اُن کے لیے جو ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ سے انسانیت سیکھ رہے ہیں!

محمد عثمان فاروق  جمعرات 23 جولائ 2015
بجرنگی بھائی جان دراصل ’’سلوپوائزانگ‘‘ فلم تھی جس میں دو قومی نظریے سمیت بے شمار پاکستانی نظریات کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

بجرنگی بھائی جان دراصل ’’سلوپوائزانگ‘‘ فلم تھی جس میں دو قومی نظریے سمیت بے شمار پاکستانی نظریات کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

میں یہ بلاگ ان لوگوں کے لیے لکھ رہا ہوں جنہوں نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اُس سے متاثر بھی ہوچکے ہیں یا پھر ہونے والے ہیں۔ کچھ صاحبان فلم دیکھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اس فلم میں کیا برائی ہے؟ یہ فلم تو ’’انسانیت‘‘ سکھاتی ہے۔ تو ایسے دوستوں سے سوال یہ ہے کہ کیا اب ہمارے پاس انسانیت سیکھنے کے لیے فلم ہی رہ گئی ہے اور وہ بھی بھارتی؟

آپ یہ بات تسلیم کریں گے کہ تین گھنٹے کی فلم کسی بھی انسان کے زندگی بھر کے نظریات کو بدلنے یا انکی جڑیں ہلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بجرنگی بھائی جان دراصل ’’سلوپوائزانگ‘‘ فلم تھی جس میں دو قومی نظریے سمیت بے شمار پاکستانی نظریات کی دھجیاں بکھیر کر میٹھے انداز میں زہر پاکستانی عوام کے ذہنوں میں انڈیل دیا گیا۔ ایک طرف ہندوستان کی ایک ایجنڈا فلم پاکستان میں چلائی جارہی تھی تو دوسری طرف پاکستانی فلم ’’بن روئے‘‘ کے خلاف ہندوستان میں مظاہرے ہورہے تھے کہ اِس پر پابندی لگائی جائے حالانکہ بن روئے مکمل طور پر ایک رومانوی فلم تھی۔

کسی بھی ملک کا میڈیا، نیوز چینلز اور ڈرامے اُس ملک کی سوچ، خارجہ پالیسی اور تاریخ کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہندوستان کبھی وہ نظریات اور تاریخ اپنے بچوں کو نہیں پڑھائے گا جو پاکستان میں پڑھائی جاتی ہے اور نہ پاکستان ایسا خطرہ مول لینے کی جرات کرسکتا ہے۔ ایسے میں پھر دشمن ملک چور راستوں سے اپنے نظریات کا پرچار کرنے کی کوشش کرتا ہے مثلاً آپ مسلسل بجرنگی بھائی جان جیسی فلمیں اپنی نوجوان نسل کو دکھاتے رہیں جس سے ان کو یہ تاثر ملتا رہے کہ ہندوستان تو بہت رحم دل اور اچھا ملک ہے اور پھر کل کو جب یہ رحم دل ملک پاکستان پر حملہ کرے گا تو نوجوان نسل تذبذب کا شکار ہوگی کہ اپنی فوج کا ساتھ دے یا رحم دل ہندوستان کا۔

جبکہ ہندوستان کی رحم دلی کا یہ حال ہے کہ اگر کشمیر کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف 1982 سے بھی شروع کروں تو 1984 اور 1982 میں ہندوستان میں سکھوں کا قتل عام کیا گیا، گولڈن ٹیمپل کا واقعہ ہوا اور بے شمار سکھ خاندان ہجرت کرکے پاکستان آباد ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ بجرنگی بھائی جان کے مطابق پاکستان میں کوئی سکھ ہندو نہیں بستا ہے۔ پھر 1987 کا مشہور زمانہ ہاشم پورہ قتل عام جب 45 مسلمانوں کا اجتماعی اینکاؤنٹر کیا گیا تھا۔ اسکے بعد ایودھیا میں 1992 میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، پھر بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ 1998 میں عیسایوں کا قتل عام کیا گیا۔ پھر 2002 میں گجرات میں نریندر مودی نے مسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا اور کہا گیا ہم نے عورتوں اور مردوں سے برابری کا سلوک کیا اور دونوں کو ایک ہی طرح سے لٹکایا اور ایک ہی طرح سے جلایا۔ اسکے علاوہ 2008 میں ہونے والے مشہور زمانہ ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت کے سرکاری افسر بھارتی سپریم کورٹ میں حلف نامے جمع کرواچکے ہیں کہ یہ بھارتی حکومت کا اپنا کام  تھا۔ اور 2008 میں پھر اڑیسہ اور منگلور میں عیسایوں کا قتل عام کیا گیا اور انکے کئی کلیسائوں کو تباہ کیا گیا۔ اس سے قطع نظر اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے جس کے مطابق ہندوستانی فلمیں فحاشی کا مظہر ہوتی ہیں۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی وجہ خود بھارتی فلمیں ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے ملک کی فلمیں اپنے پاکستان میں چلا کر اپنی نوجوان نسل کو یہ سکھائیں گے کہ ہندوستان امن کی فاختہ ہے جبکہ حقیقت میں ہندوستان دنیا میں اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہو۔ شکوہ ان لوگوں سے نہیں ہے جنہوں نے سینما جاکر پیسے خرچ کیے اور پڑوسی ملک کی ایک ’’ایجنڈا‘‘ فلم کو دیکھا بلکہ شکوہ تو ان سے ہے جنہوں نے تمام  قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی۔ میں سوچتا ہوں کہ کشمیر کا وہ عظیم رہنما بوڑھا سید علی گیلانی کیا سوچتا ہوگا جو کہتا ہے کہ

’’ہم نے کبھی دہلی میں چاند دیکھ کر عید نہیں منائی ہم عید تبھی مناتے ہیں جب پاکستان سے چاند دیکھنے کی خبر آتی ہے‘‘۔

میں سوچتا ہوں وہ کشمیری جن کے لاکھوں لوگ شہید ہوئے، خواتین کی عزت پامال ہوئی، جنہوں نے ’’افسپا‘‘ جیسے کالے بھارتی قوانین کے باوجود پاکستان کے جھنڈے لہرائے، جن کے بزرگوں اور بچوں نے بھارتی گولیوں کے سامنے پاکستان کے جھنڈے لہرائے، ہم انکو کیا جواب دیں گے؟

اگر ان باتوں کو بھی ایک طرف رکھیں اور صرف اِتنا سوچ لیں کہ یہ وہی بھارت ہے جس نے ابھی عید کے موقع پر ہی ہمارے 3 پاکستانیوں کو شہید کیا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جس نے پاکستان توڑنے کا اقرار کیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اُسی بھارت سے انسانیت سیکھنے کے درپے ہیں؟ دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ان سینکڑوں ممالک ہر سال ہزاروں فلمیں ریلیز ہوتی ہیں جبکہ اب تو پاکستان خود بھی اچھی اور معیاری فلمیں بنارہا ہے تو پھر ہم صرف بھارت کے پیچھے ہی کیوں پڑے ہیں؟ آپ بھی سوچیں اور میں بھی سوچتا ہوں۔

کیا آپ بلاگر کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

عثمان فاروق

محمد عثمان فاروق

بلاگر قومی اور بین الااقوامی سیاسی اور دفاعی صورت حال پر خاصی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سائنس فکشن انکا پسندیدہ موضوع ہے۔ آپ ان سے فیس بک پر usmanfarooq54 اور ٹوئیٹر پر @usmanfarooq54 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔