رقص موت کا

ابن اظہر  اتوار 7 جون 2015
اسلحے کی تجارت تمام تر انسانی المیے کے باوجود نہ صرف پوری آب و تاب سے جاری ہے بلکہ سب سے منافع بخش کاروبار بھی سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

اسلحے کی تجارت تمام تر انسانی المیے کے باوجود نہ صرف پوری آب و تاب سے جاری ہے بلکہ سب سے منافع بخش کاروبار بھی سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انیسویں صدی کے وسط میں ایک غریب یونانی عطر فروش کے ہاں پیدا ہونے والے باسل ظاہروف کی زندگی تضادات کا عجیب مجموعہ تھی۔ اس کا غربت کی گہرائی سے امارت کی اونچائی کا سفر کسی دیومالائی داستان سے کم نہیں۔ اس نے اسلحے کے ایک معمولی  آڑھتی کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گیا۔ ظاہروف کا یہ سفر چالاکی، عیاری اور مکاری سے عبارت ہے۔ وہ ایک خدا ترس آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا اور ایک ایسے عاشق کے طور پر بھی جس نے 30 سال کے طویل انتظار کے بعد اپنی محبوبہ سے شادی کی۔ ظاهروف کا شمار اپنے وقت کے امیر ترین آدمیوں میں ہوتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ’’موت کا  تاجر‘‘ اور ’’یورپ کا پراسرار آدمی‘‘ کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

ہم ظاہروف کو تاریخ کے سفاک اور خود غرض ترین انسانوں میں بھی شامل کرسکتے ہیں، جس نے اپنے اسلحے کے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے جرمنی، برطانیہ، خلافت عثمانیہ اور روس سمیت کئی ممالک کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ جنگ عظیم اول کے دوران اس نے اتحادی افواج کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی جس کے صلے میں اسے فرانس اور برطانیہ کے اعلی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ظاهروف کی شخصیت اس قدر متنازع اور پُر اسرار ہے کہ اُس کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم باتیں پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہیں، یہاں تک کہ اسکے اصل وطن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ وہ یونانی نسل سے تھا اور ترکی میں پیدا ہوا اور پیرس میں رہتا تھا، بعض لوگوں کے مطابق اس کو 14 زبانیں آتی تھیں اور مرنے سے پہلے اُس نے پچاس جلدوں پر مشتمل اپنی سوانح حیات اور دیگر دستاویزات نذر آتش کر دی تھیں۔

تاہم اس کی ذاتی زندگی کے متعلق حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اُس کے دفتری معمالات، خط و کتابت، تقریریں، میٹنگز وغیرہ کے متعلق کچھ علم نہیں لیکن اِس تمام پراسراریت کے باوجود اُس کی کاروباری کامیابیوں پر کسی کو کوئی شک نہیں۔ اسلحہ کی صنعت میں اس نے بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ بعض کے مطابق دنیا کی پہلے آٹومیٹک مشین گن اور آبدوز کی مارکیٹنگ میں اس کا بہت اہم کردار تھا، جس نے یقیناً اس کو بے حد مالی فائدہ پہنچایا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اُس نے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اک بینک اور اخبار بھی خرید لیا، اِس کے ساتھ ساتھ اس نے فلاحی کاموں پر بھی توجہ دی اور کئی یونیورسٹیوں کو بھی گرانٹ وغیرہ فرہم کی۔

ہم ظاہروف کی شخصیت سے ہزار اختلافات کرسکتے ہیں لیکن اُس نے کاروبار کا ایک ایسا سنہری اصول مرتب کیا جس پر آج بھی مانتے یا نہ مانتے ہوئے تمام  کاروباری لوگ کاربند ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اصول ڈیمانڈ اور سپلائی یعنی مانگ اور رسد سے متعلق ہے۔ کوئی بھی کاروبار عام طور پر کسی بھی چیز کی ضرورت اور مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ آپ کبھی بھی بریلی کے لوگوں ںکو بانس، سائبیریا کے رہاشیوں کو برف اور اتھوپیا کےباسیوں کو ہیٹر نہیں بیچ سکتے۔ ظاہروف نے اس اصول کو بدل دیا۔ اُس نے ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کے  فلسفے کو اپنایا۔ یعنی اگر کسی چیز کی مانگ نہیں ہے تو وہ مانگ پیدا کردو، کاروبار چل نکلے گا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اٹلی، ترکی، اور یونان کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے تھیں اور دونوں طرف کے سپاہی ظاہروف کے کارخانوں کی گولیاں اور اسلحہ استعمال کررہے تھے اور ظاہروف کی تجوریاں میں نوٹوں سے بھر رہیں تھی۔

ظاہروف کی موت کے تقریباً 80 برس بعد آج بھی موت کا یہ کاروبار اُسی آب وتاب سے جاری ہے۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کے ظاہروف کی جگہ امریکا اور یورپ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اور مرنے کے لیے لوگوں کی فراہمی کا بندوبست مسلمانوں اور افریقہ کے ممالک نے اپنے سر لے لیا ہے۔ لہذا اسلحے کا کاروبار انسانی المیے کے باوجود آج بھی سب سے منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے اور تہذیب یافتہ ممالک اپنی انسان دوستی کے تمام دعوؤں کے باجود خون کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔

ستم یہ ہے کہ کئی ترقی یافتہ ممالک اسلحے کے کاروبار میں ظاہروف کے دیے ہوۓ ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں اور دنیا میں انتشار کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات طے ہے کہ خواہ کتنی ہی تنظیمیں کیوں نہ بنالی جائیں اور کتنے ہی امن  معاہدات کیوں نہ کر لئے جائیں، جب تک اسلحے کے کاروبار میں ظاہروف کا دیا ہوا ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کا فلسفہ حاوی رہے گا، عراق سے لے کر فلسطین اور افغانستان سے لے کر یوکرائن تک موت کا یہ رقص جاری ہے اور جاری رہے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے [email protected] ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔