پھر بھی ہم مجرم ہیں (دوسرا حصہ)

جاوید چوہدری  جمعرات 18 اکتوبر 2012
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

آپ ریمنڈ ڈیوس کی مثال لیجیے‘ ریمنڈ ڈیوس نے 27 جنوری 2011ء کو لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو سرِ عام گولی مار دی۔

پنجاب حکومت‘ وفاقی حکومت اور ہمارے خفیہ ادارے اس واقعے کو چھپانا چاہتے تھے لیکن میڈیا نے ریمنڈ ڈیوس کو تین منٹ میں قوم کے سامنے پیش کر دیا‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے وہ کون تھا جو روز آپ کو محمد فہیم کی بیوہ‘ اس کے والدین اور اس کا خاندان دکھاتا تھا اور وہ کون تھا جس نے آپ کو امریکی قونصل خانے کی گاڑی کے نیچے کچلے جانے والے عبادالرحمن کا خاندان دکھایا؟ یقیناً وہ میڈیا تھا اور کیا اس وقت ہم پر پاکستان کے خفیہ اداروں‘ وفاقی اور صوبائی حکومت کا دبائو نہیں تھا؟ اور کیا امریکی حکام نے میڈیا سے رعایت کرنے کی درخواست نہیں کی تھی؟ یہ سب کچھ ہوا لیکن میڈیا اس کے باوجود آپ کو حقائق دکھاتا رہا۔

آپ ریمنڈ ڈیوس کے ایشو پر حکومتوں اور عوام کی صورتحال بھی ملاحظہ کیجیے‘ حکومت ریمنڈ ڈیوس کو جیل میں پیزا فراہم کرتی تھی‘ اسے فائیو اسٹار ہوٹل سے کھانا بھجوایا جاتا تھا‘ وفاقی حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کو لے جانے کے لیے امریکی جہاز کو لاہور ائیرپورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی‘ پنجاب حکومت ڈیل کے دوران خاموش بھی رہی اور پولیس‘ جیل خانہ جات اور پنجاب کی ہوم منسٹری نے ریمنڈ ڈیوس کے ریلیز آرڈر بھی جاری کیے اور ہمارے خفیہ اداروں نے اپنے اکائونٹس سے اپنے شہریوں کا خون بہا بھی ادا کیا‘ ریمنڈ ڈیوس کے جانے کے بعد پورے ملک میں اس واقعے کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں ہوا‘ جنرل حمید گل نے 17 مارچ 2011ء کو اسلام آباد میں مظاہرے کا اعلان کیا۔

اس مظاہرے میں میڈیا موجود تھا لیکن عوام کی طرف سے صرف 14 لوگ شریک ہوئے‘ میڈیا اس سارے معاملے کے دوران آپ کو پل پل کی خبر دیتا رہا مگر شاہ محمود قریشی کے سوا کسی نے کریکٹر کا مظاہرہ نہیں کیا‘ حکومت کی حالت یہ ہے کہ یہ آج تک قونصل خانے سے وہ گاڑی برآمدنہیں کر سکی جس نے عبادالرحمن کو سرِ راہ کچل دیا تھا اور آپ کے جمہوری حکمرانوں نے ریمنڈ ڈیوس کو پاسپورٹ کے بغیر جہاز پر سوار کر دیا تھا لیکن ہم‘ ہمارے مائیک اور ہمارے کیمرے چیختے رہے مگر اس کے باوجود ہم برے بھی ہیں اور یہود ونصاریٰ کے ایجنٹ بھی۔

آپ جنرل پرویز مشرف کے دور کا جائزہ لیجیے‘ ہماری محترمہ بے نظیر بھٹو اور ہمارے محترم میاں نواز شریف اس دور میں کہاں تھے‘ میاں صاحب جنرل پرویز مشرف سے تحریری معاہدہ کرکے جدہ چلے گئے تھے اور انھوں نے 2006ء تک جنرل پرویز مشرف کے خلاف منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا تھا‘ یہ جاوید ہاشمی تک کا فون نہیں سنتے تھے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو لندن اور دوبئی میں بیٹھی تھیں لیکن میڈیا باوردی جرنیل کے سامنے کھڑا تھا‘ میڈیا نے اس وقت بھی رول آف لاء اور جمہوریت کی بات کی جب جمہوریت کے چیمپیئن کلمہ تک بریگیڈیئر نیاز اور طارق عزیز سے پوچھ کر پڑھتے تھے‘ جمہوریت کے ان پہلوانوں نے پاکستان میں اس وقت تک قدم نہیں رکھا جب تک سعودی عرب‘ یو اے ای‘ برطانیہ اور امریکا نے انھیں ضمانت نہیں دے دی اور جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس ضمانت کی تصدیق نہیں کی‘ یہ لوگ اقتدار سے فارغ ہو کر ملک سے باہر چلے گئے تھے اور واپس آ کر دوبارہ مسند اقتدار پر بیٹھ گئے‘ یہ باہر بھی محفوظ تھے اور اندر بھی۔

میڈیا نے میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کواس وقت بھی زندہ رکھا جب ان کے تیس تیس سال کے ساتھی اور بھائی ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور یہ اپنے سائے سے بھی ڈر رہے تھے مگر ہم اس کے باوجود برے بھی ہیں اور یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ بھی۔ آپ بارہ مئی 2007ء کے واقعے کو لے لیجیے وہ کون تھا جو آپ کو ٹی وی پر کراچی میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی دکھا رہا تھا‘ کیا اس وقت اینکرز‘ رپورٹرز اور کیمرہ مینوں پر سیدھی گولیاں نہیں برس رہی تھیں‘ کیا ہم نے آپ کو الزام لگانے والوں کی تقریریں نہیں سنائیں لیکن آج بارہ مئی کے دن ایک دوسرے پر گولیاں برسانے اور خون بہانے والے بھائی بھائی ہیں اور ہم برے بھی ہیں اور یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ بھی۔

آپ اگر حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو پھر سنیے 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے دن جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت رمضان میں ناشتہ فرما رہی تھی لیکن میڈیا آپ کو ملک بھر میں آنے والی تباہی دکھا رہا تھا‘ ہمارے کیمرے اس وقت دیواروں اور چھتوں کے نیچے دبے لوگوں تک پہنچے جب فوج کو بھی اپنی یونٹوں کا علم نہیں تھاہم اس وقت بھی زلزلہ زدہ لوگوں کے ساتھ تھے اور ہم نے پچھلے ہفتے بھی ان لوگوں کی یاد منائی۔ ہمارے صدر جس وقت قوم کو سیلاب میں چھوڑ کرلندن چلے گئے تھے اور وزیراعظم سفید شلوار قمیض اور اطالوی جوتے پہن کر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے اور واپسی پر ان کے جوتوں کے تلوے تک گیلے نہیں ہوتے تھے اور یہ جب جعلی میڈیکل کیمپس میں تصویریں بنوا کر واپس چلے جاتے تھے ہم لوگ اس وقت عوام کے ساتھ پانی میں کھڑے تھے۔

ہماری ڈی ایس این جی‘ ہمارے رپورٹر اور ہمارے اینکرز اس وقت کیمپوں میں کھڑے ہوتے تھے‘ ہم نے عیدیں تک پانی میں گزاریں اور میں یہ بھی دعوے سے کہتا ہوں ہم لوگ اگر آج سیلاب کی کوریج بند کر دیں تو حکومت جعلی کیمپوں تک کا دورہ نہ کرے! کیا ہم نے قوم کو2011ء میں کراچی میں گرنے والی بارہ سو نعشیں نہیں دکھائیں‘ کیا ہم قوم کو کٹی پہاڑی اور اورنگی ٹائون تک نہیں لے کر گئے‘ کیا ہم نے آپ کے سامنے میمو اسکینڈل نہیں رکھا‘ کیاآپ کو حج اسکینڈل نہیں بتایا‘ کیا آپ کو ایفی ڈرین کیس میڈیا کے ذریعے معلوم نہیں ہوا‘ کیا ہم آپ کو گلگت ‘ بلتستان اور بلوچستان میں شیعہ کمیونٹی کے مرنے والوں کی نعشیں نہیں دکھا رہے‘ کیا ہم نے ہر بم دھماکے‘ ہر خودکش حملے اور مناواں والا سے لے کر جی ایچ کیو‘ مہران بیس اور کامرہ ائیر بیس پر حملے کی لائیو فوٹیج نہیں دکھائی‘ مقامی آبادی جب گھروں میں پناہ لے لیتی ہے کیا آپ کو اس وقت ہمارے رپورٹر‘ ہمارے کیمرہ مین گولیوں کی باڑ میں تن تنہا دکھائی نہیں دیتے۔

کیا ہم آپ کو بلوچستان اور سندھ میں لگی ہوئی آگ نہیں دکھا رہے‘ کیا ہم نے آپ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے 3500 فوجی اور ان کے اہل خانہ نہیں دکھائے‘ کیا ہم نے آپ کو کراچی میں جل کر مرنے والے تین سو فیکٹری ورکرز کی چیخیں نہیں سنائیں‘ کیا ہم نے جعلی ڈگریوں والے ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز آپ کے سامنے پیش نہیں کیے‘ کیا ہم نے ارکان پارلیمنٹ کی دوہری شہریت کا ایشو نہیں اٹھایا اور کیا ہم نے 10 اکتوبر 2012ء تک سوئس اکائونٹس اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات آپ کے سامنے پیش نہیں کیے اور کیا ہم نے آپ کو وحیدہ شاہ کا تھپڑ‘ ایم پی اے اسلم مڈھیانہ کے ہاتھوں اسکول ٹیچر کی تذلیل‘ شمائلہ رانا کی چوری‘ ایم این اے حاجی پرویز خان کا جعلی امتحان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صاحبزادی کے گارڈز اور ایلیٹ فورس کے ہاتھوں بیکری ملازم پر تشدد نہیں دکھایا اور پیچھے رہ گئی ملالہ تو کیا یہ سچ نہیں!

سوات میں جب بچیوں کے اسکول گرائے جا رہے تھے تو ملالہ علاقے کی واحد بچی نہیں تھی جس نے اپنے حق کے لیے آواز لگائی‘ کیا یہ حقیقت نہیں جس وقت فوج‘ وفاقی حکومت اور غیرت مند پختون حکومت سوات کا تماشا دیکھ رہی تھی ملالہ اس وقت دنیا کو علاقے کی بچیوں پر ہونے والا ظلم سنارہی تھی‘ ہم نے اس وقت اس بچی کا ساتھ دیا کیونکہ اس وقت کوئی دوسرا بولنے کے لیے تیار نہیں تھا اور یہ بچی جب 9 اکتوبر 2012ء کو زخمی ہوئی تو ہم ایک بار پھر اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے‘ ہم نے ملالہ کا کیس اس وقت آپ کی عدالت میں پیش کیا جب ملالہ کا والد سیدو شریف کے ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور کوئی اس کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا‘

کیا یہ کسی جاگیردار‘ کسی سرمایہ دار یا کسی سیاستدان کی بچی ہے؟ کیا اس کا والد لوئر مڈل کلاس سے تعلق نہیں رکھتا؟ اور اگر ہم اس وقت اس بچی کا ساتھ نہ دیتے تو کیا یہ اب تک اسپتال کے کوریڈورز میں نہ مر چکی ہوتی‘ یہ حقیقت ہے اس کا والد اسے کبھی پشاور‘ اسلام آباد اور لندن نہ لے جا سکتا چنانچہ کیا ہم نے غلط کیا؟ اگر میڈیا کی وجہ سے ایک غریب اور معصوم بچی کی جان بچ گئی تو کیا یہ غلط تھا؟ اور کیا ہم کائنات اور شازیہ کو بھول گئے‘ کیا میڈیا کے شور کی وجہ سے حکومت ان دونوں بچیوں کا نوٹس لینے پر مجبور نہیں ہوئی اور کیا آج حکومت ان کا علاج بھی مفت نہیں کروا رہی اور کیا یہ اب ان کی تعلیم کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور کیا میڈیا نے پوری قوم کو‘ پوری پارلیمنٹ کو ایک معصوم اور غریب بچی کے سرہانے کھڑا کر کے غلط کیا؟

کیا یہ حقیقت نہیں یہ واقعہ اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف یا آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ پیش آتا تو ان کے لیے ائیر ایمبولینس نہ آتی اور ان کا علاج کوئین الزبتھ اسپتال میں نہ ہوتا؟ اگر ہاں تو پھر ہم نے حکومت کو ملالہ کے لیے ائیر ایمبولینس منگوانے اور اس کا برطانیہ میں مفت علاج کرانے پر مجبور کر کے کیا غلطی کی؟ کیا میڈیا پر صرف آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی بیٹیوں کا حق ہے؟ کیا میڈیا غریب ہونے یا سوات کا شہری ہونے کی وجہ سے ملالہ‘ شازیہ اور کائنات کو کوریج نہ دیتا؟ کیا آپ کا انصاف یہ کہتا ہے؟ اگر نہیں توکیا اس کے باوجود ہم برے بھی ہیں اور یہودو نصاریٰ کے ایجنٹ بھی! کیا ہم اس کے باوجود گالی کے حق دار ہیں؟

(جاری ہے)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔