بینظیر قتل کیس؛ مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کی تیاریاں نہ ہونے پر عدالت برہم

قیصر شیرازی  منگل 28 جولائ 2015
امریکی گواہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے تیارہے تو اب تک رابطہ کیوں نہیں کیاگیا؟عدالت کا مراسلہ ۔فوٹو: فائل

امریکی گواہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے تیارہے تو اب تک رابطہ کیوں نہیں کیاگیا؟عدالت کا مراسلہ ۔فوٹو: فائل

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبرایک کے جج رائے محمد ایوب خان مارتھ نے بے نظیر بھٹوقتل کیس میں اہم ترین گواہ امریکی صحافی مارک سیگل کے عدالتی حکم کے باوجود وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈکرانے کی تیاریاں مکمل نہ کرنے پر سخت ناراضی کا اظہارکیا ہے اور احتجاجی مراسلہ تحریرکرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

عدالت نے حکم دیاکہ 26 اگست تک تحریری وضاحت پیش کریں کہ اب تک مارک سیگل سے اس بابت سرکاری طور پر رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور بیان ریکارڈ کرنے کی تیاریاں کیوں مکمل نہیں کی گئیں؟

عدالت نے قرار دیاکہ مارک سیگل بیان دینے کے لیے تیار ہیں اور سرکاری پراسیکیوٹرکو خود فون کرکے آگاہ کر دیا ہے تو حکومتی سطح پر اب تک کیوں رابطہ نہیں کیا گیا؟ پیرکو سابق وزیر اعظم کا ڈرائیور جاوید الرحمن عدالت پیش ہوگیاجس پرعدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے اور اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی بھی ختم کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔