ترکی کے عام انتخابات میں حکمراں جماعت اکثریت حاصل نہ کرسکی

ویب ڈیسک  پير 8 جون 2015
رجب طیب اردگان کی جماعت نے 285 نشستیں حاصل کیں۔فوٹو: اے پی

رجب طیب اردگان کی جماعت نے 285 نشستیں حاصل کیں۔فوٹو: اے پی

انقرہ: ترکی میں عام انتخابات کے بعد حاصل ہونے والے غیرمتوقع نتائج میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( اے کے پی)  کو اکثریت حاصل نہ ہوسکی جب کہ کردوں کی حمایتی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( ایچ ڈی پی) نے کل 550 نشستوں میں سے 79 نشستیں جیت کر 13 فیصد نمائندگی حاصل کرلی ہے۔

صدر رجب طیب اردگان کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کو سادہ اکثریت کے لیے 276 نشستیں درکار تھیں لیکن اسے صرف 258 سیٹیں ہی حاصل ہوسکیں جب کہ الیکشن سے قبل 2 اپوزیشن جماعتوں ری پبلکن پیپلز پارٹی ( سی ایچ پی) اور نیشنل موومنٹ پارٹی ( ایم ایچ پی) کو بالترتیب 132 اور 81 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔

انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ کردوں کی حامی سیاسی جماعت کی کامیابی ہے جسے کم از کم 10 فیصد نمائندگی حاصل کرنا تھی جب کہ اسے 13 فیصد ووٹ ملے ہیں جس پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پہلے یہ تمام ووٹ حکمراں جماعت کو حاصل تھے اور اس طرح اے کے پارٹی کو ایک شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ترکی کے عام انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم تھے کہ اس میں حکمراں جماعت نے اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں آئین میں بنیادی تبدیلیوں کے بعد ملک میں صدارتی طرز حمکرانی کے لیے عوامی ریفرنڈم بھی کرانا تھا۔

دوسری جانب ترک وزیرِاعظم احمد داؤدوگلو نے اپنی جماعت کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ انتخابات کے بعد کی غیریقینی صورتحال کے باعث ترکی کی اسٹاک مارکیٹ میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

ترکی میں عام انتخابات پر یورپی یونین کی ترجمان فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 86 فیصد رہا جو ترکی میں جمہوریت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اس انتخابات میں سب سے بڑی تعداد میں خواتین بھی منتخب ہوئی ہیں جو کاروباری  اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔