جان لیوا امراض کا بڑھتا ہوا تناسب

شاہد سردار  جمعرات 16 جولائ 2015

ہماری قومی زندگی کا نقشہ بہت ہی دل شکن سا ہے۔ دور دور تک امید اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ انسانی زندگی اس قدر ارزاں ہو گئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ بے بس، بیمار اور لاچار کا کوئی پرسان حال ہی نہیں اس کے مقدر میں صرف لوڈ شیڈنگ، غربت، مہنگائی، علاج معالجے سے محرومی، جہالت اور مستقبل کے سہانے وعدوں، سیاسی تسلیوں اور راہ داریوں کے خواب ہی لکھے ہیں۔

کسی بھی ملک یا قوم کے لیے صحت سب سے اہم جزو ہوتی ہے، ایک انسان جتنا صحت مند ہو گا اتنا ہی وہ معاشرے میں اپنا کردار فعال یا احسن طریقے سے ادا کر پائے گا ایک ناتواں انسان خود کو معاشرے کا کارآمد پہیہ نہیں بنا سکتا۔ ترقی یافتہ اپنے سالانہ بجٹ میں دفاع کے بعد جو رقم مختص کرتی ہیں وہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں ان دونوں شعبوں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور جو رقم اس مد میں رکھی جاتی ہے اس کا بمشکل ایک تہائی حصہ ان شعبوں کو مل پاتا ہے وگرنہ ’’کھا پی کر‘‘ برابر کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے تمام شہروں میں واقع ’’سرکاری اسپتالوں‘‘ پر نگاہ کی جائے تو پتہ چلے گا مشینی آلات خراب، دوائیں عنقا، بستر ندارد اور ڈاکٹر غائب اور جو ہیں بھی وہ سرد مہر اور سفاک، سستی سے سستی دوا بھی کسی اسپتال میں مریضوں کو فراہم نہیں کی جاتی۔ پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقوں خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ’’علاج‘‘ نامی چیز مکمل طور پر غائب ہے۔ جو لوگ افورڈ کر سکتے ہیں وہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کی ہوسِ زر کا نشانہ بنتے ہیں اور جو ان کے متحمل نہیں ہو سکتے وہ اللہ پاک سے رحم طلب کرتے کرتے چل بستے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً تمام ڈاکٹر روپیہ کمانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔

ہزار پندرہ سو سے کم یہ فیس چارج نہیں کرتے اور مریضوں کو بمشکل چند منٹ دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب آدھا مرض ڈاکٹر کو اپنا احوال سنا کر ہی رخصت ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر حضرات نہایت تفصیل سے مریض کا حال سنتے، وقتاً فوقتاً مریض سے سوال بھی کرتے اور سوچ سمجھ کر دوا تجویز کرتے، زیر علاج شخص پر تاثر قائم ہوتا کہ ڈاکٹر نے اس کی بیماری تشخیص کی ہے اور اس کا علاج کامیاب رہے گا۔ آج بڑے سے بڑے اسپتال سے چھوٹے اسپتال تک آپ مریضوں کو دیکھ لیں وہ ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد منہ لٹکائے واپس برآمد ہوتا ہے، ڈاکٹروں نے افسوس مریضوں سے یہ ’’نفسیاتی تسلی‘‘ بھی چھین لی ہے۔

تمام بڑے ڈاکٹروں کے اپنے ’’پرائیویٹ کلینک‘‘ ہیں جہاں وہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو چند لمحے دے کر انھیں چلتا کر دیتے ہیں، بیشتر ڈاکٹر غیر ممالک میں پائے جاتے ہیں، بیشتر سیمینار یا فورم میں یا پھر کسی ادارے میں لیکچر دیتے ہوئے یوں ہمارے ماہرین صحت کے پاس بیماروں کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا، افسوس صد افسوس برسہا برس سے طب جیسا حساس اور مقدس پیشہ ہمارے دیگر پیشوں کی طرح محض ایک پیشہ بن کر رہ گیا ہے۔

جس میں راتوں رات امیر بننے کی سعی کی جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ جو معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے اس کا ہر شعبہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے لیکن شاید معاشرے کے زوال سے قبل ہی ہمارا محکمہ صحت زوال کا شکار ہو گیا تھا؟ وطن عزیز کے کسی بھی سرکاری اسپتال سے باہر میڈیکل اسٹورز پر درجنوں لوگوں کو آپ دیکھتے ہوں گے جن کے پاس دوا خریدنے کے وسائل نہیں ہوتے اور وہ ہمیں اور آپ کو نسخہ دکھا کر دوائی لے کر دینے کی التجا کرتے ہیں۔

کیا سرکاری اسپتالوں میں دواؤں کی فراہمی اور علاج ریاست کی ذمے داری نہیں بنتی؟ صاف دکھائی دیتا ہے حکومت کی ترجیح عام انسان، ان کے مسائل اور جمہور نہیں بلکہ نمائشی کارنامے ہیں جن کی چمک سے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ ہمارے حکمران اگر اپنے غیر ملکی اور غیر ضروری دوروں میں کمی کر دیں اور اپنے  سیکریٹریٹ کے خرچوں میں کمی کر دیں تو اس سے غریب مریضوں کے علاج معالجے کا سامان ہو سکتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو ان جانوں کو ہرگز قیمتی جانیں نہیں سمجھتے، ان کی ترجیح ان کے اپنے طبقات ہیں جو نزلہ زکام کا علاج بھی بیرون ملک کرواتے ہیں۔

ملک کے حکمرانوں یا ارباب اختیار کو کون جا کر بتائے کہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے نفرت اور بیزاری نکتہ عروج پر جا چکی ہے اور یہ بھی غلط نہیں کہ ’’ناداروں‘‘ کو دینا ہو تو ’’زرداروں‘‘ سے ہی لینا ہو گا جو وہ رضاکارانہ طور پر ہرگز نہیں دیں گے۔ ان کی جائیدادیں اور اثاثے ضبط کر کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہوں گے اور یہ فریضہ صرف ’’عوامی انقلاب‘‘ ہی ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ جو مرض پھیل رہا ہے وہ ’’ہیپاٹائٹس‘‘ ہے، پورے ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں اور اس کی بنیادی وجہ مضر صحت پانی کی فراہمی ہے جس سے پھلوں اور سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔

کینسر پاکستان میں پھیلنے والا دوسرا بڑا مرض ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھی ناقص غذائیں، پانی اور ماحولیاتی آلودگی ہے جس کی بنا پر ہر پانچواں فرد اس کا شکار ہو رہا ہے۔ ڈپریشن اور مختلف ذہنی عارضوں میں اس وقت دو کروڑ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں امراض قلب بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ شرح امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک سے بھی زیادہ ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی میں 162 مریضوں کے لیے اوسطاً ایک بستر سالانہ کی گنجائش ہے جو نہایت ناکافی ہے۔

یہ سارے اعداد و شمار صحت عامہ کے حوالے سے ہونے والے سیمینار سے ہم نے اکٹھے کر کے پیش کیے ہیں، کتنے کرب کی بات ہے کہ پورے پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ بیس ہزار افراد ہیپاٹائٹس کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یعنی ہر پانچ منٹ میں ایک شخص ہیپاٹائٹس کے سبب زندگی سے ہاتھ دھو رہا ہے اور یہ بات ہر کس و ناکس پر آشکارہ ہوچکی ہے کہ اس کا بنیادی سبب ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک کے مسائل، درختوں کی افزائش و نگہداشت کے بجائے پورے ملک میں ان کی کٹائی اور خاتمے، سیوریج کے ناقص نظام، اکثر گلیاں اور سڑکیں گندے پانی کے بدبو دار جوہڑوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، صحت و صفائی کا مناسب انتظام سرے سے ختم ہو جانے کے باعث ملک کے صاف ستھرے علاقے سب غلیظ شہروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ صنعتی پھیلاؤ، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی بہتات نے صحت کے مسائل میں تشویش ناک حد تک اضافہ کر دیا ہے نتیجے میں مختلف النوع کی پیچیدہ اور خطرناک بیماریوں کا شکار لوگ ہو رہے ہیں۔

ماہرین موسمیات ایک عرصے سے عوام اور حکام کی توجہ اس طرف مبذول کروا رہے ہیں کہ دنیا بھر میں ارضیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس سے موسموں میں غیر معمولی تغیر تبدیل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا یہی نتیجہ نکل رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔