عرب بہار ، حقیقت کچھ اور تھی

اصغر عبداللہ  جمعـء 3 جولائ 2015
mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

[email protected]

2011 ء کے اوائل میں ، جب مشرق وسطیٰ کے ملکوں (تیونس، مصر، یمن ، لیبیا ) میں حکمرانوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں اور یکے بعد دیگرے کامیاب بھی ہو گئیں ، تو اسے Arab Spring ( عرب بہار ) قرار دیا گیا ؛ یعنی عرب دنیا کو موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کے تسلط سے آزادی مل رہی ہے اور اس پرجمہوریت کی بہار چھا رہی ہے ۔ اخوان المسلمون ،’عرب بہار‘ کا خیرمقدم کرنے میں پیش پیش تھی۔

اخوان المسلمون اس کو ’ اسلامی بیداری کی تحریک ‘ سے تعبیر کرتی تھی۔ اخوان المسلمون کی تقلید میں جماعت اسلامی پاکستان بھی اس ’عرب بہار‘ پرصدقے واری جا رہی تھی اور اس کو مشرق وسطیٰ میں ’ اسلامی انقلاب‘ کا پیش خیمہ قرار دے رہی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں اس ’عرب بہار‘ کی پشت پر امریکی اور مغربی طاقتوں کے عزائم کو سمجھنا چنداں مشکل نہ تھا ، لیکن اخوان المسلمون اورجماعت اسلامی کے ارباب فکرونظر یہ سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے۔

مشرق وسطیٰ کے باقی تین ملکوں کی بات تو آیندہ کسی کالم میں کریں گے، لیکن مصر کی صورت حال یہ ہے کہ وہ ’عرب بہار‘ جسے اخوان المسلمون مژدہ جانفزا قرار دیتی تھیں ، حقیقتاً اس کے لیے قہر بن چکی ہے۔ اخوان المسلمون نے مصر میں بڑی قربانیاں دی ہیں ، بڑی مشکلات برداشت کی ہیں، لیکن جنرل سیسی کی شکل میں جو مشکل اب اس کو درپیش ہے، وہ کچھ سوا ہے ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ دلچسپ ہے کہ جنرل سیسی کو ، ڈاکٹر محمد مرسی نے ہی جب کہ وہ صدر تھے۔

اگست 2012 ء میں انٹیلی جنس چیف کے عہدے سے ترقی دے کر یکدم محمد حسین طنطاوی کی جگہ آرمی چیف مقرر کیا تھا ، بلکہ وزیر دفاع کے عہدے سے بھی سرفراز کر دیا تھا ۔ یاد رہے کہ حسنی مبارک کے بعد امور مملکت چلانے کے لیے جو عبوری فوجی کونسل قائم کی گئی، سیسی اس میں سب سے کم عمر فوجی افسر تھے۔

عام تاثر یہ تھا کہ سیسی، پارلیمنٹ میں اخوان المسلمون کی نمایندہ جماعت ، فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جون 2013ء میں یہی جنرل سیسی، اپنے محسن صدر ڈاکٹر مرسی کا تختہ الٹ دیتے ہیں ، اور اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کو ایسے وقوعہ میں، مرتکب جرم ہونے کے ، سزائے موت سنائی جاتی ہے ، جس میں نہ صرف یہ کہ ان کا کوئی براہ راست تعلق نہ تھا ، بلکہ یہ ان دنوں میں وقوع پذیر ہوا تھا، جب مصر میں ’عرب بہار‘ اپنے جوبن پر تھی اور ظاہراً فوج، اخوان المسلمون اورعدلیہ ایک صفحہ پر تھے۔

یوں ہے کہ حسنی مبارک کے خلاف تحریک زورں پر ہے۔ وادی النطرون نامی جیل میں11161قیدی ہیں۔ ان ھی قیدیوں میں اخوان المسلمون کے ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے 24 ساتھی بھی ہیں ۔ جرم ، حسنی حکومت کی مخالفت اور اس کے خلاف احتجاج میں شرکت ہے۔ حکومت جان بوجھ کر بعض جیلوں سے مجرموں کو فرار کا موقع مہیا کر رہی ہے تاکہ ان کو حکومت مخالف سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ یہ اواخر جنوری 2011ء کی بات ہے ۔ سہ پہر کے وقت وادی النطرون جیل کا عملہ بھی پراسرار طور پر غائب ہو جاتا ہے اور تمام قیدی فرار ہو جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر مرسی اور ان کے ساتھی مگر جیل انتظامیہ کی سازش بھانپ لیتے ہیں اور جیل انتظامیہ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جب کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا ، تو الجزیرہ ٹی وی سمیت کئی دوسرے چینلوں کو فون کرتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ اس طرح یہاں جیل کا عملہ غائب ہو گیا ہے ، سارے قیدی جا چکے ہیں ، مگر ہم بغیر کسی قانونی کارروائی کے ، یہاں سے جانا نہیں چاہتے ۔ تھوڑی دیر میں ٹی وی چینلوں کے رپورٹرز پہنچ جاتے ہیں ، اور جائے وقوعہ کی کوریج کرتے ہیں ۔ کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں، حکومت کا کوئی نمایندہ نہیں پہنچتا ، چنانچہ ڈاکٹر مرسی اور ان کے ساتھی بھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ اخوان المسلمون کے بقول، اس وقوعہ کی فوٹیج ٹی وی چینلوں کے پاس موجود ہے اور دیکھی جا سکتی ہے۔ بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔ صدر حسنی مبارک رخصت ہو جاتے ہیں۔ نئے صدر کے لیے الیکشن ہوتا ہے ۔

ڈاکٹر محمد مرسی ، اخوان المسلمون کی حمایت یافتہ ’ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر مرسی انتہائی تعلیم یافتہ سیاست دان ہیں۔ 1982ء میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سے میٹریل سائنسز میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد امریکا اور مصر کی یونیورسٹیوںمیں پڑھا چکے ہیں۔2013ء میں جب وہ بحیثیت صدر ، دورہ پاکستان پر آئے تھے ، تو نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی NUST نے بھی ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی تھی۔ صدارتی الیکشن میں ڈاکٹر مرسی کا مقابلہ معزول صدر حسنی کے آخری وزیراعظم احمد شفیق سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر مرسی51.73 فی صد ووٹ لے کر مصر کے پہلے منتخب صدر کا اعزاز حاصل کرتے ہیں ۔

وادی النطرون جیل کے وقوعہ کے بعد یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ اس وقوعہ میں ڈاکٹر مرسی کو ہمیشہ بری الذمہ سمجھا گیا۔ لیکن تعجب ہے کہ ’فوجی انقلاب‘ کے بعد فوج اورعدلیہ کی طرف سے اس وقوعہ میں ان کو مرکزی مجرم قرار دے کر پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ قاہرہ کی عدالت میں جب جج صاحب ڈاکٹر مرسی سمیت 124 افراد کو سزائے موت کا فیصلہ سنا چکے ، تو کسی شخص نے کہا کہ جناب ، آج جن لوگوں کو آپ نے سزائے موت سنائی ہے، ان میں سے کئی لوگ کئی سال پہلے انتقال فرما چکے ہیں ۔ جج صاحب نے گھور کر اس شخص کو دیکھا اور اٹھ کر چلے گئے ۔ پھانسی کی سزا پانے والوں میں حسن سلامہ بھی ہیں، جو 19سال پہلے اسرائیل کے خلاف لڑتے ہوئے گرفتار کر لیے گئے تھے ۔

اسرائیلی عدالت نے 48 بار عمر قید کی سزا سنائی۔ لطف یہ ہے کہ19 سال سے اسرائیل میں قید حسن سلامہ کو 2011 ء میں وادی النطروں جیل مقدمہ میں بھی سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ بغاوت کے جرم میں اخوان المسلمون کے جن دیگر راہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی ہے، ان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام ( سربراہ ) ڈاکٹر محمد بدیع ، ممتاز اسکالر اور 150 کتابوں کے مصنف ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے علاوہ مصر کی پہلی منتخب اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر سعیدالکتاتنی بھی ہیں۔

سزائے موت کی’حقدار‘ نوجوان اخبار نویس سندس عاصم کا قصور صرف اتنا ہے کہ جنرل سیسی کے ’فوجی انقلاب‘ کے وقت وہ ایوان صدر کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھیں ۔ سندس عاصم اکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی تھیں ۔ ویسے تو مصری عدالتوں نے بغاوت کے جرم میں اب تک جن افراد کو سزائے موت سنائی ہیں، ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ جنرل سیسی کی طرف سے اخوان المسلمون کے خلاف فوجی اورعدالتی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنوں کے لیے سیسی دور، بلاشبہ حسنی دور سے بھی زیادہ سخت ہے ، ان کو ’فرعون مصر‘ قرار جا رہا ہے ۔ اخوان المسلمون کے خلاف اس وقت فوج اورعدلیہ متحد ہو چکی ہیں ۔

لگتا یہ ہے کہ مصر میں ’عرب بہار‘ کے نام پر اٹھنے والی تحریک کے پیچھے جو اندرونی اوربیرونی قوتیں کارفرما تھیں، ان کا مقصد صرف حسنی مبارک کو راستے سے ہٹانا تھا۔ جن اصحاب قلم وقرطاس کو مصر کی سیاست اور معاشرت میں اخوان المسلمون کی طاقت اور اہمیت کا کچھ بھی اندازہ ہے ، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اخوان المسلمون کو ساتھ ملائے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ اخوان المسلمون کی سوچ غالباً یہ تھی کہ اگر حسنی مخالف فوجی عناصر اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں ، تو اس کو واپس کرنا خلاف مصلحت ہو گا۔ لیکن بعد کو جب پارلیمنٹ کے الیکشن میں اخوان کی فریڈم اینڈجسٹس پارٹی نے خلاف توقع بھاری اکثریت حاصل کر لی، اور صدارتی الیکشن میں اخوان کے ڈاکٹر مرسی بھی51فی صد سے زائد ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے ، تو یہ فوج کے لیے ایک طرح سے ریڈ الرٹ تھا ۔

چنانچہ پہلے عدلیہ کے ذریعہ سے منتخب پارلیمنٹ کو تحلیل کرایا گیا ، اور جب صدر مرسی نے پارلیمنٹ کو بحال کرکے اس کے ذریعہ سے عدلیہ کا ’علاج بالمثل‘ کرنے کی کوشش کی ، تو فوج نے ان کو بھی گھر بھیج دیا ۔ 2013ء کے ’فوجی انقلاب‘ میں فوج اورعدلیہ کے درمیان ہم آہنگی کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جنرل سیسی نے صدر مرسی کو برطرف کرنے کے بعد ان کی جگہ عدلیہ کے سربراہ ہی کو عبوری حکومت کا سربراہ مقررکیا ۔ اس طرح جنرل سیسی ان خوںریز ہنگاموں کے تنہا ذمے دارقرار دیے جانے سے بھی بچ نکلے ، جو ’فوجی انقلاب‘ کے بعد پورے مصر میں پھوٹ پڑے تھے اور سیکڑوں لوگ مارے گئے تھے ۔

ڈاکٹر مرسی کو پھانسی کی سزا تو سنا دی گئی ہے اور ان کو پھانسی کے قیدیوں کے مخصوص لباس میں ہی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے ، لیکن کیا واقعی ان کو پھانسی دیدی جائے گی ، یہ ابھی واضح نہیں،کیونکہ اس سے پہلے اس طرح کی کوئی روایت نہیں ، مقدمہ بھی بہت کمزور ہے ، اور قتل کا مقدمہ تو یہ سرے سے ہے ہی نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جن جن ملکوں میں ’عرب بہار‘ کے نام پر سیلاب بلا آیا ، اب ہر جگہ اس کے تباہ کن نتائج ظاہر ہو چکے ہیں ۔ اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے ارباب فکر ونظر نے بلاشبہ ’عرب بہار‘ سے دھوکا کھایا ہے ۔ شاعر نے کہا تھا ،

ہم سادہ ہی ایسے تھے ، کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی ، سمجھے کہ بہار آئی



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔