دہشت گردی کے خاتمے کیلئے امن اوررواداری کو فروغ دینا ہوگا

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  جمعـء 21 اگست 2015
 حکومتی، مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیات کی ’’ ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو ۔  فوٹو : ظہور الحق

حکومتی، مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیات کی ’’ ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو ۔ فوٹو : ظہور الحق

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا شکار ہمارے سیاستدان، وزراء، عام عوام، بچے، بڑے اور عبادت گاہیں ہو رہی ہیں۔ گو کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، تاہم دہشت گردی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہو سکی۔

گزشتہ دنوں اٹک میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ سمیت 19 افراد شہید ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد پوری قوم سوگ میں ڈوب گئی جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی آگئی ہے۔

حکومت، سیاسی جماعتیں ، افواج پاکستان اور پوری قوم جہاں دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں وہیں معاشرے میں امن اور رواداری کے فروغ کیلئے کوششیں بھی کی جارہی ہیں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ اسی حوالے سے ادارہ ایکسپریس نے ’’امن اور رواداری کا فروغ کیسے ممکن؟‘‘ کے موضوع پر فورم کا انعقاد کیا جس میں حکومتی، مذہبی سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

خلیل طاہر سندھو
(صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب)

میں ان حالات سے مایوس نہیں ہوں کیونکہ اب لوگ ہر معاملے پر آواز اٹھانا شروع ہوگئے ہیں ۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے بارے میں بات بھی کر رہے ہیں اور ان کیخلاف کارروائی بھی ہو رہی ہے۔

دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اور اس کے پیچھے غیر ملکی سازشیں کارفرما ہیں۔ یہ سب کے سامنے ہے کہ گزشتہ دنوں دو عرب ممالک کی جنگ کروائی جارہی تھی اوران میں سے ایک ملک کو اسرائیل جبکہ دوسرے کو امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ دہشت گردی کا پس منظر دیکھیں تو 9/11کے بعد سے پورا منظر نامہ ہی تبدیل ہوگیا اور اب دہشت گردی ہماری جنگ بن چکی ہے ۔

ہمارے بچے ،ہمارے لوگ اور ہماری عبادتگاہیں شہید ہورہی ہیں مگر افسوس ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگ ’’را‘‘ کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ دین بیر نہیں سکھاتا بلکہ امن کی بات کرتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے لہٰذا اب ہم سب کوبرداشت کا رویہ اپنا کر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ایک پیج پر آنا ہوگا اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

میرے نزدیک تمام سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی اور عوام کو امن کے مسئلے پر فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہوگا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔حکومت نے رواداری کے فروغ اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے قانون سازی بھی کی اور اس کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ ہم 36اضلاع میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔

مساجد کی رجسٹریشن ، لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کو ممنوع قرار دینے کے ساتھ ساتھ  نصاب سے بھی نفر ت آمیز مواد نکال دیا گیا ہے تاکہ امن اور رواداری کو فروغ مل سکے۔ ہمیں ان حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قوموں پر مشکلات آتی رہتی ہیں لیکن جو قومیں متحد ہوتی ہیں وہ جنگ جیت جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں لوگوں کومتحد کرکے انہیںامید دلانا ہوگی اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنا ہوگا۔

ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے، ہم ان کیلئے تعلیم اورروزگارکے نئے مواقع پیدا کررہے ہیں اور ان کی بھرتیاں بھی میرٹ پر کی جارہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیمی نظام سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے ،ہم طبقاتی نظام تعلیم کے خلاف ہیں اور اس کے خاتمے کیلئے کام کررہے ہیں۔ میرے نزدیک اس وقت ہم سب کو یکجان ہوکر ’’پاکستان بچاؤ‘‘ پالیسی اپنانا ہوگی کیونکہ پاکستان محفوظ ہوگا تو ہم سب محفوظ ہیں اور اس کی ترقی میں ہی ہماری بقاء ہے۔

مولانا طاہر محمود اشرفی
( چیئرمین پاکستان علماء کونسل )
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اسباب دینی یا مذہبی نہیں بلکہ دین کا نام استعمال کیا گیا ہے۔ آج سے بیس سال قبل تک کوئی کسی کو مذہب کے نام پر قتل نہیں کرتا تھا لہٰذا جب سبب دینی نہیں ہے تو اس کا علاج بھی دین سے نہیں بلکہ قانون سے ہوگا۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان علماء کونسل اور وفاق المساجد پاکستان گزشتہ چند سالوں سے بہت محنت کررہی ہے، ہم نے پورے سال کیلئے حالات حاظرہ کو مدنظر رکھ کر مساجد کیلئے خطبات بھی ترتیب دیے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تربیت اور انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کیلئے مستقل بنیادوں پر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہے اور اب تک سات ہزار سے زائد لوگ اس میں شریک ہوچکے ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ جو انتہا پسندانہ سوچ ہمارے معاشرے میں پیدا ہورہی ہے اورجو صرف دینی طبقے میں نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں آرہی ہے اسے کسی طرح ختم کیا جائے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ وفاق المساجد پاکستان نے غیر مسلموں کے ساتھ یوم یکجہتی منایا اور رمضان المبارک کی افطاریوں میں محبت کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کو دعوت بھی دی گئی۔ ہماری کوششوں سے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی فضا پیدا ہورہی ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ سانحہ یوحنا آباد کے زخمیوں کو مدارس کے طلباء نے خون کا عطیہ دیا اور اتنا تشدد ہونے کے باوجود بھی کوئی ردعمل نہیں آیا اور دو مسلمان بچوں کے جنازے پر امن طریقے سے ادا ہوئے۔ صرف رمضان المبارک میں چار بڑے واقعات کو روکا گیا، لاہور میں ایک چرچ پر حملے کی کوشش کو علماء نے ناکام بنایا، علاوہ ازیں شیخوپورہ اور حافظ آباد میں توہین رسالت کے جھوٹے مقدموں کوبھی علماء نے رد کیا۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ اب ہم کسی سانحہ کے ہونے سے پہلے ہی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حالات پر قابو پالیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جن میں سب نے ذمہ داری اور یکجہتی کا ثبوت دیا جبکہ علماء اور تمام مسلمان ، مسیحی برادری کے ساتھ کھڑے ہوئے لہٰذا اگر ہم آہنگی کی یہی فضا قائم رہی تو وہ وقت دور نہیں جب ہم  دہشت گردی پر قابو پالیں گے۔

حالات و واقعات کے ساتھ قوانین بدلتے رہتے ہیں، ہم نے حکومت کو ایک ضابطہ اخلاق بنا کردیا ہے ، پنجاب حکومت اس پر کام کررہی ہے جبکہ باقی صوبوں میں اس پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ تلخیاں پیدا ہوگئی ہیں، یہ تلخیاں صرف مذہبی یا سیاسی بنیادوں پر پیدا نہیں ہوئیں بلکہ اس کے بہت سارے اسباب ہیں۔ یہاں بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، لوڈشیڈنگ، غربت اور گھروں کے مسائل بھی بہت زیادہ ہیںلہٰذا اس کے نتیجے میں لوگوں میں عدم برداشت کا پیدا ہونا فطری ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنی ثقافت ، ہیروز اور دینی علماء کے بارے میں علم نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے انہیںان کی تعلیمات کے بارے میں بتایا ہے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ ہم نے رواداری اور اسلام کا حقیقی پیغام نصابی کتب سے نکال دیا ہے ۔ اس کے علاوہ سکولوں میں مارننگ اسمبلی کا سسٹم بھی تقریباََ ختم ہوگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب بچوں کی صلاحیتیں ماند پڑ رہی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ اپنی ثقافت اور تعلیمات سے دوری کی وجہ سے نوجوان نسل مسائل کا شکار ہے اور بے راہ روی اسی کا نتیجہ ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت کو سوشل میڈیا پر بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ سوشل میڈیا پر انتہا پسندوں کے جو پیغامات آرہے ہیں اسے حکومت نے ختم کرنا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہا ۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حکومت یا کوئی ایک طبقہ دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکتا، اس کے لیے ایک قومی سوچ پیدا کرنا ہوگی اور سب کو مل کر کام کرناچاہیے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی طبقے اور عوام الناس میں دوری پیدا ہورہی ہے۔

ہمارے ہاں دو انتہا پسند طبقے ہیں، جن میں سے ایک مذہبی اعتبار سے آخری انتہا پر کھڑا ہے جبکہ دوسرا لامذہب ہونے کے ناطے آخری حد پر کھڑا ہے لہٰذا ہمیں ان دونوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو مذہب کا نام سننے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ ہر کام مذہب پر ڈالنا چاہتا ہے۔ میں ا ن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ مذہب کے لوگ نہیں تھے جنہوں نے رمشا مسیح کو تحفظ فراہم کیا، جنہوں نے صرف گزشتہ برس میں 18جھوٹے توہین رسالت کے مقدموں کو ردکیا۔

کیا وہ مذہب کے لوگ نہیں تھے جو سانحہ یوحنا آباد کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان سے اظہار یکجہتی کیا اور انہیں کھانے پینے کا سامان بھی فراہم کیا۔کیا وہ مذہب کے لوگ نہیں تھے جو کوٹ رادھا کشن کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ یہ حقیقت ہے کہ قصور کے 200علماء متاثرین کے گھر گئے اور مسلمانوں کی طرف سے ان سے معافی مانگی۔

ہمارے معاشرے میں یہ سوچ پیدا ہوگئی ہے کہ ہم نے کسی ظالم کا ساتھ نہیں دینا اور یہی وجہ ہے کہ کوٹ رادھا کشن میں جن 73لوگوں کا نام آیا ،آج تک ان میں سے کسی ایک کی بھی سفارش نہیں کی گئی۔ ہمارا مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں ہے بلکہ یہاں تو دور جاہلیت سے بھی بدتر واقعات شروع ہوگئے ہیں۔

خواتین اور بچیوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور ان کی تعلیم پر پابندی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ خواتین کے ووٹ کے حق کیخلاف سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔ یہاں غورطلب بات یہ ہے کہ یہ کسی عالم نے تو فتویٰ نہیں دیا بلکہ یہ سب لوگ تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر ایک نے اپنی اپنی انتہا بنا رکھی ہے لہٰذا جب تک اس انتہا کو ختم نہیں کیا جائے گا معاشرہ بہتر نہیں ہوسکتا۔ معاشرتی ناانصافیوں کی وجہ سے بھی معاشرے میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ، ہم حکومت سے یہ پوچھتے ہیں کہ جوزف کالونی میں توہین رسالت کرنے والے کو تو سزا دی گئی لیکن 160گھر جلانے والوں کو سزا کیوں نہیں دی گئی۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ معاشرتی ناانصافیوں اور یکطرفہ کارروائیوں سے معاشرے میں عدم برادشت پیدا ہوتی ہے اور ان قوتوں کا فائدہ ہوتا ہے جو ہمارے ملک میں عدم استحکام چاہتی ہیں لہٰذا ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے چاہئیں کیونکہ مکالمہ وہ واحد قوت ہے جس سے قومیں متحد رہتی ہیں اور ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔

ڈاکٹر مسرت عابد
( ڈائریکٹر شعبہ ساؤتھ ایشین سٹڈیز جامعہ پنجاب)
اگر معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے برعکس معاشرے میں کیا ہورہا ہے اور اس کی وجہ کیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے عوامل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب کو جانیں۔ہمارے ملک میں جو دہشت گردی ہورہی ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

اس کے پیچھے غیر ملکی سازشیں اور علاقائی تنازعات بھی ہیں۔ کچھ ایسے لوگ ہیںجو علاقائی تنازعہ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے حل کرنے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ اس کے ردعمل میں کارروائیاں کررہے ہیں۔ اسے بعض لوگ دہشت گردی کا نام دیتے ہیں جبکہ وہ لوگ اسے جدوجہد آزادی کہتے ہیں۔

علاقائی تنازعات کے علاوہ تہذیبی تصادم بھی ہے اور اسے دین اور کفر کی جنگ قرار دیا جاتا ہے اور جو لوگ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے مسلمان دہشت گرد ہیں اور وہ اپنی تہذیب کو زبردستی ہماری تہذیب پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اسی طرح مختلف مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ بعض ممالک میں غیر ملکی سازشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا عمل سامنے آرہا ہے اور کچھ عناصر بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور ان میں سماج کے خلاف نفرت اور بغاوت پیدا ہورہی ہے ۔دہشت گردی کی وجوہات میں مقامی سطح کے محرکات بھی شامل ہیں ۔

کسی بھی معاشرے میں تعلیم کا فقدان یا کمی ہو تو لوگوں کو کسی ایک نظریے کی طرف مائل کرنا آسان ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ بے روزگاری، سماجی نا انصافیاں، سماجی عدم مساوات اور معاشی ناانصافیاں بھی دہشت گردی کی بڑی وجہ ہیں اور حالات سے مایوس یا تنگ لوگ اس طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ دہشت گردی کی تعریف پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوسکا تاہم اس کے مختلف محرکات ہیں جن کی بنیاد پر اسے دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔

دہشت گردی کا خاتمہ تعلیم سے ممکن ہے کیونکہ جب لوگوں کے پاس تعلیم اور اچھا روزگار ہوگا تو ملک دشمن عناصر کیلئے انہیں اپنی طرف راغب کرنا مشکل ہوگا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اگر ان کے پاس تعلیم اور روزگار نہیں ہوگا تو ان میں مایوسی پیدا ہوگی اور پھر وہ غلط کاموں کی طرف راغب ہوجاتے ہیں ۔

تعلیم معاشرے کا ایک بنیادی جزو ہے تاہم حالات کی بہتری کیلئے پی ایچ ڈی نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر کی تعلیم دینی چاہیے اور ووکیشنل ایجوکیشن کو فروغ دینا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنا روزگار کماسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرنے چاہئیں اور میرٹ پربھرتیاںہونی چاہئیں تاکہ معاشرے سے عدم برداشت کاخاتمہ ہو اور ہم بہتری کی طرف جاسکیں۔ یہ سب چیزیں مل کر معاشرے میں ایک اچھی تبدیلی لاسکتی ہیں اور اس طرح دہشت گردوں کو شکست ہوگی۔ ریاست کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔

عدم رواداری معاشرے کا اندرونی مسئلہ ہے تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے بغیررواداری ممکن نہیں ہے۔ عوام میں سماجی شعور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اطراف پر نظر رکھیں اور کسی مشکوک کارروائی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

اس کے علاوہ ملک میں سیاسی استحکام ہونا چاہیے اس سے معاشی استحکام خودبخود پیدا ہوجائے گا اورپھر ہمارے لیے غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی آسان ہوگا۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں اپنی سرحدی سکیورٹی اور اپنے دفاع کو مزید بہتر بنانا ہوگا اور سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کو روکنا ہوگا کیونکہ اس وقت اندرونی اور بیرونی دشمن مل کر پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

 احسن ریاض فتیانہ
(رکن صوبائی اسمبلی)
ہمارے ملک میں 60فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگلے چند سالوں میں85ملین نوجوان مزید شامل ہوجائیں گے اور اس طرح ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوان نسل ہوگی۔ قوموں کے لیے ایسا دور ترقی کا سنہری موقع ہوتا ہے اور وہ نوجوانوں کے عزم اور ہمت سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی منازل طے کرتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کا علم نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس حوالے سے کوئی تربیت دی جاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ بے راہ روی کا شکارہیں اور ملک دشمن عناصر ان کی برین واشنگ کرکے اور لالچ دے کر ا ن سے غلط کام کرواتے ہیں۔

نوجوان نسل اتنی باشعور نہیں ہوتی کہ اپنے اچھے برے کی پہچان کرسکے ۔ افسوس ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو شعور دینے کے حوالے سے کوئی کام نہیں کررہے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے لیے کھیل کے میدان ہیں اور نہ ہی سہولیات ۔ بدقسمتی سے بیروزگاری اور معاشی مشکلات کی وجہ سے وہ نفسیاتی امراض کا شکار ہوگئے ہیں اور منشیات کی طرف راغب ہوررہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے ڈر اور خوف نے ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے اور اب ہم کھل کر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہم نے ضرورت سے زیادہ قوم کو ڈرا دیا ہے، ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ جب موت آنی ہے وہ آکر رہنی ہے اس لیے موت کے ڈر سے ہمیں سب کام چھوڑ کر گھر نہیں بیٹھنا چاہیے۔

اس وقت ہمیں ایک قومی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو مستقبل میں کیا دینا ہے اور ان کے لیے کیا اقدامات کرنے ہیں۔ ہمیںنوجوانوں کو معاشرتی طور پر مصروف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کیرئیر کاؤنسلنگ کرنی چاہیے اور ان کی زندگی کو بامقصد بنانا چاہیے ۔

اگر جرائم کے حوالے سے دیکھیں توآج جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد پڑھی لکھی ہے اور اس کی وجہ بے روزگاری ہے۔ ہماری قومی پالیسی سوشل نہیں ہے اور نہ ہی ہم سوشل اکنامک ڈویلپمنٹ کی طرف توجہ دے رہے ہیں جبکہ ہماری پوری توجہ کیپٹل ڈویلپمنٹ کی طرف ہے۔تعلیم ملکی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے ہمیں طبقاتی نظام تعلیم کی بجائے یکساں نظام تعلیم لانا چاہیے اور16سال سے کم عمر بچوں کیلئے مفت تعلیم ہونی چاہیے۔ نظام تعلیم میں بہتری کے ساتھ ساتھ مدارس کو بھی ریگولیٹ اور ماڈریٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

دیہاتوں میں مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے والدین نے اپنی بچیوں کو سکولوں سے ہٹا لیا ہے جو باعث افسوس ہے۔ اس لیے ہمیں پالیسی بناتے وقت ثقافت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے اور بچیوں کی تعلیم پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے ۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم سے لوگوں میں شعور پید اہوگااور پھر وہ اپنا اچھا برا خود سوچ سکتے ہیں۔علاوہ ازیں بچوں کو فنی تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں ۔دہشت گردی، عدم مساوات و دیگر مسائل کا حل یہ ہے کہ ہمیں میانہ روی کی طرف جانا چاہیے اور حکومت و تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک قومی پالیسی بنانی چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

 ممتاز حسین
(سماجی کارکن)
ہماری نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہے اور نوجوان نسل ہمیشہ قوموں کی لائف لائن ہوتی ہے ۔ اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو پر امن پاکستان مہیا کریں اور اسے اچھے کاموں میں مصروف کریں ۔ اعداد و شمار کے مطابق 64فیصد نوجوانوں کی عمر 29سال سے کم ہے اور اس میں سے 31فیصد کی عمر15 برس سے 29برس ہے۔

بدقسمتی سے 12سے 30سال کی عمر کی ہماری یوتھ دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہورہی ہے ۔ ہم اپنے ریاستی اداروں، افواج پاکستان، سیاسی جماعتوں اور موجودہ حکومت کے شکر گزار ہیں کہ وہ ایک پچ پر ہیں اور پوری قوم کو ایک سوچ کا پیغام جارہا ہے اور یقینا ان کی جانب سے دہشت گردی سے بچاؤ کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں ،تاہم ہمیں دہشت گردی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کاسدباب بھی کرناچاہیے۔

نوجوان نسل کے عالمی سطح پر کارناموں کا جائزہ لیں تو اس وقت دنیا میں 25برس سے کم عمر کے جن نوجوانوں نے بڑے کارنامے سر انجام دیے، ان میں 25پاکستانی ہیں اور انہوں نے ٹیکنالوجی، انٹر پرینیور شپ اور سماجی خدمات میں دنیا کا مقابلہ کیا اور اب لوگ ان کی تقلید کررہے ہیں۔ ہماری قوم یقینا بڑی قوم ہے ، ہمیں اپنی نوجوان نسل کو تعمیری کاموں میں مصروف کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں سیاسی دھارے میں لایا جائے اور بلدیاتی انتخابات میں انہیں مناسب نمائندگی دی جائے۔

چند برس پہلے تک صرف غریب گھروں کے لوگ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہوتے تھے لیکن اب سانحہ سفورا چوک میں یونیورسٹی کے فارغ التحصیل پڑھے لکھے نوجوان شامل تھے لہٰذا اب ہمیں نوجوانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اور روزگار پر بھی توجہ دینا ہوگی۔تعلیم لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے،موجودہ حکومت نوجوان نسل کی تعلیم کیلئے اچھے اقدامات کررہی ہے ،یو تھ انٹرن شپ پروگرام، یوتھ لون پروگرام، ووکیشنل ٹریننگ اور سکل ڈویلپمنٹ پروگرام سے بچوں کو ہنر اور روزگار کمانے کا موقع ملے گا۔ بلوچستان میں افواج پاکستان بلوچی نوجوانوں کو فوج میںبھرتی کررہی ہے۔

اس طرح انہیں روزگار ملے گااور وہ ملکی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہمیںاپنی نوجوان نسل کو معاشرتی طور پر بھی مصروف کرنا ہے، انہیں صحت مند مواقع فراہم کرنے ہیں اس کے لیے پورے ملک میں کھیلوں کے میدان آباد کرنے چاہئیں۔ ہماری کراچی کی سٹریٹ فٹ بال ٹیم نارروے میں تین فتوحات حاصل کرچکی ہے اور اس ایونٹ میں پہلے بھی اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی موقع ملتا ہے تو ہماری نوجوان نسل اچھی کارکردگی دکھاتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ تکلیف بہت ہوتی ہے جب ہمارے نوجوان مشکلات و مصائب کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کرکے اپنا مستقبل خراب کرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں یوتھ کو اپنی ثقافت سے روشناس کروانا ہوگا، اس طرح ان کے اندر سے مایوسی کا خاتمہ ہوگا اور ان میں قومی سوچ پیدا ہوگی۔ قومی تعمیر کے حوالے سے این جی اوز کا کرداربہت اہم ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں کی خدمت اور ملکی تعمیر کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

ہم نوجوانوں کی تربیت کے لیے مختلف کالجز کے ساتھ مل کر مشاعروں، سیمیناراور کھیلوں کے ذریعے یوتھ کو منظم کررہے ہیں اورلوگوں نے اسے پسند کیا ہے۔

اب ہمیں نوجوانوں کی سوچ کو بدلنا ہوگا اور جن بچوں کو شک و شبہ میں یا جرم کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا ہے ان کیلئے سماجی سینٹرز بنانا ہوں گے ۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں سوات میں تربیتی کیمپ بنایا گیا تھا اور وہاں 80فیصد بچے علماء کی تعلیم سے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے اور راہ راست پر آگئے تھے لہٰذا مولانا طاہر اشرفی جیسے سینئر سکالرزکو چاہیے کہ بچوں کی برین واشنگ کرکے انہیں صحیح راہ دکھائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔