پاکستانی ریسلر بادشاہ خان کا بھارتی ریسلر کالی کو مقابلے کا چیلنج

ویب ڈیسک  جمعرات 18 جون 2015
بادشا ہ خان جب رنگ میں ہوں یا رنگ سے باہر کسی بھی تقریب میں پاکستانی جھنڈے کا لباس زیب تن کرتے ہیں، فوٹو:فائل

بادشا ہ خان جب رنگ میں ہوں یا رنگ سے باہر کسی بھی تقریب میں پاکستانی جھنڈے کا لباس زیب تن کرتے ہیں، فوٹو:فائل

پیرس: سبز ہلالی پرچم کے رنگ میں رنگے  پہلے پاکستانی پرو ریسلر بادشاہ پہلوان خان نے بھارتی ریسلر کالی کو مقابلے کا چیلنج دے دیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کو دیئے گئے انٹرویو میں بادشاہ خان نے بھارتی ریسلر کالی کو مقابلے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ کالی سے رنگ میں مقابلہ کر کے پاک بھارت ریسلنگ کی نئی تاریخ رقم کرنا چاہتا ہے اور اگر یہ میچ ہوتا ہے تو 2 ارب سے زائد لوگ اس میچ سے لطف اندوز ہوں گے۔

واہ کینٹ سے اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کرنے والے پاکستانی ریسلر بادشاہ پہلوان خان نے فرانس کی ریسلنگ رنگ میں کئی سال تک میکسیکین انداز کی ریسلنگ کے گر سیکھیں ہیں۔ انہوں نے سوئی سائیڈ ڈائیو، ٹاپ روپ اسپلیش اور ٹائیگر بومب جیسے گرسیکھ کر اب ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ ( ڈبلیو ڈبلیو ای) میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بادشاہ پہلوان نے اپنے امیچیور ریسلنگ کا آغاز اکتوبر 2010 میں کرتے ہوئے فرانس کی سب سے بڑی ریسلنگ فیڈریشن ریسلنگ اسٹارز سے معاہدہ کیا اور 2012 میں انہوں نے پرو ریسلر کے طور پر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنی شاندار پرفارمنس سے لاکھوں پاکستان ریسلنگ شائقین کے دل جیت لیے۔

بادشاہ خان فرانس کے علاوہ اسپین، بیلجیم، کوسٹا ریکا میں بڑے ریسلرز سے مقابلے کر کے خود کو ڈبلیو ڈبلیو ای کے لیے تیار کر چکے ہیں۔ بادشاہ کا کہنا تھا کہ وہ بچپن میں امریکی، یورپی اور جاپانی ریسلرز کو لڑتے دیکھتے لیکن ان میں کوئی پاکستانی شامل نہ تھا اس لیے انہوں نے 11 سال کی عمر میں طے کر لیا کہ وہ پہلے پاکستانی ریسلر بنیں گے جو انہوں نے کردکھایا۔ بادشاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد ڈبلیو ڈبلیو ای اور نیو جاپان پرو ریسلنگ رنگ میں پاکستانی پرچم لہرائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔