ہاکی کو ’’قومی‘‘ ہونے کی سزا مل ہی گئی!

محمد عثمان فاروق  ہفتہ 4 جولائ 2015
اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہاکی کا کھیل مردہ ہوچکا ہے تو پھر ہاکی کی جگہ کرکٹ کو قومی کھیل کی جگہ کیوں نہیں دے دی جاتی؟

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہاکی کا کھیل مردہ ہوچکا ہے تو پھر ہاکی کی جگہ کرکٹ کو قومی کھیل کی جگہ کیوں نہیں دے دی جاتی؟

رات ایکسپریس نیوز پر ایک خبر دیکھی کہ 67 سالوں بعد پہلی بار پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپکس نہیں کھیل سکے گی۔ دیوار کیا گری میرے گھر کی لوگوں نے رستہ ہی بنا لیا کے مصداق ورلڈ لیگ ہاکی کے اہم میچ میں آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر گویا پاکستانی ہاکی کے تابوت میں آخری کیل ہی ٹھونک دی ہے۔

نجانے یہ کھیل پاکستان میں اب تک کیسے زندہ تھا اور شاید اسے زندہ کہنا بھی لفظ ’’زندہ‘‘ کی توہین ہے۔ تصدیق کے لیے پاکستان کے سابق اولمپیئن سمیع اللہ کا بیان آپکے سامنے رکھنا چاہوں گا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی ہاکی کو مصنوعی تنفس سے زندہ رکھا جا رہا ہے جبکہ وہ طبعی طور پر مرچکی ہے۔ سمیع اللہ صاحب سے ہم یہی کہیں گے ہاکی کو مرے تو برسوں بیت چکے شاید باقاعدہ اعلان آپ نے اب کیا ہے اور ویسے بھی آپ ہاکی کی بات کرتے ہیں ورنہ اس ملک میں توعزت غیرت سے لے کر ضمیر تک مرچکے ہیں ہاکی تو پھر ایک کھیل ہے۔

ہاکی کے ساتھ شاید ہم نے اتنا برا سلوک اس لیے کیا کیونکہ ہاکی ہمارا قومی کھیل تھا اور جو چیز ہمارے ہاں قومی ہوجائے اسکے ساتھ پھر ہم بدترین سلوک ہی کرتے ہیں۔ یہی صورتحال اگر کرکٹ سے متعلقہ ہوتی تو شاید ایسی بدترین شکست پر پورے میڈیا پر بھونچال آچکا ہوتا، تبصروں تجزیوں سے دھرتی ہل چکی ہوتی۔

ہاکی ٹیم کے ہارنے پر رونا بھی کیسا؟ جس کھیل کی نہ حکومتی سطح پر سرپرستی کی جاتی ہے، جس کھیل سے نہ عوام کو کوئی خاص دلچسپی ہے، پیسے کی عدم دستیابی کے سبب جس کھیل کی ٹیم کسی بزنس مین سے چندہ لے کر باہر کھیلنے جائے بھلا اس ٹیم سے یہ توقع رکھنا کہ وہ آپکو گولڈ میڈل لا کر دے گی یہ تو دیوانے کا خواب کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اگر پچھلے سالوں میں ہاکی اور کرکٹ کا موازنہ کیا جائے تو ہاکی کی کارکردگی پھر بھی کرکٹ کے لحاظ سے کہیں بہتر نظر آتی ہے۔ ہاکی کے کھلاڑیوں کو کرکٹ کے کھلاڑیوں جیسی بھاری تنخواہیں، مراعات اور اشتہارات نہیں ملتے لیکن پھر بھی ہاکی ٹیم نے پاکستان کو کئی تمغے جیت کردیے ہیں لیکن ہم نے ہاکی کے ساتھ سوتیلی اولاد سے بھی بدتر سلوک جاری رکھا۔ اب ہاکی کے کھیل کی مردہ لاش کو کرنٹ کے جھٹکے دے کر زندہ کرنے سے بہتر ہے کہ ہاکی کو دفن ہی کردیا جائے۔

ہاکی شاید اس لیے بھی پاپولر نہ ہوسکا کیونکہ ہمیں کرکٹ جیسا کھیل چاہیئے، جس میں ہم اپنی ساری سرگرمیاں ترک کرکے اس کے سامنے نظر جمائے بیٹھیں رہیں جبکہ ہاکی تو 70 منٹ کا کھیل ہوتا ہے جس میں اگر کھیل برابر ہوجائے تو بیس منٹ اضافی اور صورتحال تبدیل نہ ہونے پر پلنٹی اسٹروک مل جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ سو منٹ میں کھیل ختم ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ کرکٹ کو عالمی جوا مافیا کی سپورٹ حاصل ہے کیونکہ کرکٹ میں جوا کھیلنے کے بہت چانسسز ہوتے ہیں، ہر بال پر جوا کھیلا جا سکتا ہے، پھر لمبا کھیل ہوتا ہے اور اس میں چوکا، چھکا، آوٹ جیسے تھرلنگ لمحات ہوتے ہیں جبکہ ہاکی میں صرف ’’گول‘‘ ہوتا ہے یہاں بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہاکی کا کھیل مردہ ہوچکا ہے تو پھر ہاکی کی جگہ کرکٹ کو قومی کھیل کی جگہ کیوں نہیں دے دی جاتی آخر یہ آدھا تیتر آدھا بیٹر والی صورتحال کب تک جاری رہے گی۔

ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے جس کی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے مرگیا جبکہ کرکٹ بہت پاپولر ہے لیکن پھر بھی زوال پذیر ہے۔ ہاکی کا پہلا عالمی چیمپئن اور زیادہ سے زیادہ مرتبہ عالمی فاتح بننے کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے جبکہ کرکٹ کی صورتحال تو آپ سب کو پتا ہی ہے کہ ہم ابھی تک ایک ہی ورلڈکپ جیت پائے ہیں لیکن تمام تر صورتحال کے باوجود جب عوام ہاکی دیکھنا ہی نہیں چاہتے تو ایک میوزیم بنالیں وہاں ہاکی سے متعلقہ تمام یادگاریں جمع کریں اور ہاکی کو قدیم کھیل یا پھرغیر منافع بخش کھیل قراردے کر بند کردیا جائے اور کرکٹ کو قومی کھیل قراردے کر اس پر توجہ دی جائے کہ شاید موجودہ نسل بھی وہ یادرگار دن دیکھ لے کہ جب پاکستان کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟

کیا آپ اِس خیال کے حامی ہیں کہ ہاکی کے بجائے اب کرکٹ کو قومی کھیل قرار دے دینا چاہیے؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

عثمان فاروق

محمد عثمان فاروق

بلاگر قومی اور بین الااقوامی سیاسی اور دفاعی صورت حال پر خاصی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سائنس فکشن انکا پسندیدہ موضوع ہے۔ آپ ان سے فیس بک پر usmanfarooq54 اور ٹوئیٹر پر @usmanfarooq54 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔