میاں افتخار حسین کو ہتھکڑی: نئے پاکستان کی ایک جھلک

زاہدہ حنا  بدھ 3 جون 2015
zahedahina@gmail.com

[email protected]

کچھ لوگ کیا غلط کرتے ہیں، اگر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تاریخ کو اسکول اور کالج کے نصاب سے خارج نہ کیا جائے ۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں اورخیبر پختونخوا میں اگر بچوں کو تاریخ پڑھائی جاتی تو وہ جانتے کہ خدائی خدمتگار کون تھے، انھیں اس بات کی جانکاری ہوتی کہ سرخ پوش کن لوگوں کو کہتے ہیں ۔

انھوں نے تحریک آزادی میں کس جوش و خروش سے حصہ لیا تھا، کس شان سے اپنی جانیں قربان کردی تھیں، ان کے رہنماعبدالغفارخان عرف باچا خان نے پہلے انگریزوں کی اور پھر اپنوں کی کتنی لمبی جیل کاٹی تھی، پاکستان بننے کے بعد بھی ان کی زندگی پس دیوارِ زنداں ہی گزری تھی۔ انھیں غدار اور غیر محب وطن کہا گیا لیکن انھوں نے کبھی ملک کے خلاف سازش نہیں کی، کبھی ان کا دامن رشوت ستانی اور بدعنوانی سے آلودہ نہ ہوا اور جب ان میں بھی کچھ ایسے لوگ پیدا ہونے لگے، تو ان کے چاہنے والوں نے ان سے کنارہ کیا۔

اس ابتلا کے زمانے میں بھی کتنے ہی نوجوان تھے جنہوں نے باچا خان کے فلسفے سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی ۔ یہ لوگ سیاسی اعتبار سے بائیں بازو کی سیاست سے جڑے رہے اور انسان دوستی کا نظریہ تعلیم کرتے رہے۔

آج کے اخباروں میں ایک ایسے ہی شخص کی تصویر ہے جس کا رشتہ باچا خان اور ان کے فلسفے سے استوار رہا اور جس نے ساری زندگی خدائی خدمت گاری کرتے ہوئے گزار دی۔ سفید بالوں والا یہ شخص جھک کر پولیس کی گاڑی میں قدم رکھ رہا ہے۔

اس نے کچھ دنوں پہلے اپنے اکلوتے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھایا ہے لیکن دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں۔ اپنے جی دار سیاسی کارکنوں کے قتل کا داغ ہمت سے سہا ہے لیکن کبھی گولی کا جواب گولی سے نہیں دیا، کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی ہے اور آج ان لوگوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے جنہوں نے اپنے ایک نوجوان ساتھی کے مبینہ قتل کی ایف آئی آر اس کے نام کٹوائی ہے۔ یہ ایک ایسا ظلم ہے جس پر ملک بھر کے لوگ تھرا گئے ہیں۔

وزیراعظم، زرداری صاحب، مولانا فضل الرحمن، چوہدری نثار ،الطاف حسین ۔کسی سیاسی تفریق کے بغیر تمام لوگ اس گرفتاری کی مذمت کر رہے ہیں۔ اس شخص کے ساتھ جو توہین آمیز سلوک روا رکھا گیا، اس پر وزیراعظم کو یہ کہنا پڑا ہے کہ حفظ مراتب کا خیال رکھا جائے اور ایک نہایت محترم سیاست دان کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے۔

یہ شخص جسے ہم سب میاں افتخار حسین کے نام سے جانتے ہیں، اس نے اپنا یہ نام خود رکھا تھا۔ ایک مزدور کا بیٹا جو ایک کمرے کے گھر میں رہتا تھا۔ صبح اس کی آنکھ اپنی ماں کی پُرسوز آواز سے کھلتی۔ یہ’’جنگ نامہ‘‘ تھا۔ پشتو میں شہادتِ حسین کا ذکر، یہ بچہ جب محلے کے اسکول میں پہنچا اور استاد نے اس کا نام پوچھا تو اس نے میاں افتخار حسین لکھنے کو کہا۔ استاد کا کہنا تھا کہ لیکن یہ تمہارا خاندانی نام نہیں۔ شاگرد نے جواب دیا مجھے حسین سے محبت ہے۔ میرا نام تو یہی ہوگا۔

اکلوتا جواں سال بیٹا شہید ہوا تو انھوں نے انتقام کا نعرہ نہیں لگایا۔ صبر و شکر سے بیٹے کے جنازے کو کندھا دیا اور اس روز یہ کہا کہ آج میری سمجھ میں آیا کہ بچپن میں اپنا نام میں نے حسین کیوں رکھا تھا۔

انھوں نے نوشہرہ کے ایک ایسے اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی جسے اس شخص نے قائم کیا تھا جو دل سے خدائی خدمت گار تھا لیکن وہ عملی سیاست سے وابستہ نہ تھا۔ یہ وہی تھا جس نے میاں افتخار حسین کے سیاسی شعور کی تربیت کی۔ یہ ان کا سیاسی شعور تھا جس نے انھیں پہلے پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ کیا اور پھر وہ عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک ہوگئے۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ہی کتاب سے ان کا جو رشتہ ابتدائی عمر سے قائم ہوا تھا، وہ آج بھی برقرار ہے۔ جالب، فیض اور فراز کا کلام ان کے سرہانے رہتا ہے۔

انھوں نے پشتو اور سوشل ورک میں ایم اے کیا۔ یہ جنرل ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ اسی دور میں انھوں نے بار بار جیل یاترا کی۔ جمہوریت کو کفر اور عدالتی نظام کو کفری نظام کہنے والوں کے سامنے وہ ڈٹے رہے۔ ذاتی زندگی میں عیش و آرام سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ تین ماہ کے لیے امریکا گئے تو ایک مہینے اپنے دوستوں کی میزبانی کا لطف اٹھایا اور دوسرے مہینے ایک پرچون کی دکان پر کام کیا اور کچھ دنوں ایک گیس اسٹیشن پر پٹرول بھر کر کچھ ڈالر کمائے۔ ان کو یہ ہنر آج تک نہ آیا کہ سیاست میں اڑان بھریں تو کسی دولت مند دوست کا نجی طیارہ ان کی خدمت کے لیے ہمہ وقت موجود رہے۔

میاں افتخار حسین کے خلاف قتل کا جو پرچا مقتول کے غمزدہ باپ نے کٹوایا ہے اور جس میں اس نے کہا ہے کہ میاں افتخار نے اپنے محافظوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے بیٹے کو گولی ماردیں۔ اس پرچے کے بارے میں کیا کہا جائے کہ پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر فوج کے کچھ جوان بروقت نہ پہنچ گئے ہوتے تو جس طرح پی ٹی آئی کے مسلح مشتعل مظاہرین میاں افتخار کو گھیرے ہوئے تھے، ہوائی فائرنگ اور پتھراؤ ہو رہا تھا، پولیس کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ انھیں حفاظت سے مظاہرین کے نرغے سے نکال سکتی۔

عدالت میں میاں افتخار حسین نے صحافیوں سے پوچھا کہ میں نے تو اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کردیا تھا پھر بھلا میں کسی دوسرے کے بیٹے کے قتل کا کیسے حکم دے سکتا ہوں۔ یہاں یہ بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ خبروں کے مطابق اتوار کو خیبر پختونخوا پولیس نے 87 ایف آئی آر درج کیں اور 197 لوگوں کو بلدیاتی انتخابات کے موقعے پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان لوگوں سے 35 عدد اے کے47 رائفلیں، 10 شارٹ گنیں، 7 ریپٹر گنز، 46 ہینڈ گنز اور 1830 گولیاں برآمد ہوئیں۔

آزادی ملنے کے بعد سیاست کو بدنام بہت کیا گیا۔ نہ کیا جاتا اور بے غرض لوگوں کی مشکل زندگیاں سامنے آتیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ جنرل ایوب اور جنرل ضیا یا جنرل مشرف ہیرو کے طور پر سامنے لائے جاتے۔

سیاست کو بدنام انھوں نے کیا جو اپنے مفادات کی خاطر مذہب کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ سیاست، عبادت سے عبارت ہے۔ سیاسی عمل محض اقتدار میں آنے اور پھر اس کے مزے لوٹنے کا نام نہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو قوموں کی تطہیر اور پائیدار بنیادوں پر ملکوں کی تشکیل کرتا ہے۔ سیاسی کارکن کلاشنکوف لے کر نہیں گھومتا وہ ایک درویش اور صوفی کی مانند ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے بہتر اور خوش آیند مستقبل کے لیے ذاتی زندگی کا سکون تج دیتا ہے اور گھر بار کا آرام قربان کردیتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی جو کسی زمانے میں نیشنل عوامی پارٹی ہوتی تھی، وہ ایسے ہی با ریا اور باوفا لوگوں کی جماعت رہی ہے۔ خدائی خدمت گار اس کے پیش رو تھے، اس کے بنیاد گزار باچا خان تھے۔ برصغیر کی آزادی میں ان کا اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا بیش بہا حصہ ہے۔ سوچیے تو سہی کہ اگر یہ لوگ نہ ہوتے، انھوں نے انگریز کی جیل نہ کاٹی ہوتی، صعوبتیں نہ سہی ہوتیں تو کیا پاکستان وجود میں آسکتا تھا؟ قیام پاکستان کے بعد ملک کو حقیقی معنوں میں آزاد، خود مختار اور جمہوری روایات کا امین بنانے کی جدوجہد میں نیشنل عوامی پارٹی کے قائد عبدالولی خان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

آج جس وفاقی آئین کے تحت خیبر پختونخوا صوبائی خودمختاری سے بہرہ مندہ ہے اور جہاں عمران خان کی حکومت ہے، اس آئین کے بانیوں میں وہ جماعت اور اس کے قائد شامل ہیں، میاں افتخار حسین جن کے پیروکار ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو آپ اس صوبے میں برسر اقتدار ہوکر ان کے بزرگ پیروکاروں کو ہتھکڑیاں نہ لگا رہے ہوتے۔

دنیا بدلی ہو یا نہ بدلی ہو، پاکستان واقعی بدل گیا ہے۔ سیاست ان کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو اپنے تاب ناک ماضی سے واقف نہیں۔ وہ ہماری تاریخ اور سیاسی تجربے سے ناواقف ہیں۔ شور شرابہ، ہنگامہ آرائی، دشنام طرازی، الزام تراشی اور تہمت کا بازار گرم ہے۔

ایسے ’’نئے پاکستان‘‘ میں سیاسی جدوجہد کی شاندار روایت رکھنے والی لگ بھگ پون صدی پرانی جماعت کے رہنما میاں افتخار حسین کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر حیرت کی کیا ضرورت ہے؟

’’نئے پاکستان‘‘ اور ’’نئے خیبرپختونخوا‘‘کی تو یہ بس ایک جھلک ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔