شرجیل انعام میمن کے نام

نسیم انجم  منگل 21 جولائ 2015
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن نے بڑا خوبصورت خواب عوام کی آنکھوں میں سجا دیا ہے، گزشتہ دنوں بھی وہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں، لیکن نتیجہ صفر رہا ہے اور اب انھوں نے کراچی کو اسمارٹ سٹی بنانے کا دبئی میں معاہدہ کیا ہے اور بہت سی حیرت انگیز طور پر ایسی سہولتوں کا ذکر کیا ہے جن کا مل جانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ ان کے معاہدے میں جدید سولر اسٹریٹ لائٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور مفت وائی فائی کی سہولتیں شامل ہیں، اس سلسلے میں دبئی، امریکا اور چائنا کی تین سرمایہ کار کمپنیوں کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوچکے ہیں، معاہدے کے مطابق سال رواں دسمبر میں مذکورہ منصوبے کا فیز 1 مکمل ہوجائے گا۔

دسمبر دور نہیں دیکھتے ہیں کہ سابق دنوں کی طرح خواب چکنا چور ہوگا یا سنہری تعبیر دکھی عوام کو خوش آمدید کہے گی۔

شرجیل میمن صاحب! ذرا کراچی کے حالات اور ان بلکتے سسکتے عوام کی مشکلات پر ٹھنڈے دل سے غور کیجیے کہ عوام کس قدر بنیادی ضرورتوں کی چکی میں پس رہے ہیں، ایک طرف کے الیکٹرک کی لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے تو دوسری طرف واٹر بورڈ کے افسران بالا کی بے حسی اور سفاکی نے دلوں کو چھلنی کردیا ہے۔

ان اعلیٰ حضرات نے پانی کی تنگی پیدا کرکے لوگوں کو جیتے جی مار دیا ہے، کراچی کے بے شمار علاقے واٹر بورڈ کے عملے کی سفاکیت اور بربریت کے تحت پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں، سندھ حکومت اس ظلم میں برابر کی شریک ہے، ماہ رمضان ہے، لوگ نیکیاں کماتے ہیں، راہ چلتے مسافروں کو پانی کی ٹھنڈی بوتلیں اور کھجوریں روزہ کھولنے کے لیے عزت و احترام کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔

گاڑیاں، بسیں، رکشہ، ٹیکسی کوئی بھی سواری روزہ کھولنے سے محروم نہیں رہتی ہے۔ زکوٰۃ، خیرات کی مد میں بھی غربا و مساکین کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے، فلاحی ادارے ضرورت مند لوگوں کو امداد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن جن لوگوں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں، انھوں نے اپنے فرائض سے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے بس ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے پیسے کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔

غالباً دو چار ماہ قبل کی ہی بات ہے جب شرجیل میمن نے کراچی کو سرسبز و شاداب بنانے اور کوڑا کرکٹ سے صاف کرنے کے لیے خود شجرکاری مہم کی ابتدا کی تھی اور عوام کا خادم ثابت کرنے کے لیے صفائی، ستھرائی میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن ان کے یہ سارے کام اخبارات میں چھپنے والی خبروں اور تصاویر تک محدود رہ گئے، پانی کی فراہمی کے لیے بھی ہائیڈرنٹس کے خاتمے کا عزم کیا تھا لیکن یہ قول بھی ہوا ہوگیا، کیا شرجیل میمن صاحب کو نہیں معلوم؟ کہ ان دنوں ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی ہے اور یہ ملی بھگت کے تحت ہو رہا ہے، جب پانی کی تنگی ہے تو ٹینکر والے کہاں سے پانی حاصل کر رہے ہیں؟

حکومت تنخواہیں نہیں بڑھاتی ہے، تجارت کے لیے بھی ماحول سازگار نہیں، چھوٹے دکاندار ہوں یا بڑے سب ہی بھتہ دینے پر مجبور ہیں، آج بھی بھتہ خور پرچیاں دے رہے ہیں، دکاندار اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے خاموشی سے ان کی بات ماننے پر مجبور ہیں، چونکہ ان تمام معاملات میں پولیس دور دور تک دکھائی نہیں دیتی ہے۔

جب لوگ خود کشی کے پھندے پر لٹک جاتے ہیں تب پولیس سامنے آتی ہے، پانی سر سے گزر گیا ہے، کوئی پرسان حال نہیں ہے، ان حالات میں ٹینکر کے خرچ نے متوسط طبقے کا بجٹ آؤٹ کردیا ہے۔

اب محدود تنخواہ سے 8، 10 ہزار روپے پانی خریدنے کے لیے وقف کیے جاتے ہیں، حلقوم سیراب ہوتے ہیں، پانی کی بہار اپنے جوبن پر ہوتی ہے تو دوسری طرف بھوک افلاس، بیماری، علاج معالجہ بچوں کی فیسیں جیتے جی قبر میں اتار دیتی ہیں لیکن ہماری سابقہ و موجودہ حکومتیں رعایا کے غموں سے بے فکر ہوکر دیار غیر کے دورے کرتی ہیں۔

دبئی، امریکا، برطانیہ، روس، سعودی عرب میں دنوں، ہفتوں، مہینوں قیام کرتی ہیں کوئی چھٹیاں گزارنے جاتا ہے کہ پاکستان میں گرمی شدت کی پڑ رہی ہے، انھی حکام میں سے کچھ اعلیٰ شخصیات حج و عمرے کی سعادت حاصل کرتی ہیں، کیا دیار حبیب ﷺ کے روضۂ مبارک پر حاضری دیتے اور کعبے کا طواف کرتے ہوئے خوف نہیں آتا کہ ان کی زندگیاں اور کام بالکل احکام خداوندی اور تعلیم نبوی حضرت محمد ﷺ  کے برعکس ہیں۔ کس منہ سے اور کس دل سے حاضریاں دی جاتی ہیں؟

پانی کے بحران میں اس قدر شدت آگئی ہے کہ لوگ خصوصاً پڑوسی بھی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں اور یہ مہربانی واٹر بورڈ کے حکام کی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے گلستان جوہر کے بلاک 13 میں گمبھیر مسئلہ پیدا ہوچکا ہے مسجد صدیق ابوبکرؓ سے دوسری گلی والوں نے ڈیڑھ دو لاکھ روپے کی رقم خرچ کی اور گلی نمبر 3 کے پانی کا رخ زائد موٹریں لگا کر اپنی طرف کرلیا، نتیجہ یہ ہوا گلی نمبر 3 کے مکین پانی کو ترس گئے ۔

اس سنگین صورت حال کو جب ایم ڈی واٹر بورڈ اور دوسرے افسران کے سامنے درخواست کی شکل میں بیان کیا گیا، تو ایم ڈی صاحب نے قطعی نوٹس نہیں لیا اور دوسرے اعلیٰ افسران کا بھی حال جدا نہ تھا، گلی والوں سے شکایت کی تو ایک صاحب نے ببانگ دہل فرمایا کہ ہم نے پیسہ کھلایا ہے، آپ بھی پیسہ کھلادیں۔ جب بحث و تکرار ہوئی تو فرمایا، آپ ایف آئی آر کٹوا دیں، کچھ بھی کرلیں۔ کچھ بھی کرنے کے لیے تو بندۂ بشر کو انسانیت سے خارج ہونا پڑتا ہے اور باضمیر لوگ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

شرجیل انعام میمن صاحب! کیا اس ظالمانہ رویے سے نجات دلانے کے لیے کوئی حل ہے آپ کے پاس؟ آپ تو صاحب اختیار ہیں۔ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے پتہ بھی نہیں چلتا ہے کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔

آج بھی کئی ماہ گزرنے کے بعد بلاک 13 کی Nکیٹگری کی تیسری گلی میں گٹر کا پانی آرہا ہے یہ بھی ایک سازش ہے۔ منتظر ہوں سازش کو بے نقاب کرنے کون آگے بڑھتا ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔