نارتھ کراچی صنعتی ایریامیںفراہمی ونکاسی آب کے مسائل کاڈھیر

بزنس رپورٹر  منگل 16 اکتوبر 2012
صنعتوں کوگزشتہ دو ماہ سے پانی کی زبردست قلت کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں دیگر شعبوں کے علاوہ پراسیسنگ انڈسٹری کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔  فوٹو: ایکسپریس/ فائل

صنعتوں کوگزشتہ دو ماہ سے پانی کی زبردست قلت کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں دیگر شعبوں کے علاوہ پراسیسنگ انڈسٹری کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

کراچی: نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں قائم صنعتوں کوبجلی اورگیس کے بحران کے بعد اب پانی

اور نکاسی آب کے نئے بحران کا سامنا کرنا پڑرہاہے جس کے نتیجے میں صنعتی علاقے سے غیرملکی برآمدی آرڈرزکی مقررہ مدت تک تکمیل کوخطرات لاحق ہوگئے ہیں، نکاٹی کے قائم مقام چیئرمین سید اقتداء علی نے بتایاکہ صنعتی علاقے میں گندے پانی کی نکاسی رکنے اورگٹر ابلنے کے باعث 18 ماہ قبل اربوں روپے کی مالیت سے تعمیرکیے جانیوالا انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں، انھوں نے بتایاکہ متعلقہ ذمے دار اداروں کی جانب سے صنعتی علاقے کے انفرااسٹرکچر کی مرمت پرتوجہ نہیں دی جارہی، صنعتوں کوگزشتہ دو ماہ سے پانی کی زبردست قلت کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں دیگر شعبوں کے علاوہ پراسیسنگ انڈسٹری کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے بتایاکہ علاقے کی پراسیسنگ انڈسٹری کی سرگرمیاں معطل ہونے سے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے برآمدکنندگان زبردست اضطراب سے دوچار ہیں کیونکہ انھیں غیرملکی برآمدی آرڈرزکی مقررہ مدت میں تکمیل کے عمل میں مشکلات کاسامنا ہے۔ سید اقتدا نے بتایاکہ متعلقہ اداروں کو باربار یاددہانی کے باوجودنارتھ کراچی صنعتی علاقے میں نہ پانی فراہم کیاجارہا ہے اور نہ ہی علاقے میں تعمیرہونے والی نئی سڑکوں میں رکے ہوئے پانی کی نکاسی کیلیے اقدامات بروئے کیے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ علاقے کے گٹرابل رہے ہیں جس سے صنعتی علاقے کا منظر تبدیل ہوگیا ہے۔

انھوں نے گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے اپیل کی کہ وہ نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں پانی کی قلت اور نکاسی آب کا معاملہ حل کرنے کیلیے مداخلت کریں تاکہ علاقے کے صنعتکارنہ صرف ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کریں بلکہ مقامی ضروریات کیلیے عمومی پراڈکٹس کی بلارکاوٹ مینوفیکچرنگ کریں اور پیداواری سرگرمیاں بحال رکھتے ہوئے ہنرمند وغیرہنرمند افرادی قوت کوبیروزگاری سے بچا سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔