اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا (1)

اوریا مقبول جان  جمعـء 12 جون 2015
theharferaz@yahoo.com

[email protected]

امام مسجد کی بیٹی‘ امام مسجد کی بہو‘ میں زندگی بھر اپنی ماں کے بارے میں یہی سوچتا رہا کہ کوئی اس قدر صابر و شاکر زندگی بھی گزار سکتا ہے کہ انتہائی عسرت‘ تنگدستی اور بیماری میں بھی ایک حرفِ شکایت زبان پر نہ آئے‘ نہ دنیا کی بے مرّوتی کا کوئی گلہ اور نہ پروردگار عالم سے کوئی شکوہ۔ مسجد کے منبر و محراب اور راہداریوں کے ارد گرد پلنے والوں کو شاید درس ہی صبر اور شکر کا ملتا ہے۔

مسجد بھی ایک چھوٹے سے  گاؤں چک نمبر155 کی جسے پنواں کہتے ہیں۔ والد کا خط پر لکھا ہوا پتہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ پنواں‘ ڈاکخانہ خاص‘ براستہ چک جھمرہ‘ لائل پور۔ نہروں کا جال بچھایا جانے لگا تو میرے نانا کے سُسر حافظ محمد اسحاق کو ان کے والد جو ان کے مرشد بھی تھے‘ انھوں نے حکم دیا‘ کھیت کھلیان بعد میں‘ پہلے وہاں اللہ کے گھر کی بنیاد رکھو۔ وہ درویش علی پور سیداں سے بوریا بستر سمیٹ کر اس بے آباد جنگل نما علاقے میں آ بسا۔ دور تک پھیلے کیکر اور ببول کے درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان تھوڑی جگہ صاف کی‘ کچی اینٹوں کا فرش بنایا‘ ایک چھوٹے سے چبوترے پر کھڑے ہو کر اذان دی اور لوگوں کو اللہ کے گھر کی جانب بلانے لگا۔

ساتھ ہی اپنے رہنے کے لیے ایک گھر بنایا جس کا ایک چھوٹا سا دروازہ مسجد کی پہلی صف کے آخر میں کھلتا تھا۔ 25 اکتوبر 1936ء کو دنیا سے رخصت ہوئے تو گاؤں اور مسجد کی آبادی بہت بڑھ چکی تھی۔ گاؤں والوں نے مسجد کے برابر دفن کر دیا اور ان کے داماد مولوی احمد حسن صدیقی جو اس وقت ایک اسکول میں استاد تھا‘ اسے حافظ محمد اسحاق کی یہ وصیت سنائی کہ اللہ نے مجھے کوئی بیٹا دیا ہوتا تو اسے حکم دیتا کہ سب دنیا داری چھوڑ کر مسجد کو آباد رکھنے کا فریضہ سرانجام دے‘ لیکن تم داماد ہو اس لیے تم سے درخواست ہے۔ داماد نے سر تسلیم خم کیا‘ پتوکی کے اسکول میں نوکری چھوڑی‘ میری ماں سمیت پانچ اولادوں اور اپنی بیوی کو لے کر مسجد کی بغل میں بنے گھر میں آباد ہو گئے۔

میری ماں اور ان کا بھائی اسکول میں تھے‘ فوراً ان کے بستے سمیٹے اور روانہ ہو گئے۔ ایک ایسے گاؤں کی سمت جہاں نہ اسکول اور نہ اسپتال۔ اپنے بچوں کو خود گھر پہ پڑھانا شروع کر دیا۔ دیے کی روشنی‘ ستاروں کی چھاؤں‘ بیلوں کی گھنٹیوں کی آوازیں‘ چکی کی گِھرِ گِھرِ کی صدائیں اور پرندوں کے غول‘ یہ سب کچھ میں نے اپنے بچپن میں بھی اس گاؤں میں دیکھا ہے۔ لگتا تھا سب کچھ اس جگہ آ کر تھم سا گیا ہے۔ 1936ء میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ والدہ تقریباً دس سال کی ہوئیں تو اللہ نے ان کی ماں کو اپنے پاس بلا لیا۔ ایک بھائی اور تین چھوٹی بہنیں۔ نانا نے میری ماں سے کہا بیٹا‘ یہ گھر اب تم ہی سنبھالو گی۔ چھوٹی سی یتیم بچی نے دوپٹہ سر کے گرد کس کر باندھا اور جو اس کی ماں روز کیا کرتی تھی وہ سب کرنے لگی۔

بھینسوں کا دودھ دھونا‘ لسی بلو کر مکھن نکالنا‘ اوپلے تھاپنا‘ آگ جلا کر کھانا پکانا‘ ساتھ بہتے پانی کے راجباہ سے پانی لانا‘ چاول چھڑنا‘ روئی کو چرخے پر کاتنا اور گھر میں آئی ہوئی بچیوں کو قرآن پڑھانا لیکن اللہ نے اس صابر و شاکر عورت کے بہت سے امتحان لینا تھے۔ اس زمانے میں کوئی بیمار پڑتا تو دور دور تک اسپتال نہ تھا۔ حکیم کی دوا اور باقی اللہ سے دعا کے سوا اور کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پہلے بڑا بھائی بیمار ہوا اور دیکھتے دیکھتے قبر میں اتر گیا اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے تینوں بہنیں‘ وہ بہنیں جنھیں اپنے ہاتھ سے پالا تھا۔ نانا نے دوسری شادی کی‘ اللہ نے پھر دو بھائی محبت کے لیے دے دیے لیکن ایک اور درویش صفت انسان کا گھر میری ماں کے صبر آزما سفر کا انتظار کر رہا تھا۔ امرتسر کی جامع مسجد خیر دین کے خطیب مولوی خدا بخش کا بیٹا مقبول احمد عباسی‘ چھ ماہ کا تھا کہ 1908ء میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔

میری دادی نے گوٹا بُن کر اولاد کو پڑھایا۔ پاکستان ہجرت کی تو کلیم داخل کرانے والوں نے میرے والد سے پوچھا کوئی گھر تھا وہاں‘ کہا ہاں تھا‘ کہنے لگے لکھ کر دے تا  کہ تمہیں اچھا سا گھر الاٹ کر دیں۔ بولے وہ میرا تو نہ تھا‘ وہ تو مسجد کا تھا۔ آفیسر کے زور دیتے ہوئے کہا‘ لکھ دو سب ایسے ہی لکھ رہے ہیں۔ کہنے لگے یہ تو جھوٹ ہے اور پھر کرایے کے گھر میں اٹھ آئے اور دنیا سے جاتے ہوئے بھی ایک انچ ٹکڑا زمین ترکے میں نہ چھوڑی۔ کس قدر آسان سفر ہوتا ہے ایسے لوگوں کا کہ دنیا سے جاتے ہیں تو کاندھوں پر کوئی بوجھ تک نہیں ہوتا۔ بیس سال ماں کی خدمت میں شادی نہ کی‘ ایک دن ماں نے مجبور کیا تو دونوں ماں بیٹا چک نمبر155‘ پنواں پہنچے اور 13 اپریل 1955ء کو میری ماں کو بیاہ لائے۔ بائیس سال کا فرق‘ لیکن گاؤں کی زندگی سے شہر کی خوشحالی۔ سرکاری ملازمت‘ ابا جی میونسپل کمیٹی لائل پور میں اکاؤنٹنٹ تھے۔

رزق حلال کی دولت سے مالا مال میرا گھر میری ماں کے لیے اجنبی نہ تھا‘ اسے تو ایسی عسرت اور تنگدستی میں زندگی گزارنے کی عادت تھی۔ یہاں تو تھوڑی سی خوشحالی بھی ساتھ تھی۔ ابا جی گجرات میونسپل کمیٹی آ گئے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں تو وہ ہمیں وزیر آباد کے ریلوے اسٹیشن سے ٹرین پر بٹھاتے اور نانا چک جھمرہ اتار لیتے۔ ایک سال ہم پنواں جاتے اور دوسرے سال ہم جھنگ‘ جہاں ہمارے تایا ڈاکٹر تھے۔ بس ہمارے لیے یہی دو صحت افزا مقام تھے۔ شادی کے تیرہ سال بعد ابا جی ریٹائرڈ ہو گئے۔ میں اس وقت صرف بارہ سال کا تھا اور ہم آٹھ بہن بھائی تھے۔

اب میری ماں کی وہ ٹریننگ کام آنا شروع ہوئی کہ کیسے عسرت و تنگدستی میں گھر کو چلایا جاتا ہے اور کیسے ان تھوڑی سی نعمتوں پر بھی اللہ کا ایسے شکر ادا کیا جاتا ہے جیسے دو جہان کی نعمتیں میسر آ گئی ہوں۔ مٹی کے تیل کا چولہا آسان تھا لیکن خرچ زیادہ‘ امی نے برادے والی انگیٹھی پر کھانا پکانا شروع کر دیا اور بہانہ یہ لگایا کہ تیل کی بدبو روٹیوں میں آ جاتی ہے۔ میں کالج داخل ہوا۔ یونیفارم کی پینٹ سلوانا تھی۔

امی کو مردانہ کپڑے سینا نہیں آتے تھے۔ پڑوس میں محمد حسین برف والے کی بیٹی پینٹ اور ٹی شرٹ سی لیتی تھیں۔ امی نے تین دن میں اس سے سب سیکھ لیا اور پھر ہمارے گھر میں ہم بھائیوں کے کپڑے بھی سیئے جانے لگے۔ تنخواہ بہت کم تھی تو اماں لنڈے جاتیں اور ایک ڈھیر بڑی بڑی شرٹوں اور پینٹوں کا لے آتیں اور پھر انھیں خود چھوٹا کر کے نئے سرے سے ہمیں سی دیتیں۔ لنڈے سے سویٹر لاتیں‘ انھیں ادھیڑ کر اون کے گولے بناتیں اور پھر خود سلائیوں سے کر سویٹر بن دیتیں کہ کہیں میرے بیٹوں کو لوگ یہ نہ کہیں کہ لنڈے کے کپڑے پہن کر آئے ہیں۔ خشک روٹی کے ٹکڑے‘ پرانے جوتے اور ردی اخبار اور بوتلیں جمع کرتی جاتیں۔

جب کافی ہو جاتیں تو گلی میں آنے والے ہرکارے کو بیچتیں اور چند گلاس‘ چائے والے پیالے یا کھانے کی پلیٹیں لے لیتیں۔ یہ سب برتن تو مہمانوں کے لیے ہوتے۔ ہمارے لیے سلور اور اسٹیل کے برتن کہ جنھیں وہ روز دھو کر ایسے چمکاتیں کہ نئے معلوم ہوتے۔ ابا جی کے کپڑے خود سیتیں‘ وہ عموماً سفید شلوار قمیض پہنتے۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے دھوبی کے پاس صرف انھی کے کپڑے جاتے جو کلف لگا کر آتے۔ امی نے کلف لگانا بھی سیکھ لیا۔ ابا جی نے کہا رہنے دو‘ دھوبی کے پاس دے آتا ہوں‘ کہنے لگیں پتھر پر مار مار کر دھوتا ہے‘ کپڑے کی ساری آن بان ختم ہو جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ ہوئی تو ابا جی کی پنشن ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔

کوئی نئی نوکری بھی نہ تھی۔ اس زمانے میں شادی کے جوڑوں کے دوپٹوں پر اصلی چاندی کا گوٹہ لگا ہوتا‘ امی نے اتارا‘ اسے آگ میں جلایا اور ساتھ ساتھ ابا جی کو تسلیاں دیتی جاتیں‘ اب میری عمر تھوڑی رہ گئی ہے ایسے کپڑے پہننے کی۔ گوٹا بازار میں بکنے لگا۔ گوٹا ختم ہو گیا‘ پینشن شروع نہ ہوئی اور ادھر سب کی پڑھائی سر پر۔ گھر میں پرانی کورس کی کتابیں نکالیں‘ لئی بنائی‘ سب گھر والے ان کے لفافے بناتے اور میں اور میرا بھائی انھیں دکانوں پر بیچ آتے۔ ایک دن میں بازار گیا تو سب نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس لفافے ہیں۔

میں مایوس واپس لوٹا تو میرے متوکل باپ نے کہا‘ آج اللہ خود کوئی بندوبست کر دے گا۔ ایک گھنٹے بعد ڈاکیا منی آرڈر لے کر آ گیا کہ پنشن آ گئی ہے۔ میری خطاطی اچھی تھی‘ میٹرک کے بعد لوگوں نے اّبا جی کو مشورہ دیا کہ اسے سائن بورڈ لکھنے کا کام سکھائیں تا کہ آپ کے لیے آمدن کا ذریعہ بنے۔ والد مجھے ظفر یاد پینٹر کے پاس چھوڑ آئے۔ اس رات میں نے پہلی دفعہ اپنی اس سرتاپا ادب اور خدمت ماں کو اپنے باپ سے گلہ کرتے دیکھا۔ امی کا زیور جو چند ڈبے تھے‘ سامنے پڑے تھے اور میرے والد انھیں بار بار بند کرتے جاتے کہ رکھو اپنے پاس‘ اللہ بندوبست کر دے گا‘ جائے گا یہ کالج۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔