کاہلی کے مزے

طارق محمود میاں  ہفتہ 13 اکتوبر 2012
طارق محمود میاں

طارق محمود میاں

کتاب پڑھنا میری عادت ہے۔ رات کو سونے سے قبل آخری کام۔ بھلے ایک صفحہ ہو۔

لیکن یہ روحانی غذا لینے سے پہلے میں نیند کی سہانی دیوی کو خود سے دور رکھتا ہوں۔ اسی سلسلے میں کل ایک کتاب ہاتھ لگی کہ اس نے میرا دامن اطمینان اور سکون کے موتیوں سے بھر دیا۔ جوں جوں اسے پڑھتا گیا توں توں عمر بھر کا احساسِِ ہڈ حرامی کافور ہوتا گیا۔ زندگی بسر کرنے کا ایسا آرام دہ تصور پہلے کب تھا جو 160 صفحے کی اس چھوٹی سی کتاب نے سمجھادیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پہلے میں آرام سے تھا، اسے پڑھنے کے بعد اور بھی آرام سے ہوں۔

سوچتا ہوں کہ اس میں سے اپنی پسند کی باتیں آپ سے شیئر کرلوں کیوں کہ اگر آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو مجھے کامل یقین ہے کہ آپ بھی میری طرح… COUCH POTATO ہوں گے اور ان مفرح انکشافات سے بڑا اطمینان محسوس کریں گے۔ ’’THE JOY OF LAZINESS‘‘ نامی یہ انقلابی کتاب دو ڈاکٹروں نے لکھی ہے۔ 65 سالہ DR. PETER AXT جو میونخ یونیورسٹی کا ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہے اور اس کی بیٹی DR. MICHAELA AXT- GADERMANN۔ یہ دونوں جوانی میں ایتھلیٹ بھی رہے ہیں اور لمبے فاصلے کی دوڑ میں حصّہ لیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاہل اور سست لوگ زیادہ مزے میں رہتے ہیں۔ کیوں؟ آئیے میں بتاتا ہوں۔

اس کتاب میں دونوں ڈاکٹروں نے میٹابولک تھیوری پر مبنی ایک سائنسی تحقیق کو اپنا بنیادی موضوع بنایا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ہر انسان کے پاس قدرت کی ودیعت کردہ ایک محدود حیاتی توانائی ہوتی ہے جسے وہ اپنی صوابدید پر خرچ کرسکتا ہے۔ جس رفتار سے وہ اسے خرچ کرتا ہے وہی اس کی عمر کے دورانیے کا تعین کرتی ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ ہر بندے کو قدرت پٹرول کی ایک مہر بند ٹنکی دیتی ہے۔ اسے وہ جس عمدہ طریقے سے استعمال کرے گا اتنی زیادہ اور اچھی اس کی زندگی کی گاڑی چلے گی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ عورتوں کی عمر لمبی ہوتی ہے۔

اس لیے کہ وہ مردوں سے تقریباً دس فیصد انرجی کم استعمال کرتی ہیں۔ اس حساب سے عموماً وہ دس فیصد عمر بھی زیادہ پاتی ہیں۔ اسی طرح چھوٹے اور ہلکے پھلکے جانور جو تیزی سے حرکت کرتے ہیں، زیادہ تیزی سے انرجی استعمال کر ڈالتے ہیں۔ چوہا 4 سال، چمپانزی 50 سال، ہاتھی 70 برس اور کچھوا 150 سال تک زندہ رہتا ہے۔ حالانکہ ان سب میں جسمانی وزن کے فی گرام کے حساب سے بالکل ایک ہی جیسی انرجی ہوتی ہے۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ شہد کے چھتے میں ملکہ مکھی پانچ برس سے زیادہ زندہ رہتی ہے جب کہ مشقت کرنے والی مکھیاں تین سے چھ ماہ کے اندر اندر مرجاتی ہیں۔

آگے چل کر اس کتاب میں جنگل کے شیر کا بھی ذکر ہے۔ لکھا ہے کہ شیر جنگل میں آٹھ سے دس برس تک جب کہ چڑیا گھر میں 20 برس تک زندہ رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بے چارے جنگل کے شیر کو خوراک کی تلاش میں بہت پھرنا پڑتا ہے اور ٹینشن بھی بہت رہتی ہے جب کہ چڑیا گھر کے شیر عیش ہی عیش کرتے ہیں۔ ڈیزل انجن بھی اسی طرح ہوتا ہے، سلو مگر 6 لاکھ کلومیٹر تک اسے کچھ نہیں ہوتا۔

ہمارے لیے بھی ہر روز کئی ایسے مرحلے آتے ہیں جو اپنی انرجی یا حیاتی توانائی کو استعمال کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ذہنی دبائو، جلد بازی، فرسٹریشن، بے خوابی وغیرہ، جو ان سے بچتا ہے، اپنی عمر کو بڑھاتا ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟ یہی کہ اپنی توانائی کو محفوظ رکھا جائے۔ کھانے میں اعتدال، خاموشی اور سکون، ورزش میں اعتدال۔ یہ چیزیں کولیسٹرول، شوگر، بلڈ پریشر اور یورک ایسڈ وغیرہ کو بھی قابو میں رکھتی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اپنے کمرے کو گرم مگر مزاج کو ٹھنڈا رکھنا ہے۔ لڑائی بھڑائی اور بیوی سے توتکار مت کریں بلکہ اسے بھی ہڈحرامی کی پرسکون لائن پر لگادیں اور آرام سے رہیں۔ ہر دس منٹ کے بعد ای میل، ٹوئٹر، ایس ایم ایس اور فیس بک کا اسٹیٹس چیک کرنے کی ضرورت نہیں۔ سات آٹھ گھنٹے سے زیادہ سوئیں اور یاد رکھیں کہ ہر ایک گھنٹہ جاگنے سے 50 کیلوری حیاتی توانائی ضایع ہوتی ہے۔

ایک اور بات یاد رکھیں کہ LAZY ہونے سے آدمی توانا رہتا ہے اور اس کا امیون سسٹم بہتر ہوجاتا ہے کیونکہ جب ہم ریلیکس کررہے ہوتے ہیں تو اس وقت اسپیشل امیون سیل زیادہ طاقتور ہونے لگتے ہیں۔ یہاں ایک ریسرچ کا بھی ذکر ہے کہ سال میں کچھ دن روزہ رکھنے سے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کینسر زدہ سیل بھی کم ہوگئے۔ اسی طرح LAZINESS دماغ کے لیے بھی اچھی ہے۔ زیادہ ورزش بیمار کرسکتی ہے اور زیادہ سونے والے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ ریلیکس رہنے والے اور مزاج کو معقول رکھنے والے لوگ اسمارٹ اور صحت مند ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہنسنا اور قہقہے لگانا دوڑ لگانے سے بہتر ایکسر سائز ہے۔ دوڑنے کی آخر ضرورت کیا ہے؟ چلنا ہی ہے تو بس آرام سے چلتے رہیں اور سادہ خوراک کھائیں۔ یہی ورزش کافی ہے۔ ونسٹن چرچل کو ورزش سے نفرت تھی۔ وہ بہت لمبی عمر جیا (حالانکہ میرا خیال ہے کہ بعض حالات میں ورزش صحت کے لیے بڑے کمال دکھاتی ہے۔ بلڈ پریشر کو بھی کم کرتی ہے اور قلبی حالات کو بھی درست رکھتی ہے)۔

ایک روز ڈاکٹر مائیکلا کے کلینک میں ایک 84 برس کی خاتون آئی۔ دیکھنے میں وہ بہت کم عمر دِکھائی دے رہی تھی۔ مائیکلا نے وجہ دریافت کی تو بولی ’’جب سے ہماری شادی ہوئی ہے، میں اور میرا شوہر ہر ہفتے ایک روزہ رکھتے ہیں۔‘‘ اس سے مائیکلا نے یہ نتیجہ نکالا کہ روزہ رکھنے سے بڑھاپے کا عمل آہستہ ہوجاتا ہے اور عمر بڑھ جاتی ہے۔ یہاں پر اس نے پڑھنے والوں سے سوال کیا ہے کہ کیا دن میں پانچ دفعہ کھانا صحت کے لیے اچھا ہے؟ نہیں۔ بھلا کھانا ہضم کرنے کے عمل کو بار بار تکلیف دے کر اپنی قیمتی توانائی کیوں ضایع کی جائے۔ کم کھائیں۔ بلکہ اس 84 سالہ بڑھیا کی طرح ہفتے میں ایک روزہ بھی رکھیں۔ مسلم، ہندو، بدھ، عیسائی، یہودی سب کے مذاہب میں روزہ بلاوجہ تو داخل نہیں ہوگیا ہے۔

بات اصل میں یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ جیتنے اور کامیابی حاصل کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ پروفیشنل کامیابی کو وہ خاندانی تعلقات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیشہ خود کو صحیح ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تابع نہیں ہونا چاہتے، کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور ہر لمحے کچھ نہ کچھ کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ اس کوشش میں وہ اپنی ساری توانائی صرف کر بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ کچھوا صاحب بھی اسی دنیا کی مخلوق ہیں۔ کچھ اس سے بھی سبق حاصل کریں۔ اعتدال میں رہیں۔ سکون سے رہیں اور جناب بندے نے ریلیکس ہونا ہو تو اس کے لیے بھی زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح تو اور بھی پریشانی ہوگی۔ بس تصور کریں کہ گرہیں کھل رہی ہیں اور آپ بہتر محسوس کررہے ہیں۔ انسانی سوچ سے بہتر عامل اور کیا ہوسکتا ہے۔

اس دلچسپ کتاب میں کیلوریز، وزن اور وٹامن وغیرہ کے بارے میں بھی کئی چارٹ دیے گئے ہیں جو بے حد مفید ہیں لیکن میں انھیں اپنی LAZINESS کی وجہ سے یہاں درج کرنے سے قاصر ہوں۔ آپ کا دل چاہے تو کتاب میں دیکھ لیں۔ آج کل عموماً بیشتر کتابیں انٹرنیٹ پر بھی پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کتاب انٹرنیٹ پر کہاں دستیاب ہے۔ یہ کالم لکھتے وقت میں نے سرسری طور پر سرچ کیا تو مجھے اس کا کچھ ذکر تو ملا لیکن کتاب کا لنک نہیں مل سکا۔ آپ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے کاہلی کا مزا لینا چاہتے ہیں تو اپنی تھوڑی سی انرجی ضایع کریں اور خود تلاش کریں۔ میں آٹھ دس گھنٹے کے لیے سونے جارہا ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔