سوال پیدا ہوتا ہے

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 22 اگست 2015

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر صرف سوال ہی کیوں جنم لیتے ہیں اور سوال بھی وہ جو چین نہ لینے دیں ۔آخر یہ سوال ہمارے ہی پیچھے کیوں پڑگئے ہیں جہاں جاؤ جہاں بیٹھو وہاں پہلے ہی سے سوال موجود ہوگا آخر یہ سوال پیدا کرنے والے بانجھ کیوں نہیں ہوجاتے ۔

گھر جاؤ تو بجلی کا سوال پانی کا سوال، چینی دال کاسوال ، چاول آٹے کا سوال، بچوں کی فیسوں کاسوال، رشتوں کاسوال ، ساس بہو کا سوال ،مہنگائی کاسوال ، کام پر جاؤ توہڑتال کاسوال ٹی وی دیکھو تو سیاست دانوں کی کرپشن اور لوٹ مار کاسوال اخبار، پڑھو تو حکومتی نااہلی کا سوال دہشت گردی کاسوال تعلیم اور صحت کاسوال کالاباغ ڈیم کا سوال نظریہ ضرورت کا سوال اخباری کالم پڑھو تو قرار داد مقاصد پر سوال ،حجوں کے سوال پر سوال اور مدرسوں پر سوال دوستوں میں بیٹھو تو بے وفائی کاسوال ، دغا بازی کاسوال ، دھوکہ دہی کا سوال ،خلوص کا سوال، رشتہ داروں میں جاؤ تو طعنوں کاسوال شکوؤں کاسوال وقت کا سوال آفسوں میں جاؤ تو رشوت کاسوال نوکری کی تلاش میں جاؤ تو سفارش کاسوال سٹرک پر نکلو تو ٹریفک کے رش کا سوال گاڑی نکالو تو پیٹرول کاسوال ، آپ شیطان سے تو بچ سکتے ہیں سود خوروں سے تو بچ سکتے ہیں لیکن سوالات سے کسی صورت نہیں بچ سکتے یہ سوالات ہی ہیں جو آپ کا پیچھامرنے کے بعد بھی نہیں چھوڑتے قبر میں منکر نکیر کے سوالات آپ کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔

ان کے سوالات کے بعد جنت یا دوزخ کا سوال ۔ اگر جنت میں گئے تو شکر لیکن اگر دوزخ واپس نصیب میں آگئی تو پھر باہر نکلنے کا سوال ۔

ابھی کچھ ہی عرصے قبل تک ہم سب کی زندگی سکون سے گذر رہی تھی ہر طرف چین ہی چین تھا اطمینان ہی اطمینان تھا نہ کوئی سوال نہ کوئی ڈر جب ہمیں ڈرے ہوئے کافی دن ہوجاتے تھے تو ہم پھر کسی روزڈراؤنی فلم دیکھنے چلے جاتے تھے تاکہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ڈر تو جائیں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہم ڈرنا ہی بھول جائیں ۔

محلے گلیوں میں بیٹھے لوگوں کی باتوں اور گپ شپ میں کوئی بھی جذباتی مرحلے نہ آتے تھے اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی سوالات ۔ ان کی باتیں سوالات سے پاک اور غم و غصے سے خالی ہوتی تھیں ۔ ہنسی مذاق کے علاوہ ان میں اورکچھ بھی نہ ہوتا تھا کمانے والا ایک ہوتا تھا اور کھانے والے دس۔ نہ بجلی جاتی تھی نہ گیس اور نہ پانی کی قلت ہوتی تھی ہر طرف شرافت ، تہذیب ، ایمانداری کی حکمرانی قائم تھی ۔ اخلاقی اقدار ایسے ہوتے تھے کہ سامنے والا آدمی شرمندہ ہوجاتا تھا رشتوں کے لیے پاؤں کی چپل گھس جاتی تھیں محلے کا ہر گھر آپ کے اپنے گھر کی طرح ہوتاتھا سب لوگ ایک دوسرے کے سکھ اور دکھ مل کر بانٹتے تھے بڑوں کے سامنے نوجوانوں کو کسی قسم کی شرارت تک کی مجال نہ ہوتی تھی ۔

کھا نے پینے کی چیزیں اور انسانی رشتے ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک ہوتے تھے پھر اچانک دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ یکسر بدل گیا اور ہم سب ہکا بکا رہ گئے پھر اس کے بعد سے تو جیسے سوالات نے ہمارے گھر ہی دیکھ لیے ہوں ۔ اب صرف ہم ہیں اور ہمارے سوالات ہیں جب تک ہم بے خبر تھے سوالات بھی اتنے بے شرم نہیں ہوتے تھے ۔ خداغارت کرے میڈیا کی آزادی کو جب سے ہمارا میڈیا آزاد ہوا ہے اور ہم جیسے بے خبروں کو مختلف ٹی وی چینلز دیکھنے کی آزادی نصیب ہوئی اور جوں جوں ہمیں اپنے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے انمول کارنامے دیکھنے اور سننے کو ملتے گئے تو ویسے ویسے سوالات بھی بے شرمی کی تمام حدیدیں چھلانگیں مار مار پار کرتے چلے گئے ۔

یہاں پر ایک بڑا ہی سیدھا سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی فر د و احد چا ہے و ہ حکمران ہو بیورو کریٹس یاسیاست دان اگر اس کا دل چاہتاہے کہ ملک کے تمام لہلہلاتے کھیت ، ملیں ، زمینیں ، محلات پر اس کے نا م کی تختی لہلاتی نظر آئے تو اس میں خرابی کیا ہے برائی کیا ہے۔ اگر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے اور وہ یہ سب کچھ انمول کارنامے سرانجام دے رہا ہے تو سارا قصور تو خواہش کا ہوا اس کا کیسے ہوا آپ خواہش کو معاف کرکے خواہ مخواہ اس کے پیچھے پڑئے ہو ئے ہیں اگر آپ اس لیے انھیں برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہی سب کچھ انمول کارنامے کرنے کا آپ کاارادہ تھا اور آپ سے پہلے انھوں نے سرانجام دے دیے ہیں تو پھر اور بات ہے پھر آپ انھیں جتنا چاہیں برابھلا کہہ سکتے ہیں ۔

ویسے معاف کیجیے گا آپ اکیلے ہی سست اور عقل کے دشمن نہیں ہیں بلکہ بالکل آپ جیسے اور بھی بہت ہیں خا ص طورپر حکمرانوں کی صفوں میں توان کی کوئی کمی ہی نہیں ہے۔ ایک ڈھونڈو تو دوسرا مفت مل جاتا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ سب کے سب اپنے آپ کو عقل کے چیمپئن ثابت کر نے میں دن رات مصروف رہتے ہیں لیکن کیا کریں ان کی بدقسمتی کہ وہ ہی سوال ان کے پیچھے بھی ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں ایک سوال سے جان چھڑاتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے ان کی زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری کی وجہ سے دوسرا سوال پیدا ہوجاتا ہے اور دوسرے کے بعد تیسرا اورپھر جیسے سوالات کی قطار ہی لگ جاتی ہے اس لیے تو وہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ سوال پیدا ہونے سے پہلے ہی مر کیوں نہیں جاتے ہیں آخر وہ دن کب آئے گا کہ جب لوگ چلا چلا کر کہہ رہے ہوں گے کہ ہمارے سارے سوال پیدا ہونے سے پہلے ہی مرگئے اور پھر اس کے بعد ہی ہمارے انمول حکمران ،سیاست دان اور بیوروکریٹس چین کی نیند سوسکیں گے،

او ر وہی سارے انمول کارنامے آرام وسکون اور چین سے کرسکیں گے ۔ اس لیے کہ نہ سوال پیدا ہونگے اور نہ ہی ان کا چین و سکون غارت ہو گا ۔ بس وہ ہی ویسا ہی سب کچھ اطمینان سے ہوتا رہے گا ہوتا رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔