ملک میں دہشتگردی طالبان نہیں پرویزمشرف لائے،فضل الرحمن

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 18 اکتوبر 2012
مفتی محمود سیمینار سے غفورحیدری، این ڈی خان اور دیگر کا بھی خطاب۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مفتی محمود سیمینار سے غفورحیدری، این ڈی خان اور دیگر کا بھی خطاب۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

کراچی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی طالبان نہیں بلکہ پرویز مشرف لاثے ہم ملک میں جنگ نہیں چاہتے ہم جنگ کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے حکمران ملک دشمن اقدامات سے باز آجائیں ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو مقامی ہوٹل میں مفتی محمود اکیڈمی کے زیر اہتمام افکار محمود سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار سے مولانا عبدالغفور حیدری، پروفیسراین ڈی خان، ڈاکٹرخالد محمود سومرو، قاری شیرافضل، قاری محمد عثمان، محمد فاروق قریشی، اکرم القادری، اکبرشاہ ہاشمی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ملک میں عورت کی حکمرانی نہیں چاہتے بینظیربھٹو کی حکمرانی کو قبول نہیں کیا تھا برداشت کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میڈیا اور ادارے یکطرفہ موقف پیش کرنے کے بجائے تمام طبقوں کے موقف کو پیش کریں، ملالہ کے معاملے میں میڈیا اور این جی اوز نے جس بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کیا اب اس کے نتائج الٹ سامنے نظر آرہے ہیں اگر دوسرے فریق کے موقف کو بھی سنا جائے تو ان کے دلائل کو کوئی رد نہیں کرسکے گا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر این ڈی خان نے کہا کہ 1973ء میں مفتی محمود نہ ہوتے تو پاکستان کا وفاقی اسلامی دستور نہیں بن سکتا تھا۔ سیمینار سے اکرام القادری، اکبر شاہ ہاشمی، نذیر لغاری، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا محمد شفیع شاہد چترالی، پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین ثانی، ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری، ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈاکٹر محمد شکیل اوج، ڈاکٹر عبدالحکیم اکبری اور دیگر نے مقالے پیش کیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔