’’اگر یہ خوشحال ہو گئے تو ہمارا کام بند ہو جائیگا‘ ‘

رحمت علی رازی  جمعـء 17 جولائ 2015

چند روز قبل ہمارے ایک دوست نے افطاری کے لیے ہمیں اپنے دفتر بلایا۔ چوہدری صاحب ایک نامی گرامی ٹھیکیدار ہیں اور چھوٹی موٹی کوٹھیوں کے تعمیراتی کام سے لیکر بڑے بڑے سرکاری و غیر سرکاری ٹھیکے لینے کے زبردست ماہر ہیں۔ ان کے آفس میں افطاری سے قبل تقریباً آدھ گھنٹہ تک بیٹھک ہوئی، اسی دوران وقفے وقفے سے دو، تین، ایک، چار کرکے کچھ مزدور آکر اپنی اجرت اور بقایا جات کا مطالبہ کرتے رہے اور چوہدری صاحب کسی کو گالی، کسی کو دھمکی تو کسی کو تسلی دیکر بھیجتے رہے، جب کہ کچھ ایک دھونس تکرار کرنیوالوں کو پانچ سو، ہزار اور زیادہ سے زیادہ دو ہزار روپے تھماکر چلتا کیا۔

وہاں سے ا ٹھتے ہوئے ہم نے چوہدری صاحب کو اخلاقی درس دیا کہ کسی اجرت دار کی مزدوری دبارکھنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ انھوں نے مصافحانہ انداز میں ہماراہاتھ دبا کر کہا، ’’جناب والا! میں کسی کی مزدوری نہیں رکھتا، مگر میری ایک حکمت عملی ہے کہ دس ہزار والے کو ہزار دو اور ہزار والے کو سَو۔ اگر میں اپنے مزدوروں کو ساری اُجرت یکمشت ادا کردوں گا تو پھر یہ خوشحال ہوجائینگے، اور یہ خوشحال ہو گئے تو ہمارا کام بند ہوجائیگا، اس لیے میں ہمیشہ انھیںمحتاج ہی رکھتا ہوں تاکہ یہ ہمیشہ میرے پاس آکر روتے دھوتے رہیں اور پچھلے نکلوانے کی آس میں آگے کام کرتے رہیں‘‘۔

گھر پہنچنے تک چوہدری صاحب کا یہ جملہ کہ اگر ’’یہ خوشحال ہو گئے تو ہمارا کام بند ہو جائیگا‘‘ پاکستانی بجلی کی طرح ہمارے ذہن میں جلتا بجھتا رہا، کیونکہ یہ محاورہ لامحالہ طور پر اس چھوٹے ٹھیکیدار کا نہیں بلکہ ان بڑے ٹھیکیداروں کا تھا جنہوں نے پاکستانی قوم کا خون کشید کرنے کے بڑے بڑے ٹھیکے لے رکھے ہیں اور انھیں ہر لحظہ یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ پاکستان کے عوام خوشحال ہوگئے تو ان کا کام بند ہوجائیگا، یقینا اسی لیے انھوں نے پوری قوم کو رونے دھونے پر لگارکھا ہے۔ پاکستان کے 90 فیصد شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

20 کروڑ آبادی کا نصف سے زائد حصہ خط غربت سے نیچے لڑھک چکا ہے اور اس کے پیچھے ایک کبھی نہ ختم ہونیوالی طویل قطار ہے جو تیزی سے پستی کی طرف رواں دواں ہے۔ جان لیوا مہنگائی، بجلی، گیس، پانی کا شدید بحران، خوفناک غربت، خونچکاں بیروزگاری ، غیرمعیاری تعلیم اور صحت کے بے قابو مسائل نے مظلوم ومقہور افرادِ عامہ کو ایک لاعلاج ہسٹیریا میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاکستان میں کرپشن اس قدر عام ہوگئی ہے کہ رفتہ رفتہ اب اسے فیشن کا درجہ حاصل ہوچکا ہے‘ اس میں کمی آنے کے بجائے مزید شدت آتی چلی جارہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی لڑکے کا کردار ذرا مشکوک ہوتا تھا تو اسے کوئی رشتہ دینے کو تیار نہیں ہوتا تھا لیکن آج جو سب سے زیادہ کرپٹ اور بااثر ہوتا ہے اس کی اولاد کے لیے رشتوں کی لائنیں لگی رہتی ہیں۔

ہماری سوچ کا معیار یہ بن چکا ہے کہ جو جتنا زیادہ ’’کماتا‘‘ ہے وہ اتنا ہی زیادہ عزت دار ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کی کمائی کا ذریعہ کیا ہے۔ ایسا ’’مثالی‘‘ کلچر پیدا کرنے میں ہمارے جمہورساز حکمرانوں کی مہربانیاں کارفرما ہیں۔ باپ کرپٹ ہوگا تو اس کے اثرات اولاد پر پڑیں گے، حاکم کرپٹ ہوگا تو اس کی قوم بھی کرپٹ ہوگی۔ گزشتہ کالم میں ہم نے ملک کے میگا کرپشن سکینڈل اور توانائی بحران کا حتی الوسع احاطہ کیا تھا۔ قلم آزمائی کرتے کرتے قلمکاروں نے دنیا کی روشنائی ختم کر دی ہے اور مسائل کی نشاندہی کرتے کرتے ہم بھی عاجز آ چکے مگر بے حس حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

جب تک انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر اداروں پر غیرجانبدارانہ کڑا احتساب کا نظام مسلط نہیں کرینگے نہ تو عوام کے مسائل حل ہونگے، نہ ہی قومی خزانے کی کمر سیدھی ہو گی ۔ اس مرتبہ عید سعید کے موقع پر ہم اپنے کالم میں کچھ اہم خطوط او ر ای میلز شامل کررہے ہیں جن میں عام شہریوں اور سرکاری ملازمین کی طرف سے بہت سے مسائل کارونا رویا گیا اور بہت سی خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کی طرف ہم حکمرانوں کی توجہ خاص مبذول کرانا چاہتے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کے درد کا مداوا ہوسکے۔ سعد احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ایچ اے راولپنڈی ہیں۔

انھوں نے اپنے ساتھ سرزد ہونیوالی ناقابل بیان زیادتی کے بارے میں اور پی ایچ اے راولپنڈی میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا جو بازار گرم ہے، اس کے متعلق ہمیں ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور اپنا ایک اہم مسئلہ جو کہ ایک سرکاری ادارے سے متعلق ہے، حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے آپ کو بھیج رہا ہوں۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایک لوکل ادارہ ہے جس نے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کوکھ سے 2010ء میں جنم لیا۔ اسی طرح جہاں بھی ترقیاتی ادارے ہیں وہاں یہ ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ شہر میں پودے لگا کر سرسبزو شاداب اور خوبصورت بنایا جائے اور پارکس کی حالت زار کو بھی بہتر کیا جاسکے۔

پہلے پہل اس شہر کے پارکس تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی برانچ ’’ شعبہ باغات‘‘ کے ماتحت تھے اب اسی برانچ کو پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی (پی ایچ اے) بعدازاں اتھارٹی میں ضم کر دیا گیا اور اس ادارے کا پہلا سربراہ کیپٹن مشتاق احمد کو مقرر کیا گیا جنہوں نے شبانہ روز محنت کر کے اس ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ بعدازاں اس کا ایم ڈی ایک ایسے شخص کو مقرر کیا گیا جنکا تعلق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے ہے اور یہ اسی ڈیپارٹمنٹ سے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر گریڈ 18 میں ڈائریکٹر انجینئرنگ تعینات ہوئے۔ اسی دور میں انھوں نے ایم ڈی واسا اور پھر ڈی جی ( پی ایچ اے)کا چارج بھی سنبھال لیا جو ابھی تک سنبھال رکھا ہے۔ مہاکلاکار اور ’’مثالی شہرت‘‘ کے حامل نااہل افسرہیں۔ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک ترقیاتی ادارہ ہے جسکا کام شہر میں ہاؤسنگ کالونیاں اور ٹاؤنز وغیرہ بنانا ہے۔ یہ ادارہ آج تک ایک اسکیم نہیں بنا سکا جب کہ جی ڈی اے، ایم ڈی، ایف ڈی اے اور ایل ڈی اے بیشمار کالونیاں متعارف کروا چکے ہیں۔

متذکرہ ڈی جی نے بڑی محنت سے اس ادارہ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے اور انھوں نے ٹی ایم اے سے آئے ہوئے تجربہ کار محنتی اور مستقل ملازمین کو کھڈے لائن لگا رکھا ہے جب کہ ڈیلی ویجز پر نااہل، ناتجربہ کار اور سفارشی ملازمین بھرتی کر کے جنگلی جڑی بوٹیاں لگا کر کروڑوں روپے کے جعلی بل بنا کر ہضم کیے جا رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتی کے لیے تین ماہ کے لیے اخبار میں اشتہار دیکر باقاعدہ ایک طے شدہ ضابطہ کے تحت بھرتی کیا جاتا ہے لیکن انھوں نے تمام ضابطوں کو پس پشت ڈال کر اس ادارہ میں کام کرنیوالے افسران کے قریبی رشتہ دار، بھانجے، بھتیجے، داماد اور بہنوئی بھرتی کر رکھے ہیں جوکہ اس ادارہ کے کرتادھرتا بنے ہوئے ہیں۔

چن چن کرنااہل اور کرپٹ لوگوں کو اپنے اگرد اکٹھا کر رکھا ہے۔ رشتہ داروں کے علاوہ جو بھی بھرتی ہوتا ہے اسے دو تین ماہ میں جب کام کی سوجھ بوجھ ہوتی ہے فوراً نکال باہر کردیاجاتا ہے۔ گھوسٹ ملازمین بھرتی کر رکھے ہیں۔ ایک ایک پودے کو دس ہزار میں ظاہر کر کے کروڑوں ہضم کیے جارہے ہیں۔ نئی گاڑیاں ٹریکٹر اور ٹرالیاں خریدی گئی ہیں جن پر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے مرمت پر خرچ ہو رہے ہیں۔ متذکرہ ڈی جی نے گاڑیوں کی خریداری میں فی ٹریکٹر کمیشن لیا ہے۔

شبیر احمد نامی ایک شخص جوکہ انڈر میٹرک ہے اسے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات کررکھا ہے۔ میں اپریل 2013ء کو اس ادارہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوا۔ حلفاً کہتا ہوں کہ مئی 2013 کے انتخابات کے دوران متذکرہ ڈی جی اور شیخ طارق (جوکہ بنیادی طور پر گریڈ16 میں سپرنٹنڈنٹ گارڈن ہے اور ڈی جی کا منظورِنظر ہونے کی وجہ سے اسسٹنٹ، ڈپٹی اور اب ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کا چارج بھی رکھتا ہے)، انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے مقامی قائدین کے گھروں کا طواف کرتے رہے اور جب اقتدار مسلم لیگ نے سنبھالا تو یہ لوگ ن لیگ کی مقامی قیادت کے منظورِنظر بن گئے اور ان کے گھروں کا طواف کرنے لگے۔

یہ واقعہ انتہائی قابل ذکر ہے کہ 21 اپریل 2015 کو میں ڈیوٹی پر موجود تھا کہ ڈی جی گاڑی سے اُتر کر سیدھا میرے پاس آئے اور ایک فائل میرے سامنے رکھ کر حکم دیا کہ اس پر دستخط کرو۔ میں نے دیکھا تو فائل میں ایک بوگس بل تھا۔ جو کام سرے سے ہوا ہی نہیں‘ اس پر میں کیسے دستخط کردیتا، لہٰذا میں نے انکار کردیا، جس پر وہ غلیظ اور ننگی گالیاں دینے لگے، پھر میرا ذاتی کمپیوٹر اٹھا کر نیچے پھینکا جو ٹوٹ گیا اور میز پر پڑی فائلیں اِدھر اُدھر اُٹھا کر پھینک دیں اور کچھ پھاڑ بھی دیں، اور کہا، ’’ بڑا آیا دیانتدار! دیانتداری اور نوکری ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یاد رکھو! آیندہ کے بعد مجھے نظر نہ آؤ۔ خاموشی سے گھر بیٹھ جاؤ، تنخواہ ملتی رہے گی۔ خبردار جو ہمارے کام میں مداخلت کی یا کسی کو بتایا تو‘‘۔ جناب! میری حکمرانوں سے استدعا ہے کہ وہ غیرجانبدار انکوائری کریں۔ دوسرا یہ کہ پی ایچ اے دیانتدار افسران پر مشتمل اعلیٰ سطحی ٹیم سے اسپیشل آڈٹ کروایا جائے۔ میں گھر بیٹھ کر نہیں بلکہ ڈیوٹی کر کے تنخواہ لینا چاہتا ہوں۔ اسپیشل آڈٹ انکوائری اور ذمے داری فکس ہونے تک مجھے نوکری سے نہ نکالا جائے کیونکہ خدشہ ہے کہ اس کالم کی اشاعت ہونے پر مجھے ملازمت سے فارغ کردیا جائیگا۔

پینشنز ڈیپارٹمنٹ حکومت پاکستان کے سید مظفر حسین نے ہمارے 5 جولائی کے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے اس بار بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور غریب آدمی کیساتھ روا رکھی گئی زیادتیوں پر خوب لکھا ہے۔ میں بھی آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ اس سال بجٹ میں ملازمین کے لیے صرف 7.5 فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے، جب کہ پچھلی حکومت یعنی پی پی پی نے ہمیشہ 20 تا 50 فیصد اضافہ کا اعلان کیا تھا۔ حاضر نوکری ملازمین کو بھی یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے اور پنشنرز کیساتھ تو خاص کر بہت زیادتی ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین نے عمر بھر ملک کی خدمت کی اور ان کی پنشن، خاص کر چھوٹے ملازمین کی پنشن میں تو بہت ہی کم اضافہ ہوا ہے۔

دوائیوں اور خوراک کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور موجودہ اضافہ بالکل ناکافی ہے۔ مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ اسمبلی ممبران کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بجٹ پاس ہوئے کئی ہفتے ہوگئے اوراس کا اعلان بھی نہیں ہورہا کہ اضافہ اور ٹیکس کب سے لاگو ہونگے۔ جہاں تک پنشن کا تعلق ہے یہ آپ جیسے آگاہی رکھنے والے شخص سے مخفی نہیں کہ پنشن سرکاری ملازم کا اپنا ہی جمع شدہ سرمایہ ہوتا ہے، جو وہ اپنی تنخواہ سے 33.75 فیصد ماہانہ کے حساب سے بطور پنشن کنٹریبوشن جمع کرواتا ہے اور اگر وہ نہ کروائے تو اس کی اتنی مدت ملازمت برائے پنشن شمار نہیں ہوتی، خصوصاً فوجی ملازمین کے لیے سروس کا وہ حصہ نان کو الیفائنگ برائے پنشن ہوتا ہے۔

اس لیے ہمارے اپنے ہی پیسے سسکا سسکا کر ہمیں دیے جارہے ہیں۔ اسی طرح اسپیشل اسکیل ملازمین کے سلسلے میں بھی فنانشل رولز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس سے ایک قسم کے ملازمین کو ایک جتنی تنخواہ ملنی چاہیے اور دیگر الاؤنسز بھی۔ یاد رہے کہ ملازمین میں مساوات قائم رکھنے کے لیے ایک یونٹ کمانڈر اگر مسلم سپاہ کو عیدی دیتا ہے تو اسے ہندو سپاہیوں کو دیوالی پر اور عیسائی سپاہیوں کو کرسمس پر اتنے ہی پیسے دینے چاہئیں۔ یہ بہتر اُصول ہے مالی مساوات کا۔ دوسرا یہ کہ ملازمین کے اسکیل مختلف ہیں، یعنی اسی قابلیت کے دو لوگوں کو الگ الگ اسکیل دیے جارہے ہیں۔

یہ ناانصافی ہے اسے دُور کیا جائے‘ اس سے ملازمین میں شدید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ کچھ مزید ناانصافیاں بھی قابل توجہ ہیں‘جیسے بہبود فنڈ اور بیمہ وغیرہ یعنی افسروں کی گروپ انشورنس جسکا پریمیم وہ ادا کرتے ہیں، وہ بلوچستان حکومت اور ڈیفنس کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ادا کردیا جاتا ہے۔ مرکزی ملازمین اور دیگر صوبے کیوں ادا نہیں کرتے۔ مُوو اووراور سلیکشن گریڈ کو حکومت نے پروموشن مان لیا ہوا ہے۔ جن لوگوں پر اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے ان کو ایک زائد ترقی پریمیچور انکریمنٹ بنتی ہے جو سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزارتِ خزانہ نے ادا نہیں کی۔

یہ واجبات یعنی پنشن کی بڑھوتی رقم مہنگائی کے حساب سے، اسکیلوں میں تفاوت یعنی اسپیشل اسکیل اور عام اسکیل، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور افسروں کے پرائیویٹ سیکریٹریوں کو 100 فیصد اضافہ اور عام ملازم کو ساڑھے سات فیصد کیا نسبت ہے، بہبود فنڈ اور بیمہ کی رقم کی ادائیگی ریٹائرمنٹ کیساتھ جیسے بیمہ کمپنیاں کرتی ہیں، زندہ رہ جانیوالے بیمہ داروں کے لیے سلیکشن گریڈ اور مُوواوور کے لیے ایک اضافی ترقی کی ادائیگی کا حکمرانوں کو فوری حل نکالنا چاہیے، اگر ایسا ہو جائے تو بہتوں کا بھلا ہوجائیگا۔

پاکپتن سے محترمہ شمائلہ کی ای میل جس میں انھوں نے حد ِ عمر کے بارے میں رقم کیے گئے10 مئی کے کالم ’’سی ایس ایس کے امتحانات میں لاوارث دربدر ہونے لگے‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے: ’’میں نے پہلے بھی وزیراعظم سے استدعا کی تھی کہ سی ایس ایس کے لیے بالائی عمر کی حد کم سے کم 30 سال کی جائے کہ اچانک ہی ان دنوں روزنامہ ایکسپریس میں آپکا کالم نظروں سے گزرا جسے پڑھ کر دل کو کچھ اطمینان سا ہوا۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر کی مکمل کفالت مجھ پر عائد ہے اور میں سی ایس ایس کا امتحان دینا چاہتی ہوں مگر پریشانی ہے، تو صرف حد ِ عمر کی۔ آپ کی وساطت سے میں اصحابِ اقتدار سے استدعا کرنا چاہتی ہوں کہ سول سروس کے لیے عمر کی بالائی حد 28 سال اس طبقہ کے امیدواروں کے لیے سراسر زیادتی والی بات ہے جن کے لیے اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔خدارا ان لوگوں کے دُکھ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جو گھر کی کفالت کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا جتن کرتے ہیں۔ عمر کا چکر ڈال کر ہر سال نجانے کتنا معقول ٹیلنٹ ضایع کر دیا جاتا ہے۔ میں ایک بیٹی ہوں، میں گھر بھی چلاتی ہوں، پوزیشن ہولڈر بھی ہوں مگر اوورایج ہوں۔

ہم ایسوں کے لیے یہ 28 سال کی لِمٹ ’’ ظلم ان لمیٹڈ‘‘ کے مترادف ہے‘‘۔ ان محترمہ نے چونکہ اوور ایج ہونے کا رونا رویا ہے، اور اس موضوع پرہم ایک جامع کالم بھی رقم کر چکے ہیں، تاہم یہاں ہمیں بنجمن جاوٹ کے ایک مسودہ کا حوالہ دینا پڑگیا ہے جو انھوں نے انڈین انڈرسیکریٹری آف سٹیٹ آرتھر گوڈلے کو آئی سی ایس افسران کی کم عمری کی نشاندہی کرتے ہوئے کچھ یوں لکھا تھا: ’’ہمارے خیال میں یہ کم عمر بالکے حالات سے بے خبر، اخلاقی اور دانشمندانہ کمی کے علاوہ بہت کم تجربہ رکھتے ہیں، لہٰذا یہ نوخیز افسران انڈیا آمد پر بھاری فرائض سونپے جانے کے اہل نہیں‘‘۔ اس وقت آئی سی ایس کی تقرری کی عمر19 سال تھی جسے بنجمن جاوٹ 23 سال کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ حدعمر آزادیٔ ہند کے بعد انڈیا میں 32سال اور برطانیہ میں 35سال کر دی گئی مگر پاکستان 30 سے کم کر 28 سال کردیا گیا۔ ہم پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھر بے حس حکمرانوں کو باور کرائے دیتے ہیں کہ تجربے اور میچیورٹی کی اصل حد 30 سے 35 سال ہے جب انسان میں انرجی اور دماغی صلاحیتیں بھی اوج ِ کمال پر ہوتی ہیں، اس لیے دانشمندی یہی ہے کہ سول سروس کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سے 35 کے درمیان کچھ بھی متعین کردی جائے‘ اس سے بہت سارا قیمتی ذہنی سرمایہ ضایع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

مسٹرلال خان رقمطراز ہیں: ’’ میں ایک ٹیچر ہوں، میں نے لیکچرار، سبجیکٹ اسپیشلسٹ اور ہیڈماسٹر کے لیے امتحانات پاس کیے ہیں مگر انٹرویو میں رد کردیا گیا ہوں۔ پی ایم ایس کے امتحان میں میرا جنرل نالج کا پیپر کمزور تھا اور انگلش کا اے کلاس، مگر مجھے جنرل نالج میں پاس کر دیا گیاجب کہ انگلش میں فیل۔ اس کے علاوہ پی پی ایس سی کے ایس ایس ٹی پے اسکیل 16 کے لیے شرط ہے، بی اے بی ایڈ کی جب کہ میں ایم اے پولٹیکل سائنس اور ایم اے ایجوکیشن تھا، لیکن اس وجہ سے مسترد ہوگیا کہ میرا بی ایڈ نہیں ہے، حالانکہ میری تعلیم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اب میں46 سال کا ہوں اور متجاوز ِ عمر ہوچکا ہوں لیکن اب تک پرائمری ٹیچر ہوں۔ ایک ستم اور بتاتاچلوں کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بی اے والوں کو ایجوکیشن الاؤنس 400 روپے اور ایم اے والوں کو 600 روپے دیا جارہا ہے۔

میں ڈبل ایم اے ہوکر بھی ایجوکیشن الاؤنس سے محروم ہوں۔ درخواست گزارنے پر جواب ملا کہ آپ کو بی اے کی بنیاد پر الاؤنس اس لیے نہیں مل سکتا کہ آپ کی پوسٹ کی اپائنٹمنٹ کوالیفکیشن بی اے ہے جب کہ آپ ایم اے ہیں، اور ایم اے کی بنیاد پر اس لیے آپ الاؤنس نہیں پاسکتے کہ پولیٹیکل سائنس اور ایجوکیشن دونوں ہی ٹیچنگ سبجیکٹس نہیں ہیں۔ آپ ذرا محکمہ ایجوکیشن کا انصاف تو دیکھیں کہ پولٹیکل سائنس اور ایجوکیشن ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ سفارشیوں کو تو ہسٹری پر بھی الاؤنس مل رہا ہے مگر لاوارثوں کے لیے ایجوکیشن پر بھی نہیں۔ پہلے میرا خیال تھا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی پبلک سروس کمیشن کے زیرنگیں ہونا چاہیے اور اس کے جملہ معاملات سینٹرل اور پراونشل سلیکشن بورڈز کے ذریعے طے پانے چاہئیں مگر سی ایس ایس کے امیدواروں کو مسلسل ذلیل و خوار ہوتے دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی محکمہ جات اپنی حیثیت میں ایف پی ایس سی سے کسی طور بھی کم نہیں۔ بی ایڈ کا ڈپلومہ صرف ان کے لیے ہوتا ہے جنہوں نے ماسٹر نہ کر رکھا ہو۔ ایم اے کی ڈگری رکھنے والوں کے لیے بی ایڈ کی شرط انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ محکمہ ایجوکیشن میری طرح کے اور نہ جانے کتنے کوالیفائڈ اساتذہ کو اپنی نام نہادشرائط کی حجتوں میں ڈال کر برباد و ضایع کر چکاہے‘‘۔

متذکرہ بالا مراسلہ جات میں جن مسائل کا رونا رویا گیا ہے ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اولاً تو شکوہ گزاروں کی شکایات اور مشکلات کا ازالہ کریں، دوئم یہ کہ ان کے مسائل کی نشاندہی سے راہنمائی لیکر محکموں کی انتظامی خامیوں اور قانونی نقائص کو بہرطور رفع کریں تاکہ آیندہ کسی کیساتھ اس طرح کی زیادتی سرزد نہ ہو اور عوام کا حکمرانوں اور اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔