پاکستانی کبوترجو لوٹا تو ’غازی‘ وگرنہ ’شہید‘

محمد نعیم  پير 1 جون 2015
کبوتر کی رہائی کے حوالے سے تو باقاعدہ طور پر آواز اٹھائی جا ہی رہی ہے، ساتھ ساتھ شرم کرو حیا کرو ہمارا کبوتر رہا کرو کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

کبوتر کی رہائی کے حوالے سے تو باقاعدہ طور پر آواز اٹھائی جا ہی رہی ہے، ساتھ ساتھ شرم کرو حیا کرو ہمارا کبوتر رہا کرو کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

سنتے آئے تھے اصل معبود کی عبادت چھوڑ کر ہر انوکھی چیز کو خدا سمجھ لینے والے عقل سے پیدل ہوتے ہیں، لیکن اب یقین آ گیا ہے۔ حماقت ایسی ہوئی ہے کہ ایک دو ملکوں میں نہیں پوری دنیا میں رسوائی ہو رہی ہے بلکہ جگ ہنسائی کی بات ہے۔ جدید ڈیجیٹل دنیا، سیٹلائیٹ، ڈرون طیارے، انٹرنیٹ، ان سب کے باوجود پتھروں کے پجاری ابھی تک پتھروں کے دور کی ہی سوچ رکھتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہو تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی، بھارت کی جانب سے پاکستانی جاسوس کبوتر کی گرفتاری کی مضحکہ خیز خبر منظرعام پر آتے ہی، سب نے اُسے آڑے ہاتھوں لیا۔ سوشل میڈیا پر بھارت کی روایتی بزدلی کو ایک کبوتر کے ساتھ جوڑا گیا۔ کبوتر کے اتنے تذکرے ہو رہے ہیں کہ اگر بھارتی قید سے رہائی کے بعد باقاعدہ طور پر اُس کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی عوام اس کے لیے کسی سرکاری یا فوجی اعزاز کا بھی مطالبہ کر دیں۔ کبوتر کی رہائی کے حوالے سے تو باقاعدہ طور پر آواز اٹھائی جا ہی رہی ہے، ساتھ ساتھ شرم کرو حیا کرو ہمارا کبوتر رہا کرو کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے اِس موقع پر شاعری کے جوہر بھی دکھائے اور کئی سوشل میڈیائی شاعروں نے کبوتر کی شان میں قصیدے کہے اور بھارت کی ہجو کی۔
اس موقع پر گردش کرنے والی چند شعر نما ٹویٹس ملاحظہ فرمائیں۔

بڑا دشمن بنا بھرتا ہے جو اک کبوتر سے ڈرتا ہے!

اقبال کے شاھین سے لرزتا ہے زمانہ
کبوتر سے بھی جو ڈر جائے اسے بھارت کہتے ہیں..

خود ہی تو بلا رہے تھے کبوتر کو…
کبوتر آ …کبوتر آ

بھلا ہو ہندوستانی میڈیا کا جس نے جاسوس کبوتر کی گرفتاری کے بعد فالو اپ کے طور پر مزید خبریں جاری نہیں کیں۔ وگرنہ خبریں کچھ اس نوعیت کی ہوتیں۔

پاکستان کی بڑی جہادی تنظیم لشکرطیبہ نے جاسوس کبوتر کو بھارت بھیجنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ نامعلوم مقام سے لشکر طیبہ کے ترجمان نے بھارتی میڈیا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت نے کشمیر آزاد نہ کیا تو وہ اس طرح کے مخبری کرنے والے آئندہ بھی بھیجتے رہیں گے۔

اسی اثناء کسی بھارتی چینل کو ایک ایسی تصویر یا فوٹیج مل جاتی جس میں مظفرآباد یا مرید کے میں اس کبوتر کو تربیت کرتے ہوئے دکھایا جاتا۔ جبکہ بھارت کے انگریزی چینل اس موقع پر ملک کے مایہ ناز ماہر حیوانیات ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کو بلاتے اور اینکرز سے ایسے سوال کرتے کہ،

پاکستان نے کبوتر بھیج کر جو بھارت دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں پاکستان اس انداز میں بھارت پر کوئی کیمیائی یا حیاتیاتی حملہ کرنے کی تو سازش نہیں کر رہا؟

اس دوڑ میں ہندوستان کے مقامی اخبارات بھی پیچھے نہ رہتے اور مختلف پاکستان مخالف ہندوستانی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کی تصاویر اورخبروں کو نمایاں طور پر پیش کرتے، جن میں بی جے پی، آر ایس ایس و دیگر جماعتوں کی جانب سے جاسوس کبوتر کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہوتا۔ احتجاج کی تصاویر میں ایسے پوسٹرز دکھائے جاتے جس میں کبوتر کے گلے میں پھندا ڈالا گیا ہوتا۔ کچھ مقامات پر اس جاسوس کبوتر کے علامتی پتلے بھی نذرآتش کرکے احتجاج کیے جانے کی خبریں بھی موصول ہوتیں۔ جبکہ بعض ہندوستانی نیوز ویب سائٹس کبوتر سے ہونے والی تفتیش اور اس کی جانب سے کے گئے اعترافات کی خبریں جاری کرتے۔

تصویر کی آنکھ سے دیکھنے والے ایک سوشل میڈیا صارف نے اس کبوتر کو کچھ اس طرح کا جرم قبول کرتے ہوئے دیکھا۔

پچھلے کچھ دنوں سے بھارت نے جو کئی سال سے پاکستان میں تخریب کاری کی آگ جلا رکھی ہے، وہ بے نقاب ہونا شروع ہوئی تھی۔ فاٹا اور بلوچستان سمیت پاکستان کے اہم شہر کراچی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں بھارت خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔

ایسے موقع پر جب بھارتی سازشیں پاکستان دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہا تھا تو ہندوستان کیوں پیچھے رہتا؟ اُس نے بھی تو پاکستان کے سر کوئی الزام تھوپنا تھا۔ جب کچھ بھی نہ ملا تو بھارتی سیکورٹی ایجنسیز نے بوکھلاہٹ میں کبوتر کو ہی پاکستانی جاسوس بنا ڈالا۔

آخر میں بھارت کی ساری بوکھلاہٹ اور خوف ختم کرنے کے لیے ایک مخلصانہ مشورہ۔
بھارت اگر چاہتا ہے کہ اسے کوئی پرندہ یا جانور جاسوس نہ لگے، نہ ہی اسے کوئی انسان آتنگ وادی لگے تو اس کے لیے کچھ کام کرنے ہوں گے۔

جیسے اہل کشمیر کو اُن کی خواہش کے مطابق آزاد زندگی گزارنے کا حق دینا ہوگا۔ بھارت میں موجود اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کو زبردستی ہندو بنانے کی مہم روکنی ہوگی اور اُن پر مظالم کا باب بند کرنا ہوگا۔ پڑوس میں موجود ممالک کے متعلق اپنی پالیسی کو تبدیل کرکے انہیں ستانے کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ جب بھارت اِن تین چار باتوں پر عمل کرے گا تو وہ خود بھی خوف کے دائرے سے نکل آئے گا اور جب دوسرے ممالک کے عوام اُس کی  شرانگیزی سے محفوظ ہو جائیں گے تو پھر نہ کوئی کبوتر خطرناک لگے گا نہ انسان۔

کیا آپ بھارت کو اتنا ہی کمزور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک کبوتر سے خوف زدہ ہوجائے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

 

 

محمد نعیم

محمد نعیم

بلاگر کالم نگار اور رکن کراچی یونین آف جرنلسٹ ہیں۔ کراچی اپ ڈیٹس میں بحیثیت سب ایڈیٹر کام کررہے ہیں اور بلاگز کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ ٹوئٹر پررابطہ naeemtabssum@

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔