بس اتنا کہنا کافی ہو گا

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 26 اگست 2015

شہر کی پو ش کالونی میں ایک آدمی آواز لگا رہا تھا ’’برتن قلعی والا، برتن قلعی والا، برتن قلعی کروا لو‘‘ ۔ وہ آواز لگا تا ہوا علاقے کی تمام سڑکوں پر گھومتا رہا۔

مگر شاندار مکانات میں سے کسی نے بھی اس کی آواز کی طرف توجہ نہ دی سارے علاقے میں کسی بھی گھر سے اس کو کا م نہ ملا یہ تعصب کا معاملہ تھا کیا غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے لوگوں نے قلعی کر نے والے کو کام نہیں دیا ہو سکتا ہے کہ برتن قلعی والا اسی طرح سوچتا ہو وہ ایک جاہل آدمی تھا اس کے باپ دادا یہ ہی کام کرتے تھے وہ خو د بھی چالیس سال سے یہ ہی کام کر رہا تھا اس بنا پر اس کا ذہن برتن قلعی میں اتنا گم ہو چکا تھا کہ وہ اس سے باہر نکل کر سو چ ہی نہیں سکتا تھا مگر جو شخص برتن قلعی سے باہر کی حقیقتوں کو جانتا ہو جو وسیع تر دائر ہ میں سوچ سکے وہ باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ برتن قلعی والے کو علاقے میں کام نہ ملنے کی وجہ کیا تھی۔

ا سکی سیدھی سادی سی وجہ یہ تھی کہ قلعی تانبے یا پیتل کے برتنوں میں ہوتی ہے جب کہ علاقے کے تمام گھروں میں اسٹین لیس اسٹیل کے برتن استعمال ہو رہے تھے پھر یہاں برتن قلعی والے کو کام ملتا تو کس طرح ملتا۔ آج کی دنیا میں کامیابی کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سب سے ضروری یہ ہے کہ آدمی وقت کو پہچانے وہ زمانے کے تقاضوں سے واقف ہوں جو شخص وقت، زمانے اور اس کے تقاضوں سے واقف نہ ہو گا تو اس کا حال وہی ہو گا جو مذکورہ آدمی کا ہوا۔

وہ اسٹین لیس اسٹیل استعمال کرنے والوں کے درمیان برتن قلعی کی آواز لگاتار لگاتا رہے گا اور کوئی بھی شخص اس کو ایسا نہ ملے گا جو اس کا خریدار بن سکے اور وہ دوسروں کو الزام دیتا رہے گا کہ انھوں نے تعصب، غرور، گھمنڈ کی وجہ سے میری دکان چلنے نہ دی۔ آج کی دنیا ایک تبدیل شدہ دنیا ہے آج کا انسان ایک تبدیل شدہ انسان ہے آج دنیا ایک گلو بل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے آج دنیا بھر میں اختلافات کی دیواریں گرا ئی جا رہی ہیں سرحدیں ختم ہو رہی ہیں کرنسیاں ایک ہو رہی ہیں انسان اختلاف کے بجائے اتفاق پر ایمان لے آیا ہے ایسی دنیا جہاں مذہب، نسل، زبان کے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔

جہاں سب مل کر انسان کے اصل دشمن جہالت، بیماریوں، نفرت، تعصب کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جب کہ دوسری طرف ہم پوری دنیا کے بر عکس مخالف سمت میں کھڑے پوری دنیا کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں۔ نہ ہم دنیا بھر کی ترقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور نہ ہی اس ترقی میں اپنا کوئی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ظلم تو یہ ہے کہ لطف اندوز ہونا تو بہت دور کی بات ہے ہمارے معزز صاحبان ان تمام لذتوں کو ہمارے لیے حرام قرار دے چکے ہیں ایک نوجوان ایک انگریزی فلم دیکھ کر سنیما ہال سے باہر آ رہا تھا تو اسے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ محلے کے ایک مولوی صاحب وہ ہی فلم دیکھنے سنیما ہال میں داخل ہو رہے ہیں نوجوان نے ان سے پوچھا مولوی صاحب آپ تو ہمیں انگریزی فلم دیکھنے سے منع کرتے ہیں تو آپ خود انگریزی فلم دیکھنے کیوں آئے ہیں۔

نوجوان کی بات سن کر انھوں نے جواب دیا کہ بیٹا میں فلم کو نفرت کی نگا ہ سے دیکھنے آیا ہوں۔ ہم سب ایک عجیب دوغلی زندگی گزار رہے ہیں اس بات پر یقین کیے بیٹھے ہیں کہ دنیا 16 اور 17 ویں صدی سے آگے ہی نہیں بڑھی ہے ہم سب حال میں نہیں بلکہ ماضی میں زندہ ہیں اور ہم نے اپنی پوری طاقت وقت کے پہئے کو روکنے میں لگا رکھی ہے ہم سب ماضی کے مزاروں کے متولی بن کے رہ گئے ہیں اور برتن قلعی والی قوم بن گئے ہیں آباؤ اجداد کی شان و شو کت، ان کا جاہ و جلال ان کے کارنامے ان کے قصے و کہانیاں سننا اور سنانا ہمارا قومی مشغلہ ہے مولا مدینے بلا لے مجھے ہماری پسندیدہ قوالی ہے دنیا میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں ان سب نے اپنی پہلی شناخت اپنی زمین سے قائم کر رکھی ہے یعنی انڈیا میں جو مسلمان آباد ہیں ۔

وہ پہلے ہندوستانی اپنے آپ کو کہتے ہیں اور بعد میں مسلمان۔ اسی طرح جو مسلمان عرب ممالک میں آباد ہیں وہ پہلے عربی کہتے ہیں اور بعد میں مسلمان بالکل اسی طرح جو مسلمان امریکہ، برطانیہ، یورپ یا افریقن ممالک میں آباد ہیں ان سب کی پہلی شناخت زمین سے ہی وابستہ ہے جب کہ ہم پہلے اپنے آپ کو مسلمان کہتے پھرتے ہیں اور بعد میں پاکستانی۔ رہتے ہم الگ زمین میں ہیں اور دوسروں کا روپ دھار کر ہمیں خو شی نصیب ہوتی ہے۔

عربی جبہ پہننے اونٹ پر سواری کرنے او ر گلے میں تلوار لٹکائے لٹکا ئے گھومنے میں ہمیں تسکین ملتی ہے امریکہ، یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا اور تمام مغربی ممالک جہاں ہمیں عزت ملتی ہے برابر کے حقوق ملتے ہیں ان ممالک کی شہریت مل جاتی ہے دن رات انھیں برا بھلا کہنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اور جنہیں دوسری طرف برادر ا سلامی ملک کہتے کہتے ہماری زبان تھکتی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ اگر ان برادر اسلامی ممالک میں جانے اور وہاں کام کرنے کا موقع مل جائے تو خوشی خوشی ہم تمام بے عزتی، ذلت برداشت کرتے پھرتے ہیں۔

آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی درخواست ہے آپ کسی بھی برادر اسلامی ملک میں ذرا بغیر ویزے کے داخل ہونے کی کوشش کر کے دیکھ لیجئے اور ان کے ایئر پورٹ پر اترتے ہی زور سے اسلام زندہ باد کا نعرہ بلند کر دیجئے اور نعر ہ لگا کر ان سے کہیے کہ میں آپ کا مسلمان بھائی ہوں آؤ گلے لگ جاؤ بس آپ کا اتنا ہی کہنا کا فی ہو گا آپ دوسرے لمحے اپنے آپ کو ان کی شاندار جیل میں موجود پائیں گے جہاں ہر شخص آپ پر لعنت ملامت کر رہا ہو گا۔ اور آپ کی وہ درگت بنے گی کہ اللہ کی پناہ۔ یاد رہے کوئی قوم اپنی سو چ اور خیالات کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتی۔

ظاہر ہم بھی وہ ہی کچھ ہیں جو ہمارے خیالات اور احساسات ہیں تو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم قسمت کی نہیں بلکہ خیالات اور احساسات کے مارے ہیں۔ خدارا اپنے ذہن کے تمام بند دروازوں اور کھڑکیوں کو کھول دو اور اپنے ذہن کے تمام جالے صاف کر دو اور ماضی کے بجائے حال میں رہنا شروع کر دو اور اپنا رشتہ اور تعلق اپنی زمین و ثقافت و تہذیب سے قائم کر لو۔ اور اپنا سفر کا آغاز وقت کے ساتھ ساتھ شروع کر دو پھر دیکھیں کس طرح خوشحالی، کامیابی اور ترقی آ پ کی زندگیوں میں چپکے سے داخل ہو جاتی ہیں لیکن اس کے برعکس اگر آپ آج کے دور میں وہی برتن قلعی والی قوم رہنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کی مرضی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔