پاکستان میں صفحہ ہستی سے مٹتی زبانیں!

اعجاز احمد  بدھ 9 ستمبر 2015
پشاور میں پشتو نے ’ہندکو‘ کو تقریباً شہر بدر کردیا ہے۔ ماضی قریب میں ہی پورے صوبے کی پہچان مانی جانے والی یہ اہم ثقافت اب ہزارہ ڈویژن تک محدود ہوگئی ہے.

پشاور میں پشتو نے ’ہندکو‘ کو تقریباً شہر بدر کردیا ہے۔ ماضی قریب میں ہی پورے صوبے کی پہچان مانی جانے والی یہ اہم ثقافت اب ہزارہ ڈویژن تک محدود ہوگئی ہے.

یدغہ، دمیلی، گوارباتی اور اشوجو۔ یہ آسمان سے اتری کسی مخلوق کے نام نہیں ہیں بلکہ مجھے بدقسمتی سے یقین ہے کہ پیارے ہموطنوں کو شائد یہ بھی نہیں معلوم نہیں ہوگا کہ دراصل یہ ہیں کیا۔ ہم شائد یہ بھی نہیں جانتے کہ انکا کوئی تعلق ہمارے ملک سے ہے۔ ہم سے زیادہ انکے بارے میں ’’یونیسکو‘‘ کو علم ہے اور ’’یو ایس ایڈ‘‘ کو انکی فکر۔ ہمارے ملک میں 72 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں یعنی ہمارے ہاں ثقافتی تنوع نہایت وسیع ہے۔ جن میں سے 27 کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ یونیسکو کے مطابق ان 27 میں سے 26 زبانوں کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے جبکہ ان میں سے درجن کے قریب زبان وثقافتوں کو مرجانے یعنی ختم ہونے کا ’شدید‘ خطرہ درپیش ہے۔ درج بالا نام اس صوبے کے طول وعرض میں بولی جانے والی مگر اپنی سانسیں گننے والی چار زبانوں کے ہیں۔ 

شمالی پاکستان میں بولی جانے والی ان زبان وثقافتوں کو معدومیت سے بچانے کیلئے ایک غیرسرکاری و غیرمنافع بخش ادارہ، فورم فار لینگویج انیشی ٹیوز (ایف ایل آئی) گزشتہ 12 سال سے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے ایک منصوبے پر کام کررہی ہے جس میں درج بالا زبانوں کو تحفظ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زبانوں کو انکے بولنے والوں کی تعداد سے ماپا جاتا ہے اور اسی حوالے سے اہمیت دی جاتی ہے حالانکہ انکی اصل اہمیت کہیں اور ہے جسے کھوجنے کی ضرورت ہے۔

مشہور مصنف اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے روسی شاعر رسول حمزہ توف کے ایک شعر کا ترجمہ کیا ہے،

اے عورت
———–
اگر ایک ہزار لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں تو رسول حمزہ بھی ان میں ایک ہوگا
اگر سو لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں تو ان میں رسول کو بھی شامل کرلو
اگر دس لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں، تو ان دس میں رسول حمزہ ضرور ہوگا
اے عورت ! اگر پوری دنیا میں صرف ایک شخص تمھیں پیار کرتا ہے تو وہ مرے سوا کون ہوسکتا ہے
اور اگر تم تنہا اور اداس ہو اور کوئی تمھیں پیار نہیں کرتا تو سمجھ لینا کہیں بلند پہاڑوں میں رسول حمزہ مر چکا ہے”

رسول حمزہ کی شاعری کو تقریباً دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ 1923ء میں کوہ قاف کے دامن میں پیدا ہونے والے اس شاعر کی زبان روسی نہیں بلکہ داغستانی تھی۔ روسی حکومت کا کوئی ایوارڈ ایسا نہیں تھا جسے انہیں عطا نہیں کیا گیا۔ رسول حمزہ روس کے دارلحکومت ماسکو میں لینن اور سٹالین ایوارڈز وصول کرنے ضرور جاتے تھے لیکن پیٹ پالنے اور مزدوری کیلئے انہیں ماسکو کی گلیوں میں دھکے کبھی کھانے نہیں پڑے۔

ہمارے لئے کمال کی بات یہ ہے کہ روسی حکومت نے داغستانی جیسی بولی، جس کے بولنے والوں کی تعداد پاکستان میں کیلاشہ زبان بولنے والوں سے بھی کم تھی کو چھوٹی زبان قرار دیکر نظرانداز کرنے کے بجائے اس ثقافت و زبان کو فروغ دیا۔ کیلاشہ زبان صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں تین چھوٹی چھوٹی وادیوں بمبوریت، بیریر اور رمبور میں بولی جاتی ہے۔ مبینہ طورپر سکندراعظم کیساتھ اس خطے میں آکر آباد ہونے والی اس کمیونٹی نے  چترال اور نورستان (موجودہ افغانستان) میں حکومت قائم کی۔ آج سکڑ کر متذکرہ تین وادیوں تک محدود ہوگئی ہیں جنکی تعداد کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا جائے تو پانچ ہزار ہے جبکہ یہ زبان بولنے والوں کی تعداد میں ہم ان نو مسلموں کو شامل کرکے چھ ہزار تک گن سکتے ہیں جو بہرحال اپنی زبان بول لیتے ہیں لیکن انکے بچوں کے بارے میں یقین ہے کہ وہ کیلاشہ زبان کو نظر انداز کردیں گے۔ کیلاش کمیونٹی اور کیلاشہ زبان وثقافت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

سوات میں مدین کے قریب ایک قریہ، بشی گرام میں ’بدیشی‘ زبان کا راج تھا، آج اس کے بولنے والوں کی تعداد صرف دو، جی ہاں صرف دو(02) رہ گئی ہے، وہ بھی اسی (80) کے پیٹے میں ہیں یعنی ہماری سرزمین سے ایک اور خوبصورت ثقافت کی نبض ڈانواڈول ہوگئی ہے وہ کسی بھی لمحے ختم ہوسکتی ہے۔

زیریں چترال میں دروش کے قریب گاوں، کلکٹک میں پانچ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق وہ نورستان، افغانستان سے آئے ہیں۔ وہ آپس میں شیخانی زبان میں ہمکلام ہوتے ہیں، بازار میں پشتو اورکھوار سے کام چلاتے ہیں، آس پاس کے لوگوں کیساتھ بات چیت کیلئے ’پلولہ‘ سیکھ چکے ہیں جبکہ قریب ہونیکی بناء پر وہ کیلاشہ زبان سے بھی آشنا ہیں۔ اس صورت میں انکی اپنی شناخت، شیخانی پر کتنا دباو ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔

پشاور میں پشتو نے ’ہندکو‘ کوتقریباً شہر بدر کردیا ہے۔ ماضی قریب میں ہی پورے صوبے کی پہچان مانی جانے والی یہ اہم ثقافت اب ہزارہ ڈویژن تک محدود ہوگئی ہے جہاں اس کا واسطہ  قومی زبان اردو سے پڑگیا ہے اور عالمی اداروں اور لسانی ماہرین کو اس کا مستقبل تابناک نہیں دکھ رہا۔ یہی حال ملک کی سب سے بڑی زبان پنجابی کا ہے۔ ہندکو کے ختم ہونے کا سب سے بڑا سبب جہاں آپس کی شادیاں اور شہروں کی وسعت میں بے دریغ اضافہ اور آبادی کی بے ہنگم منتقلی ہے وہاں پنجابی کو ان مسائل کیساتھ ایک دوسرا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ مشہور قدیم اور صوفیاء کی یہ زبان ماوں کی توجہ سے محروم ہے۔ خواتین پنجابی زبان بولنے سے بوجوہ کتراتی ہیں اور بچوں کو بھی اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کراچی میں پنجابی کمیونٹی کی ایک قابل توجہ تعداد قیام پزیر ہونے کے باوجود شہر کراچی سے پنجابی زبان حقیقتاً ناپید ہے۔

ملک کے کونے کونے میں بولی جانے والی تمام زبانوں کا حال کم وبیش ویسا ہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ چترال میں بڑی زبان کھوار ہے۔ کھوار زبان پر زیادہ کام ہونے اور خصوصاً کھوار زبان میں زبردست شاعری اور موسیقی کی وجہ سے چترال کی دیگر زبانیں بولنے والے نوجوان اپنی اپنی زبانوں کو اہمیت نہیں دیتے (گوکہ خود کھوار بھی مقامی زبان ہونے کے ناطے اردو اور پشتو سے اپنی بقاء کی جنگ میں مصروف ہے)۔ انکی موجودہ نسل کسی نہ کسی شکل میں اپنی ثقافت کی پاسبانی کررہی ہے لیکن ان زبانوں خصوصا ’یدغہ، گوارباتی اور دمیلی‘ جبکہ سوات میں ’اوشوجو‘ پر چونکہ تاحال کوئی کام نہیں ہوا، یا بہت ابتدائی سطح پر ہے تو ماہرین کو انکے بارے میں تشویش بے جا نہیں ہے۔

یو ایس ایڈ نے ان زبانوں کی دستاویز بندی کیلئے مالی اعانت فراہم کی ہے۔ اس تعاون سے ایف ایل آئی نے مقامی محقیقین کو زبان کی دستاویز بندی، لغت سازی، حروف تہجی مرتب کرنے، لوک کہانیوں، محاورات، ضرب المثال اور کہاوتوں کو پہلے مقامی لوگوں کی آواز میں ریکارڈ کرنے پھر انہیں قرطاس پر اتارکر محفوظ کرنے اور مقامی کمیونٹی میں سے ہی لوگوں کو تربیت دیکر اپنی زبان میں کتاب شائع کرنے کیلئے تربیت اور وسائل کا اہتمام کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت مذکورہ چار زبانوں میں کم ازکم دو دو کتابوں کی اشاعت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ایف ایل آئی معدومیت کے خطرے سے دوچار شمالی پاکستان کی دیگر زبانوں پر بھی کام کیلئے مختلف اداروں سے تعاون حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اس کاوش سے مذکورہ زبانوں کے الفاظ یا زیادہ سے زیادہ چند سیڈیز پر مشتمل انکی آواز تو محفوظ ہوگی لیکن زبانوں کی عدم سرپرستی کا یہ رجحان قائم رہا تو عین ممکن ہے ان کے بولنے والے شائد موجود نہ رہیں اور ان کوششوں سے ہم اگلی نسل کو صرف کہانیاں ہی منتقل کرسکیں گے جبکہ یہ ثقافتیں ڈائنوسارز کی مانند ناپید ہوں گی۔

پشاورکے ڈبگری مارکیٹ میں دن رات ایک کرنے والے دیر کوستان کے مزدور کو اپنے بال بچوں کے پیٹ کی زیادہ فکر ہے، اسکے بچے پشتو بولیں گے تو کچھ پاسکتے ہیں، انکی ثقافت اس وقت انکی ترجیح نہیں ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کوہستان کی پہاڑیوں کو اپنا سب کچھ جان کر انکی محبت میں گانے والا ادھر ہی اپنا شکم سیر کرکے سوئے۔ گوادر کے ساحل پر پل بڑھنے والے اپنا سب کچھ چھوڑ کر سیالکوٹ کی تبتی گرمی میں خوار نہ ہوں۔

چترال میں مقیم اسماعیلی کمیونٹی اپنی تمام رسومات مناتی ہے جبکہ روزی روٹی کیلئے کراچی کے کریم آباد، گارڈن اور پشاور کی امین کالونی میں رہائش پزیر اس کمیونٹی کے افراد اپنے تہوار بھی خاموشی سے گزارتے ہیں، وجہ سب پر عیاں ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو چند سال بعد اسماعیلی کلچر بھی نام کا رہے گا اور ہماری نسلوں کو کسی عطاء لحق قاسمی یا ایاز امیر کے مضامین پڑھنے  پڑیں گے جسطرح آج کی نسل پنجابی ثقافت کے گمشدہ حصوں کو جاننے کیلئے انہیں پڑھ رہے ہیں۔

اسلئے آج ہی اس پر توجہ دیں۔ غیرسرکاری تنظیمیں اپنا کام کررہی ہیں۔ حکومت بھی اس جانب توجہ دیکر اپنے حصے کا کام سرانجام دے۔ لوگوں کو انکی دہلیز پر سہولیات بہم پہنچانا، انکے مسائل حل کرنا، ان کے گھروں کے قریب انکے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا صرف سیاسی نعرے کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی کچھ نظر آنا چاہئے۔ مسلسل نقل مکانی سے ایک طرف شہروں کا حجم بڑھتا جارہا ہے، شہروں کی صورتحال بکڑتی جارہی ہے تو دوسری طرف ہماری ثقافتیں دم توڑرہی ہیں۔ یقین کرلیں کہ اپنے ثقافتی تنوع کو تحفظ دیتے ہوئے ہم اپنے کتنے منسلکہ مسائل بھی حل کرسکتے ہیں۔ اچھا وقت آجائے گا، ہمیں بھی بظاہر ان غیر اہم شعبہ جات پر توجہ مرکوز کرنے کی فرصت مل جائے گی، ہمیں بھی ثقافت کی اہمیت، زبان کی خوبصورتی اور اپنے ملک کے اس تنوع کو اپنی دولت قرار دینے کا احساس ہوجائے گا لیکن خدشہ یہ ہے کہ وہ اچھا دور آتے آتے کہیں ہم اپنی یہ خوبصورتیاں کھونہ دیں۔

کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صفحہ ہستی سے مٹتی زبانوں کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے [email protected] ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد غیر سرکاری تنظیم فورم فار لینگوئیج انیشی ایٹوز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: EjazAhmed36@



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔