فلسطینی فٹ بال ٹیم کا دورۂ پاکستان منسوخ…شائقین مایوس

میاں اصغر سلیمی  ہفتہ 13 اکتوبر 2012
فلسطین کی پاکستان آمد کے بغیر فیسٹیول کے یہ رنگ پھیکے پھیکے رہیں گے۔ فوٹو: فائل

فلسطین کی پاکستان آمد کے بغیر فیسٹیول کے یہ رنگ پھیکے پھیکے رہیں گے۔ فوٹو: فائل

فلسطین فٹ بال ٹیم نے مارچ 2011 میں پاکستان کا پہلی بار دورئہ کیا۔

مہمان کھلاڑیوں کی لاہور آمد کے بارے میں پہلی بار یہ خبر راقم کو پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سیکرٹری کرنل(ر) احمد یارخان لودھی نے ون ٹو ون ملاقات کے دوران بتائی۔13 برس کے صحافتی کیریئر میں متعدد ملکی اور انٹرنیشنل سیریز کی کوریج کا موقع میسر آیا لیکن جتنی خوشی، راحت اورمسرت اس خبر سے ہوئی، اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ فلسطینیوں کا مسلمانوں کے پہلے قبلہ بیت المقدس کی سرزمین سے ہونا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے بعد صلیبی جنگوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے دوبارہ آزاد کرایا۔ 1948ء میں اسرائیل کا وجود عمل میں آیا تو بیت المقدس ایک بار پھر یہودیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ اسرائیل بننے کے بعد سے فلسطینی عوام پر جس طرح ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اسے سن کر روح کانپ جاتی ہے۔

کشمیریوں کی طرح فلسطین کی پہلی کے بعد اب دوسری نسل بھی آزادی کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور اس کوشش میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اسرائیلی فوج کی طرف سے معصوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی نہ کھیلی جاتی ہو، اس کے باوجود فلسطینی نوجوان نسل نے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں انسان سے بڑی کوئی ٹیکنالوجی نہیں اور جذبے سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔ ماضی میں فلسطینی نوجوانوں نے خودکش حملوں کے ذریعے اسرائیل کو سبق سکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔

فلسطین فٹ بال ٹیم نے جب لاہور کی سرزمین پر قدم رکھا تو مہمان کھلاڑی زندہ دلان لاہور کے پرتپاک استقبال پر حیران رہ گئے اور 2 میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے موقع پر لاہور کے پنجاب سٹیڈیم میں دونوں ملکوں کا قومی ترانہ بجایا گیا تو ایک عجیب سا سماں تھا۔ پاکستان کے قومی ترانہ پاک سر زمین شاد باد، کشور حسین شاد باد کے بعد فلسطین کا قومی ترانہ بلادی بلادی بلادی یا ارضی، یا ارض الجدود، بلادی بلادی، بلادی یا شعبی، یا شعب الخلود، بلادی بلادی، تو میں سوچ رہا تھا کہ فلسطین ، فلسطین، فلسطین تیرے دشمن غارت ہوں، تیرے بچے آزادی سے ہمکنار ہوں، دنیا بھر کے انصاف پسند تیرے ساتھ ہیں، اسی دوران راقم نے محسوس کیا کہ فلسطینی کھلاڑیوں کی روشن پیشانیوں اور بلند عزائم سے ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں تم میرے وطن کو غلام نہیں رکھ سکتے اور تمہارا ظلم ہماری روحوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔ پنجاب سٹیڈیم کی مصنوعی روشنیوں میں ہونے والا یہ میچ فلسطین فٹ بال ٹیم 2-1 سے اپنے نام کرنے کے بعد پاکستانی عوام کے دل جیتنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

ہم بھی کیسی قوم ہیں، امریکہ بہادرسمیت کوئی بھی بڑی عالمی طاقت ہمیں نقصان پہنچانا یا للکارنا تو دور کی بات ہمیں غصے سے بھی دیکھے تو ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں اور اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں ہم اس کی ہر بات ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں۔اگر کوئی بھولا بسرا عالمی لیڈر پاکستان آ جائے تو اس کے راستوں میں پلکیں بچھاتے اور اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں بے شمار خامیاں اور بے شمار کمزوریاں ہوں گی لیکن ہمیں یہ ماننا اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان خامیوں، ان کمزوریوں کے باوجود پاکستان کے کسی بھی حکمران نے اسرائیل کو آزاد ملک تسلیم نہیں کیا۔

حالانکہ اس کے لئے ہمیں کس کس دبائو کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ہمیں دھمکیاں دی گئیں، بات نہ بنی تو بڑے سے بڑا لالچ بھی دیا گیا، شاید اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہو کہ ہم جانتے ہیں کہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے دکھ سانجھے ہیں، فلسطین میں جہاں اسرائیلی بچوں کو ٹینکوں کے نیچے روند دیا جاتا ہے وہاں کشمیر میں نہتے اور معصوم بچوں، بوڑھوں، مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ فلسطین سے ہمارا رشتہ مذہبی اورجذباتی ہر طرح کا ہے، پاکستان سے ہزاروں میل دور ایک فلسطین شہید ہوتا ہے تو اس کی ٹھیس اور تکلیف ہم یہاں بیٹھے محسوس کرتے ہیں۔

چند روز قبل جب یہ معلوم ہوا کہ ڈیڑھ برس قبل کے خوشگوار تجربے اور پاکستانی عوام کی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر فلسطین فٹ بال ٹیم پاکستان آ کر 2میچز کھیلے گی اور یہ مقابلے 14اکتوبر اور 16 اکتوبر کولاہور میں شیڈول ہیں، تو دل پھر باغ باغ ہوگیا لیکن اس وقت یہ خوشی، یہ راحت، یہ تمنا اوریہ آرزو حسرت بن کر رہ گئی جب یہ معلوم ہوا کہ پنجاب سٹیڈیم کی دستیابی کے حوالے سے فیصلے میں غیر ضروری تاخیر کے بعد فلسطین کی ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے اور راقم نے یہ خبر سب سے پہلے اپنے ہی اخبار میں شائع بھی کی۔فلسطین کو کسی بھی غیر ملک میں جانے کے لئے اسرائیلی حکومت کی طرف سے خصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے اور ظاہر ہے اس کے لئے وقت بھی چاہیے ہوتا ہے۔

اس لئے فلسطین فٹ بال فیڈریشن نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن سے کہا تھا کہ وہ میچز کے حوالے سے انتظامات مکمل کر کے5 اکتوبر تک مطلع کر دیں، پی ایف ایف نے پنجاب سپورٹس بورڈ سے رابطہ کیا لیکن بورڈ حکام نے صوبہ بھر میں جاری سپورٹس فیسٹول کی وجہ سے یہ سٹیڈیم مقررہ تاریخوں پر دینے سے انکار کر دیا۔سپورٹس بورڈ کا کہنا تھا کہ اگر میچز کے شیڈول میں تبدیلی کر لی جائے اور یہ مقابلے فیسٹول کے اختتام پر یعنی نومبر میں رکھ لئے جائیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔جب یہ اطلاع فلسطین فٹ بال فیڈریشن کو دی گئی توانہوں نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے ہی انکار کر دیا۔

بلاشبہ پنجاب یوتھ فیسٹیول کے پلیٹ فارم پر لاکھوں لوگ مختلف کھیلوں میں شریک ہیں اور آئندہ ماہ انٹرنیشنل مقابلوں کا انعقاد بھی ہوگا جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک کی ٹیمیں شریک ہوں گی لیکن فلسطین کی پاکستان آمد کے بغیر فیسٹیول کے یہ رنگ پھیکے پھیکے رہیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔