ہماری آزادی کی حفاظت

اکرام سہگل  جمعرات 4 جون 2015

بھارتی وزیر داخلہ سشما سوراج نے اقتصادی راہداری کو ناقابل قبول قرار دیا ہے جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بس بہت ہو چکی۔ کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستونگ کے قتل عام کے بعد جو اے پی سی بلائی اس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اس قسم کے مہیب واقعات میں کون سا خفیہ ہاتھ کارفرما ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کے امور پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چین پاک اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے خلاف معاندانہ مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

ہمارا میڈیا جمہوریت کی خدمت کے لیے پیش پیش ہوتا ہے تاہم ریاست کے اس چوتھے ستون میں ایک ایسا بااثر سیکشن بھی ہے جو بسا اوقات غلط طور پر سمجھوتہ کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی اولین دفاعی لائن یعنی پاک فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو ہدف تنقید بنانے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں اہل دانش اور عوام آزادیٔ اظہار کے متقاضی ہوتے ہیں تاہم انٹیلی جنس ایجنسیاں دنیا بھر میں ایک مخصوص اوٹ میں کام کرتی ہیں اور ان کی اصل کارکردگی کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

اس حوالے سے جمہوری سیاست میں بسا اوقات کچھ تجاوزات بھی دیکھنے میں آ سکتی ہیں تاہم ان کی وضاحت کو قومی مفاد کے منافی اور خلاف مصلحت قرار دیتے ہوئے اس سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے مشن کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کرتیں اور نہ ہی یہ بات قومی مفاد میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارناموں کی تشہیر کرتی پھریں۔

اگر احتساب کا خیال رکھے بغیر کسی کو تمام اختیارات دے دیے جائیں تو ان اختیارات کا غلط استعمال خارج از امکان نہیں ہوتا جیسا کہ یہ محاورہ ہے کہ بغیر روک ٹوک کے اختیارات تفویض کرنے سے کرپشن کا راستہ کھل جاتا ہے۔ جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے بعد جمہوریت بحال ہوئی اور پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار حاصل ہو گیا اور جنھیں پہلی مرتبہ اقتدار کے روشن اور تاریک دونوں پہلوؤں سے آگاہی ہوئی۔ اس موقع پر نہ صرف لوگوں کی انفرادی خطاؤں کو آشکار کیا گیا بلکہ دشمن کی ایجنسیوں کی کارروائیاں بھی منظر عام پر آئیں۔

یہ ایسے معاملات ہیں جن کی طرف سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ اس دوران ہماری جغرافیائی اور سیاسی صورت حال کے خلاف سبوتاژ کی بھی کوششیں دیکھی گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو نے پاک فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ذوالفقار علی خان کی زیر قیادت ایک کمیشن قائم کیا جس کو انٹیلی جنس کی اصلاحات کا کام تفویض کیا گیا۔ ذوالفقار کمیشن نے بڑی جامع اور معروضی تحقیقات کے بعد جو نتائج اخذ کیے ان میں نمبر-1 یہ تھا کہ قومی سطح پر انٹیلی جنس اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔ -2 ذمے داریوں کی نہایت وضاحت کے ساتھ تفویض کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ایک ہی کام بار بار نہ ہو۔ کمیشن کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے قوانین و ضوابط کو وضاحت اور صراحت کے ساتھ مدون کیا جائے نیز ان ایجنسیوں کے داخلی سیاسی آپریشنوں پر تنقید کی گئی جو کہ مختلف شخصیات کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے پر مبنی تھیں۔

علاوہ ازیں انھوں نے معمول کی سیاسی سرگرمیاں کی نگہداری کرنے سے امتناع کی بھی تجویز دی اور یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ افراد کے دوست احباب‘ اہل خانہ یا ان کے کاروباری تعلقات کا احتساب کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ذوالفقار کمیشن نے بطور خاص ’’کلائنٹ پیٹرن‘‘ تعلقات کے خطرات سے آگاہ کیا جو کہ ہمارے نظام میں بہت عام میں نے 3 نومبر 1992ء میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’انٹیلی جنس امبارگو‘‘ یعنی انٹیلی جنس پر قدغن۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس نظام کے چار ستون ہیں۔ جن کو کسی معاملے کا تجزیہ کرنے کے لیے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

اصطلاح میں ان کو ’’سی سی ڈی اینڈ ڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔ کسی صورت حال کا معروضی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کے لیے متذکرہ چاروں اصولوں کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے بصورت دیگر آپ درست نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ متذکرہ اصولوں کا آسان زبان میں اس طرح ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ معلومات کو اکٹھا کرنا‘ ان کی درجہ بندی کرنا اور پھر انھیں مناسب مقامات پر تقسیم کرنا۔ چونکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں قومی ذمے داریوں اور عمومی جذبات کا اندازہ لگانے کے لیے قائم کی جاتی ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ان کی اطلاعات بالکل درست ہیں تا کہ وہ ٹھوس بنیادوں پر کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ بدقسمتی سے دنیا کے بہت سے ممالک میں‘ جن میں کہ ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔

اطلاعات میں خاصی جانبداری کا مظاہرہ نظر آتا ہے تا کہ کسی   مخصوص مفادات کو پورا کیا جا سکے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا وجود  کسی ریاست کے اہم رازوں کی حفاظت کرنے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے  کیونکہ کوئی بھی ریاست یہ نہیں چاہتی کہ اس کے رازوں کا اس کے دشمنوں کو علم ہو سکے یا وہ ان کی آسان رسائی میں آ سکیں۔ ہماری انڈرکور خدمات کا یہ فرض ہے کہ وہ ہمارے رازوں تک رسائی کے راستوں کی کڑی نگہبانی کریں تا کہ کوئی راز افشا نہ ہو سکے اور نہ ہی خفیہ اطلاعات باہر جا سکیں۔ علاوہ ازیں دشمن کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنا بھی ان کی ذمے داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ ان ایجنسیوں کی سربراہی کے لیے اعلی معیار کے پیشہ ور افراد کو مقرر کیا جاتا ہے جن کا اخلاقی معیار بھی بہت بلند ہو اور جن کے کردار پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔ ان افراد کی دور اندیشی، بصیرت‘ دیانتداری اور یکجہتی پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

یہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جن کے لیے قومی اور ملکی مفاد باقی تمام چیزوں سے بالاتر ہو۔ اس حوالے سے ان کی ذاتی پسند اور ناپسند کو ہرگز آڑے نہیں آنا چاہیے اور نہ ہی ان کے اپنے کوئی سیاسی عزائم ہونے چاہئیں۔ ان کے فرائض میں قومی مفادات کے تحفظ کو اولین مقام حاصل ہونا چاہیے۔ جس میں کسی دوست دشمن کی تمیز نہیں کی جانی چاہیے اور وہ ایسے بصیرت افروز لوگ ہوں جو حکومت کے خلاف اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں فرق کو ملحوظ رکھ سکیں۔ مراد یہ ہے کہ اگر حکومت کے خلاف کوئی کام ہو رہا ہے تو اسے ریاست کے خلاف کام نہیں سمجھا جانا چاہیے چونکہ ہمارے ملک میں ابھی تک جمہوریت کی جڑیں اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ اینٹی اسٹیٹ اور اینٹی گورنمنٹ سرگرمیوں میں واضح فرق محسوس کیا جا سکے ۔

لہذا صاحبان اقتدار اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی سرگرمی کو ریاست کے خلاف قرار دے کر اپنے مخالفین کو باغی اور غدار بنا دیتے ہیں چونکہ ہمارے لیڈر بالعموم خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں لہٰذا وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنے مخالفین کے خلاف بغاوت کے الزامات نافذ کرنے کی ذمے داری سونپ دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایجنسیاں حکومت کے مخالفین کے خلاف غلط الزامات اپنی طرف سے گھڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ہمارے قومی کردار میں چونکہ حسد اور جلن بھی داخل ہو چکا ہے لہٰذا میرٹ پر بھی شک و شبہ کیا جاتا ہے لیکن جب انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران اپنے مشن سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر حالات بسا اوقات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔

اس لیے لازم ہے کہ خود احتسابی کے عمل کو مسلسل جاری رکھا جائے اور ان ایجنسیوں کو ’’اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر‘‘ (ایس او پی) پر سختی سے عمل کرایا جانا چاہیے۔ آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کوئی بھی قوم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ ایسی صورت میں ان کے دشمن کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے کا راستہ کھل جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔