفیاں لے کر بازاروں میں پھرتے رہے۔

مگر ہر جگہ وہی جواب ملتا کہ اشرفیاں کھوٹی ہیں اور وزن میں بھی کم ہیں۔ قیمت کم کر دیجیے تو سودا ہو سکتا ہے۔ آپ کی مطلوبہ قیمت پہ نہیں۔ عشاء کا وقت ہو چکا تھا۔ عالم حیران پریشان حجاج کے پاس واپسی کے ارادے سے چلا تو راستے میں ایک بزاز کی دکان نظر آئی۔ سوچا اسے بھی آزما لیں۔ دو تین اشرفیاں اس کے سامنے ڈال کر کپڑے کے چند تھان مانگے۔ بزاز نے اشرفیوں کو پرکھتے ہوئے کہا۔ ’’خالص اور کھرا سونا ہے، وزن بھی بالکل ٹھیک ہے۔

فرمائیے کیا کیا دوں؟‘‘ عالم نے کہا بھاؤ تاؤ میں گڑبڑ نہ ہو۔ دام مناسب ہونے چاہئیں۔ بزاز بولا۔ ’’آپ فکر نہ کریں میں ایک کوڑی زیادہ نہ لوں گا۔‘‘ چنانچہ عالم نے بہت سا کپڑا خریدا اور کہا کہ بزاز اس کے ساتھ چلے۔ کیونکہ حجاج نے بلایا ہے۔ بزاز بلاجھجک اس کے ساتھ ہو لیا۔ حجاج کی خدمت میں پہنچ کر سارا ماجرا بیان کیا۔ جسے سن کر حجاج نے بزاز سے پوچھا کہ ’’جب سے میں تمہارا حاکم بنا ہوں، کیا کبھی میرے کسی آدمی نے تمہیں ہراساں کیا یا کوئی سزا دی ہے؟‘‘ بزاز نے جواب دیا۔ ’’کبھی نہیں بلکہ مجھے تو آپ کے سایہ عاطفت میں بہت آرام پہنچا ہے۔

مجھے کبھی کسی نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔‘‘ یہ سن کر حجاج نے عالم سے کہا۔ ’’دیکھیے۔۔۔۔ چونکہ یہ بزاز ایماندار ہے، پورا تولتا ہے، مناسب قیمت وصول کرتا ہے۔ اس لیے خدا نے اسے میری سزا سے محفوظ رکھا ہے۔ برخلاف اس کے کہ جو لوگ بے ایمانی اور دغا بازی کرتے ہیں، کم تولتے ہیں، زائد رقم وصول کرتے ہیں وہی میرے شکنجے میں پھنستے ہیں اور سزا پاتے ہیں۔ جن لوگوں کا مقدمہ آپ میرے پاس لائے تھے، انھیں آپ نے بھی آزما لیا، کہ کیسے دغا باز اور فریبی تاجر ہیں۔ جو کسوٹی اور کانٹے کے ساتھ ساتھ آپ جیسے عالم کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ اب بتائیے آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘

عالم نے حجاج کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ وہ شرمندہ ہیں کہ بے ایمان لوگوں کی سفارش لے کر آئے۔ حجاج نے کہا کہ ’’کسی بھی حکمران کو خواہ وہ صوبے کا گورنر ہو یا وزیر ہو یا سلطان ہو۔ اسے ہمیشہ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ ساتھ ہی اسے سزاؤں پہ عملدرآمد بھی کروانا چاہیے۔ تا کہ لوگوں کے دل میں حکومت اور حاکم کا خوف بھی پیدا ہو۔ اگر انصاف اور قانون کے اصول پر عمل نہیں کیا جائے گا، تو بے ایمان تاجر خوب لوٹ مچائیں گے۔

کیونکہ انھیں یقین ہو گا کہ قانون کے رکھوالے خود برائے فروخت ہیں۔ ان کو ان کی منہ مانگی قیمت پہ خریدا جا سکتا ہے۔ جب یہ سوچ عام ہو جائے تو حاکم قانون اور عدالت تینوں کا خوف جاتا رہتا ہے۔ تب غریبوں کی بددعائیں عرش کو ہلا دیتی ہیں اور حکمرانوں کے خاندانوں کے خاندان ختم ہو جاتے ہیں۔ میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ بے ایمان اور بددیانت لوگوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹوں گا۔ منافع خور تو مردار بھی بیچ کھاتے ہیں۔ جنھوں نے خالص سونے کو کھوٹا بتا دیا وہ کیا نہیں کر سکتے؟ یہ سوچنا حاکم کا کام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔