پی پی کا کامیاب جلسہ نئے بلدیاتی نظام کی مکمل حمایت کا اعلان

حیدرآباد: پیپلز پارٹی کے جلسے میں وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، یوسف رضا گیلانی، شرجیل میمن و دیگررہنما کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں (تصویر :شاہد علی)

حیدرآباد: پیپلز پارٹی کے جلسے میں وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، یوسف رضا گیلانی، شرجیل میمن و دیگررہنما کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں (تصویر :شاہد علی)

حیدرآباد: حیدرآباد میں نئے بلدیاتی نظام کے حق میں پیپلزپارٹی کے کامیاب جلسہ عام میں سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 ء کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علیشاہ نے کہا ہے کہ بل کے مخالفین سندھ کے قوم پرستوں کو(ن) لیگ کی سرپرستی حاصل ہے خزانے کے منہ کھولنے کے باوجود سندھ کے عوام نے انھیں مستردکردیا ہے۔ جلسہ عام میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ نیا بلدیاتی قانون سندھ کے عوام کے مفاد میں ہے جلسے کے شرکاء نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت اور تدبر کو خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مٹھی بھر جمہوریت دشمن عناصر سندھ کے باشعور عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں نہ ورغلا سکتے ہیں۔

سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پی پی پی عوامی امنگوں کی ترجمان اور پیش کیں ایک اور قرارداد میں صدر پاکستان و شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیر اعلی سندھ و پی پی پی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ صدر کے اقدامات، اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے، صوبائی خودمختاری دینے، این ایف سی ایوارڈ کے اجرا، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات، ملک کی دفاعی و خارجہ پالیسی کو بہترین انداز میں چلانے کے اقدامات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوام پیپلز پارٹی کو دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب کر کے جمہوریت دشمنوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں گے۔

ایک اور قرارداد میں وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی قیادت میں سندھ حکومت کے تمام عوام دوست اقدامات کو سراہا گیا۔ خیرپور میں ایم این اے نفیسہ شاہ کے جلسے میں فائرنگ کر کے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو شہید کرنے، اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو، صوبائی وزراء آغا سراج درانی، ایاز سومرو، امداد پتافی، فصیح شاہ اور دیگر رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر دستی بموں کے حملوں کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ آخری قرارداد میں ملالہ یوسف زئی، اور ان کی دو ساتھی طالبات شازیہ و کائنات پر دہشتگردوں کے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ہر بیٹی اور شہری پر حملہ تصور کیا گیا اور کہا گیا کہ آج پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہے اور اب دہشت گردوں کا سر کچل کر ہی دم لے گا۔

قبل ازیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت سے سندھ کو طاقت ور بنانا چاہتے ہیں، انشاء اللہ آئندہ دو تین سالوں میں سندھ میں کوئی بے روزگار نہیں ہوگا۔ جب لوگ اگلی باری پھر زرداری کا نعرہ لگاتے ہیں تو پنجاب سے یہاں آنے والوں کے ہوش ٹھکانے نہیں رہے اور انھوں نے قوم پرستوں کے سرپر ہاتھ رکھ دیا، شہباز شریف کو تو یہاں آنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا خزانوں کے منہ کھولنے کے باوجود سندھ کے عوام نے انھیں مسترد کردیا۔ دولت کے بل بوتے پر سندھ میں گھومتے رہنے والوں کو عوامی حمایت نہ ملی تو ایک سیاسی یتیم کو آگے لائے انھوں نے محبت سندھ ریلی نکالی اب انھیں کون بتائے کہ کون کم بخت ہے جو سندھ سے محبت نہیں کرتا۔ ایک شخص ٹرین مارچ کرکے ہر اسٹیشن پر عورتوں کو نچاتے ہوئے قومی اسمبلی پہنچا تو اسے بلدیاتی بل کی منظوری کی خبر ملی اس نے بل پڑھے بغیر ہی نہ کھپے کا نعرہ لگادیا۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی سینئر وائس چئیرمین و وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ وہ یہ نعرہ لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ سب پر بھاری آصف زرداری۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہ سندھ کے عوام نے جلسے میں لاکھوں کی تعداد میں پہنچ کر بعض افراد کے اس منفی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔ پی پی پی نے 2008ء میں اقتدار سنبھالااس وقت محترمہ کو شہید کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں بے یقینی کی صورتحال تھی، دہشت گردی عروج پر تھی، پاکستان سکڑ رہا تھا۔ محترمہ نے راولپنڈی میں اپنے آخری جلسے میں کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ سوات میں فوری طور پر پاکستان کا پرچم دیکھیں، اس وقت ملاکنڈ اور فاٹا میں دہشت گرد آچکے تھے اور بلوچستان سے پاک پرچم اترتا دکھائی دے رہا تھا، دنیا خوف زدہ تھی کہ اگراسلام آبادمیں دہشت گردقابض ہوگئے تو اور ایٹمی قوت ان کے ہاتھ لگ گئی تو توپھر کیا ہوگا،پی پی پی نے دہشت گردوں کو لگام دی جس کی وجہ سے آج دہشت گرد سکڑ گیے ہیں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے کہا کہ ماضی میں ہمیںکوڑے مارے گیے، قتل کیا گیا، پابند سلاسل کیا گیا، لیکن جی ایم سید کہتے رہے کہ ضیاء الحق شریف النفس ہیں۔

پرویز مشرف آئے یہ ان کی واہ واہ کرتے رہے۔ کراچی ڈویژن کے صدر رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جلسے سے میڈیا انصاف کرے، ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں شہید کیے جانے والے 350 کارکنان کے والدین، بہنوں اور بھائیوں کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعروں کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچے ہیں۔ اندرون سندھ ہمارے رہنماؤں کے گھروں پر بم پھینکے جاتے ہیں یہ لوگ کراچی آئیں تو معلوم ہوگا کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں کس طرح سیاست ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل ممین نے کہا کہ نام نہاد قوم پرستوں کی ڈوریاں تخت لاہور اور رائے ونڈ سے ہلتی ہیں۔ اسپیکر نثار کھوڑو اور صوبائی وزیر آغا سراج درانی کے گھروں پر بموں سے حملہ کرتے ہوئے کوئی قوم پرست نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء امداد چانڈیو کا بھتیجا اسد چانڈیو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔

صوبائی وزیر آغا سراج درانی نے سندھ بچاؤ کمیٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے نواز شریف سے کتنے پیسے لیے ہیں۔ سینٹیر عاجز دھامراہ نے کہا کہ اس جلسے میں نہ تو متحدہ کے کارکنان ہیں، نہ سرکاری لوگ ہیں اور نہ ہی کرایے کے لوگ ہیں۔ وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سندھ کے قوم پرست مظاہرے کرتے ہیں اور سندھ کی بیٹیوں کو نسیم نگر چوک پر نچواتے ہیں۔ صوبائی وزیر نادر علی مگسی نے کہا کہ جس نے بھی سندھ کے خلاف آنکھیں نکالیں، ہم ان کی آنکھیں نکال لیں گے۔ ملک اسد سکندر نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہمارا نظریہ بن گئی ہیں۔

سردار راجہ خان مہر نے کہا کہ سندھ میں احتجاج کے بجائے قوم پرست بیٹھ کر بات کرنا بھی سیکھیں۔ صوبائی وزیر زاہد بھرگڑی نے کہا کہ جوقوم پرست سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف ٹائیں ٹائیں کررہے ہیں وہ آج کے جلسے کے بعد اپنے گھروں کے بلوں میں چھپ جائیں گے۔ قبل ازیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی وفاقی جماعت کی موجودگی میں جو لوگ سندھ کی تقسیم کا سوچتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، پی پی کے ہوتے ہوئے سندھ کو کوئی تقسیم نہیں کر سکتا، جیالے ہی سندھ کا تحفظ کریں گے۔

ہم نے وہ حقوق صوبوں کو دے دیے کہ وہ اپنا بلدیاتی نظام خود بنائیں، صوبائی خود مختاری دی، این ایف سی ایوارڈ دیا یعنی پی پی پی نے اپنے منشور کے مطابق عوام کو زیادہ بااختیار کیا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران حمزہ شہباز نے کہا کہ صدر زرداری علی بابا چالیس چور ہیں۔ انھیں شاید پتہ نہیں ہے کہ علی بابا ایک نیک آدمی تھا، جس نے چالیس چوروں کو پکڑا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سوئس کیسوں کے حوالے سے میرا اپنا موقف تھا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے، آج عدلیہ نے بھی صدر کے استثنیٰ کو تسلیم کر لیا ہے۔

اگر میری قربانی سے ملک کے ادارے مضبوط ہوئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میری قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ قبل ازیں جلسے کے آغاز کے موقع پر بھی قرآن پاک کی تلاوت کی سعادت حاصل کرنے کے بعد سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے محترمہ بینظیر بھٹو اور پی پی پی کے شہید ہونے والے کارکنان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملالہ یوسف زئی، کائنات اور شازیہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرائی۔ جلسے میں پیش کی جانے والی تمام قراردادوں پر شرکاء نے جئے بھٹو جئے بینظیر بھٹو اور جئے آصف علی زرداری کے نعرے لگا کر منظوری کا اعلان کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔