چیف جسٹس کا کارنامہ اور بابائے اردو کی برسی (آخری حصہ)

نسیم انجم  اتوار 6 ستمبر 2015
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

اگست کا مہینہ ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو خاص بات اس کی یہ بھی ہے کہ یہ ماہ دوسرے مہینوں سے موسم کے اعتبار سے ٹھنڈا اور خوش گوار ہوتا ہے،فرحت بخش ہوائیں گنگناتی، رقص کرتی اور اٹھلاتی ہوئی دل و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آزاد فضائیں وطن کی آزادی کا جشن مناتی ہیں۔

14 اگست بڑا اہم ترین دن ہے جب پاکستان وجود میں آیا تھا۔ ہر سال آزادی کے دن کو قومی سطح پر دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ہر شہری خوشیوں کے ترانے گاتا ہے۔ سالہا سال سے یہ فریضہ انجام دیا جاتا ہے کہ 14 اگست والے دن صبح9بجے دفتر تحریک نفاذ اردو میں تقریب پرچم کشائی ہوتی ہے اور پھر جلوس کی شکل میں تحریک کے روح رواں ڈاکٹر مبین اختر (ماہر نفسیات) کی سربراہی میں تحریک نفاذ اردو کے کارکنان مزار قائد پر جاتے ہیں اور قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر عقیدت و محبت سے رنگے پھولوں سے گل پاشی اور فاتحہ خوانی کی جاتی ہے اس بار قافلہ کے ساتھ بحیثیت نائب صدر میں بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھی، ایک سرشاری کا احساس رگوں میں سرائیت کرگیا تھا۔

مزار قائد پر عوام و خواص کا بے پناہ رش تھا، اہم شخصیات اور طلبہ حاضری دینے کے لیے آئے ہوئے تھے، خاص شخصیات کے لیے وی آئی پی گیٹ تھا اور عوام کے لیے دوسرا گیٹ لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہوا کہ بے چارے لوگ جن میں بچے، بوڑھے جوان سب ہی شامل تھے صبح سے ہی آگئے تھے۔

باہر کھڑے گیٹ کھلنے کا انتظار کررہے تھے، مجھے اس بات کا بھی شدید دکھ تھا کہ جذبۂ آزادی کو شدت سے محسوس کرنے اور خوشیوں کے دیپ روشن کرنے والوں کے لیے آؤ بھگت کا طریقہ غیر مہذبانہ تھا، ان کے لیے گیٹ کھلنے کا وقت 12 بجے دوپہر کا مقرر کیا گیا تھا۔ معصوم بچے سبز پرچم ہاتھ میں اٹھائے اور پرچم کے رنگوں سے مزین لباس، ہیٹ زیب تن کیے دھوپ میں کھڑے گیٹ کھلنے کے منتظر تھے۔ ایک جم غفیر تھا جو اندر جانا چاہتا تھا۔

یہ بات بھی درست ہے کہ اس وقت خواص کی آمد اور مزار قائد پر حاضری کا وقت تھا، لیکن انتظامیہ یہ تو کرسکتی تھی کہ گیٹ کے اندر شامیانوں اور ٹھنڈے پانی کا انتظار اور عوام کو اندر آنے کی اجازت ایک مخصوص جگہ میں ضرور دیتی تاکہ وہ لوگ سکھ کا سانس لیتے، بچے ایک محدود حصے میں بھاگ دوڑتے اور آزادی کے دن کو بہتر طریقے سے انجوائے کرتے اور خواص کے وفد کو مختلف رنگوں کے لباس اور یونیفارم میں ملبوس دیکھ کر خوش ہوتے کہ آج انھوں نے بڑی بڑی ان شخصیات کا دیدار کیا ہے جنھیں وہ ٹی وی پر دیکھتے تھے۔

بہر حال کیا کیا جاسکتا ہے، سوائے اس کے کہ آیندہ برس وہ اس بات کا ضرور خیال رکھیں تاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی عظمت کو سلام کرنے والے مایوسی اور پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ مزار قائد جہاں واقع ہے وہاں جگہ کی کمی نہیں ہے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے سب اور خاص طور پر ڈاکٹر مبین اختر اور تحریک کے صدر سید نسیم شاہ نے قائداعظم کے نواسے محمد اسلم جناح اور ان کے خاندان کے لوگوں سے خصوصی ملاقات کی۔ (محمد اسلم جناح) اس عظیم انسان قائد اعظم محمد علی جناح کے خاندان کے فرد کے لیے کوئی پروٹوکول نہیں تھا اور یہ بات ہمارے لیے بے حد تکلیف دہ تھی۔

انھیں وہ مقام و مرتبہ ملنا چاہیے جس کے وہ مستحق ہیں۔ 16 اگست کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کی برسی کا دن تھا۔ اس دن انجمن ترقی اردو کی طرف سے بے حد شان و شوکت کے ساتھ منایا گیا۔ بقول دانشوروں کے اس کا کریڈٹ ڈاکٹر فاطمہ حسن کو جاتا ہے ان کی کاوشوں کی ہی بدولت 16 اگست کو یادگار اس طرح بنایا گیا کہ اس دن صبح 10 بجے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے مزار پر فاتحہ پڑھی گئی اور مہکتے ہوئے سرخ گلاب کے پھولوں کی چادروں سے گل پاشی کی گئی، ہماری تنظیم تحریک نفاذ اردو کی طرف سے بھی پھولوں کا نذرانہ اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ڈاکٹر مبین اختر، نسیم شاہ، فرح اختر، راقم السطور، شبیر انصاری اور تنظیم کے دوسرے حضرات نے بھی بابائے اردو کے مزار پر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی اس موقعے پر ایک پر وقار تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جناب صدر اسلامیہ جمہوریہ ممنون حسین کی تقریر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے پڑھ کر سنائی صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ’’بلا شبہ مولوی عبدالحق عہد ساز دانشور تھے۔ انھوں نے مملکت پاکستان کو انجمن ترقی اردو پاکستان کی صورت میں علم و دانش کا جو اثاثہ بخشا ہے وہ آج بھی ہمارے لیے بیش قیمت سرمایہ ہے۔

یہ ہمارا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے ساتھ اس میں حتی المقدور اضافہ بھی کریں‘‘ مجھے امید ہے کہ آج ان کی روح بھی سرشار ہوگی کہ انجمن مسلسل ترقی کے مراحل سے گزر رہی ہے، بابائے اردو کی خواہش کی تکمیل کے لیے اردو باغ کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، جو انشاء اﷲ پاکستان کا وسیع اور جدید ترین کتب خانہ ہوگا۔ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کراچی جناب شعیب احمد صدیقی نے اپنی تقریر میں کہاکہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی بے پناہ خدمات اور کام نے آج اردو زبان کو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے اور پاکستانی قوم میں یکجہتی پیدا کرنے میں اردو زبان کا بڑا ہاتھ ہے تمام صوبوں نے اردو کے فروغ، اسے اپنانے اور اردو کو بحیثیت قومی زبان اپنانے میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔

آج اردو زبان زندہ ہے وہ پاکستان کے تمام مادری زبان بولنے والوں کی وسعت قلبی اور ان کی محبت کی وجہ سے زندہ ہے‘‘ انھوں نے ڈاکٹر فاطمہ حسن کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت عالی جی کے بعد وہ اس کام کو خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں جناب شعیب صدیقی نے ایک خوش کن خبر یہ سنائی کہ ’’بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بھی نفاذ اردو کا شعبہ فعال کردیاگیا ہے‘‘ تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹر تاج حیدر نے اس بات کی وضاحت کی کہ ’’سندھ حکومت بھی انجمن سے تعاون کرتی رہے گی۔

سندھ حکومت کی طرف سے 10 لاکھ کی گرانٹ کم ہے اس کو بڑھایاجائے گا، نیز یہ کہ اردو کے فروغ کے لیے پارلیمنٹ بھی ایک مجلس قائمہ بنی ہے، میں نے قائمہ کمیٹی کے لیے جو تجاویز رکھی ہیں ان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ہر جامعہ کے شعبہ تصنیف و تالیف کو یہ ذمے داری دی جائے کہ وہ عالمی ادب سے کم از کم سے 30تک مشہور کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرے۔‘‘

ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ماہنامہ قومی زبان کے مدیر ممتاز احمد خان کی محنت ولگن اور کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ’’قومی زبان‘‘ بر وقت اور معیاری انداز میں شایع ہورہاہے۔ انجمن کے متولی اور عالی جی کے صاحبزادے ذوالقرنین جمیل نے بھی مہمانوں سے خطاب کیا اور شکریہ ادا کیا۔انجمن ترقی اردو جہاں علمی و ادبی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے وہاں اردو لغت بورڈ کا معاملہ اس کے برعکس ہے اردو لغت بورڈ کو 1958 میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے قائم کیا تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس اہم ترین ادارے کا کوئی منتظم یا سربراہ موجود نہیں ہے اس طرح اردو لغت بورڈ میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔

ماسوائے اس کے کہ یہ پروجیکٹ 22 جلدوں پر مشتمل تھا اور اردو لغت کی اشاعت 2010 میں مکمل ہوئی۔مذکورہ ادارے کا مقصد اردو میں تاریخی اصولوں پر مرتب اردو لغت کی اشاعت تھی۔ لغت کی 22 جلدیں اب دستیاب نہیں ہیں۔نیز یہ کہ اردو لغت بورڈ میں ایک تاریخی لائبریری بھی شامل ہے جس میں الحمدﷲ13 ہزار نادر کتب موجود ہیں۔ ڈیڑھ ہزار مخطوطات اور ساڑھے سات ہزار کتب کی کیٹلاگ بھی اس ادارے کو اہمیت و افادیت بخشتے ہیں۔

ان تمام نایاب نسخوں سے اسی وقت استفادہ کیا جاسکتا ہے جب اسے لاوارث اور غیر اہم نہ سمجھا جائے۔ اس سے قبل اردو لغت بورڈ میں ڈاکٹر ابو للیث صدیقی، جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر شوکت سبز واری، سحر انصاری، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر شان الحق حقی جیسے اکابرین خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو لغت بورڈ کا سربراہ مقرر کیا جائے تاکہ اردو کو مزید پھیلنے کے مواقعے فراہم ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔