گجرات: مالداروں کی بغاوت

زاہدہ حنا  منگل 1 ستمبر 2015
zahedahina@gmail.com

[email protected]

عمر 22 سال، تعلیم بی اے کامرس، متوسط طبقے سے تعلق ، ذات پٹیل، ریاست گجرات، ہندوستان۔ ان تمام باتوں پر نظر ڈالیں تو پہلا تاثر یہی ابھرے گا کہ کہانی کسی ایک ایسے نوجوان کی ہوگی جس کا تعلق وزیراعظم ہندوستان نریندر مودی کی ریاست گجرات سے ہے اور جس نے ابتدائی عمر میں ہی کاروباری معجزے کر دکھائے، کیونکہ گجرات صنعت و تجارت کے اعتبار سے ہندوستان کی ترقی یافتہ ترین ریاستوں میں شامل ہے اور پٹیل برادری اس میں ایک بہت اہم کردار اداکرتی ہے۔ اس لیے برادری کے نوجوانوں سے کاروباری کارناموں کی ہی توقع کی جاتی ہے۔ تاہم صورتحال اور منظر نامہ اس سے یکسر مختلف ہے ۔

پٹیل برادری کے اس 22 سالہ نوجوان نے ہندوستان میں نہیں تو کم از کم وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی طاقت کے مضبوط ترین گڑھ ریاست گجرات میںایک سیاسی زلزلہ برپا کردیا ہے۔ نریندر مودی نے اس ریاست پر بڑی شان و شوکت سے حکمرانی کی تھی۔ فرقہ وارانہ تعصب کے حوالے سے ان کی ذات انتہائی متنازعہ ہے۔

ان کا تاثر اس حد تک خراب ہے کہ وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل امریکا انھیں ویزا دینے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ ان کی یہ متنازعہ حیثیت اپنی جگہ لیکن انھوں نے گجرات کو ہندوستان کا اہم کاروباری مرکز بنا دیا۔ کارپوریٹ سیکٹر کو ان کی معاشی اور انتظامی پالیسیاں اتنی بھائیں کہ 2014ء کے عام انتخابات میں کانگریس کے مقابلے میں بی جے پی کو نریندر مودی کی وجہ سے غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی۔

کیا ٹاٹا، برلا اور کیا امبانی، کون سا کارپوریٹ دیوزاد ایسا تھا جس نے مودی کو وزیراعظم بنوانے کے لیے خزانوں کے منہ نہ کھول دیے، بی جے پی کی انتخابی مہم پر اربوں روپے خرچ ہوئے اور دنیا کے سامنے ان کو ہندوستان کے کارپوریٹ سیکٹر کے متفقہ نمایندے کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہندوستان کا تیزی سے ابھرتا ہوا کاروباری طبقہ خراب نظم حکمرانی اور بیوروکریسی کے سرخ فیتے سے سخت نالاں تھا۔ نریندر مودی نے گجرات کے دروازے ان پر کھول دیے۔  ہندوستان کے دیگر شعبوں میں کاروبار کرنے یا صنعت لگانے کی اجازت اور متعلقہ سہولتیں لینے میں سال گزر جاتے تھے جب کہ گجرات میں یہ کام چند ہفتوں اور مہینوں میں ہوجاتا تھا۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ وزیراعظم کے مضبوط ترین گڑھ اور گجرات کے سابق دارالحکومت احمد آباد میں ان کے خلاف کوئی بغاوت کرنے کی جرأت بھی کرسکتا ہے اور کوئی اگر یہ ’’حماقت‘‘ کر بیٹھے گا تو اسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی لیکن احمد آباد میں یہ کام ہوگیا۔ یاد رہے کہ احمد آباد کا شمار دنیا میں تیز ترین ترقی کرنے والے 10 شہروں میں شامل ہے۔ احمد آباد میں بغاوت کی رہنمائی کرنے والا وہی 22 سالہ نوجوان ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔

اس کا نام ہردک پٹیل ہے۔ گجرات یونیورسٹی کے میدان میں اس نے پٹیل برادری کا ایک جلسہ عام منعقد کیا جس میں پانچ لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ پرجوش حامیوں کے ہجوم میں اس نے مکہ لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ ریزرویشن (جسے ہمارے یہاں کوٹا سسٹم کہا جاتا ہے) کے نظام سے پٹیل برادری کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے۔ اس نے اعلان کیا کہ یا تو ہمیں بھی اس نظام کا حصہ بنایا جائے یا پھر اس طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔ ریزرویشن کے تحت گجرات کی سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ’’دیگر پسماندہ طبقوں‘‘ کے لیے 27% کوٹا مختص ہے۔

ہردک نے دھمکی دی ہے کہ اگر پٹیل برادری کے لوگوں کو دیگر ’’پسماندہ طبقوں‘‘ کے زمرے میں شامل نہ کیا گیا تو گجرات ریاست کے پورے نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا جائے گا۔ اس جلسے کے بعد پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ عوامی طاقت کے اس غیر معمولی مظاہرے کے باعث نریندر مودی کو سخت خفت اور ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ یہ کہا جانے لگا کہ ریاست گجرات میں ان کی سب سے بڑی حامی برادری نے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اس تاثر کو زائل کردیا ہے کہ نریندر مودی سیاسی طور پر ’’ناقابل تسخیر‘‘ ہیں۔

گجرات کی موجودہ صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان اس وقت تبدیلیوں کے کتنے مشکل اور پیچیدہ عمل سے گزر رہا ہے۔ آزادی کے بعد اس ملک کا شمار تیسری دنیا کے غریب ملکوں میں کیا جاتا تھا۔ جمہوری تسلسل اور بنیادی صنعتوں کے قیام کے باعث ہندوستان میں معاشی ترقی کا ایک پائیدار عمل شروع ہوا اور بتدریج یہ ملک تیزی سے ترقی کرنے والے دنیا کے چند ملکوں میں شامل ہوگیا۔ پسماندہ اور پچھڑے ہوئے ملکوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں غربت اور بے روزگاری سب سے سنگین مسئلے ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں سیکڑوں ذاتیں اور برادریاں ہیں۔ ذات پات کی تفریق بھی صدیوں پرانی ہے ۔

ہندوستان میں نچلی ذاتوں کے لوگوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یوپی اور بہار اس ملک کی دو سب سے بڑی ریاستیں ہیں۔ یہاں دلت اور دیگر پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی نے ایوانوں میں اکثریت حاصل کرکے حکومتیں بنائیں۔

جمہوری نظام میں حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابات میں عوام کے ووٹ حاصل کرنا سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے، لہٰذا چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں عوامی تائید کے حصول کے لیے بعض اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ ہندوستان میں کانگریس حکومت نے نچلی اور پسماندہ ذاتوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان برادریوں اور ذاتوں کے لیے سرکاری نوکریوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں مجموعی طور پر  50 فیصد تک کا کوٹا مختص کردیا۔

اس حکمت عملی کا فائدہ ضرور ہوا لیکن اس کا زیادہ سیاسی فائدہ ان جماعتوں نے اٹھایا جو دلت یا دیگر پسماندہ ذاتوں کی نمایندگی کرتی تھیں۔ کانگریس جیسی جماعت کو اعلیٰ طبقات کی حمایت حاصل تھی۔ منڈل کمیشن کے بعد یہ طبقے بھی کانگریس سے ناراض ہوگئے۔ اس نظام کے خلاف ابتدا سے مزاحمت جاری ہے۔

کئی سال پہلے یوپی کے خوش حال گھرانوں کے بہت سے نوجوانوں نے اس لیے خودکشی کرلی تھی کہ امتحانات میں بہت زیادہ نمبر حاصل کرنے کے باوجود انھیں تعلیمی اداروں میں داخلے نہ مل سکے۔

پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیاں کمتر قابلیت اور نمبر رکھنے کے باوجود ڈاکٹر، انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور آئی ٹی پروفیشنل بن گئے۔ اسی طرح ملازمتوں کے لیے مقابلے کے امتحانوں میں کہیں کم قابلیت رکھنے والے امیدوار ڈپٹی کمشنر، کمشنر، ایس پی، ڈی آئی جی بن گئے اور آئی سی ایس کے دیگر شعبوں میں شامل ہوگئے۔

احتجاج اس بات پر تھا کہ میرٹ کو قتل کرکے انصاف کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ ہندوستان میں کوٹے کا یہ نظام چلتا رہا، کسی بھی جماعت نے سیاسی مصلحت کے باعث اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ایسے نوجوانوں کی تعداد میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا چلا گیا جن کا تعلق پسماندہ ذاتوں سے نہیں تھا اور قابلیت رکھنے کے باوجود ترقی کی دوڑ میں ان سے بہت پیچھے رہ گئے، جو ان میدانوں میں ان سے بہت کم صلاحیت رکھتے تھے۔

پٹیل برادری کی بغاوت بھی اسی صورتحال کا ایک مظہر ہے۔ گجرات ریاست میں پٹیل برادری کاروباری طور پر چھائی ہوئی ہے، صنعت اور کاروبار کے تقریباً تمام اہم شعبوں میں پٹیل برادری کا اہم حصہ ہے۔ ریاست میں چھ ہزار سے زائد صنعتی اداروں میں سترہ سو پٹیل برادری کے ہیں، جن میں 10 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

چند مہینے پہلے ہمارے اخبارات میں ایک صنعت کار شیوجی ڈھولکیاں کا بڑا چرچا تھا، جس نے اپنے ملازمین میں فلیٹ اور کاریں تقسیم کی تھیں۔ ہیروں کی تجارت اور ان کی تراش خراش کے کاروبار پر پٹیل برادری کی اجارہ داری ہے، نرما گروپ کے مالک کرشن بھائی پٹیل ہیں جن کی کمپنی کا سرمایہ 2 ہزار 500  کروڑ روپے ہے۔

ہندوستان کی پانچویں سب سے بڑی فارما سیوٹیکل کمپنی کا مالک بھی ایک پٹیل ہے۔ گجرات کی آبادی 6 کروڑ ہے جن میں ڈیڑھ کروڑ پٹیل ہیں۔ برادری کی سیاسی طاقت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ پٹیل ہیں، کابینہ میں ان کے وزراء کی تعداد 6، جب کہ ریاستی اسمبلی کے 37 ارکان کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔

ایک ایسی ترقی یافتہ اور خوش حال بلکہ مالدار برادری کی بغاوت میں غور و فکر کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا نکتہ یہ کہ کوئی برادری اگر کروڑوں پر مشتمل ہو تو اس کا ہر فرد کاروبار نہیں کرسکتا۔ انھیں خدمات اور دیگر پیشہ ورانہ مہارتوں کے شعبوں میں جانا ہی ہوتا ہے۔ جس کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بعدازاں سرکاری ملازمتوں کا حصول بھی ضروری ہوتا ہے۔

پسماندہ، کمزور اور صدیوں سے پچھڑی ہوئی ذاتوں اور برادریوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اس نوعیت کا کوٹا سسٹم ایک عبوری دور کے لیے یقیناً ضروری ہوتا ہے لیکن اسے دائمی قرار نہیں دیا جاسکتا، دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کاروبار کے طور طریقے بھی بدل رہے ہیں۔ گجرات کی پٹیل برادری کی طرح دیگر کاروباری برادریاں بھی اس تبدیلی سے متاثر ہورہی ہیں۔

پٹیل برادری کا احتجاج کامیاب ہو یا نہ ہو لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہونا چاہیے کہ ہندوستان میں ذات پات کی جنگ کانگریس کے زوال کا باعث بن چکی ہے، اب کہیں مالدار، ذاتوں کی بغاوت کے باعث بی جے پی کو بھی یہ دن نہ دیکھنے پڑجائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔