ملالہ نے دہشت گردوں کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

زمرد نقوی  اتوار 14 اکتوبر 2012
زمرد نقوی

زمرد نقوی

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ملالہ یوسفزئی کو ملک کا حقیقی چہرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسندوں کو ملک کا چہرہ مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی بچوں کا مستقبل خطرے میں ڈالنے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ملالہ پر حملہ ایک فرد کے خلاف جرم نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ملالہ کا پیغام ایک سادہ پیغام تھا کہ تعلیم حاصل کرنا بچیوں کا حق ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر نہیں بلکہ پوری قوم پر حملہ کیا ہے۔ اگر ڈاکٹر نے تجویز کیا تو ملالہ کو علاج کے لیے جرمنی بھیجا جائے گاجس کا خرچہ صدر زرداری خود اٹھائیں گے۔ ادھر سوات قومی جرگے نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے شہر میں احتجاجی ریلی نکالی اور مختلف بازاروں کا چکر لگایا۔

ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے بزدلانہ حملے پر پوری دنیا میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ رنگ و نسل، زبان، مذہب اور خطے سے بالاتر ہوکر عالمی سطح پر احتجاج اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس کمسن نہتی بچی کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ تعلیم حاصل کرناچاہتی تھی۔ برطانیہ میں ہزاروں اسکولوں کے اساتذہ نے ملالہ یوسفزئی پر طالبان کے حملے کے بعد ننھے منے بچوں کو ملالہ کی جرأت اور بہادری کی کہانیاں سنائیں اور کئی اسکولوں میں کمپیوٹرز پر بچوں کو وہ ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جس میں گولی لگنے کے بعد ملالہ کو اسپتال لے جایا جارہا ہے۔

ایک برطانوی اسکول ٹیچر نے کہا کہ چونکہ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں اور تعلیم پر پابندی لگانے والوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے، اس لیے ملالہ یوسفزئی اب دنیا میں علم کی ترویج کی علامت بن گئی ہے۔ افغانستان میں اسکولوں اور تعلیمی مراکز میں 95 لاکھ طلبا اور طالبات نے اس کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ دوسری طرف ممبئی بھارت میں بھی اسکولوں کے بچوں نے ملالہ کے حق میں ریلی نکالی۔ بچوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

مغربی میڈیا نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے تعلیم نسواں کے حق میں آواز بلند کی تھی اور طالبان کی دھمکیوں کو دھتکار دیا تھا، اس لیے اسے گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ ملالہ عوامی سطح پر تعلیم نسواں تحریک کی نمایندگی کرتی ہے جس کی حوصلہ افزائی ضروری کرنا ہے۔ ایک دوسرے اخبار نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک 14 سالہ لڑکی کو محض اس لیے گولی کا نشانہ بنایا گیا کہ اسے تعلیم کا جنون تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی ملالہ کے والدین کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے بہادر بیٹی کے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ صرف آپ کے ملک پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے روشن مثال ہے۔ ملالہ کا اصولی مؤقف کی ترویج کے لیے سرگرم ہونا کہ تعلیم لڑکیوں اور عورتوں کا بنیادی حق ہے بالکل درست ہے۔

ملالہ پر حملے کے بعد دہشت گردوں کی ایک اور تازہ ترین جارحیت پارہ چنار کی طالبات پر تیزاب پھینکنا ہے۔ ایم اے اور ایم ایس سی کی یہ طالبات کوہاٹ میں امتحانی پرچے دینے کے بعد مسافر گاڑی میںپارہ چنار واپس آرہی تھیں کہ مسلح دہشتگردوں نے گاڑی روک کر فائرنگ کردی اور اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا جس سے طالبات شدید زخمی ہوگئیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق حملے کے فوراً بعد تحریک طالبان کرم ایجنسی کے ترجمان نے مقامی صحافیوں کو فون کرکے واقعہ کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودگی میں کوئی لڑکی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی۔ اب اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ترجمان صاحب حقیقی ہیں یا غیر حقیقی، بہرحال یہ طے ہے کہ ہر طرف بے یقینی پھیلی ہوئی ہے۔

ملالہ کا قصور کیا تھا جس کی دہشت گردوں نے اس کو سزا دی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں نے اس دور میں تعلیم کی اہمیت کو محسوس کرلیا تھا جب دہشت گردوں نے سوات کے پس ماندہ حصوں پر قبضہ کرلیا تھا اور لڑکیوں کے زیادہ تر اسکولوں اور کالجوں کو تباہ کردیا تھا۔ ملالہ نے کہا کہ میں نے اس وقت عہد کیا تھا کہ میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں اپنی آواز بلند کروں گی۔ میرا مقصد دراصل صرف لڑکیوں کی تعلیم کا فروغ ہی نہیں بلکہ ایک ایسے فورم کا قیام بھی ہے جہاں گھروں میں بطور ملازم کام کرنے والے بچے تعلیم حاصل کرسکیں اور میں ایسے متعدد بچوں سے واقف ہوچکی ہوں جو اسکول جانا چاہتے ہیں مگر مالی مجبوریوں کی بنا پر ان کے اہل خانہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘

ملالہ پر بزدلانہ حملے نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو پہلی مرتبہ پاکستانی عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے اور وہ بوکھلا کر ایسی باتیں کررہے ہیں جیسے ڈرون حملوں کی اور عافیہ صدیقی کی قید کی ذمے دار ملالہ ہے۔ دوسرا ان کو یہ غصہ اور پریشانی ہے کہ میڈیا ملالہ کو کیوں اتنی اہمیت دے رہا ہے؟ ان تمام باتوں کے پیچھے ان کی سرتوڑ کوشش یہ ہے کہ کسی طرح طالبان کا اصل چہرہ پاکستانیوں کے سامنے نہ آنے پائے کیونکہ جب بھی ملالہ کی بات ہوگی طالبان کا کردار بھی زیر بحث آئے گا۔ جب کہ تحریک طالبان کے ترجمان نے مختلف صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملالہ پر حملے کے فوراً بعد نہ صرف اس حملے کی فخریہ انداز میں ذمے داری قبول کی بلکہ یہ تک کہا کہ اگر ملالہ بچ بھی گئی تو دوبارہ اس پر حملہ کیا جائے گا۔

جس فتنے کا آ ج مسلمانوں خاص طور پر پاکستانیوں کو سامنا ہے وہ نیا نہیں بلکہ بہت قدیم ہے اور اس کی جڑیں ابتدائے اسلام میں ملتی ہیں۔ مسلمانوں خاص طور پر پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ وہ ابتدائے اسلام کی تاریخ ضرور پڑھیں ۔ جب تک مسلمان اپنی ابتدائے اسلام کی تاریخ سے آگاہی حاصل نہیں کریں گے ان کو اس فتنے کی مکمل طور پر سمجھ نہیں آئے گی ۔ ابتدائے اسلام کے مسلمان بھی ان سے دھوکا کھاگئے تھے۔ آج بھی ہمیں دور جدید میں جس فتنے کا سامنا ہے وہ ماضی کا تسلسل ہے۔ یہ لوگ سادہ لوح پاکستانی مسلمانوں کو دھوکا دے کر پاکستانی فوج کو شکست دے کر پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے دھوکا میں آچکی ہے جس کے نتیجے میں ہمیں عنقریب ایک بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کی صحت اور زندگی کے حوالے سے 14 اکتوبر اہم تاریخ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم تاریخیں 18-17 اکتوبر ہیں جس کا آغاز 16 اکتوبر کی شام سے ہو جائے گا۔ خاص طور پر 17 اکتوبر کی صبح‘ دوپہر اور رات اہم اوقات ہیں۔ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور پاکستانی مسلمانوں کو اس عظیم آزمائش سے بخیرو عافیت نکال دے۔
سیل فون نمبر:0346-4527997

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔