31فیصد چینی پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل

آئی این پی  جمعـء 19 اکتوبر 2012
چینی کمپنیاںسیکیورٹی خدشات پرمعاہدے ختم کرچکیں، سول جوہری پروگرام پرتعاون جاری ہے. فوٹو: فائل

چینی کمپنیاںسیکیورٹی خدشات پرمعاہدے ختم کرچکیں، سول جوہری پروگرام پرتعاون جاری ہے. فوٹو: فائل

واشنگٹن: ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے دعویٰ کیاہے کہ31فیصد چینی پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں۔

جبکہ 23فیصدبھارت کے حمایتی نکلے اور43فیصدچینیوں نے امریکی پالیسیوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ امریکی اخبارنے تھنک ٹینک کی تحقیق کے حوالے سے جمعرات کوبتایا کہ چین کی دو تہائی عوام کی رائے بھارت کے حق میں نہیں۔ طویل مدت سے پاکستان سے گہری دوستی کا دم بھرنے والے بیجنگ کا رویہ بھی پاکستان سے زیادہ گرم جوش نہیں۔ تحقیق میں صرف 31فیصد چینی افراد نے پاکستان کے متعلق مثبت رائے ظاہر کی۔ رواں سال چین نے پاکستان سے شکایت کی کہ ملک کے شمال مغربی علاقوںمیں علیحدگی پسندوں کی حمایت ان عسکریت پسندوں کی طرف سے کی گئی۔

جن میں سے کچھ کا تعلق پاکستان سے تھا۔ چینی کمپنیاںسیکیورٹی خدشات پر پاکستان سے معاہدے ختم کرچکی ہیں۔ امریکی تحقیق میں بتایا گیا کہ عمومی طور پرچین،پاکستان کو اتحادی سمجھتا ہے اور 49 فیصد چینی سمجھتے ہیں کہ ان کے تعلقات تعاون پر مبنی ہیں ۔ پاکستان کے سول جوہری پرگرام کی ترقی کیلیے چین نے تعاون جاری رکھا ہوا ہے جبکہ امریکا اس ضمن میں پاکستان کوانکا ر کر چکا ہے۔ چین نے حال ہی میں چینی حکومت نے گوادر پورٹ پرتعاون کا یقین بھی دلایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 39 فیصد چینی عوام نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو صرف تعاون کی حد تک سمجھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔