فیئرٹرائل ایکٹ، قائمہ کمیٹی جلد سفارشات پیش کرے گی

نوید اکبر  پير 15 اکتوبر 2012
بل کامقصدشفاف ٹرائل یقینی بناناہے،خفیہ ایجنسیاں قانون کی پاسداری کی پابندہوں گی

بل کامقصدشفاف ٹرائل یقینی بناناہے،خفیہ ایجنسیاں قانون کی پاسداری کی پابندہوں گی

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف جدیدتکنیک کے ذریعے شہادتیں اکٹھی کرنے،جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں وانٹیلی جنس ایجنسیوں کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کیلیے ’’فیئرٹرائل ایکٹ 2012‘‘ پر اپنی سفارشات جلد قومی اسمبلی کو دیگی۔

اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس اہم قانون سے دہشت گردی میںملوث ملزمان سے تفتیش کیلیے قانون نافذ کرنیوالے اورانٹیلی جنس اداروںکے اختیارات بڑھ جائیں گے، اس قانون کا مقصد مجرموں کو سزا سے بچنے کی روک تھام کرنا ہے ، قومی اسمبلی میںجوبل متعارف کروایا گیا ہے اسکے مسودہ کے مطابق موجودہ قوانین جدید تفتیشی تیکنیکوں جیسے خفیہ نگرانی اورہیومن انٹیلی جنس، پراپرٹی میں مداخلت، وائر ٹیپنگ اورمواصلاتی انٹرسیپشن کوریگولیٹ نہیں کرتے جبکہ یہ چیزیںقانون نافذکرنیوالے اداروں کو جرائم کی روک تھام اورانصاف کی فراہمی کیلئے اہم ہیں، اس بل کا مقصدبھی ہے کہ بروقت شہادتیںاکٹھی کرنے کیلئے اتھارٹی مل جائے۔

اسکے علاوہ تحقیقات کے دوران ملنے والے موادکے قابل قبول ہونے کومنصفانہ ٹرائل کیلئے استعمال کیاجاسکے، یہ نیا قانون جب پاس ہوگا تواسکانفاذ نہ صرف تمام پاکستانیوںپر ہو لاگو ہوگا بلکہ یہ پاکستان یابیرون ملک کسی بھی مالیاتی ٹرانزیکشن یامواصلات پر بھی لاگوہوگا،قانون کے تحت نگرانی کیلئے دستاویزی یاتحریری شکل،آڈیووژول ڈیوائس ،کلوز سرکٹ ٹی وی، تصویر، بگنگ یاکسی بھی قسم کے جدیدآلات استعمال کئے جاسکیںگے، انٹر سیپشن کیلئے ای میلز،ایس ایم ایس،سی ڈی آریاکسی بھی قسم کاکمپیوٹریاموبائل فون جس میں مواصلاتی صلاحیت ہواستعمال کیاجاسکے گا۔

فیئر ٹرائل ایکٹ 2012ء میںکہاگیاہے کہ اس کا مقصدقانونی،شفاف تحقیقات کیلئے لیگل میکانزم فراہم کرناہے،تمام قانون نافذکرنیوالے اورانٹیلی جنس ادارے صرف جینوئن ثبوت اکٹھے کریںجس سے جھوٹے اورتوڑ مروڑکرثبوت بنانے سے بچاجاسکے، یہ قانون انٹرسیپشن کے اختیارات کے غلط استعمال کوبھی روکے گااورانٹیلی جنس ایجنسیوںکوقانون کی پاسداری پرمجبورکریگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔