با رود کی فصل

رئیس فاطمہ  اتوار 26 جولائ 2015
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نے گندم کی فصل بوئی، لیکن جب فصل پک کر تیار ہوئی تو وہ یہ دیکھ کر سٹپٹا گیا کہ گندم کی جگہ ’’جو‘‘ کی فصل کٹنے کے لیے تیار کھڑی تھی۔

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور دہائی دینے لگا کہ لوگو! یہ کیا ہو گیا؟ میں نے تو گندم بویا تھا۔ تب ایک مردِ سیانا اٹھا اور بولا۔ ’’اے نادان! تُو شاید بھول گیا ہے کہ تُو نے دانۂ گندم نہیں بلکہ جَو کی فصل بوئی تھی یاد کر۔ کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دانہ تو گندم کا بویا جائے اور فصل جَو کی تیار ہو۔‘‘ مرد دانا کی بات سب کے دل کو لگی، کھیت کے مالک نے کہا کہ جو پوٹلی اس نے اپنے ملازم کو دی تھی گندم بونے کے لیے اس میں کچھ دانے شاید بچے پڑے ہوں۔

لہٰذا اس نے گھر جا کر اناج کی کوٹھڑی کھلوائی اور وہ پوٹلی باہر لے آیا۔ جب اس پوٹلی کو کھولا گیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس میں گندم کے بجائے جَو کے دانے تھے۔

اس نے ملازم کو بلوایا اور وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کھیت بونے کے لیے ملازم کو اس نے یہی پوٹلی دی تھی۔ دینے سے پہلے اس کی تصدیق نہیں کی تھی کہ اس میں کیا ہے؟ تب اس مرد دانش مند نے اس سے کہا کہ ’’جَو بو کر گندم کی فصل کی امید رکھنا حماقت ہے جو بوؤ گے وہی کاٹو گے بھی۔‘‘ تب سے یہ کہاوت یوں ہی چلی آ رہی ہے۔ جب برے کرموں کی یا غلط فیصلوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑ جائے تو یہی ضرب المثل یاد آتی ہے۔ اسی مفہوم کی ایک اور کہاوت بھی ہے کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔‘‘

آج گندم اور جَو والی کہاوت شدت سے مجھے یوں یاد آئی کہ اس عید الفطر پر پاکستان میں بچوں نے سب سے زیادہ کھلونا پستول، مشین گن، رپیٹر اور کلاشنکوف جیسے مہلک ہتھیاروں میں لاکھوں روپے لٹا دیے۔ چھرّے والی اور گولیوں والی پستول اس کے علاوہ ہیں۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ بعض بچوں نے اپنی عیدی کا زیادہ تر حصہ لیزر شعاعیں نکلنے والی پستول خریدنے میں بھی ضایع کر دیا۔

ایک اندازے کے مطابق ان آتشیں کھلونوں کی خریداری سب سے زیادہ ہوئی اور تقریباً 5 کروڑ روپے کی آمدنی ان آگ اگلنے والے کھلونوں پر ہوئی۔ تاجروں نے خوب منافع کمایا۔ انتظامیہ خاموش رہی کہ اب ہر معاملے میں ’’خاموشی‘‘ ہی مقدر ہے۔ خواہ اڈیالہ جیل سے تتلی کا اڑنا ہو، کرپشن کے 150 سے زائد بڑی مچھلیوں کے کیس ہوں، حج کرپشن کی کہانیاں ہوں، وزارتوں کی لوٹ سیل ہو یا مذہب کے نام پر کھلی دہشت گردی اور سیاست کا چمکانا ہو۔ سب پر خاموش رہو۔ کہ سچ لکھنے والے ہاتھوں سے قلم چھین لیے گئے۔

زبانوں پہ تالے لگا دیے گئے اور رہ گیا جھوٹ کرپشن اور اسلحے کی خریداری۔ خواہ بچوں ہی نے کی ہو۔ لیکن دلوائے تو والدین نے۔ ان کی بات بھی درست ہے کہ جب میڈیا پُر تشدد فلمیں دکھائے گا، جن میں مشین گنوں، کلاشنکوف اور رپیٹر سے ہیرو ذرا سی دیر میں دشمنوں کا صفایا کر ڈالتا ہے۔

تو وہی ان کا ہیرو ٹھہرا۔ پہلے پنجابی فلموں میں گنڈاسہ اور کلہاڑا ہیرو کے ہتھیار تھے۔ اب ان مقامی ہتھیاروں کی جگہ جدید اسلحے نے لے لی ہے۔ والدین اگر اپنے بچے کو ان مہلک ہتھیاروں کے خریدنے سے منع بھی کرتے ہیں، تو وہ یہ کہہ کر ضد کرتے ہیں کہ فلاں دوست نے بھی تو خریدی ہے۔ پھر میں کیوں نہیں لے سکتا۔ دیکھا دیکھی آتشیں کھلونوں کی فروخت بڑھتی جا رہی ہے۔

اب ذرا یہ سوچیے کہ جو نسل ہتھیاروں کا استعمال کھلونوں کے ذریعے سیکھ رہی ہے۔ وہ بڑے ہو کر اصلی اسلحہ کس آسانی سے چلانا سیکھ لے گی۔

پھر جب یہ بچے بڑے ہو کر گروپ کی شکل میں ایک دوسرے پر چھوٹی موٹی لڑائی میں اس اسلحے کا استعمال کریں گے جن کی ٹریننگ بہت چھوٹی عمر سے انھوں نے لی ہوئی ہے تو صرف محلہ، تعلیمی ادارہ یا شہر میں نہیں، پورا ملک میدان جنگ بن جائے گا اور جب ان نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوں گی اور ماں باپ اپنی اولاد کو قانون کے شکنجے میں دیکھیں گے تو کوئی سیانا مرد دانا تو موجود نہیں ہو گا۔ لیکن شاید یہ کہاوت ضرور انھیں یاد آئے کہ ’’جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ جَو بو کر گندم کاٹنے کی امید محض حماقت ہے۔‘‘

پورا ملک قبضہ مافیا کے نرغے میں ہے۔ کس کاروبار میں کتنا منافع ہے؟ بس یہی آج کا سچ ہے۔ اسی لیے کال گرلز کا کاروبار عروج پر ہے۔ حکومت ’’اگر چاہے‘‘ تو ان آتشیں کھلونوں کی درآمد پہ پابندی لگا سکتی ہے۔ مگر ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ حکومت کے اپنے کارندے اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ نئی نسل تشدد کے ماحول میں پروان چڑھے انھیں کیا۔

ان کی اولادوں کے لیے مغربی ممالک کی جنت موجود ہے۔ اگر اسلحے کی بڑھتی ہوئی خرید و فروخت پہ شروع ہی سے نظر رکھی جاتی تو آج ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کی نوبت ہی نہ آتی۔ ہو سکتا ہے آئندہ کبھی کھلونا پستولوں اور جدید کھلونا مشین گنوں کے تباہ کن اثرات کی بنا پر ایک اور ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کی ضرورت بھی پڑ جائے۔

پھر گھر گھر سے آتشیں کھلونے نکالے جائیں گے اور نذر آتش کیے جائیں گے۔ ہمارے وطن عزیز میں جب تک رائی کا پربت نہ بن جائے اس وقت تک کسی بھی مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ جیسا کہ ہیروئن، افغانی اور کلاشنکوف کلچر، جس نے آہستہ آہستہ سول سوسائٹی کے بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

کیسے اچھے دن تھے وہ جب اپنی اپنی عیدی میں سے لڑکیاں بالیاں، گڑیاں، کھلونے اور جیولری خریدا کرتی تھیں، لڑکے عیدی زیادہ تر کھانے پینے اور بیٹ بال یا ہاکی کی خریداری پہ خرچ کرتے تھے۔ مائیں بچیوں کو عیدی جمع کرنے کی ترغیب دیتی تھیں اور یہ لالچ بھی دیتی تھیں کہ عیدی بچا کر رکھو۔ بعد میں اس عیدی میں کچھ پیسے اور ملا کر وہ انھیں کان کی سونے کی بالیاں وغیرہ بنوا دیں گی۔ نوجوان اپنی اپنی عیدی جمع کر کے کرکٹ کی کِٹ (kit) خریدا کرتے تھے۔

تقریباً دس سال پہلے جب عید کے بعد میں نے اپنے ایک کالم میں ایک بے حد ضرورت مند خاندانی کنبے کا ذکر کیا کہ وہ بہت بڑے عذاب میں گرفتار ہے۔ اور اس خاندان کا پتہ اور فون نمبر بھی دے دیا۔ تو دوپہر میں اس متاثرہ خاتون کا فون آیا اور اس نے روتے ہوئے بتایا کہ گلشن اقبال کے ایک گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے والے لڑکے آئے اور انھوں نے بتایا یہ رقم انھوں نے اپنی نئی kit خریدنے کے لیے جمع کی تھی لیکن اب یہ آپ کے حوالے کر رہے ہیں۔

مجھے ان بچوں پہ بے اختیار پیار آیا کہ کیسے اچھے والدین کی اولاد ہیں وہ جنھوں نے صرف کالم میں حالات پڑھ کر ساری رقم گھر پہنچا دی۔ لیکن اب خود غرضی اور بے حسی نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔ جہاں وہ محروم بچے کسی کو نظر نہیں آتے جو ایک غبارہ یا چاکلیٹ بھی نہیں خرید سکتے۔ غباروں کے دن بھی ہوا ہوئے۔ اب لیزر گنوں کا زمانہ ہے۔ اور سنگدلی ہے۔

کاش کہیں سے کوئی ایسی خبر بھی آتی کہ بچوں نے کہانیوں کی کتابیں خریدیں، رسالے خریدے۔ نہیں شاید ایک بھی نہیں، کیونکہ اس نسل کے ہیرو اب ادیب اور شاعر نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو اسلحے کے بل بوتے پر انتخاب بھی جیتتے ہیں۔ نوکریاں بھی حاصل کرتے ہیں، اغوا برائے تاوان میں بھی ملوث ہیں، کرنسی اسمگلنگ سے لے کر ہر بڑے جرم کے پیچھے یہی اسلحہ بردار ہیں۔ کیونکہ جو طاقت ور ہے اسی کا راج ہے۔ آپ اسلحے اور بدمعاشی سے کسی بھی وزیر کے چہیتے بن سکتے ہیں۔

شرافت میں کیا رکھا ہے؟ بچے جب یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم اور ڈگری کے باوجود وہ در در ٹھوکریں کھا رہے ہیں تو انھیں بھی یہی شارٹ کٹ اچھا لگا کہ دم بھر میں امیر بن جاؤ۔ بس پولیس کی کالی بھیڑوں کو ساتھ ملا لو جن کی تعداد ہر علاقے کے تھانے میں زیادہ ہے تو عیش ہی عیش ہے۔

زیادہ جی دار ہوئے تو پولیس کے اعلیٰ افسران بیٹر (Beater) بھی بنا سکتے ہیں۔ پھر کیا بازار حسن ان کے لیے اپنے دروازے کشادہ کیے ملیں گے کہ یہی ہماری نئی نسل کا مستقبل ہے۔ کتاب کہیں ڈھونڈے سے نہ ملے گی، جو کچھ ہے وہ کسی غیر ملکی میوزیم یا لائبریری کا حصہ بن جائے گا کہ انھیں علم کی ضرورت ہے اور ہمیں اسلحے اور طاقت کی۔ لفظ ہار گئے بارود جیت گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔