ایسا ہو نئیں سکدا…

شیریں حیدر  اتوار 12 جولائ 2015
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

طفیل پاء جی کو امریکا گئے اتنے سال ہو گئے ہیں کہ جتنی ہماری عمر بھی نہیں، وہ ہر چیز امریکی نظر سے دیکھتے اور امریکی معیار پر پرکھتے ہیں۔ ان کے لیے امریکا سے باہر کی دنیا بھی شاید ویسی ہی ہے جیسا کہ وہ سوچتے ہیں، اس لیے انھیں اگر بتایا جائے کہ پاکستان میں غربت کے باعث عورتیں جسم ، مرد ضمیر اور والدین اپنے بچوں کو بھی بیچ دیتے ہیں تو وہ فوراً کہتے ہیں ، ’’ ایسا ہو نئیں سکدا!!‘‘ (ایسا ہو نہیں سکتا) اردو انگریزی ملا کر بولتے ہوئے اپنا یہ مخصوص فقرہ ہمیشہ پنجابی میں ادا کرتے ہیں۔

جب انھیں اطلاع دی گئی کہ ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور وجہ یہ بنی کہ ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی، انھیں اسپتال پہنچایا گیا اور فوری طور پر کچھ انجکشن اور خون لگایا گیا کیونکہ خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا، مگر خون غالباً غلط گروپ کا لگ گیا یا کوئی انجکشن اور… ان کا پہلا رد عمل تھا، ’’ ہو نئیں سکدا! ‘‘ وہ رکے، ’’ ابا جی کو دفن نہیں کرنا ، جب تک میں نہ پہنچوں‘‘ اور یوں سارا خاندان ان کے انتظار میں ان کے ابا جی کے ہاں جم گیا، تیسرے دن ان کی آمد ہوئی اور انھوں نے آتے ہی شوشا چھوڑا کہ انھیں کچھ شک ہے اس لیے وہ ابا جی کا پوسٹ مارٹم کروانا چاہتے ہیں۔ خاندان کے کچھ بزرگوں نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود اور ان کی درخواست پر ان کے ابا جی کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا، موت کا سبب جسم سے زیادہ خون بہہ جانا ہی ثابت ہوا۔

وہ اس رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تھے، یہ ان کے چہرے پر لکھا تھا، ہر کوئی انھیں تسلی دے رہا تھا کہ موت کا وقت معین ہے، سبب کوئی بھی ہو سکتا ہے، اللہ انھیں صبر جمیل دے، مگر پاء جی بے چین سے بے چین تھے۔

’’ آپ کو شک کیوں ہے پاء جی؟ ‘‘ میں نے ان سے پوچھا۔’’ میں چند دن پہلے ہی تو یہاں سے گیا ہوں ، ابا جی بالکل ٹھیک ٹھاک تھے، کوئی بیماری تھی نہ تکلیف‘‘… ’’ مگر ان کی وفات تو حادثے کے باعث خون زیادہ بہہ جانے اور پھر غلطی سے مخالف گروپ کا خون لگ جانے کے باعث ہوئی ہے ‘‘ میں نے سوال کیا۔’’ یہی تو بات ہے، انھیں غلط گروپ کا خون کیسے لگ گیا؟ کیا اسپتال والوں نے ان کا میڈیکل کارڈ نہیں چیک کیا؟ ‘‘ انھوں نے سوال کیا، ’’ کم از کم ان کا خون ہی چیک کر لیتے!‘‘
’’ میڈیکل کارڈ؟ ‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا، ’’ وہ کیا ہوتا ہے؟ ‘‘
’’ کیا پاکستان میں میڈیکل کارڈ نہیں ہوتا آپ لوگوں کا؟ ‘‘ انھوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’ اونہوں … ‘‘ میرے جواب پر ان کے منہ سے ان کا مخصوص فقرہ نکلا۔’’ ہو ہی نہیں سکدا ‘‘
’’ ہوتا ہے طفیل بھائی، ہوتا ہے ہمارے ہاں وہ سب کچھ جو کہ دنیا میں کہیں اور نہیں ہوتا ‘‘

’’ اوپر سے انھیں پنسلین کا انجکشن لگایا گیا، حالانکہ انھیں پنسلین سے الرجی ہے ‘‘ طفیل بھائی نے انکشاف کیا، ’’ یہ بات بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوئی ہے… اور ڈاکٹر وضاحت کر رہا تھا کہ چھوٹے قصبوں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی سے نمٹنے کی سہولیات ناکافی ہیں اس لیے اس طرح کے واقعات عام ہیں، غضب خدا کا، اس دور میں بھی دنیا میںایک ایسا ملک ہے جہاں انسانوں کے لیے طبی سہولیات اس قدر ناقص ہیں اور فیشن ترقی کی انتہا پر ہے‘‘ وہ اپنے دل کا غبار نکال رہے تھے۔

’’ درست کہہ رہے ہیں آپ!! ‘‘ میں نے گہری سانس لی، اب وہ جتنی چاہے باتیں کریں ان کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا کیونکہ ہم نے اس شعبے میں ترقی کی ہے جس میں ترقی کیے بغیر قوموں کا گزارا ہو سکتا ہے اور خوراک، رہائش، تعلیم اور طبی سہولیات جیسی بنیادی چیزیں ہمارے ہاں ناپید ہیں۔

’’چند دن پہلے میں نے جانے سے پہلے ان کی ساری ذاتی تفاصیل ان کے ٹیلی فون میں ، ’’ اہم نوٹ ‘‘ لکھی تھیں … اوپر لکھا تھا، ’’ ایمرجنسی کی صورت میں‘‘ تا کہ جب ابا جی کے ساتھ کسی قسم کو کائی مسئلہ ہو تو جو بھی ان کے پاس ہو وہ ان کی تفاصیل دیکھ سکے۔ اس میں، میں نے ان کا خون کا گروپ، جو دوائیں وہ لیتے ہیں، جن دواؤں سے ان کو الرجی ہے، جو بیماریاں ان کو ہیں ، یہ ساری تفصیل نوٹ کی تھیں… جانے کسی نے ان کا فون کیوں نہیں چیک کیا؟ ‘‘ انھوں نے حیرت سے باآواز سوچا۔

’’ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں حادثے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ سمجھا نہیں میں؟ ‘‘ انھوں نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔
’’ جائے حادثہ پر پہلے پہنچ جانے والے لوگ، عموما حادثے کا شکار ہونے والوں کے پرس اور فون ہی چیک کرتے ہیں … مگر… اس لیے نہیں کہ کوئی تفصیل معلوم ہو تو ان کی مدد کی جا سکے بلکہ اس لیے کہ اس میں سے کیا کیا لوٹا جا سکتا ہے! بہتر ہو گا کہ آپ چیک کر لیں کہ آپ کے ابا جی کا فون ہے بھی یا ہر حادثے کی طرح وہ بھے لوٹ کا مال بن چکا ہے؟ ‘‘
’’ ہو نئیں سکدا… کوئی اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے؟ ‘‘ وہ غصے میں تقریباً چیخ کر بولے۔

’’ ہم اس سے بھی بڑھ کر بے رحم ہو چکے ہیں طفیل پاء جی، آپ نے تو جانے کب اور کیسے پاکستان سے ہجرت کی تھی جو بات بے بات حیرت سے آپ کا منہ کھل جاتا ہے ‘‘

’’ کسی مرتے ہوئے آدمی کے ساتھ کوئی ایسا کیونکر کر سکتا ہے؟ ‘‘ ان کے لہجے میں کرب تھا، ’’ کیا باقی سب نے مرنا نہیں ؟ ‘‘
’’ مرنا ہے سب نے مگر سمجھتے یہی ہیں کہ مرنا اسی کو ہے جو مر چکا ہے یا سامنے مر رہا ہے‘‘
’’ ہو ہی نئیں سکدا، بالکل نئیں ہو سکدا!!‘‘ وہ بڑبڑا رہے تھے۔

ہمارے ہاں میڈیکل کارڈ کا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں سرکاری طور پر طبی سہولیات کا فقدان ہے، جو طبقہ باشعور ہے اور معمول میں بھی اپنا طبی معائنہ کرواتا ہے اور ان کے پاس میڈیکل کارڈ موجود بھی ہیں، کسی حادثے کی صورت میں کسی کو یاد ہی نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی وجود بھی ہے۔ اگر علیحدہ سے میڈیکل کارڈ ممکن نہ ہو تو ڈرائیونگ لائسنس پر کم از کم اہم طبی نکات ضرور درج ہونا چاہئیں ، کم از کم خون کا گروپ اور اگر کارڈ کا حامل کسی دوا سے الرجک ہے تو۔ مجھے یاد ہے کہ چند برس قبل میں نے کراچی سے اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوایا تو بغیر پوچھے ہی اس پر میرا خون کا گروپ لکھ دیاگیا تھا، جو کہ سوئے اتفاق درست تو تھا مگر مجھے ان کا انداز پسند نہیں آیا، غالبا تصویر کھینچتے وقت انھیں میرا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا، اس وقت اس دفتر میں جو ڈی ایس پی بیٹھے تھے میں نے ان سے شکایت کی تو انھوں نے کہا کہ وہ نیا کارڈ بنوا دیتے ہیں اور اس پر خون کا گروپ تبدیل کر دیتے ہیں، میرا چونکہ وہی گروپ تھا اس لیے میں نے اس معاملے کو رفع دفع کر دیا۔

کسی شخص کو حادثے کی صورت میں غلط گروپ کا خون لگ جانے سے معاملہ موت تک منتج ہو سکتا ہے مگر ہمارے ہاں اس کی پروا کب کی جاتی ہے۔ لوگ جب ڈرائیونگ لائسنس بنوانے جاتے ہیں اور ان سے ان کے خون کا گروپ ’ ’ اگر ‘‘ پوچھا بھی جائے تو میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ سو میں سے بیس لوگوں کو بھی اپنا خون کا گروپ معلوم نہیں ہو گا ( پاء جی طفیل ہوتے تو کہتے ، ہو نئیں سکدا ) اسی لیے جب لوگوں سے پوچھا جاتا ہو گا تو وہ کہہ دیتے ہوں گے کہ کوئی بھی گروپ لکھ دیں، ہم گاڑی چلانے کے شوق میں ہوتے ہیں کسی ممکنہ حادثے کی سوچ بھی ہمارے پاس نہیں پھٹکتی۔

’’ ہر شہر میں ایک ہی ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا دفتر ہوتا ہے، کیا ناممکن ہے کہ کم از کم بنیادی میڈیکل چیک اپ کا بندوبست ہو،صرف خون کا گروپ ہی چیک کر کے لکھا جائے تو حادثات کی صورت میں کئی لوگ درست طبی امداد حاصل کر پائیں گے ورنہ وہی روش کہ ہر حادثہ کئی جانوں کو لے کر جائے گا! ‘‘ میں نے اپنے ایک اور کزن سے پوچھا جو کہ محکمہء صحت میں ملازم ہے۔

’’ مشکل ہے‘‘ وہ ممنائے، ’’ اتنی آبادی ہے، روزانہ اتنے لوگ لائسنس بنوانے آتے ہیں، اس لوڈ کو برداشت کرنا ہی مشکل ہے اوپر سے یہ نئی پخ ڈال دیں تو ہمیں اور لوگوں کو مزید مشکلا ت کا سامنا ہو گا!!‘‘
’’ چھوڑ یار ، ساری بات بدنیتی کی ہے، اس ملک میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ بدنیت ہے ‘‘ پاء جی بولے، ’’ ویسے ہی کہہ دے کہ ہو نئیں سکدا! ‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔