وطن عزیزمیں فساد مچانے والے دہشت گردوں کا ماسٹرمائنڈ

سید عاصم محمود  اتوار 31 مئ 2015
لیکچر میں شریک کسی طالب علم یا استاد کے پاس کوئی خفیہ وڈیوکیمرا مثلا ً پین کیمرا موجودتھا۔ اس کی مدد سے طالب علم نے لیکچر ریکارڈ کر لیا،فوٹو : فائل

لیکچر میں شریک کسی طالب علم یا استاد کے پاس کوئی خفیہ وڈیوکیمرا مثلا ً پین کیمرا موجودتھا۔ اس کی مدد سے طالب علم نے لیکچر ریکارڈ کر لیا،فوٹو : فائل

’’ہمارے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ وہ ایٹمی طاقت بن چکا اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ لہذا یہ آسان کام نہیں۔سوال کا جواب دینے سے قبل میں آپ کو ایک بات سمجھانا چاہوں گا۔

’’ہم (بھارتی انٹیلی جنس افراد) دشمن کا تین طریقے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ایک ’’دفاع‘‘ ہے‘ وہ یہ کہ اپنے گھر بیٹھ کر دشمن کے حملے روکے جائیں۔ دوسرا’’جارحانہ دفاع‘‘ ہے۔ اس طریق کار میں ہم اس جگہ حملے کرتے ہیں جہاں سے ہم پر حملہ ہو رہا ہو۔ اور تیسرا ’’کھلی جنگ‘‘ ہے۔

’’ایٹم بم کی موجودگی کے باعث ہم پاکستان سے کھلی جنگ نہیں لڑ سکتے، لیکن اسے جارحانہ دفاع کا نشانہ ضرور بنا سکتے ہیں۔ اس طریق کار کی مدد سے ہم پاکستان کی معیشت‘ سیاست‘ سکیورٹی … غرض اس سے وابستہ ہر شے کو تباہ کرنے کی کوششیں کریں، مثال کے طور پر افغانستان میں پاکستانی پالیسی کو ناکام بنانا۔جارحانہ دفاع کی جنگ میں ہمیں بہت فائدہ ہے۔ وجہ یہ کہ پاکستان ہماری نسبت ہر لحاظ سے کمزور ہے۔ چنانچہ جارحانہ دفاع کی یہ جنگ اسے بہت مہنگی پڑے گی۔ اگر اس نے ممبئی پر حملہ کیا‘ تو وہ بلوچستان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

’’اب سوال یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے کیونکر نمٹا جائے؟ یہ کام بھی تین طرح سے انجام پاتا ہے: ان تک اسلحہ نہ پہنچنے دو‘ ان کی فنڈنگ روک لو اور تنظیموں کی نفری نہ بڑھنے دو۔ مگر ایک چوتھا طریقہ بھی ہے‘ وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو اپنے ساتھ ملا لو۔ پھر انہیں دشمن کے خلاف استعمال کرو۔

’’یہ کام انھیں خرید کر با آسانی انجام دینا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر کسی پاکستان دشمن تنظیم کا کُل بجٹ بارہ سو کروڑ روپے ہے۔ آپ اسے اٹھارہ سو کروڑ روپے دے کر اپنا طرف دار بنا لو۔ یہ دہشت گرد عموماً کرائے کے فوجی ہوتے ہیں، ان کی برین واشنگ کرو اور پھر جو مرضی کام کروا لو۔‘‘
٭٭
درج بالا حیرت انگیز اور چشم کشا باتیں اس لیکچر کا حصہ ہیں جو اجیت کمار دوال نے فروری 2014ء میں سسترا یونیورسٹی (SASTRA University ) ‘ ریاست تامل ناڈو میں دیا تھا۔ بیشتر پاکستانیوں کے لیے اجیت کمار کا نام غیر مانوس ہے۔ مگر اس شخص کو معمولی نہ سمجھیے ‘ یہ بھارتی وزیراعظم‘ نریندر مودی کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر یا مشیر برائے قومی سلامتی ہے۔بہت سے ہم وطن پاکستان میں را کی خفیہ کارروائیوں کی خبروں کو محض گپ بازی یا پروپیگنڈا سمجھتے ہیں۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ یا برہمن حکمران طبقے کے ایک اہم رکن کی درج بالا باتیں سن کر ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر قومی و عالمی امور پر بھارتی وزیراعظم کو مشورے دیتا ہے۔ نیز بھارت کی دونوں بڑی خفیہ ایجنسیاں … را اور آئی بی (انٹیلی جنس بیورو) اس کی ماتحت ہیں۔ یہ عہدہ نومبر 1998ء میں تخلیق ہوا۔ اب تک کئی نامی گرامی بھارتی شخصیات اس پر فائز ہو چکیں۔ لیکن بھارتی ماہرین کا کہنا ہے‘ اجیت کمار جیسا طاقتور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر پہلی بار سامنے آیا ہے ۔

آج بھارت میں قومی و بین الاقوامی سکیورٹی معلومات کے بارے میں اجیت کمار اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بھارتی میڈیا کی رو سے وہ مودی کا بینہ کے اہم وزرا سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ مودی عموماً اس کی بات رد نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ خصوصاً پاکستان اور چین سے بھارتی تعلقات کی پالیسی اس وقت اجیت کمار ہی بنا رہا ہے۔حیران کن بات یہ کہ بھارتی وزیراعظم کا اہم ساتھی ہونے کے باوجود اجیت کمار میڈیا میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے کہ موصوف نہایت خاموشی سے‘ پُراسرار انداز میں دشمنوں کے خلاف سازشیں تیار کرتا اور پھر ا چانک وار کرتا ہے۔ وطن عزیز میں وقفے وقفے سے دہشت گردی کے اچانک رونما ہونے والے واقعات ذرا ذہن میں لائیے جن میں پاکستان دشمن طاقتیں ملوث ہیں۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ اس مشہور قول پہ یقین رکھتی ہے کہ دشمن کا دشمن ہمارا دوست ہے …چاہے وہ پاکستانی طالبان ہوں ، داعش یا بلوچ علیحدگی پسند!

اجیت کمارویسے بھی عسکری حکمت عملی کے قدیم ہندو ماہر‘ چانکیہ کا ہیرو ہے۔ چانکیہ کی عسکری چالیں دھوکا‘ فریب اور خفیہ پن پر مبنی ہے۔ مثلاً اس کے کچھ اقوال پڑھیے:

٭… اپنے منصوبوں سے کسی کو آگاہ نہ کرو۔ انہیں خفیہ رکھو اور خاموشی سے وار کرو۔
٭… ضروری نہیں کہ انسان اصول وسچ کی خاطر کھڑا ہو جائے۔ جنگل میں سب سے پہلے سیدھے درخت ہی کاٹے جاتے ہیں۔
٭…اگر سانپ زہریلا نہیں تب بھی یہی سمجھو کہ اس میں زہر موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب اجیت کمار پس پردہ رہ کر خاموشی سے منصوبے بنانے والا انسان ہے‘ تو فروری 2014میں اس کے انکشافات سے پُر لیکچر کی ویڈیو کیسے بن گئی؟ اس سوال کے دو جواب ہو سکتے ہیں۔

اول یہ کہ لیکچر میں شریک کسی طالب علم یا استاد کے پاس کوئی خفیہ وڈیوکیمرا مثلا ً پین کیمرا موجودتھا۔ اس کی مدد سے طالب علم نے لیکچر ریکارڈ کر لیا۔ دوسرے جب سسترا یونیورسٹی کے اساتذہ اور چیدہ طلبہ کے سامنے یہ لیکچر دیا گیا‘ تو اجیت کمار عملی زندگی سے ریٹائرڈ ہو چکا تھا۔ یقینا اس کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ آمدہ الیکشن میں بی جے پی کو تاریخ ساز کامیابی ملے گی اور یہ کہ وہ چند ماہ بعد (مئی2014ء) میں نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بننے والا ہے۔

اجیت کمار کو یہ احساس ہوتا‘ تو وہ یقیناً اپنے لیکچر میں ایسے راز بیان نہ کرتا جو وطن عزیز کے حوالے سے بھارتی حکمران طبقے کی ذہنیت یا مائنڈ سیٹ اجاگر کرتے ہیں…یہ کہ پاکستان کوکبھی معاشی‘ سیاسی،عسکری اور معاشرتی طور پر مستحکم نہ ہونے دو ۔اور ممکن ہو تو اسے چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا جائے تاکہ کٹا پھٹا پاکستان کبھی بھارت کی بالادستی کو چیلنج نہ کر سکے ۔

انتہا پسند اقتدار میں
بھارت کے حکمران طبقے میں شروع سے دو گروہ چلے آ رہے ہیں۔ اول ’’عقاب‘‘ یا جارح مزاج رہنما اور دوم ’’فاختائیں‘‘ یا امن پسند راہنما ۔تقسیم ہند کے وقت عقاب گروہ کا سرخیل پہلا نائب وزیراعظم ،ولبھ بھائی پٹیل تھا جبکہ وزیراعظم پنڈت نہرو فاختائوں کے گروپ کی نمائندگی کرتے۔ ان دونوں گروہوں کے مابین کئی معاملات پر ٹکراؤ رہا جو اب تک جاری ہے۔

گو دونوں گروہوں میں شامل بعض راہنماؤں نے متضاد رویہ بھی دکھایا ۔ مثال کے طور پر 1992ء میں جب انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد شہید کی‘ تو کانگریسی وزیراعظم نرسیمہا راؤ نے کوئی ایکشن نہ لے کر ان کا ساتھ دیا۔ اسی طرح ہندو انتہا پسندوں(ہندتوا)کی سیاسی صورت ‘ بی جے پی کے راہنما اٹل بہاری واجپائی نے وزیراعظم بن کر عموماً معاملات میں جارحانہ پسندی نہیں دکھائی۔

بھارت کی تاریخ میں نریندر مودی کھلم کھلا جارحانہ رویہ رکھنے والے پہلے حکمران ہیں۔ ان کی ذہنیت یہ ہے کہ ہندو ایک برتر قوم ہے‘ چنانچہ اسے دنیا پہ حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ چھوٹے پڑوسی ممالک کو اپنے ماتحت لانا چاہتے اور خصوصاً پاکستان کو ہندو ماتا (ہندوستان) کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں۔ماضی کے ہندوستان کی جغرافیائی تکمیل ہندتوا کا من پسند نظریہ ہے۔

پاکستان کو کمزور کرنے کی خاطر ہی انہوںنے بھارتی انٹیلی جنس کی نہایت تجربے کارشخصیت اجیت کمار کو اپنا مشیر قومی سلامتی بنا لیا۔ حقیقتاً اجیت کمار کے تقرر سے ہندتوا کے مخالف بھارتی میڈیا نے لکھا، اب پاکستان اور چین کو اپنی خیر منانی چاہیے…کیونکہ ان کے خلاف سازشی منصوبوں کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ جون 2014ء کے بعد پاکستانی حکومت پر زور دار حملے ہوئے اور دہشت گردی کے فرقہ وارانہ واقعات میں بھی تیزی آگئی۔ ان میں نمایاں یہ ہیں:

}…تافتان میں شیعوں کی بس پر حملہ (8 جون 2014)
}… کراچی ہوائی اڈے پر حملہ (8 جون)
}…کوئٹہ ایئربیس پر حملہ (15 اگست)
}…ذوالفقار جنگی بحری جہاز پر حملہ (6 ستمبر)
}…واہگہ بارڈر بم حملہ (2 نومبر)
}…شکار پور کی امام بارگاہ پر حملہ (30 جنوری 2015)
}…پشاور میں امام بارگاہ پہ حملہ (13 فروری)
}…لاہور پولیس پر حملہ (24 فروری)
}…لاہور کے چرچ پر حملہ (15 مارچ)
}…کراچی میں اسماعیلیوں کی بس پر حملہ (13 مئی)

درج بالا حملوں کا پیٹرن یا نمونہ واضح کرتا ہے کہ انہیں انجام دینے والے دہشت گرد نہ صرف تربیت یافتہ جنگجو ہیں بلکہ کثیر وسائل بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس اتنے زیادہ فنڈز ہیں کہ بے دریغ پیسا خرچ کر کے کسی سے بھی غیر قانونی کام کرالیں۔ حتیٰ کہ غربت و بیروزگاری سے پریشان کسی لڑکے یا نوجوان کو چند لاکھ روپے دے کر اسے خودکش حملہ آور بنا دیں۔ پیسا بہت طاقتور شے ہے… وہ ناممکن کو ممکن بنا دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے اور اجیت کمار اس امر سے خوب واقف ہے۔

میزورام کی تحریک
اجیت کمار دوال 20 جنوری 1945ء کو اترکھنڈ کے ایک گائوں میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ فوج میں حوالدار تھا۔ چناں چہ اجیت نے ملٹری اسکولوں میں تعلیم پائی۔ 1967ء میں آگرہ یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ اسی سال سول سروس کا امتحان دیا۔ کامیاب ہوکر 1968ء میں بھارتی پولیس میں افسر بن گیا۔ اجیت کی خواہش پر شعبہ انٹیلی جنس میں اس کی تقرری ہوئی۔

انٹیلی جنس کے اسرار و رموز سیکھنے کے بعد اسے آسام بھیجا گیا۔ وہاں ضلع میزورام میں مقامی قبائل نے تحریک آزادی چلا رکھی تھی، جس کا سربراہ لال دینگا تھا۔یہ قبائل بھارتی حکومت کو استحصالی طاقت سمجھتے تھے۔ تحریک چلانے کی خاطر لال دینگا نے ایک تنظیم، میزو نیشنل فرنٹ بنا رکھی تھی۔

اجیت کمار اس تنظیم میں جاگھسا اور خود کو تحریک آزادی کا حمایتی قرار دیا۔ لیکن اس کا اصل مقصد فرنٹ کے راہنمائوں میں اختلافات پیدا کرنا تھا۔ وہ اپنی سازش میں کامیاب رہا۔ فرنٹ کے چھ اہم کمانڈر لال دینگا سے بدظن ہوگئے۔ چناں چہ اس کو مجبوراً مسلح جدوجہد ترک کرنا پڑی۔

بھارتی حکومت نے پھر اجیت کمار کو سکّم بھجوا دیا۔ بھارتی حکمران طبقہ اس ہمالیائی ریاست کو ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ اجیت کمار پیسے کے بل پر کئی اہم مقامی رہنمائوں کو سیاسی جماعت، سکم نیشنل کانگریس میں لے آیا جو ریاست کا الحاق بھارت سے چاہتی تھی۔ یوں اس خفیہ بھارتی جاسوس کی کوششوں سے 1975ء میں سکّم بھارت کا حصہ بن گیا حالانکہ عوام کی اکثریت آزادی کی خواہش رکھتی تھی۔ خیال ہے کہ اجیت کمار 1976ء تا 1985ء کے درمیان کسی وقت سات برس تک پاکستان میں واقع بھارتی سفارت خانوں میں تعینات رہا۔ وہ بظاہر سفارت کار لیکن اصل میں خفیہ جاسوس تھا۔بھارتی میڈیا کا دعوی ہے، اس نے پاکستانی ایٹم بم کی تیاری کے مراحل پر خفیہ رپورٹیں بھارت بھجوائیں۔ نیز اسی کی مدد سے را اپنے ایجنٹ پاکستان میں بسانے اور کھپانے میں کامیاب ہوئی۔

آئی ایس آئی کا جعلی ایجنٹ
بھارتی میڈیا میں اجیت کمار کا نام 1988ء میں آپریشن بلیک تھنڈر دوم کے دوران سامنے آیا۔ اس وقت خالصتان تحریک کے ڈھائی سو مسلح کارکنوں نے گردوارہ امرتسر صاحب میں پناہ لی ہوئی تھی۔اجیت کمار نے غریب پھیری والے کا روپ دھارا اور گردوارے کے باہر چکر لگانے لگا۔ دروازے پر متعین مسلح گارڈ اسے مشکوک جان کر اپنے لیڈروں کے پاس لے گئے۔ اجیت کمار نے ان کے سامنے انکشاف کیا ’’میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی،آئی ایس آئی کا ایجنٹ اور آپ لوگوں کی مدد کرنے آیا ہوں۔‘‘ثبوت کے طور پر اجیت کمار نے سکھ رہنمائوں کو بھاری رقم پیش کی، نیز بتایا کہ فلاں مقام پر ان کے لیے پاکستان سے اسمگل شدہ اسلحہ آنے والا ہے۔ سکھ رہنمائوں نے چالاک اجیت کمار کی باتوں پر یقین کرلیا۔

چناں چہ اجیت کمار کو گردوارے میں گھومنے پھرنے کی کھلی چھٹی مل گئی۔ وہ تین دن تک مسلسل وہاں جاتا رہا۔ اس دوران بھارتی جاسوس جان گیا کہ مسلح کارکنوں نے کہاں کہاں مورچے بنارکھے ہیں اور ان کا اسلحہ ڈپو کس جگہ واقع ہے۔ اسی نوعیت کی تمام انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرکے اجیت گردوارے پہ دھاوا بولنے کے لیے تیار بیٹھی فورس کے پاس جاپہنچا۔ ان معلومات سے حملہ آور فورس نے بہت فائدہ اٹھایا اور بہت جلد آپریشن مکمل کرلیا۔

سکھوں کے مقدس ترین مقام، گردوارہ ہرمیندر صاحب پر بھارتی سکیورٹی فورس کا حملہ کامیاب کرانے پر اجیت کمار کو بھارت میں دوسرا بڑا عسکری اعزاز ’’کیرتی چکر‘‘ عطا کیا گیا۔ وہ یہ عسکری میڈل پانے والا پہلا پولیس افسر ہے، ورنہ پہلے یہ صرف فوجیوں ہی کو ملتا تھا۔

اجیت کمار عیّاری و مکاری اور پیسے کی طاقت کے بل پر اپنی مہمات کامیابی سے انجام دیتا ہے، لیکن بھارتی حکمران طبقے کی نگاہوں میں یہی اس کی خوبیاں بن گئیں۔ اسے پھر مقبوضہ کشمیر بھجوایا گیا تاکہ وہ جوش و جذبے سے بھر پور کشمیری مجاہدین کی جدوجہد آزادی کا زور توڑ سکے۔ اجیت کمار نے مقبوصہ کشمیر میں بھی جوڑ توڑ کی سیاست، بلیک میلنگ اور روپے پیسے کے ہتھیاروں سے خوب کام لیا۔

درگاہ حضرت بل کا گھنائونا ڈرامہ
یہ بھارتی جاسوس خفیہ ایجنسی، آئی بی کے مقامی چیف کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر پہنچا۔ اس نے کشمیری مجاہدین کو بدنام کرنے کی خاطر اکتوبر 1993ء میں ایک گھنائونا ڈرامہ کھیلا۔

ہوا یہ کہ اجیت کمار نے زر و زمین دے کر اس وقت کی سب سے ممتاز کشمیری تنظیم، جے کے ایل ایف کے اہم رہنما ادریس خان کو خرید لیا۔ اکتوبر میں ادریس خان اپنے چھ مسلح ساتھیوںسمیت درگاہ حضرت بل میں جاگھسا۔ اس کے ساتھ آئی بی اور را کے 42 ایجنٹ بھی تھے۔

پروگرام یہ تھا کہ درگاہ میں سرنگ کھودی جائے تاکہ موئے مبارکﷺ چرا کر وہ فرار ہوجائیں۔ یوں مجاہدین کو پوری وادی میں بدنام کرنا مقصود تھا۔ تاہم بعد ازاں موئے مبارکﷺ چرانے کا منصوبہ ترک کر دیا گیا۔دراصل بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوا کہ اس چوری سے پورے عالم اسلام میں بھارت مخالف جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔

جلد ہی دوبٹالین بھارتی فوج نے درگاہ حضرت بل کا محاصرہ کرلیا۔ ستر گھنٹے گزر گئے، فوجی ایک ’’دہشت گرد‘‘ کو بھی زندہ یا مردہ گرفتار نہیں کرسکے اور آخر میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہی نکلا… تمام حملہ آور زندہ بچ کر نکل گئے۔ آج بھی ادریس خان کے علاوہ بقیہ حملہ آوروں کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون تھے اور کہاں غائب ہو گئے؟ غدار ادریس خان 1995ء میں اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

بہرحال اس سنسنی خیز ڈرامے کے ذریعے عیار اجیت کمار تین اہم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔اول اس نے جعلی آپریشن کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کو بدنام کرنا اور یہ دکھانا چاہا کہ وہ کسی کی پروا نہیں کرتے، صرف اپنا مفاد مدنظر رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ تھا۔

دوم اجیت کمار نے مجاہدین تنظیموں کے مابین اختلافات پیدا کر ڈالے۔ انسان عموماً اپنی انا کا اسیر ہوتا ہے۔ چالاک اجیت نے اسی قسم کی انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر حریّت کانفرنس کی جماعتوں کو بھی اختلافات کا شکار بنا کر انہیں تتر بتر کردیا۔

سوم اس جعلی آپریشن کے ذریعے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں فوج لانے کا موقع مل گیا۔ بھارتی فوج نے پھر آپریشنوں کے بہانے لاتعداد کشمیری مجاہد شہید کیے اور ان کی لاشیں غائب کردیں۔ آج وادی کے چپے چپے پر پھیلی ’’بے نام قبریں‘‘ اس بات کا خوفناک ثبوت ہیں۔

بعدازاں 1995ء میں اجیت کمار نے ضلع بارہ مولا کے مشہور کشمیری مجاہد، یوسف پاڑے المعروف بہ کوکہ پاڑے کو خرید لیا۔ کوکہ پاڑے نے بھارتی انٹیلی جنس سے سرمایہ لے کر اپنا مسلح گروہ بنایا اور مجاہدین پر حملے کرنے لگا۔ یوں اجیت کی سازشیں رنگ لائیں اور مجاہدین کشمیر تقسیم ہوگئے۔

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کا زور کم کردینے پہ بھارتی حکمران طبقہ اجیت کمار سے بہت خوش ہوا۔ چناں چہ 2000ء میں اسے آئی بی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔وہ 2005ء تک اس عہدے پر فائز رہا۔ اسی دوران وہ برسراقتدار انتہا پسند ہندو لیڈروں کے قریب ہوگیا۔

ان پانچ برسوں میں اجیت کمار نے را کے ساتھ مل کر بنیادی کام یہی کیا کہ پاکستان میں بھارتی جاسوسوں کو ’’سیٹل‘‘ کرانے میں لگا رہا۔ اس نے تمام پاکستان دشمن طاقتوں خصوصاً بلوچستان کے علیحدگی پسند لیڈروں سے قریبی تعلقات قائم کرلیے۔آگے چل کر انہی تعلقات کے بل بوتے پہ بھارتی خفیہ اداروں نے پاکستان کے خلاف ’’تحریک دہشت گردی‘‘ چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2005ء میں ریٹائر ہونے کے باوجود اجیت کمار مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ رہا۔ بھارتی یونیورسٹیوں میں سکیورٹی کے معاملات پر لیکچر بھی دیتا رہا۔ 2009ء میں اس نے انتہا پسند ہندوئوں کی مادر علمی آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے رقم لے کر ایک تھنک ٹینک’’ ویوکیناندہ انٹرنیشنل فائونڈیشن‘‘ (Vivekananda International Foundation) کی بنیاد رکھی۔ بھارتی افواج ،حکومت اور انٹیلی جنس کے سابق نامی گرامی اعلیٰ افسر اس تھنک ٹینک میں شامل ہیں جو سکیورٹی اور خارجہ معاملات میں حکومت وقت کو مشورے وتجاویز دیتا ہے۔

ویوکیناندہ انٹرنیشنل فائونڈیشن سے کس قسم کے نظریات کی تبلیغ ہوتی ہے، وہ اجیت کمار کے ایک لیکچر سے عیاں ہے۔ ’’Internal Security — Need for Course Correction‘‘نامی یہ لیکچر اس نے دو سال قبل فائونڈیشن کے سالانہ اجلاس میں دیا ۔ ایک جگہ اجیت کمار کہتا ہے:

’’بھارتی سکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف زور و شور سے سرگرم ہوجائیں۔ وہ ریاست پاکستان کے خلاف سرگرم عمل قوتوں کو فنڈز اور اسلحہ دیں، انہیں عسکری تربیت فراہم کریں۔ پاکستانی قوم میں جو فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کی آگ زیادہ سے زیادہ بھڑکائیں تاکہ پاکستان میں ابتری و نفسانفسی پھیل جائے۔ پاکستانی ایک دوسرے پر شک کرنے لگیں… بھارت اسی وقت محفوظ ہوگا جب پاکستان تباہ ہوجائے، چینی خاموش ہوں اور بھارت دشمن سکھ گروہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں۔‘‘

یہ لیکچر واضح طور پر انتہا پسند ہندوئوں کے عزائم سامنے لاتا ہے جنہوں نے آج بھارت میں حکومت سنبھال رکھی ہے۔ یاد رہے، وزیراعظم مودی کے پرنسپل سیکرٹری، نریندر مشرا اور ایڈیشنل پرنسپل سیکرٹری پی کے مشرا، دونوں ویوکیناندہ انٹرنیشنل فائونڈیشن ہی سے لیے گئے ہیں۔
سن تزو چین کا مشہور ماہر عسکریات گزرا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’جنگ کا سپریم آرٹ یہ ہے کہ آپ لڑے بغیر اپنے دشمن کو شکست دے دیں۔‘‘ اجیت کمار دوال اسی قول پر یقین رکھتا ہے۔ سکیورٹی مشیر بنتے ہی اس نے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ چھیڑ دی ۔اب ہم پاکستانیوں کو اپنے درمیان چھپے دشمن سے ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک مغربی ماہر عسکریات کا قول ہے:

’’جو چیز خفیہ اور پُراسرار ہو، اس سے ڈرتے رہیے کیونکہ کچھ پتا نہیں ہوتا کہ وہ کب آپ پر حملہ کردے۔‘‘

بھارتی جاسوس پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟
جب مئی 2014ء میں اجیت کمار دوال نیا سکیورٹی مشیر مقرر ہوا، تو کچھ عرصے بعد مشہور بھارتی اخبار، دی نیو انڈین ایکسپریس نے اس پر ایک سوانحی خاکہ ’’Return of the Superspy ‘‘ شائع کیا۔اس خاکے میں بھارتی صحافی نے انجانے میں ایک بہت بڑا انکشاف کر ڈالا۔ یہ انکشاف آشکارا کرتا ہے کہ خصوصاً پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ مقامی آبادی میں کس طرح گھل مل کر رہتے ہیں۔یہی وہ شہری دہشت گرد ہیں جن کی طرف جنرل راحیل شریف نے اپنی حالیہ تقریر میں اشارہ کیا۔مضمون میں اجیت کمار کا ایک نائب بھارتی صحافی کو بتاتا ہے: ’’دشمن ملک (پاکستان) جانے والے داڑھی اگاتے ہیں تاکہ انہیں وہاں رہنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ کئی ایجنٹ مولوی کے روپ میں بھی وہاں بھیجے جاتے ہیں۔ انہیں اردو اور عربی سکھائی جاتی ہے۔ اجیت صاحب خود روانی سے اردو بولتے ہیں۔ دوسرے ایجنٹ مختلف عام پیشوں مثلاً موچی کا کام سیکھتے ہیں۔ وہ پھر موچی وغیرہ بن کر دشمن ملک میں رہتے ہیں۔ ‘‘درج بالا اخبار ہی کے دوسرے مضمونThe Avenger: Never Forgive Nor Forget سے ایک اور انکشاف ہوتا ہے۔ مضمون میں اجیت کمار کا دوسرا دست راست انکشاف کرتا ہے:

’’1997ء میں اندر کمار گجرال وزیراعظم بنے، تو انہوں نے پاکستان میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیاں روک دیں۔( یہ بات بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئی، لہٰذا گجرال کو جلد گھر بھجوا دیا گیا۔) بعدازاں یہ اجیت کمار ہی ہے جس نے پھر پاکستان میں خفیہ ایجنٹ بھجوائے اور ان کے ذریعے وہاں جاسوسی کرانے لگا۔‘‘

جس بھارتی انٹیلی جنس افسر نے درج بالا انکشاف کیا، وہ آٹھ ماہ تک آزاد کشمیر میں کشمیری تنظیم، حزب المجاہدین کے اندر گھسا اپنی تخریبی کارروائیاں کرتا رہا۔ پھر لاہور پہنچا اور بادشاہی مسجد کے نزدیک جوس کی دکان کھول لی۔یوں دکان دار بن کر وہ عام پاکستانیوں میں پاکستان دشمن خیالات پھیلانے لگا۔

پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ
قومی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ1980ء سے قبل وطن عزیز میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم رفتہ رفتہ مختلف وجوہ کی بنا پر ہمارا ملک دہشت گردی کا نشانہ بنتا چلا گیا۔ہوا یہ کہ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق برسراقتدار آگئے۔ انہوں نے بعض ایسے مذہبی اقدامات کیے جن سے فرقہ وارانہ اختلافات نے جنم لیا۔ ان اختلافات نے آگے چل کر مسلح تصادم کی صورت اختیار کرلی۔ حتیٰ کہ ہمارے دو قریبی اسلامی ممالک بھی اس تصادم کی لپیٹ میں آگئے۔

اسی دوران بھارت میں سکھوں کی خالصتان تحریک میں نئی جان پڑ گئی۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی علیحدگی پسند سکھوں کو مالی و جنگی امداد دینے لگی۔ یوں وہ خالصتان قائم کراکے مشرقی پاکستان میں شکست کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔اُدھر افغانستان میں افغان مجاہدین امریکا اور پاکستان کی مدد سے روسیوں اور ان کی پٹھو افغان حکومت سے نبردآزما تھے۔ 1983ء کے لگ بھگ را نے افغان خفیہ ایجنسی، خاد سے رابطہ کیا۔ را پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں مقیم سکھوں کی سرگرمیوں سے آگاہ ہونا چاہتی تھی۔ یوں دونوں خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی خاطر ہاتھ ملالیے۔

1984ء میں را نے ایک خصوصی پروگرام’’ کائونٹر انٹیلی جنس X-‘‘ شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت را اور خاد نے مل کر اپنے کارندوں سے خصوصاً کراچی اور لاہور میں بم دھماکے کرائے اور پاکستان میں بے چینی و ابتری پھیلانے کی کوششیں کیں۔ مدعا پاکستانی آئی ایس آئی کو سبق سکھانا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ را نے درج بالا پروگرام کے ذریعے ہزارہا ایجنٹ پاکستان میں داخل کیے۔ ان کی یہ ذمے داری بھی تھی کہ وہ فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر پاکستانی قوم کو تقسیم کردیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1984ء کے بعد پاکستان میں فرقہ وارانہ اور نسلی بنیاد پر کئی نئی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان تنظیموں کی باہمی لڑائیوں اور اختلافات نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔ پنجاب میں فرقہ وارانہ فساد بڑھا، تو سندھ میں نسلی! اس فساد کی آگ کو را کے ایجنٹ مسلسل ہوا دیتے رہے۔

اجیت کمار کے لیکچر را کے اسی ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔1989ء میں افغانستان سے روسیوں کی رخصتی آئی ایس آئی کے لیے خوشی کا پیغام لائی۔ اس سے قبل وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت سے نبردآزما کشمیری مجاہدین کی حامی بن چکی تھی۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئی ایس آئی بھارت میں دیگر علیحدگی پسند گروپوں کو بھی عملی امداد دینے لگی۔ اس پوری صورت حال میں دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں زبردست خفیہ جنگ چھڑگئی۔

پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ نے اہم موڑ واقعہ نائن الیون کے بعد لیا۔ تب اکلوتی سپرپاور کی ایما پر پاکستانی حکومت نے کشمیری مجاہدین سے ناتا توڑا اور وہ ’’دہشت گرد‘‘ قرار پائے۔ اس یوٹرن سے وہ کئی رہنما حکومت سے ناراض ہوگئے جنہوں نے جہاد افغانستان و کشمیر میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے بعض بعدازاں اپنے ساتھیوں کی مدد سے پاکستانی سرکاری تنصیبات اور پولیس و فوج پر حملے کرنے لگے۔

بعید نہیں کہ را کے ایجنٹ ان کے پشت پناہ بن گئے۔دہشت گردی کی پاکستانی تاریخ میں اہم موڑ 2002ء کے بعد آیا جب پاک فوج قبائلی علاقہ جات میں داخل ہوئی۔ وہاں القاعدہ کے کئی رہنما چھپے بیٹھے تھے۔ انہیں پاکستانی پٹھان لیڈروں نے پناہ دی تھی۔ اپنے مہمانوں کے تحفظ کی خاطر یہ لیڈر پاک فوج سے نبردآزما ہوگئے۔ یوں حکومت اور سرحدی قبائل کے مابین جنگ کا آغاز ہوا۔ قبائلی خودکش حملہ آور فوج، پولیس اور سرکاری تنصیبات پر حملے کرنے لگے۔

یہ یقینی ہے کہ را کے ایجنٹ پاکستانی حکومت سے نبردآزما طاقتوں کے درمیان داخل ہونے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے پھر بھرپور کوششیں کیں کہ پاکستانی حکومت اور متحارب گروپوں کے مابین صلح نہ ہونے پائے۔چناں چہ ہم دیکھتے ہیںکہ جب بھی صلح کی کوششیں ہوتیں، دہشت گردی کا کوئی المناک واقع ظہور پذیر ہوجاتا ۔ یہ بھی عین ممکن ہے، را نے پاکستان دشمن قوتوں کو بھاری رقوم اور اسلحہ فراہم کیا تاکہ انہیں طاقتور بنایا جائے اور وہ ہماری مملکت خداداد کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔ را کا یہی ایجنڈا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔