پھر بھی ہم مجرم ہیں (تیسرا حصہ)

جاوید چوہدری  جمعرات 18 اکتوبر 2012
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میڈیا پر ایک اوراعتراض بھی کیا جاتا ہے‘ آپ کہتے ہیں صحافی یہ تمام خدمات مفت انجام نہیں دیتے ‘ یہ معاوضہ لیتے ہیں۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر کیا ہم سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں؟‘ کیا ہم عوامی پیسہ لوٹ رہے ہیں یا پھر عوام ہر مہینے چندہ کر کے ہمیں تنخواہ دیتے ہیں؟ ہم پرائیویٹ ملازم ہیں اور صحافت بھی ہزاروں دوسرے شعبوں کی طرح ایک پروفیشن ہے لیکن اگرآپ اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں ہمیں اپنی خدمات کا معاوضہ نہیں لینا چاہیے تو ٹھیک ہے‘ ہم نہیں لیتے مگر پھر ہمارے ساتھ ساتھ ان لوگوں کوبھی قربانی دینی چاہیے جو قرآن مجید پڑھانے‘ اذان دینے اور نماز پڑھانے کا معاوضہ لیتے ہیں‘دنیا میں ڈاکٹر شفا دینے کی فیس وصول کرتے ہیں‘ جج انصاف دینے‘ وکیل مظلوم کی وکالت کرنے‘ فوجی رائفل اٹھانے‘ استاد علم دینے‘ سرکاری ملازم سرکاری وقت ضایع کرنے حتیٰ کہ سیاستدان قومی مفاد کے نام پر قومی حمیت کو پائوں میں روندنے تک کا معاوضہ لیتے ہیں ‘

کیا یہ تمام پیشے صحافت سے زیادہ مقدس ہیں؟ اگر ہیں تو پھر آپ ان پر اعتراض کیوں نہیں کرتے ؟ آپ سیاستدان‘ سرکاری ملازمین‘ وکلاء‘ جج‘ استاد اور امام مسجد سے کیوں نہیں پوچھتے آپ معاوضہ کیوں لیتے ہیں؟ آپ یہ دلیل بھی چھوڑ دیجیے‘ آپ بتائیے ‘ کیا ہم کوالی فائیڈ لوگ نہیں ہیں؟ کیا ہم میں اکثریت پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے نہیں آئی اور کیا ہم روزانہ علم حاصل نہیں کرتے‘ یہ ملک جس میں پروفیسر‘ سیاستدان‘ بیوروکریٹس اور علماء کی اکثریت کتاب نہیں پڑھتی ہم اس ملک میں اپنے بجٹ اور وقت کا ایک بڑا حصہ کتابوں پر خرچ کرتے ہیں مگر آپ اس کو بھی جانے دیجیے ‘

آپ پاکستان کے صف اول کے صحافیوں کا ڈیٹا نکال لیجیے‘ آپ کو ان میں سے کوئی شخص ٹپکا ہوا نہیں ملے گا‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی فٹ پاتھ سے شروع کی‘ جو فرش پر اخبار بچھا کر سوتے تھے اور ایک چمچ چینی کھا کر دوبارہ کام پر چلے جاتے تھے‘ پاکستان میں چالیس سال سے اوپر تمام صحافیوں نے پندرہ پندرہ سو روپے ماہانہ پر کام شروع کیا اور یہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کر کے اس لیول تک پہنچے‘ ہم میں سے کسی شخص نے فیملی لائف نہیں گزاری‘ ہمارے بچے کب بڑے ہوئے‘ یہ بیچارے کس طرح اسکول جاتے رہے اور انھیں کس کس جائز ضرورت کے لیے کتنا کتناانتظار کرنا پڑا‘ آپ تصور نہیں کر سکتے مگر آپ اس کو بھی جانے دیجیے ‘ پاکستان میں سیاستدان اپنے بیٹے کو سیاستدان ‘ ڈاکٹر اپنے بیٹے کو ڈاکٹر‘ بیوروکریٹ بیوروکریٹ اور فوجی اپنے ولی عہد کو فوجی بنانا چاہتا ہے لیکن پاکستان میں کسی بڑے صحافی کا بیٹا صحافی نہیں بنتا؟ کیوں؟

اس کی وجہ اس شعبے کے دکھ ہیں‘ ہم وہ بدنصیب لوگ ہیں قدرت جن کا رزق ڈائنوسارس کے پنجروں میں اگاتی ہے اور ہم روزانہ ڈائنوسارس کے کھروں پر گدگدی کر کے ان کے پائوں سے اپنا رزق نکالتے ہیں‘ ہم جانتے ہیں یہ پیشہ کتنا مشکل‘ پرخطر اور بے آرام ہے چنانچہ کوئی صحافی اپنے بچوں کو صحافی نہیں بنانا چاہتا‘ یہ اسے اس پروفیشن میںنہیں لانا چاہتا جس میں گولی سے بچ جائیں تو گالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم برے بھی ہیں اور یہودو نصاریٰ کے ایجنٹ بھی ۔

ہم پر یہ الزام بھی لگتا ہے اینکرز لاکھوں روپے معاوضہ لیتے ہیں ‘ یہ الزام بھی درست ہے لیکن آپ نے کبھی سوچا لاکھوں روپے معاوضہ لینے والے لوگ کتنے ہیں! پانچ‘ سات یا دس۔ پاکستان میں اس وقت چھوٹے بڑے تین لاکھ صحافی ہیں‘ تین لاکھ صحافیوںمیں سے اگر65 سال کی صحافتی تاریخ میں پہلی بار دس لوگ اتنے معاوضے تک چلے گئے ہیں تو کیایہ انتہائی پست شرح نہیں؟۔اس ملک جس میں تین سو جرنیل ‘ دو سو سیکریٹری اور سو حکمران ہیں اور جس میں قلفیاں بیچنے والے چٹے ان پڑھ ان اینکرز سے زیادہ پیسے کمارہے ہیں ‘ ان میں دس لوگ زیادہ ہیں؟ اور آپ ہمیشہ ان دس لوگوں کو میڈیا بھی سمجھتے ہیں۔

یہ دس لوگ میڈیا نہیںہیں‘ میڈیاوہ دو لاکھ ننانوے ہزار نو سو نوے لوگ ہیں جن کے بارے میں آج تک اس معاشرے کے کسی شخص نے نہیں سوچا ‘ آپ نے کبھی سوچا! صحافت پاکستان کا واحد پیشہ ہے جس میں کوئی پنشن‘ کوئی بعداز مرگ مراعات نہیں‘ ہم بیمار ہو جائیں‘ ہم مر جائیں اور ہمیں کسی بھی وقت نوکری سے نکال دیا جائے ‘ ہماری پرواہ کوئی نہیں کرتا ‘ اس ملک میں کوئی عدالت ہمارا کیس تک نہیں سنتی اور پاکستان دنیا میں صحافیوں کے لیے تیسراخطرناک ترین ملک ہے‘ دس سال میں ہمارے 85 صحافی بھائی ڈیوٹی کے دوران مارے گئے اور سیاستدانوں سے لے کر عوام تک کسی نے ان کا جنازہ تک نہیں پڑھا‘ آج ان صحافیوں کے بچے کس حال میں ہیں یاان کی بیوائیں کیا کر رہی ہیں‘ کیا 18کروڑ لوگوں کے اس ملک میں کسی نے سوچا؟ اس ملک میں فوجی اور سپاہی ڈیوٹی کے دوران مارا جائے تو اس کے بچوں کو جاب بھی ملتی ہے‘ اس کی بیوہ کو پنشن بھی اور مکان بھی۔

ملک میں سرکاری ملازمین کے لیے میڈیکل اور تعلیم فری ہوتی ہے لیکن پاکستان کے نوے فیصد صحافیوں کو یہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں اور باقی دس فیصد بھی یہ سہولتیں اپنی جیب سے خریدتے ہیں مگر آپ اس کو بھی جانے دیجیے ‘ آپ یہ بھی ملاحظہ کیجیے ‘ہم لوگ ہر مرنے والے کے لیے موم بتیاں بھی جلاتے ہیں اور موم بتیاں جلانے والوں کی کوریج بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے لیے اس ملک میں کوئی موم بتی نہیں جلتی‘ ہماری قبروں پر کوئی فاتحہ پڑھنے نہیں آتا‘ عوام کی مہربانی کا یہ عالم ہے ارشاد احمد حقانی ملک کے سب سے بڑے کالم نگار تھے‘ حقانی صاحب چالیس سال تک عوام کو انفارمیشن اور نالج دیتے رہے‘ یہ24جنوری 2010ء کو وفات پا گئے اور عوام انھیں چالیس گھنٹے میں بھول گئے ‘آج آپ میں سے کتنے لوگوں کو ارشاد احمد حقانی کا نام یاد ہے۔

آپ حمید اختر صاحب‘ احمد بشیر اور وارث میر صاحب کو بھی بھول گئے ہیں‘ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پوری زندگی آپ کی سچ تک رہنمائی کی ۔آپ لوگ ان کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں تو وہ بیچارے جو پوری زندگی سانپوں کے بل میں ہاتھ ڈال کر خبریں نکالتے اور آپ تک پہنچاتے ہیں اور کسی روز چپ چاپ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور آپ کوان کا نام تک معلوم نہیں ہوتا‘ آپ کا ان کے بارے میں کیا رویہ ہو گا! کیا آپ سلیم شہزاد کو جانتے ہیں؟ کیا آپ کو حیات اللہ اور چشتی مجاہد یاد ہیں ؟ آپ اس کو بھی جانے دیجیے ‘ آپ ایک اور حقیقت ملاحظہ کیجیے ‘ یہ پاکستان کی واحد فیلڈ ہے جس میں ایلیٹ کلاس کا کوئی بچہ نہیں آتا‘ پاکستان کی خوشحال کلاس اپنے بچوں کو بیوروکریسی‘ فوج‘ سیاست اور بزنس میں بھجواتی ہے‘

یہ لوگ اپنے بچوں کو ڈاکٹر‘ انجینئر‘ آرکی ٹیکٹ حتیٰ کہ مولوی بنا لیں گے لیکن یہ انہیںصحافی نہیں بنائیں گے ‘ کیوں؟کیونکہ یہ لوگ اس پیشے کی سختیوں اور مجبوریوں سے واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں پاکستان میں صحافی کی عمرتمام شعبوں سے کم ہوتی ہے چنانچہ صحافت ملک کا واحد پیشہ ہے جس میں مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ آتے ہیں۔ آپ نے زندگی میں سیلف میڈ کا صرف لفظ سنا ہوگا‘ آپ نے اگراسے کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہے توآپ اس ملک کے ان صحافیوں کو دیکھئے جنھیں آپ برا بھی کہتے ہیں‘ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ بھی ‘ منافق بھی‘ بکے ہوئے بھی اور بے شرم بھی۔ لیکن یہ اس کے باوجود آگ میں ہاتھ ڈال کر آپ کے لیے خبر لے کر آتے ہیں۔ شرم تو ان لوگوں کو آنی چاہیے جو اس وقت چھینک نہیں مارتے جب تک ان کے سامنے مائیک اور کیمرے نہیں لگ جاتے یا پھر ان لوگوں کو آنی چاہیے جو بجلی بند ہونے یا گیس نہ آنے پر بھی ٹی وی چینل میں فون کر دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی میڈیا کو برا بھی کہتے ہیں اور یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ بھی۔ اگر ہم ایجنٹ ہیں تو پھر اس ملک میں کوئی پاک باز نہیں اور اگر میڈیا کے لوگوں کا رزق حرام ہے تو پھر اس ملک میں کسی شخص کو رزق حلال کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

آپ لوگ کہتے ہیں میڈیا کا احتساب کون کرے گا؟ بھائی اگراس ملک میں کسی کا احتساب ہو رہا ہے تو وہ صرف اور صرف میڈیا ہے‘ ہمارا احتساب تو ریمورٹ کنٹرول کے بٹن اور ہاکر کو ایک ٹیلی کال سے ہوجاتا ہے‘ ہمارا کل اثاثہ کریڈیبلٹی ہوتی ہے ہم جس دن کریڈیبلٹی کھو بیٹھتے ہیں‘ ہم اسی دن اس فیلڈ سے فارغ ہو جاتے ہیں‘ اس ملک میں کرپٹ بیوروکریٹ کو زیادہ سے زیادہ کیاسزا ملتی ہے؟اسے او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے‘ معطل افسر کو چند ہفتے بعد نئی پوسٹنگ مل جاتی ہے‘ جعلی ڈگری والے دوبارہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچ جاتے ہیں‘ دوہری شہریت کے ارکان کے لیے قانون بدل جاتا ہے‘ طیارہ سازش کیس میں سزا یافتہ میاں نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آ جاتے ہیں‘ کرپشن کیسز میں جیل میں بند آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن جاتے ہیں اور حد تو یہ کہ معاشرہ میچ فکسنگ میں سزا پانے والے کرکٹرز تک کو بھی معاف کر دیتا ہے لیکن صحافی ‘یہ اگر ایک بار اپنے مقام سے گر جائے‘ یہ اگر ایک بار اپنی کریڈیبلٹی کھو بیٹھے تو اسے کوئی معاف نہیں کرتا۔ اس ملک میں ایک مسجد سے نکالے ہوئے مولوی کو دوسری مسجد مل جاتی ہے لیکن کریڈیبلٹی کی دوڑ سے نکلے صحافی کو دوبارہ نوکری نہیں ملتی۔

ہم صحافیوں میں بھی احتساب کی کڑی ویلیوز موجود ہیں‘ ہم لوگ ’’کریڈیبلٹی لوز‘‘ کرنے والے لوگوں میں نہیں بیٹھتے‘ آپ دیکھ لیجیے کیا پاکستان کے کسی بڑے صحافی نے کبھی کریڈیبلٹی لوز کرنے والے کسی صحافی کا ساتھ دیا؟‘ یہاں اس ملک میں چوہدری شجاعت حسین بے نظیر بھٹو کو عدالتی فیصلوں سے بچانے کے لیے ملک سے باہر بھجوا دیتے ہیں اور میاں نواز شریف اپنے والد کو دفتر سے کرسی سمیت اٹھوانے والے رحمان ملک کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور جنرل پرویز مشرف ’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ کے نعرے لگانے کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میز پر بیٹھ جاتے ہیں لیکن کوئی صحافی ایک بار‘ جی ہاں ایک بار کسی سیاسی جماعت کی جیب میں چلا جائے تو دوسرے صحافی اس کے ساتھ نہیں بیٹھتے ‘ یہ اس کی سپورٹ نہیں کرتے لیکن ہم اس کے باوجود برے بھی ہیں اور یہودو نصاریٰ کے ایجنٹ بھی۔ خدا خوفی کریں‘ کچھ تو رحم کریں‘ گالی دینے سے پہلے ایک بار‘ہاں ایک بار تو ہمیں بھی انسان سمجھ لیں‘ ایک بار تو یہ سوچ لیں آج اگر یہ آزاد میڈیا نہ ہو تو معاشرہ دو دن میں1971ء میں واپس چلا جائے جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا لیکن ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پر فتح کے ترانے بج رہے تھے‘ کیا آپ ایک ایسا ملک چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔