مصلح قوم سرسید احمد خان کا 195 واں یوم پیدائش

ایڈیٹوریل  جمعرات 18 اکتوبر 2012
سرسید نے جس وقت تعلیمی مشن کا آغاز کیا اس وقت مسلمان انگریزی اور جدید علوم سے ناواقف تھے. فوٹو: فائل

سرسید نے جس وقت تعلیمی مشن کا آغاز کیا اس وقت مسلمان انگریزی اور جدید علوم سے ناواقف تھے. فوٹو: فائل

سرسید احمد خان ایک تاریخ ساز شخصیت تھے، آپ نے مسلمانان ہند کو جدید تعلیم سے روشناس کرایا۔

گزشتہ روز سرسید احمد خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کا 195 واں یوم پیدائش علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منایا گیا جس میں مقررین نے برصغیر کے عظیم مفکر، مصلح اور ماہر تعلیم سرسید احمد خان کی شخصیت اور ان کی طرف سے اس خطے میں تعلیم کے فروغ کے لیے چلائی جانے والی تحریک پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو پیدا ہوئے ۔ سرسید نے جس وقت تعلیمی مشن کا آغاز کیا اس وقت مسلمان انگریزی اور جدید علوم سے ناواقف تھے، اس لیے آپ نے ملک کے مختلف حصوں میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی۔

سرسید برصغیر میں مسلم نشاۃ ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ ان کے نظام فکر میں سائنس کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، انھوں نے مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم سے روشناس کرانے اور ان میں حصول علم کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے جو تحریک چلائی اسے بے حد پذیرائی ملی۔ سرسید احمد خان نے قوم کی اصلاح کرکے برصغیر کے مسلمانوں پر ایک احسان عظیم کیا، درحقیقت سرسید کی تحریک علیگڑھ ہی تشکیل پاکستان کا ذریعہ بنی۔

مسلمانوں کو جدید تعلیم سے بہرہ مند دیکھنا سرسید کی اولین خواہش تھی اس لیے انھیں خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ پوری قوم کے نوجوان اپنی تمام تر توجہ حصول تعلیم پر مرکوز کریں کیونکہ تعلیم ہی ترقی کی کنجی ہے۔ سرسید کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لیے ریاستی سطح پر ایسا نظام تعلیم رائج کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہمارے طلبا کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوسکیں اور ہر طالب علم کو اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق اپنے جوہر پنہاں کی تربیت کے مواقع میسر ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔