جنابِ وزیر اعظم! لاوارث اور مظلوم افسروں کو انصاف کب ملے گا؟

رحمت علی رازی  اتوار 28 جون 2015

یہ قصور عدلیہ کا نہیں بلکہ سراسر حکومت کا ہے کہ وہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے آثار پیدا ہونے ہی نہیں دیتی۔ اس ملک کی باگ ڈور شروع دن سے ایک خمار زدہ طبقے ڈی ایم جی کے ہاتھ میں رہی ہے جس نے افسر شاہی میں ریفارمز کی ہمیشہ سینہ تان کر مخالفت کی اور سول سروس کے دیگر گروپوں اور صوبائی افسروں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کو اپنا مادر پدر حق تصور کیا۔

ان کے ستائے ہوئے ہزاروں مظلوم افسروں نے اپنے جائز حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا اور عدالتوں نے انھیں انصاف فراہم بھی کیا مگر حکومتوں نے اس منہ زور افسرشاہی کے ایماء پر کبھی ان فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے دیا۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والے ایسے مظالم کی سیکڑوں ایسی مثالیں ہیں کہ خدا کی پناہ جسکا تمام تر سہرا وزیر اعظم نواز شریف کے سر جاتا ہے جنھوں نے منہ زور افسرشاہی کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے ایسی بھرپور حوصلہ افزائی کی کہ منہ زور افسرشاہی کے ’’شاہی گروپ‘‘ نے اپنے مفادات کے علاوہ ہر مظلوم اور لاوارث سروسز کو ہمیشہ کچلنے کی بھرپور کوشش کی۔

اگر وزیر اعظم ابتداء میں ہی شٹ اَپ کال دے دیتے تو آج سیکڑوں افسروں کو انصاف کے لیے عدالتوں میں دربدر نہ پھرنا پڑتا۔ یہ 1981ء کی بات ہے جب بھٹو صاحب کی انتظامی اصلاحات سے ناراض کرسی گروپ (جسے عرفِ عام میں ڈی ایم جی کا نام دیدیا گیا تھا) نے ان اصلاحات کو ناکام بنانے کا عزم کیا۔ سیکرٹریٹ گروپ میں وفاقی سیکرٹریٹ اور اعلیٰ صوبائی عہدوں کے ڈپٹی سیکریٹری لیول کے گریڈ 19 کے افسران گریڈ 19 تا 22 میں تعینات کیے جا سکتے تھے جو گریڈ 19 میں تعینات ہوں مگر ڈی ایم جی افسران نے اپنے گروپ کے گریڈ 18 کے افسران کو سیکرٹریٹ گروپ میں تعینات کرنا شروع کر دیا تھا اور پہلے سے موجود ڈپٹی سیکرٹریز کو گریڈ 19 سے اوپر سنیارٹی دیدی تھی جو کہ رولز کی خلاف ورزی ہی نہیں سینئر ڈپٹی سیکرٹریز کے ساتھ  ظلم بھی تھا۔

جب سیکرٹریٹ گروپ کے افسران کی سنیارٹی لسٹ شائع کی گئی اور کچھ جونیئر ڈی ایم جی افسران کو ترقی دی جانے لگی تو سیکرٹریٹ گروپ کے متاثرہ افسران نے شدید احتجاج کیا اور اپنی جائز سنیارٹی کا مطالبہ کیا۔ جب ان کی فریاد نہ سنی گئی تو مجبوراً انھوں نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر ڈی ایم جی افسران نے (جو اس وقت مہا کلاکاری سے تمام اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو چکے تھے) اس کیس کے فیصلے کو تاخیری حربوں سے لٹکایا اور عدالت عظمیٰ نے پورے 17 سال بعد فیصلہ فرمایا کہ جو افسران گریڈ 19 کی پوسٹ پر ریگولر طریقہ سے جولائی 1981ء میں ملازمت کر رہے تھے اور سیکرٹریٹ گروپ میں شامل ہوئے ان کی سنیارٹی سیکرٹریٹ گروپ کے ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر گریڈ 19 میں سروس کی تاریخ سے شمار کی جائے گی اور ایف ایس ٹی اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جلد از جلد سنیارٹی لسٹ از سرِ نو ترتیب دیں‘ چنانچہ اس مرحلے نے بھی 9 سال کی طویل مدت لی اور اس طرح سنیارٹی لسٹ عدالت عظمیٰ کو ارسال کر دی گئی اور کچھ سیکرٹریٹ کے افسران‘ جو ’تاوقت ِ حیات تھے‘ کو بھی بھیجی گئی۔

اسی سنیارٹی لسٹ میں اُن 110 افسران کے نام تھے جو 30 جون 1981ء کو ڈپٹی سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے اور 13 مئی 1998ء کو بھی اپنے عہدے پر برقرار تھے۔ اس 26 سالہ طویل عرصہ کے دوران لاتعداد جونیئر افسران کو جوائنٹ سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری اور سیکریٹری کے عہدوں پر ترقی دی جا چکی تھی اور سیکرٹریٹ گروپ کے سینئر ڈپٹی سیکرٹریز کو پرانی سنیارٹی کی بنیاد پر ان کے جونیئرز کے بعد ترقی دی گئی اور وہ بھی نہایت سخت پرفارمنس اسٹینڈرڈ پر پورا اُترنے والے افسران کو۔ اس دوران سیکرٹریٹ گروپ کے 72 افسران اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

یہاں یہ بتانا بھی نہایت ضروری ہے کہ سیکرٹریٹ گروپ کے بیشتر افسران سی ایس ایس کے مقابلے کے امتحانات میں اپنے میرٹ اور کوٹہ کی بنیاد پر تمام دیگر گروپس کے افسران کے ہمراہ ہی گریڈ 17 کی ملازمتوں پر متعین ہوئے اور یہ افسران 1962ء سے 1965ء کے امتحانات میں کامیابی پر بھرتی ہوئے تھے جب کہ مقابلہ نہایت سخت تھا کیونکہ 50 فیصد پوسٹیں مشرقی پاکستان کے امیدواروں کو ملتی تھیں، 10 فیصد میرٹ اور باقی مغربی پاکستان کے صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے امیدواروں کو ملتی تھیں اور اس وقت پوسٹوں کی مجموعی تعداد تمام سروسز کے لیے 120 تا 150 کے درمیان ہوا کرتی تھی جب کہ آجکل یہ تعداد اس دور کی تعداد کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ ہے، اس وقت سیکرٹریٹ کے بہت سے افسران کوٹہ کی وجہ سے ہائر میرٹ پوزیشن کے باوجود دوسری سروسز میں مقرر نہیں ہو سکتے تھے۔

سنیارٹی لسٹ کی نظرثانی کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ان مظلوم افسران کے ساتھ  اس 30 سال کے دوران ہونے والی زیادتی کا ازالہ اربابِ اختیار خود کر دیتے اور ایسے تمام افسران کو ان کے جونیئرز کے مختلف گریڈز پر ترقی کی تاریخ سے پروفارما پروموشن دیدی جاتی جن کو دورانِ ملازمت ان کے جونیئرز کے مقابلے میں ترقی نہیں دی گئی تھی کیونکہ انھوں نے زندگی کے بہترین سال ملک کی خدمت میں صرف کر دیے تھے۔ جب یہ نہ ہوا تو چند افسران نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ انہیں گریڈ 20 اور اوپر کے گریڈز میں پروفارما ترقی دی جائے تا کہ وہ تنخواہ کے بقایاجات اور الائونسز پا سکیں۔

عدالت عظمیٰ نے اس کی سماعت کی اور حکم صادر فرمایا کہ فریادی افسران کو اسی تاریخ سے ہائر گریڈ میں پروفارما پروموشن دی جائے جس تاریخ سے اُن کے جونیئر افسران کو گزشتہ سالوں میں ترقی دی گئی تھی اور یہ کہ ان کو ملازمت کے تمام فوائد و مراعات بھی ادا کیے جائیں مگر جب اس حکم پر بھی لیت و لعل کیا گیا تو عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ فوری طور پر ان کی ترقی کا حکم جاری کیا جائے اور اس کی کاپی داخل کی جائے ورنہ عدالت خود ان افسران کے خلاف ایکشن لے گی جو اس غفلت کے مرتکب ہوئے اور جن کے نام عدالت کو ایک رپورٹ میں پیش کیے گئے تھے لہٰذا اگلے ہی دن ان کے گریڈ 20 اور گریڈ 21 کے لیے پروفارما پروموشن کے نوٹیفکیشن (جیساکہ انھوں نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی) 2 اپریل 2010ء کو جاری کر دیے گئے۔

اس حوصلہ افزاء فیصلے پر عمل کے بعد کچھ اور افسران نے جو گریڈ 20 اور 21 میں ترقی پا کر ریٹائر ہو چکے تھے مگر ان کے جونیئر ان سے پہلے گریڈ 20، 21 اور 22 میں دوران ملازمت ترقی پا گئے تھے، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو درخواست گزاری کہ انہیں بھی ان کے چار ساتھیوں کی طرح پروفارما پروموشن اسی تاریخ سے دی جائے جس تاریخ سے اُنکے جونیئرز کو ان گریڈز میں ترقی دی گئی تھی، مگر ان تمام حضرات کی درخواستوں پر باوجود عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق کوئی عمل نہ کیا گیا، چنانچہ ستمبر 2010ء میں ان افسران نے فیڈرل سروسز ٹربیونل سے دادرسی کے لیے رجوع کیا۔ ایف ایس ٹی کا سربراہ عدالت عالیہ کا ایک معزز ریٹائرڈ جج ہوتا ہے۔

معزز ایف ایس ٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کمنٹس اور تفصیلی جواب طلب کیا جو انھوں نے آخرکار بھجوا دیا اور ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے موقف سرکار پیش کیا۔ معزز ایف ایس ٹی کے دو ممبران نے اور ایک دو بار جج صاحب نے کیس کی سماعت کی اور آخرکار 21 جنوری 2012ء کو فیصلہ دیا کہ ’’مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر ہم نے درخواست گزاروں کی اپیلز کو منظور کیا اور ہدایت کی جاتی ہے کہ مدعاعلیہ (اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری) اپیل کنندگان کے کیس برائے گریڈ 20، 21 اور 22 کی پروموشن کو اسی تاریخ سے شمار کرے جس تاریخ سے ان کے جونیئرز کو ترقی دی گئی تھی اور تمام واجبات اور فوائد کے ساتھ  دے‘‘۔ یہ کارروائی ترجیحا ً60 دن کے عرصہ میں مکمل کرنے کے بجائے تاریخ وصولی حکم کے دن سے کی گئی مگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا، باوجود اس کے کہ چند اپیل کنندگان نے ذاتی طور پر سیکریٹری سے ملاقات کر کے عملدرآمد کی استدعا بھی کی۔

مجبوراً اب ان سائلان کے پاس کوئی چارہ نہ رہا لہٰذا ان میں سے اکثر افسران نے عدالت عالیہ اسلام آباد کے در پر دستک دی۔ قابل احترام عدالت عالیہ نے پھر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے جواب طلب کیا کہ کیا وجوہات ہیں کہ ابھی تک معزز ایف ایس ٹی کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا کیونکہ 60 دن گزرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ایف ایس ٹی کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کر سکتی تھی مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اور عدالت سے بار بار وقت مانگتے رہے اور عدالت نے مہلت دی تا کہ وہ دفتری کارروائی جلد از جلد مکمل کر سکیں۔

بالآخر عدالت عالیہ نے سیکریٹری کو طلب کیا تو انھوں نے آئیں بائیں شائیں کیا جس پر معزز عدالت نے 22 اپریل 2013ء کو مندرجہ ذیل حکم صادر فرمایا: ’’اس بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ معزز ایف ایس ٹی 27 جنوری 2012ء کے فیصلے کی بناء پر اپیل کنندگان کی داد رسی ابھی تک نہیں کی گئی۔ اپیل کنندگان ابھی تک غیریقینی صورتحال میں لٹک رہے ہیں جس کی وجہ دفتری حربوں کا پھیلتا ہوا کلچر ہے جس میں عدالتی فیصلوں کی تاوِیلات بیوروکریسی اپنی ذاتی سمجھ بوجھ کی بنا پر کرتی ہے۔ اپیل کنندگان کو اس بے عملی کی بناء پر مزید ستایا نہیں جا سکتا۔ یہ بھی تسلیم شدہ اَمر ہے کہ متعدد سرکاری افسران جو بالکل ایک ہی طرح کا حق رکھتے تھے انہیں ان کے حقوق دیدیے گئے ہیں مگر سائلان کو کیوں نہیں۔

یہ حق بجانب ہیں کہ ان کے خلاف امتیازی برتائو کیا جا رہا ہے لہٰذا مدعاعلیہ پر یہ لازم ہے کہ وہ اس بات کا احساس کرے اور یہ بھی یاد رہے کہ اپیل کنندگان نے اپنی زندگی کا بہترین وقت خدمت سرکار میں دیا اور اب جب کہ وہ زندگی کی شام میں ہیں تو مدعاعلیہ کا رویہ اور سوچ ہمدردانہ ہونا چاہیے لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر ان کی اپیل منظور کی جاتی ہے اور مدعاعلیہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ معزز ایف ایس ٹی کے 22 جنوری کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے اور انکو تمام فوائد و مراعات 15 دن کے اندر دی جائیں۔

اس حکم کا اثر یہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کچھ افسران کے کیسز ایک کمیٹی کو بھجوا دیے اور اس کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ ان افسران کی پروفارما پروموشن اس تاریخ سے گریڈ 20 اور گریڈ 21 میں دینے پر غور کرے وہ بھی اسی دن سے کہ جس تاریخ سے ان لوگوں نے این آئی پی اے اور سٹاف کالج کے کورسز مکمل کیے ہوں نہ کہ اُن تاریخوں سے کہ جن سے ان کے جونیئرز کو ان گریڈز میں ترقی دی گئی تھی۔یہ عدالت کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔

اُس کمیٹی نے اُن تمام مجوزہ اپیل کنندگان کو گریڈ 20 اور 21 میں پروموشن کی منظوری دیدی لیکن چونکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی نیت میں فتور تھا چنانچہ اس نے گریڈ 22 میں پروفارما ترقی کا تذکرہ دانستہ طور پر نہیں کیا ورنہ یہ معاملہ اب تک نمٹ چکا ہوتا۔ متاثرہ افسران نے پھر عدالت عالیہ سے عرض کی کہ تاحال ان کے فیصلے پر من وعن عمل نہیں کیا گیا جب کہ اپیل نہ کرنے کی بنا پر قابل احترام عدالت عالیہ کا حکم اور معزز ایف ایس ٹی کا فیصلہ حتمی ہے لہٰذا مدعاعلیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ اپیل کنندگان کو گریڈ 20، 21 اور 22 میں پروفارما پروموشن معہ تمام مراعات کے اسی تاریخ سے دے جس تاریخ سے ان کے جونیئرز کو ترقی دی گئی تھی۔

4 فروری 2014ء کو مدعاعلیہ نے بذریعہ ڈپٹی اٹارنی جنرل استدعا کی کہ 10 دن کی مزید مہلت دی جائے تا کہ اس دوران متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے معاملہ حل کیا جا سکے۔ مدعیان نے اس کی مخالفت کی مگر عدالت عالیہ نے فرمایا: ’’انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مدعاعلیہ کو یہ آخری موقع دیا جاتا ہے کہ وہ دس دن کے اندر اندر اس مسئلے کو حل کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ عدالت مجبور ہو گی کہ مدعا علیہ کے خلاف حکم عدولی حکم عدالت کے تحت عمل کیا جائے‘‘۔

تاہم دو ماہ گزرنے کے بعد 9 اپریل 2014ء کو سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنفس نفیس پیش ہو کر بتایا کہ ان ریٹائرڈ افسران کی گریڈ 22 میں پروفارما پروموشن کے کیس کو سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش کرنے کے لیے وزیر اعظم کو فروری 2014ء کو سمری ارسال کی تھی جس پر انھوں نے کوئی ہدایت نہیں دی لہٰذا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ سائلان کا کیس ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ میں پیش کر دیا جائے گا ، اس پر عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ ’’سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی توجہ اس بات پر دلائیں کہ عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ ایچ پی ایس بی کی جلدازجلد میٹنگ طلب کی جائے تا کہ یہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو‘‘۔

یہ بات مئی 2014ء کی ہے‘ اس دوران متعدد بار سماعت ہوئی اور ہر بار زبانی کلامی یقین دہانی اور جھوٹے وعدے کیے گئے مگر معاملہ جوں کا توں رہا۔ یہ سن رسیدہ مجاہد بدستور عدالت میں پیش ہوتے رہے‘ اسی دوران ان کے تین ساتھی زندگی کی بازی ہار گئے لیکن دیگر حضرات اب بھی مایوس نہیں اور سیکریٹری کی یقین دہانی کے باوجود نہ بورڈ کا اجلاس آج ہوتا ہے نہ کل اور جن کا ہوتا ہے اس میں وزیر اعظم صاحب فراغ دلی کے ساتھ ساٹھ ساٹھ افسران کو ترقی دے دیتے ہیں۔

عدالت عالیہ نے نہایت صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے 7 اپریل 2015ء کو پھر ایک تفصیلی حکم دیا: ’’یہ عدالت مکمل طور پر یقین رکھتی ہے کہ اپیل کنندگان گریڈ21 اور گریڈ 22 میں ترقی کے اہل اور مستحق ہیں اور یہ حق کسی مہربانی یا بخشش کے طور پر نہیں بلکہ یہ قیمتی حق انھوں نے حقیقی طور پر حاصل کیا ہے۔ اس عدالت نے بار بار ہدایت کی ہے کہ مدعا علیہ مذکورہ مدعیان کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتی کا ازالہ معزز ایف ایس ٹی کے 22 اپریل 2012ء کے فیصلے کی روشنی میں کرے اور اس عدالت کے احکامات کی روشنی میں عمل پیرا ہو لیکن ایسا لگتا ہے کہ مدعیان کو ان کے حق سے اس سسٹم کی بنا پر محروم رکھا جا رہا ہے جسکا وہ ماضی میں حصہ رہے ہیں۔

عدالتی فیصلوں کی نہایت تکنیکی اور بیوروکریٹک انداز سے تشریح کرنے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا جو عدالت عظمیٰ کے حتمی فیصلوں کے برخلاف ہوں لہٰذا اب مدعاعلیہ کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اسی عدالت اور ایف ایس ٹی کے مذکورہ فیصلے پر من وعن بغیر کسی حیل و حجت اور تبدیلی کے عملدرآمد کرے، بصورت دیگر عدالت عالیہ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہیگا ماسوائے اس کے کہ مدعاعلیہ کو فارمل توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے کیونکہ مدعاعلیہ کے رویے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ توہین عدالت کی تعریف کے زُمرے میں آتا ہے‘‘۔

اس فیصلے کے بعد مدعاعلیہ کے پاس کیا بہانہ رہ جاتا ہے مگر حیلہ ساز رابہانہ بسیار کے مصداق محترم سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ مقررہ تاریخ کو عدالت عالیہ میںپیش ہوئے اور فرمایا کہ ان حضرات کا کیس ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کو بھیجا جانا ہے شاید انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ ایک سال پہلے ان کے پیشرو نے عدالت عالیہ میں یہ فرمایا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو اس بارے میں سمری ارسال کی تھی جسکا مثبت جواب انہیں موصول ہو چکا تھا مگر انہیں اس کیس کو نمٹانے کی جلدی ہے ہی نہیں۔ عدالت عالیہ کے استفسار پر کہ اب ایچ پی ایس بی کے ذریعے اپیل کنندگان کے کیس کو مزید کتنا وقت درکار ہو گا اور ان کے کیس کو جلد بھیجنے میں کیا اَمر مانع ہے تو انھوں نے فرمایا کہ انہیں چار ہفتے دیے جائیں‘ چنانچہ عدالت عالیہ نے ان کی یہ آخری خواہش پھر مان لی اور کیس کی سماعت جولائی 2015ء کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کر دی‘‘۔

یہ المیہ ابھی جاری ہے اور نہ معلوم کب تک جاری رہیگا۔ ان تین چار سالوں کے دوران جو سائلان اللہ کو پیارے ہو گئے ان کا خون ناحق کس کی گردن پر ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جسکا جواب زیادہ مشکل نہیں، کیونکہ میاں صاحب اب ایک ایسے بھیانک حصار میں مقید ہیں جسکے باہر کی انہیں کوئی خبر نہیں مگر ایسا ہے نہیں کیونکہ ان کے سیکریٹری ان سے اس سمری پر ضرور منظوری لیتے ہونگے۔ اب اس کے برعکس ایک طربیہ قسم کے مقدمہ کا ذکر کرتے ہیں جس کی مظلوم مخلوق کا تعلق بیوروکریسی کے قبضہ گروپ سے ہے۔

ایک حضرت ہیں نذر محمد مہر جو اپنی ترقی کے حکم کی منسوخی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں گئے اور ایچ پی ایس بی نے ان کا کیس واپس کر دیا، مگر عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ ان کو گریڈ22 میں بحال کیا جائے تو ان کو دس دن کے اندر بحال کر دیا گیا جب کہ ایک دوسرے حضرت ضیاء الاسلام کی روداد کچھ یوں ہے کہ موصوف کے خلاف وسائل کی زیادتی کے حوالے سے نیب نے 2003ء میں چارہ جوئی شروع کی اور ان حضرت کو نیب کیس کی وجہ سے ملازمت سے معطل رکھا گیا اور عدالت کی سپردگی میں رہے یہاں تک کہ مئی 2010ء میں الزامات سے بری کر دیے گئے۔

جس وقت یہ کیس شروع ہوا وہ گریڈ 20 میں تھے۔ اس کیس کی سماعت کے دورانیہ میں ہی یہ صاحب 60 سال کی عمر کو پہنچ گئے اور نوکری سے فارغ ہو گئے۔ 1971ء کے سی ایس ایس کے امتحان کی بنیاد پر ڈی ایم جی میں بھرتی ہوئے تھے۔ انھوں نے استدعا کی کہ اگر ان کے خلاف نیب کا مقدمہ نہ ہوتا تو وہ گریڈ 20 سے 21 اور 22 میں دوران ملازمت ترقی پا گئے ہوتے۔ عدالت عظمیٰ کراچی میں پیش ہو کر درخواست کی کہ انھیں ان گریڈز میں پروفارما پروموشن دی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے حسب معمول سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے رپورٹ طلب کی تو جواب ملا کہ ان کا کیس فنڈامینٹل رولز 17 کمیٹی کو بھیجا گیا ہے تو عدالت عظمیٰ نے 28 فروری 2014ء کو حکم فرمایا: ’’ہدایت کی جاتی ہے کہ F-R-17 کمیٹی متعلقہ دفعہ کے تحت مدعی کے کیس پر غور کرے اور کمیٹی کے فیصلے کو ایک ماہ کے اندر عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جائے اور اگر مدعی ترقی کی اہلیت و سنیارٹی وغیرہ کا حامل نہ ہو تو وجوہات ریکارڈ کی جائیں اور اس فیصلہ کی کاپی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی بھیجی جائے‘‘۔

اس حکم پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی، عدالت عظمیٰ نے 16دسمبر 2014ء کو سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکم جاری فرمایا: ’’یہ عدالت اس غیر سنجیدہ رویے کا سخت نوٹس لیتی ہے بالخصوص اس بناء پر کہ اس سے پیشتر 2 اگست‘ 5 اگست اور 28 فروری 2014ء کو جو احکامات دیے گئے تھے ان پر عمل نہ ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے پہلے ہی بہت نرمی دکھائی ہے کہ وہ مدعی کے مسئلہ کو حل کرے جس میں متعلقہ وزارت نے پہلے ہی کافی تاخیر کر دی۔ عدالت کے دفتر کو حکم دیا جاتا ہے کہ شوکاز نوٹس سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ندیم حسن آصف کو بھجوائے کہ وہ ذاتی طور پر پیش ہو کر اگلی تاریخ پر بیان کریں کہ اس عدالت کے حکم کی دانستہ حکم عدولی کی بناء پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

تاہم اگر اگلی تاریخ پیشی سے پہلے عملدرآمد کر دیا جاتا ہے تو توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جانا تصور ہو گا کیونکہ یہ اسی ڈی ایم جی افسر اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک نوراکشتی دکھائی دیتی ہے‘ اس کی ترقی کے نوٹیفکیشن گریڈ20 سے 21 اور 21 سے گریڈ22 میں 26 دسمبر 2014ء کو جاری کر دیے گئے یعنی عدالت عظمیٰ کے توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے کے دس دن کے اندر۔ یہ ہوتی ہے بھائی بندی! سروس‘ گروپ‘ برادری! اس کا ایک بہت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ حضرت صرف چند سال گریڈ20 میں رہے۔

گریڈ 21 میں ایک دن بھی ملازمت نہیں کی اور گریڈ 22 میں بغیر کسی اہلیت اور استحقاق کے ترقی پا گئے جب کہ مندرجہ بالا سیکرٹریٹ گروپ کے افسران کم ازکم بارہ سال گریڈ 20 میں رہے اور ڈی ایم جی افسران کے تحت خدمات انجام دیں اور اپنی اہلیت، محنت اور میرٹ پر گریڈ 21 میں ترقی پا گئے۔ اب ان کی اہلیت اور قابلیت کو کونسا بورڈ طے کریگا جب کہ مذکورہ ڈی ایم جی افسر نہ معلوم کس طرح ان تمام مراحل کو صرف 10 دن میں کامیابی سے عبور کر گیا، قطع نظر اس کے کہ اس کے ساتھ کیوں یہ سلوک کیا گیا اور ان سینئر اور سن رسیدہ افسران کے کیس میں عدالت عالیہ کے غیر مبہم حکم کو سالہا سال سے ٹالا جا رہا ہے اور کیا معلوم کب تک ٹالا جاتا رہیگا۔

اس کے علاوہ ان کا دورِ ملازمت کا ریکارڈ بے داغ اور بلاشبہ قابل تقلید ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیوں سی ایس پی کا خاتمہ کر کے انتظامی اصلاحات کی تھیں کیونکہ پاکستان بننے کے بعد سی ایس پی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو صرف سی ایس پی کے مفادات کے لیے مختص کر دیا تھا اور تمام دیگر سروسز کے ساتھ حقارت آمیز رویہ جاری رکھا تھا جس کا اعادہ یہ اب نئے نام ( پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس) سے کر رہی ہے، جسکا انجام اس دفعہ بھیانک ہو گا اور بھٹو سے بھی بڑا سروس ریفارمز منظرعام پر آئیگا۔ پاکستان صرف ڈی ایم جی کے لیے نہیں بنا تھا، لاوا پک رہا ہے اور ایک دن آتش فشاں پھٹ پڑیگا۔

وزیر اعظم صاحب اس سروس کی قید سے اپنے آپ کو آزاد کریں اور پاکستان کے وزیر اعظم بنیں‘ نہ کہ منہ زور اور طاقتور افسرشاہی جیسے ایک مخصوص طبقے کی مراعات کے تحفظ کو سامنے رکھیں۔ تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کریگی اور نہ ہی روزِ قیامت ان سے ان ناانصافیوں کا جواب بن پڑیگا۔ اگر انہیں یوم حساب پرا یمان ہے تو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ کو پی اے ایس بلکہ کچھ اور دوسری وزارتوں کے قبضے سے واگزار کرائیں‘ پھر دیکھیں گورننس میں کس طرح بہتری آتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اس لیے بھی ترقی یافتہ ہیں کیونکہ ان کے یہاں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں اور میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔ شاید ’’انصاف میں تاخیر کار انصاف سے انکار‘‘ کا محاورہ مظلوم لوگوں کے لیے کہا گیا ہے۔ کیا اُمید کی جا سکتی ہے کہ جناب وزیر اعظم اپنے اردگرد ڈی ایم جی/ پی اے ایس افسران کے حصار کو توڑ کر انصاف کے تقاضے پورے کرینگے اور صرف اور صرف پی اے ایس کے مفادات کے تحفظ کے ضامن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو حکم دینگے کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر بلاتاخیر عمل کیا جائے۔

یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ یہ مظلوم و مقہور افسران وہ چنیدہ لوگ ہیں جو سیکرٹریٹ گروپ میں اپنے اپنے سال کے حساب سے صرف اور صرف ایک ہی انفرادیت کے حامل ہیں کہ اس گروپ کے 24/25 افسران دوران ملازمت گریڈ 20 یا 21 تک ترقی پائے بغیر ریٹائر ہو گئے۔ دوسرے الفاظ میں ان افسران کو اب اگر گریڈ 22 میں پروفارما پروموشن دی جاتی ہے تو یہ کسی طرح دیگر سروس گروپس کے افسران کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر تعداد نہیں ہو گی۔

ہاں اگر ان حضرات کی سنیارٹی صحیح دکھائی گئی ہوتی تو یہ سب اپنے اپنے بیچ میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر گریڈ 22 میں دوران ملازمت ہی ترقی پا چکے ہوتے مگر اب ان کو صرف پینشنری فوائد ہی حاصل ہوسکیں گے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم ان مظلوم اور لاوارث افسروں کی دعائیں لینے کے لیے منہ زور افسرشاہی کے چنگل سے آزاد کرا کے انھیں بلاتاخیر انصاف فراہم کرینگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔