ایشیائی ممالک کا باہمی تعاون، امید کے دیے روشن

ایڈیٹوریل  جمعرات 18 اکتوبر 2012
 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ایشیا بے شمار مواقعے کا حامل وسیع براعظم ہے اور ایشیا کے مجموعی مفاد کے لیے ایشیائی ممالک کو ہر شعبے میں تعاون کرنا ہوگا۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ایشیا بے شمار مواقعے کا حامل وسیع براعظم ہے اور ایشیا کے مجموعی مفاد کے لیے ایشیائی ممالک کو ہر شعبے میں تعاون کرنا ہوگا۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

دنیا میں براعظم ایشیا کی معاشی واقتصادی اہمیت و افادیت سے قطعاً انکار ممکن نہیں ہے۔

ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت کے میدان میں باہمی تعاون کے باعث عوام کے لیے ترقی وخوشحالی کا نیا سفر شروع ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ اسی حوالے سے کویت میں ایشیائی تعاون مذاکرات کا سربراہ اجلاس انتہائی اہم ہے۔اس ایشیائی فورم میں افغانستان کی شمولیت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے ۔ افتتاحی سیشن کے دوران برونائی کے سلطان اور سری لنکا کے صدر نے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ اس موقعے پر کویت کے امیر شیخ صباح الحمد الجابر الصباح نے غیر عرب ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کے لیے 2 ارب ڈالر مالیت کا فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی ہے اور اس فنڈ کے لیے 300 ملین ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس اہم ترین اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ایشیا بے شمار مواقعے کا حامل وسیع براعظم ہے اور ایشیا کے مجموعی مفاد کے لیے ایشیائی ممالک کو ہر شعبے میں تعاون کرنا ہوگا۔ ایشیائی ممالک بے پناہ مالی و قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، جن کے بہتر انداز میں استعمال سے خطے کے غریب ممالک کے لیے ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔قابل احترام وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خیالات عالمی تناظر میں درست سمت میں رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ایشیائی ممالک، ترقی یافتہ ممالک کی تیارکردہ مصنوعات کی منافع بخش منڈی ہیں ۔ یورپی اقوام اپنے دیرینہ تنازعات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوچکے ہیں اور تجارت کے میدان میں ترقی کی شاہراہوں پرگامزن ہیں۔ اسی رول ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے ایشیائی ممالک کو بھی اپنے تنازعات ختم کر کے مستقل بنیادوں پر پائیدار امن وتجارت کے معاہدے کرنے ہونگے ۔

وزیراعظم کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ ’’غربت و بھوک ایشیائی ممالک کو درپیش مسائل میں سرفہرست ہے۔‘‘ ایشیا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا براعظم ہونے کے باعث متعدد معاشی مسائل کا شکار ہے اورآبادی میں بے پناہ اضافہ بھی پاکستان سمیت خطے کے دیگرممالک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس کے پائیدار اور مستقل حل کے لیے آبادی میں اضافے کی رو ک تھام کے لیے موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ تجارت کے میدان میں پاکستان ایشیائی ممالک کے درمیان رابطہ کا کام بہتر انداز میں سرانجام دینے کے قابل ہے اور محل وقوع کی اہمیت نے بھی پاکستان کی قدر و قیمت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ پاکستان خطے کے اہم ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت کے ذریعے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ملکی معیشت اپنے پائوں پر دوبارہ کھڑی ہوسکے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کراچی میں آیندہ ماہ بھارت کی پہلی آفیشل تجارتی نمائش کا انعقاد ہے ۔

بھارتی وفد کے سربراہ نے کراچی آمد پر بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود کا تبادلہ باہمی تجارت میں نمایاں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔ آیندہ 3 سال میں باآسانی باہمی تجارت کاحجم 2ارب ڈالر سے بڑھا کر6ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ مسرت آمیز خبر اور اعدادوشمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آیندہ آنے والے دن روشن مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف عالمی اتحاد کا پاکستان اہم ترین رکن ملک ہے ۔ اسی حوالے سے امریکی قونصل جنرل مائیکل نے کراچی چیمبرآف کامرس میں تاجروں وصنعتکاروں سے دوران خطاب کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی امریکا کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور باہمی تعاون کا ہدف توانائی،تعلیمی ترقی اورکاروباری شعبہ جات ہیں ۔

یہ امر انتہائی حوصلہ افزاء ہے کہ بہت جلد امریکا اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کے ایک نئے معاہدے پر دستخط متوقع ہیں ۔محل وقوع کے اعتبار سے کراچی کی تجارتی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں کیونکہ کراچی کو افغانستان اور وسط ایشیا کے درمیان تجارتی راہ داری کی حیثیت حاصل ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور تجارتی معاہدوں پرعملدرآمد سے پاکستان کی ساکھ ایشیا کی تجارت میں قائم ہوسکتی ہے ۔ امیدوں کے روشن دیے اس بات کی نوید سنا رہے ہیں کہ آنے والا کل سہانا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔