بیکری تشدد کیس: وزیراعلیٰ پنجاب کے داماد علی عمران باقاعدہ گرفتار

ویب ڈیسک  بدھ 17 اکتوبر 2012
اس سے قبل شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں نے زندگی بھر قانون کی حکمرانی اور بالادستی کو اپنی جان سے عزیز رکھا ہے۔  فوٹو: ایکسپریس

اس سے قبل شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں نے زندگی بھر قانون کی حکمرانی اور بالادستی کو اپنی جان سے عزیز رکھا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

لاہور: بیکری تشدد کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے داماد علی عمران اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے خود ڈیفنس تھانہ بی پہنچے تھے جہاں انہیں گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

 اس سے قبل شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں نے زندگی بھر قانون کی حکمرانی اور بالادستی کو اپنی جان سے عزیز رکھا ہے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے میں خود کو خدائے بزرگ و برتر اور عوام کےسا منے جوابدہ  ہوں اور میرا ایمان ہے کہ کوئی بھی فرد چاہے اس کا تعلق صوبے کے حکمران سے ہی کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں۔

وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ بیکری ملازم پر تشدد کیس میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو ہر قیمت پر پورا کرتے ہوئے اگر میرا داماد بھی ملوث ہے تو اسے شامل تفتیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں واقع بیکری پر بااثر شخصیات کے اہلخانہ سامان لینے کے لئے پہنچے تو ملازم نے انہیں بتایا کہ بیکری بند ہے۔ بیکری نہ کھولنے پر ان افراد نے ملازم پر شدید تشدد کیا۔

میڈیا پر سی سی ٹی وی فوٹیج نشر ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث ایلیٹ فورس کے اہکاروں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا، جس پر عدالت نے ایلیٹ فورس کے 7 اہلکاروں اور ڈرائیور کو ایک روزقبل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا تاہم آج جوڈیشل مجسٹریٹ سکندر جاوید نے تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے 50،50 ہزار روپے کے مچلکے کے عوض جیل سے رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔