بحرین نے آسٹریلیوی بھیڑیں او آر ایف وائرس کی وجہ سے مسترد کیں

کاشف حسین  ہفتہ 20 اکتوبر 2012
بھیڑوں کو تلف کرنے کا عمل دوبارہ شروع ، پہلے روز 1500سے زائد بھیڑیں تلف۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

بھیڑوں کو تلف کرنے کا عمل دوبارہ شروع ، پہلے روز 1500سے زائد بھیڑیں تلف۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

کراچی: بحرین نے آسٹریلیوی بھیڑیں او آر ایف (Orf)وائرس کی موجودگی کے باعث مسترد کی تھیں۔

بحرین میں پاکستانی سفیر جوہرسلیم کی جانب سے دفتر خارجہ، چیئرمین بورڈ آف ریونیو سندھ اور سیکریٹری لائیو اسٹاک سندھ کو 15اکتوبر 2012کو ارسال کیے گئے فیکس نمبر Pol.8/1012 کے ذریعے بحرین کے حکام کی جانب سے بھیڑیں مسترد کیے جانے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا، اس خط کے مندرجات نے درآمد اور برآمد کنندگان کے ان دعوئوں کی بھی تردید کردی ہے کہ بھیڑوں کو سیاسی یا کمرشل بنیادوںپر مسترد کیا گیا ہے، بھیڑوں کو مسترد کیے جانے کی اصل وجہ سے ابھی تک پردہ نہیں ہٹ سکا تھا، آسٹریلیوی کمپنی کے ایم ڈی نے بھی اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھیڑوں کو مسترد کیے جانے کی اصل وجہ ظاہر نہیں کی تھی۔

وزارت خارجہ نے 26ستمبر اور 11اکتوبر کو اس بارے میں سفیر سے معلومات حاصل کی تھیں، اس دوران بحرین میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے بذریعہ فون بھی معلومات فراہم کی گئی تھیں، اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے بحرین میں پاکستانی سفارتخانے کو 26ستمبر کو فیکس نمبر EC(Misc)-103/2012بھی ارسال کیا تھا، بحرین میں پاکستانی سفیر کی جانب سے دفتر خارجہ اور صوبائی محکموں کو بھیجے گئے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے انڈرسیکریٹری آف ایگری کلچر افیئرز نے بھیڑوں میں Orfکی تصدیق کی ہے، بحرین کے انڈرسیکریٹری کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق 22ہزار بھیڑوں کی کنسائمنٹ کو آف لوڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ قواعدوضوابط کے تحت جہاز پر بھیڑوں کا معائنہ کیا گیا، معائنے کے دوران کچھ بھیڑیں Orfنامی بیماری کا شکار پائی گئیں جس کی وجہ سے 22ہزار بھیڑوں کی شپمنٹ مسترد کردی گئی، واضح رہے کہ او آر ایف نامی بیماری اب تک پاکستان میں نہیں ہے،علاوہ ازیں آسٹریلیوی بھیڑوں کو کلیئر کرنے کے لیے کوئی خفیہ ڈیل نہیں کی گئی۔

بھیڑوں کو تلف کرنے کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا اور پہلے روز 1500سے زائد بھیڑیں تلف کردی گئی ہیں، بھیڑوں کے درآمد کنندگان اور سندھ حکومت کے درمیان راضی نامے کے حوالے سے آسٹریلین ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ خیرمقدمی بیان بھی غلط ثابت ہوگیا ہے، بھیڑوں کو تلف کرنے کے لیے وٹرنری ڈپارٹمنٹ کی ٹیم نے رات کے آخری پہر درآمد کنندگان کے سلاٹر ہائوس پر دستک دی اور امپورٹرکو بذریعہ فون ان کی آمد کی اطلاع دی گئی بھیڑوں کو تلف کیے جانے کا عمل صبح سویرے شروع کردیا گیا، اس موقع پر درآمد کنندگان کے فارم کے اردگرد پولیس کا سخت ترین پہرا لگادیا گیا۔

ادھر وفاقی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے کراچی میں تعینات ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ بھیڑوں کے سلسلے میں خفیہ ڈیل کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں اور تمام بھیڑوں کو سرکاری افسران کی نگرانی میں تلف کیا جارہا ہے، بھیڑوں کو تلف کرنے پر مامور وٹرنری ڈپارٹمنٹ کے افسر عبدالحفیظ شیخ کے مطابق بھیڑوں کو تلف کرنے کا عمل دو سے تین روز میں مکمل کرلیا جائے گا، بھیڑوں کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق اسلامی طریقے سے ذبح کیا جارہا ہے۔

حیرت انگیز طور پر گزشتہ شب آسٹریلیوی ہائی کمیشن کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کی کارروائی کے نتیجے میں درآمد کنندگان اور متعلقہ سرکاری محکمے کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا، آسڑیلین ہائی کمشنر پیٹر ہیوارڈ نے اپنے خیرمقدمی بیان میں کہا تھا کہ بھیڑوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کی کارروائی کے نتیجے میںہونیوالے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت تقریبا 11ہزار بھیڑیں اسی مقصد کے لیے استعمال ہوسکیں گی جس کے لیے انہیں پاکستان برآمد کیا گیاتھا تاہم یہ بیان بھی بھیڑوں کی درآمد سے متعلق دیگر معاملات کی طرح حقائق کے برخلاف ثابت ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔