حکمرانوں کا غریب مار بجٹ

رحمت علی رازی  ہفتہ 4 جولائ 2015

پاکستان کا مالی بجٹ ہرسال غریب اور ملازم طبقوں کے لیے مایوسیاں اور محرومیاں لے کر آتا ہے۔ملکی تاریخ کے 68 برسوں میں آج تک کوئی بجٹ ایسا نہیں پیش کیا گیا جو مڈل کلاس یا مزدور طبقے کا نمایندہ کہلا سکے۔

ایوانوں میں بیٹھے بجٹ کے پیش کارچونکہ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، چنانچہ اپنے اعدادوشمار میںوہ ہمیشہ اپنی ہی کلاس کے دُکھوں کا مداوا کرتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی پسے ہوئے طبقوں کا خیال رکھنے کے بجائے اشرافیہ کو چار چاند لگائے گئے، پھر کمال فنکاری سے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میںبھی سو فیصد اضافہ کیا گیا اور مراعات کی نوازشات بھی کھل کر برسائی گئیں مگر ان مہاکلاکاروں کا تو اس سے گلا بھی تر نہ ہوا، اور امسال بھی وفاقی بجٹ کی سفارشات کے اجلاس میں انھوں نے اپنی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کے مطالبہ کے علاوہ اور کوئی بات کی، نہ سنی۔

وزیراعظم نے انہیں سمجھایا کہ حکومت گویا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں برائے نام اضافہ کرنے جارہی ہے، اسلیے اگر پارلیمنٹرین کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیاتو ملازمین زبردست احتجاج کرینگے لہٰذا کوئی مناسب وقت دیکھ کر ان کی تنخواہوں میں منہ مانگا اضافہ کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیرخزانہ اسمبلی میں بجٹ پیش کررہے تھے اور وزراء اپنی شکایات بلند کررہے تھے، یہی سبب ہے کہ حکومت نے فنانس بل کے ذریعے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے خاموشی سے ترمیم کر دی ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے ایکٹ 1974 کی شق3 میں ترمیم کے تحت ارکان کی تنخواہ 27 ہزار 377 روپے سے بڑھا کر 36 ہزار 423 روپے کردی گئی ہے۔

اس لحاظ سے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 33 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ اسیشن الاؤنسز اور دیگر مراعات بشمول ہوکر حاصل جمع لاکھوں میں جا ٹھہرتا ہے۔ عام طور پر ایک ایم این اے کی مجموعی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 20ہزار سے 2 لاکھ تک ہے اور دیگردرجنوں مراعات پلس کر کے ایک پارلیمنٹرین پاکستانی قوم کو سالانہ کم ازکم 3 کروڑ 20 لاکھ جب کہ  5 سالوں کے لیے کم ازکم 16 سے 20کروڑ میں پڑتا ہے‘ یہیں سے اندازہ لگائیں کہ ہزاروں وفاقی و صوبائی نمائندوں کی عیاشیاںاُس غریب قوم کو کتنے اربوں میں پڑتی ہونگی جس کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ لاکھوں‘ کروڑوں اور اربوں سمیٹنے کے بعد بھی یہ عوامی مہاکلاکار ہرسال اپنے شاہانہ وظیفوں میں سو فیصد اضافے کے لیے پر مارتے رہتے ہیں۔

عوامی شرمندگی کا خوف نہ ہوتو یہ سیاسی مگرمچھ سارا بجٹ خود ہی ہڑپ جائیں۔ کیا ڈھٹائی ہے کہ حکمرانوں نے اپنے ذاتی پولٹری بزنس کو فائدہ پہنچانے کے لیے وزیر خزانہ کے ذریعے پولٹری پر عائد 5 فیصد سیلز ٹیکس واپس لے لیا ہے، اور ایک وفاقی وزیر کے بھائی کی الیکٹرانک کمپنی کے کاروباری فوائد کے لیے پاکستان میں موبائل فون پلانٹس کی تنصیب کے لیے درآمدی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی معاف جب کہ  5 سال کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ بھی دیدی ہے، مگرمظلوم ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بابت انتہائی کنجوسی اور بے انصافی کا ثبوت دیا ہے۔

حیران کن اور افسوسناک بات تو یہ ہے کہ مالی مشکلات اور مہنگائی کی شرح میں کمی کی آڑ لے کر  عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو محض ساڑھے 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور 2 فیصد ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں شامل کر کے 11 فیصد اضافہ کی تسلی دی جارہی ہے مگر ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کرتے وقت نہ تو حکومت کو کوئی مشکل پیش آئی اور نہ ہی افراطِ زر کی شرح یاد آئی۔ علاوہ ازیں متذکرہ ایکٹ کے سیکشن 10 کی ذیلی شق 1 میں بھی ترمیم کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کے اندرونِ ملک بذریعہ ریل وہوائی سفر 3لاکھ روپے سالانہ تک واؤچرز جمع کرانے کا تردد بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

اب ارکانِ پارلیمنٹ کے پی آئی اے اور ریلوے کے ذریعے سفر کے کل اخراجات حکومت برداشت کریگی۔ جس طرح یہ ترامیم خفیہ طریقے سے عمل میں لائی گئی ہیں، بہت جلد ارکانِ پالیمان کی تنخواہوں میں دگنااضافہ بھی دیکھنے میں آئیگا۔ نواز حکومت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ان کی حکومت صرف سرمایہ داروں کو نوازنے اور ان کے  مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی تمام تر کاوشیں کرتی ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ پہلے انھوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیاتھا جس پر دونوں ایوانو ں میں کسی ایک ممبر نے بھی اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی اوراب وفاقی بجٹ میں طبقاتی بنیادوں پرایک اور غیرمنصفانہ فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ سیکریٹریز اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریز کی بنیادی تنخواہوں میں تو سو فیصد اضافہ کر دیا گیا مگر دیگر ملازمین کوصرف ساڑھے سات فیصد اضافے کا لالی پاپ تھما دیا گیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ بجٹ نے سرکاری ملازمین کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، ان کی تنخواہیں تو بڑھائی گئیں لیکن اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر۔ ملازمین کے احتجاج پر بنیادی پے سکیل میں پچھلے دو عبوری ریلیف شامل کر کے گریڈ پانچ کے ملازمین کو پریمیچور انکریمنٹ دینے کا دلاسہ دیا گیا جس سے وزیرخزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 فیصد کے بجائے 11 فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور اس کمرتوڑ مہنگائی میں گیارہ فیصد ان کے لیے بھی کتنا بڑا ریلیف ثابت ہو سکتا ہے؟ پرائیویٹ سیکرٹریوں کی تنخواہیں دگنی کرنے کا اقدام بہرحال انتہائی لائق تحسین ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ایک طویل عرصہ سے تنخواہوں میں اضافے کے انتظار میں تھے۔

اور ہمیں بے پناہ خوشی ہے کہ اس بجٹ میں انہیں یہ خوشخبری دیدی گئی ہے‘ مگر ہمارا واویلا فقط اتنا ہے کہ ان کی طرح سو فیصد اضافے کا یہ ریلیف مساوی طور پر سب ملازمت پیشہ افرادکو دیا جاناچاہیے تھا جو بصد افسوس نہیں دیا گیا۔ تمام سرکاری ونیم سرکاری محنت کش طبقہ شش و پنج میں ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ نے کن اُصولوں کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقہ کے اعلیٰ ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا اور نچلے طبقے کے ملازمین کی تنخواہوں میںصرف ساڑھے سات فیصد؟ بجائے اس کے، کہ پسے ہوئے طبقوں کی محرومیوں کا مداوا کیا جاتا، حکومت نے سرکاری ملازمین کے ساتھ غیرمساوی سلوک کا مظاہرہ کر کے اوراپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیکر ملک کے دستور کے ساتھ انحراف ہے۔ ملک کا محنت کش اور متوسط طبقہ، سرکاری ملازمین اور پرائیویٹ سیکٹر میں ٹھیکیداری نظام کے تلے پسنے والے تمام مزدوروں کوحکومت کے اس غیرمنصفانہ فیصلے سے گہری ٹھیس پہنچی ہے۔

وزیر خزانہ نے تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی قدروں کو روند کر رکھ دیا ہے۔ ریاست کے اداروں کو چلانے والے کروڑوں سرکاری اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں صرف ساڑھے سات فیصداضافہ کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں، جب کہ ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی نے تمام طبقوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر میںنوکری کرنیوالے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 12ہزار میں ایک ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا جس پر بھی عملدرآمد کبھی ہوا ہے نہ ہوگا۔

اس سلسلے میں ہم وزیر خزانہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی چار افراد کی فیملی کا بجٹ ہمیں بنا کر دیں۔ کیا وہ 13 ہزار روپے میں اپنی فیملی کا پیٹ اس مہنگائی کے دور میں پال سکتے ہیں؟ اس کی تو وہ مثال ہے کہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا، لیکن حکمران طاقت کے نشے میں مست ہیں۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنیوالے عوام کے مسائل کو کیا جانیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تاریخ کا بدترین بجٹ ہے جو سرکاری ملازمین، محنت کش اور متوسط طبقے کا استحصال کریگا ۔ ہم وزیراعظم کو باور کرانا چاہتے ہیںکہ اس کا  فوری نوٹس لیا جائے اور اس غیرمنصفانہ فیصلے کو واپس لے کریکساں تناسب سے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور تھرڈ کنٹریکٹ کو ختم کرکے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے محنت کشوں کی تنخواہوں میں بھی سو فیصد اضافہ کیا جائے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن بھی اسی تناسب سے بڑھائی جائے۔ علاوہ ازیں ٹیکس کا جو بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا جا رہا ہے، اس میں اسکیل ایک سے لے کر پندرہ تک کے تمام ملازمین کو ٹیکس چھوٹ دی جائے اور بالا کیڈرز میں بھی مناسب سلیب کو ترتیب دیا جائے۔

اس طرح محنت کش، سرکاری ملازمین اورمزدور متحد ہو کر ملک کی مضبوطی کے لیے جدوجہد کرینگے۔ اکنامکس کے کچھ اُصول جو اسلام کے اوّلین دور میں ہمارے سامنے آئے، ایسے حالات میں پاکستانیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی ان پر عمل کرنابھی چاہتا ہے یا نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سربراہ مملکت‘ خلیفہ‘ امیرالمومنین بننے سے پہلے کپڑے کے سوداگر تھے۔

خلیفہ بننے کے بعد وہ کپڑا وغیرہ لے کر جانے لگے تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپؓ کو منع فرمایا اور اس کا  جواز یہ بتایا کہ اگر سربراہ مملکت کاروبارکریگا تو سب لوگ اس کے ساتھ کاروبار کرنا پسند کرینگے‘ اس طرح مملکت کے اُمور دیکھنے کے لیے بھی اس کے پاس وقت کم ہو گا۔ جس پر سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر خلیفہ وقت کام نہیں کرینگے توان کی گزر بسر کیسے ہو گی؟ طے پایا کہ حکومت وقت انھیں تنخواہ دیگی۔ مجلس شوریٰ خلیفہ کی تنخواہ کا کوئی فیصلہ نہ کر سکی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے لیے خود یہ فیصلہ کیا کہ وہ مدینہ میں کام کرنیوالے ایک عام مزدور کی تنخواہ کے برابر تنخواہ لینگے۔ ایک صحابی نے کہا‘ یاامیر المومنینؓ اس میں شاید آپؓ کا گزارہ نہ ہو سکے۔

آپؓ نے جواب دیا‘ میں مزدور کی تنخواہ بڑھا دونگا میری خودبخود بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ایک دن حضرت ابوبکر صدیقؓ جب گھر تشریف لائے تو آپؓ کی زوجہ محترمہ نے آپ کو کھانا پیش کیا۔ جب آپؓ نے میٹھا کھانے کی فرمائش کی تو وہ فرمانے لگیں کہ بیت المال سے کوئی میٹھی چیز گھر نہ آتی ہے ۔بات آئی گئی ہو گئی۔ہفتہ عشرہ کے بعد جب آپؓ پھر کھانا کھانے لگے تو اس میں تھوڑا سا حلوہ بھی تھا۔

استفسار پر زوجہ محترمہ نے بتایا کہ میں روزانہ تھوڑا سا آٹا علیحدہ نکال لیتی تھی ‘آج اتنا ہو گیا تھا جو میں نے بازار بھیج کر تھوڑا ساکھجور کا شیرہ منگوا لیا جس سے حلوہ تیار کر لیا ۔ آپؓ کھانا کھانے کے بعد سیدھے بیت المال تشریف لے گئے اوربیت المال کے نگران کو حکم دیا کہ جو راشن میرے گھر جاتا ہے اس میں مٹھی بھر کمی کر دے کیونکہ تجربہ نے بتایا ہے کہ راشن کی موجودہ مقدار ہماری ضرورت سے مٹھی بھر زیادہ ہے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کی قمیص کا واقعہ جو ایک چادر میں نہ بن سکتی تھی۔

مال غنیمت کے طور پرتو سب کے حصہ میں ایک ایک چادر ہی آئی تھی۔ پتہ چلا کہ ایک چادر حضرت عمرؓ اور ایک ان کے بیٹے کی تھی جس سے یہ کُرتا بنا تھا۔ موجودہ دور کے صاحب اقتدار کہیں گے کہ صاحب یہ تو گئے وقتوں کی بات ہے، آج اس پر عمل نہیں ہو سکتا تو صاحب آج سے اڑسٹھ سال پہلے کی بات کرلیتے ہیں ، جب قائداعظم گورنر جنرل تھے اور کیپٹن گل حسن جو بعدازاں جنرل بھی بنے ‘ ان کے اے ڈی سی تھے۔ کابینہ کا پہلا اجلاس تھا تو کیپٹن گل حسن نے جناب قائد اعظم سے پوچھا کہ اجلاس میں تواضع چائے سے کی جائے یا کافی سے؟ قائد اعظم نے فرمایاکہ یہ چائے کافی گھر سے پی کر آئیں یا پھر گھر جا کر پئیں‘قوم کا روپیہ کابینہ کی تواضع کے لیے نہیں ہے۔

یہ بات بھی اگر زیادہ پرانی ہے تو پھرآج کے دور کی بات ہو جائے۔ جنرل مشرف کے دور سے پہلے ایک نگران گورنمنٹ میں پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ جناب منظور الٰہی تھے۔ ان کا  دوپہر کاکھانا روزانہ گھر سے ٹفن کئیریر میں آیا کرتا تھا اور جو مہمان ڈپٹی سیکریٹری، سیکریٹری یا نگران وزیراعلیٰ کے پاس آتے‘ ان کے لیے حکم تھا کہ فی کس ایک کپ چائے اور2 بسکٹ یاایک گلاس روح افزاء سے ان کی  تواضح کی جائے اور کفایت شعاری کرتے ہوے وزیر اعلیٰ ہاؤس کا شاہانہ کچن بند کر دیا گیا۔ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے کچن کا روزانہ کا خرچ 13لاکھ روپے ہے۔ ہماری تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

ہمارے ملک کا نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن آج جس طرح یہاں پر اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کی  مثال نہیں ملتی، لگتا یہی ہے کہ اسلامی شعار پر عمل کرنا ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں بالکل بھی شامل نہیں ہے۔ اس بجٹ میں عام ملازم اور مزدور کو بالکل نظرانداز کیا گیا ہے۔ جب کسی شخص کو سرکار ی ادارہ میں بھرتی کیا جاتا ہے تو وہ 24گھنٹے سرکاری کام کے لیے حاضر ہوتا ہے اور اس دوران وہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں کر سکتا‘ ایسے میں حکومت اسکو جو کام دیتی ہے وہ کرتا ہے۔ اب اس کی  تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا حکومت کا کام ہے۔

بنیادی ضروریات ہر شخص کی برابر ہیں جب کہ  سرکاری پے سکیل پر اگرغور کیا جائے تو گریڈایک سے 16تک صرف تنخواہ ہی تنخواہ ہوتی ہے اوروہ بھی تھوڑی سی، یعنی پہلے گریڈ کی زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہ نو ہزار تین سو روپے، دوسرے گریڈ کی تنخواہ دس ہزار روپے اور چودہویں گریڈ کی تنخواہ چھبیس ہزار تین سوروپے ہوتی ہے، یعنی گریڈ ایک سے چودہ تک ہر دو گریڈوں میں اضافہ 700/-، 1050/-، 1100/-، 1400/-، 2000/- اور 2300/- روپے ہوتا ہے جب کہ  15سے 18تک ہر دوگریڈوں میں خاطرخواہ اضافہ نظر آتا ہے یعنی گریڈ15 کی زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہ انتیس ہزار پانچ سو روپے اور گریڈ16کی چونتیس ہزار روپے، گریڈ17کی چالیس ہزار، گریڈ18کی پچاس ہزارروپے جب کہ  گریڈ19سے 22تک اس میں بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے یعنی گریڈ 19کی تنخواہ 63000/-، گریڈ20 کی 68900/- گریڈ21 کی 76400/-اور گریڈ22 کی زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہ 85700/- روپے ہے جب کہ  گریڈ 19سے 22تک جو سرکاری سہولتیں ہیں‘ اگر ان کو گنا جائے تو پھر ان کی تنخواہ لاکھوں میں بن جاتی ہے۔ پھران کی  مراعات بھی بے انتہا ہیں۔

سرکاری گھر جس میں یہ رہتے ہیں‘ اس کا  کرایہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہوتا ہے، سفر کے لیے سرکاری گاڑی بمعہ پٹرول، گھر میں بچوں کے لیے علیحدہ گاڑی بمعہ پٹرول اور ان کی  مرمت وغیرہ بھی سرکار کے ذمہ ہوتی ہے، ٹیلیفون، بجلی اور گیس کے بل سرکار ادا کرتی ہے جب کہ  نچلے گریڈ والے ملازمین اسی تھوڑی سی تنخواہ میں دنیا کے تمام کام کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ گریڈ ایک سے 22تک تمام گریڈوں میں بنیادی تنخواہ کا فرق تھوڑا تھوڑا ہو، جیساکہ گریڈ ایک سے 14 میں ہے، یعنی یہ فرق 700/-روپے سے 2300/-روپے تک ہے جب کہ  اس کے بعد دو گریڈوں کے درمیان یہ فرق 10000/- روپے سے 13000/- روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ پھراعلیٰ گریڈوں میں سہولتوں کا فرق بھی موجود ہے یہ تو بنیادی تنخواہ ہے۔ اصل تنخواہ، جس میں الاؤنسز بھی شامل ہوتے ہیں۔

وہ بنیادی تنخواہ سے دوگنا کے قریب ہوتی ہے۔اس طرح پہلے گریڈ کی تنخواہ تقریباً 16000/- روپے اور بائیسویں گریڈ کی تنخواہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے۔ ــــــغور کیجیے، کیا یہ فرق روپے اور پاؤنڈ جیسا نہیں ہے اور یہ سلوک برہمن اور شودر جیسا نہیں ہے؟ اگر ہم انسان کی بنیادی ضرورتیں دیکھتے ہوئے پتھر کے زمانے سے جدید دور کی طرف آئیں تو یہ ضرورتیں کچھ اس طرح سے ہونگی۔سب سے پہلے روٹی، دوسرے نمبر پر کپڑا، تیسرے نمبرپر مکان، چوتھے نمبر پر علاج معالجہ اورپانچویں نمبر پر تعلیم۔ اب اگر ایک گھر میں کھانے کو روٹی نہیں، تن ڈھاپنے کے لیے کپڑا کم پڑ رہا ہے، چھت ٹپک رہی ہے۔

دوائی کے لیے پیسے نہیں، بچوں کے پاس کتابیں اور کاپیاںنہیں ہیں اور ایسے میں گھر کا سربراہ کہے کہ میں گھر کے لیے اے سی لے آیا ہوں، گاڑی کے ٹائر بدلوا لیے ہیں، نیا ٹی وی لا رہا ہوں اورگھر میں ٹائلوں کا فرش بنوا رہا ہوں، تویہ ترقی صحیح نقاط کی طرف نہیں ہو گی بلکہ غیرضروری کہلائے گی، حالانکہ یہ کام بھی گھر کی ترقی کے لیے ضروری ہیں لیکن بات ترجیحات کی ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار کا تمام زور پلوں اور جنگلہ بس پر ہے جب کہ  اسپتالوں میں ایک بستر پر دو دو تین تین مریض لیٹے ہوئے ہیں۔ شاید اسپتال بنانے میں وہ فائدہ نہیں ہوتا جو جنگلہ بس بنانے میں ہوتا ہے یا جو نند ی پور کا ناکام پراجیکٹ بنانے میں ہوا۔ کیا اربابِ اختیارکو پلوں کے لیے اور دوسرے ترقی کے کاموں کے لیے صرف لاہورہی نظر آتا ہے؟ کیا پنجاب کے دوسرے شہروں کا کوئی حق نہیں ہے؟

ایسے میں ا گر رحیم یار خان کی مثال دوں تو اس میں سے اگر شیخ زید بن سلطان کے ترقی کے کام نکال دیے جا ئیں تو بقایا صرف دھول اور مٹی بچ جاتی ہے۔ کیا یہ چھوٹے چھوٹے شہر ترقی کے کاموں سے محروم رہیں گے‘ اسی وجہ سے ان پسماندہ شہروں کا جھکاؤ لاہور کی طرف ہے اور لاہور چند سالوں میں کراچی کے برابر ہونے والا ہے اور اگر ان شہروں کو بھی جدید ترین سہولتوں سے نوازا جائے تو شہروں کا جھکاؤ لاہور کی طرف بالکل بند ہو سکتا ہے‘ اس سے گھمبیر مسائل جنم نہیں لینگے۔ انگلش کا محاورہ ہے ’’امیر سے لے لو اور غریب کو دیدو‘‘ـ۔ پوری دُنیا کا ٹیکس نظام اس محاورے پر مبنی ہے لیکن ہمارے ملک میں تو اس طرح نہیں ہو رہا ہے‘ اس کی  مثال ہم ایسے دینگے کہ اگر معمولی اشیائے ضروریات پر ٹیکس لگ جائے تو غریب سے غریب شخص بھی یہ ٹیکس دیگا یعنی اگر ماچس پر ٹیکس لگ جائے تو کوئی شخص اس ٹیکس سے بچ نہیں سکے گا‘ یاد رہے ماچس پر سیلز ٹیکس ہے۔

ہمارے ملک میں آئے دن یہ شور رہتا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں بہت کم لوگ ہیں یعنی این ٹی این نمبر بہت کم لوگوں نے حاصل کیا ہوا ہے۔ ٹیکس وصول کرنیوالے افسران اور ٹیکس سے نمٹنے والے وکلاء لوگوں کو اپنی آمدن چھپانے کے نت نئے طریقے بتاتے ہیں اور اس طرح امراء اپنی آمدن کو چھپا کر گورنمنٹ کے خزانے میں کم سے کم ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔ لوگوں کی اصلی مالی حالت جانچنے اور زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس شخص کا رہن سہن کیسا ہے اور یہ کتنے بڑے گھر میں رہتا ہے کیونکہ غریب آدمی کا ذاتی ہو یا کرایہ پہ پانچ مرلہ یا اس سے چھوٹے مکان میں رہ رہا ہو گا۔ اسی طرح 6مرلہ سے 15مرلہ تک کے گھر میں مناسب آمدن والا شخص رہ رہا ہو گا جب کہ  16مرلے سے ایک کنال میں امیر آدمی ہی رہ سکتا ہے اور ایک کنال سے بڑے یعنی دو کنال، چھ کنال اورایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہاؤسز میں امراء ہی رہ سکتے ہیں۔

لہٰذا اگر ٹیکس کا نظام اس طرح وضع کیا جائے کہ 5مرلہ یا اس سے کم کے ایک رہائشی گھر پر ٹیکس بہت کم یا بالکل نہ ہو اور اس سے اوپر ایک کنال تک ہر مرلہ پر ٹیکس میں اضافہ ہوتا جائے اور ایک کنال سے بڑے گھروں پر ٹیکس کا تمام بوجھ لاد دیا جائے۔ جب کہ  یہاں تو ایسا ہے کہ 54ایکڑ کے گھر میں رہنے والا ٹیکس کے گوشوارے میں لکھ دیتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کا مقروض ہے لہٰذا ٹیکس میں چھوٹ مل جاتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اس کا  انوکھا نظام وضع کیا ہے کہ وہ بڑے گھر جو یکم جنوری 2000ء سے پہلے کے تعمیر شدہ ہیں انھیں ٹیکس سے بالکل مستثنیٰ قرار دیدیا ہے اور اس کے بعد تعمیر شدہ گھروں پر دو کنال کے گھر پر چار لاکھ اور اس کے بعد ہر کنال پر دو لاکھ ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ ایسا اس لیے ہے کہ ان کے اپنے گھر جو کہ ایکڑوں پر محیط ہیں، سب کے سب 2000ء سے پہلے کے تعمیرشدہ ہیں اور حالانکہ پرانے بڑے گھروں میںرہنے والے ہی تو اصلی رئیس ہیں۔

بجلی کی قیمت پر بھی ایسا ہی قاعدہ اپنایا جا سکتا ہے کہ رہائشی گھروں کے لیے ماہانہ100یونٹ تک استعمال کرنیوالوں کے لیے یونٹ سستا ترین یعنی 5.79روپے فی یونٹ ہے‘ 101 سے 200یونٹ تک فی یونٹ کی قیمت 8.11 روپے ہے‘ 201سے 300یونٹ تک فی یونٹ قیمت 12.09 روپے ہے‘ 301سے700یونٹ استعمال کرنیوالوں کے لیے اس کا  ریٹ 15.00روپے ہے جب کہ  700سے زیادہ یونٹ استعمال کرنیوالوں کے لیے یہ ریٹ 17.50روپے ہے اور ان تمام کے اوپر 18.50فیصد ٹیکس بھی ہے۔ اگر آئندہ ہر 100یونٹ کے بعد اس کی  قیمت میںاسی شرح سے اضافہ ہوتا چلا جائے‘ یاد رہے کہ زیادہ یونٹ استعمال کرنیوالے کے ابتدائی یونٹ بھی انتہائی قیمت کے ہی ہونگے اور ایک رہائشی گھر، مکان یا عمارت میں سرکاری میٹر صرف ایک ہی ہو گا اور صرف 200 یونٹ سے کم استعمال کرنیوالوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہ ہو، پھر دیکھیں غریب یا کم استعمال کرنیوالوں کے لیے بجلی یقینی طور پر سستی اور زیادہ استعمال کرنیوالے امراء کے لیے یہ مہنگی ہو گی۔

اس طرح 700 یونٹ سے زیادہ بجلی کو جتنا مرضی مہنگا کر دیں غریب نہیں رو ئے گا۔ دوسری طرف پچیس ایکڑ (مربع) یا اس سے زیادہ زیر کاشت رقبہ (زمین) کے مالکان پربھی فی ایکڑ کے حساب سے زرعی ٹیکس لگایا جائے، جس کی شرح ہر بڑھتے ہوئے ایکڑ کے ساتھ بڑھتی جائے، اس طرح غریب کسان ٹیکس سے بچ جائے گا اور جاگیردار ٹیکس دینگے، لیکن کیا کریں اسمبلیاں تو جاگیردارں سے بھری ہوئی ہیں۔ آپ غور کریں کہ جب بھی پٹرول مہنگا ہوتاہے، صرف کرائے ہی نہیں بڑھتے بلکہ ہرشے کے نرخ بڑھ جاتے ہیں جس سے غریب پس کر رہ جاتا ہے۔ حکومت سے ٹیکس تو اکٹھا ہو نہیں پاتا، بس پٹرول مہنگا کر کے اپنے خرچے (اللے تللے) پورے کرتی ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ ٹیکس بھی اکٹھا ہو جائے اور مہنگائی بھی نہ ہو تو پٹرول سستا (ٹیکس فری) کرنا ہو گا۔ عام خو رو نوش کی اشیا پرسیلز ٹیکس ختم کرنا ہو گا۔ بجلی مندرجہ بالا قواعد کے تحت مہنگی کرنا ہو گی۔

جاگیردارں سے زرعی ٹیکس لینا ہو گا۔ بڑے گھروں (ایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہاؤسز) سے ٹیکس لینا ہو گا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو حقیقت پسندانہ بناتے ہوئے اس طرح مقرر کرنا ہو گا کہ پہلے گریڈاور بائیسویں گریڈ کی تنخواہوں کے درمیان فرق پچیس ہزارسے زیادہ نہ ہو۔غریبوں کو مارنے کا تہیہ کرہی لیا ہے تو ظلم سے نہ ماریں۔ آئی ایم ایف سے قرضے لے کر بننے والا بجٹ کبھی غریب پرور نہیں ہو سکتا۔ بجٹ ہندسوں کامجموعہ ہے جس میں پالیسی اور ویژن نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

پاکستانی قوم نے لاکھ کوشش کر لی مگر اب اسے سہنے کی عادت پڑچکی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ایوانوں سے لے کر محلات تک سب اس کے دشمن اور غریب مارنے کی پالیسی پرگامزن ہیں، اس لیے اب قوم میں مزاحمت کی قوت ختم ہوچکی ہے لیکن اگر غریب عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو امیروں کا نام و نشان مٹ جائے گا‘ اس لیے حکمران ابھی سے ایسے اقدامات کریں کہ برہمن اور شودر کا فرق مٹ جائے۔ اگر عوام نے یہ فرق خود مٹا دیا تو خدانخواستہ خونی انقلاب سے کم بات نہیں بنے گی۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے عوام کو احساس ہو جائے کہ حکمران ان کے بارے میں بھی سنجیدگی اور خلوص سے سوچنے لگیں۔ آئی ایم ایف کی سفارشات پر جب تک بجٹ بنتا رہیگا مہنگائی کا طوفان کسی طور کم نہ ہو گا، نہ ہی ہمیں ایسی توقع کرنی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔