بُک شیلف

شاعر اپنے دل و دماغ پر بیتنے والے خیالات کو خوبصورت انداز میں دوسروں تک پہنچاتا ہے :فوٹو: فائل

شاعر اپنے دل و دماغ پر بیتنے والے خیالات کو خوبصورت انداز میں دوسروں تک پہنچاتا ہے :فوٹو: فائل

Un Law on Terrorism
مرتبہ:احمر بلال صوفی
ناشر: بک ہوم، بک سٹریٹ، 49۔ مزنگ روڈ، لاہور۔فون نمبر:37245072

تاریخ انسان میں واقعہ نائن الیون یوں خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے تحریک آزادی اور دہشت گردی کے معنی گڈمڈ کردیئے۔ 11 ستمبر 2011ء سے پہلے مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین، فلپائن، تھائی لینڈ وغیرہ میں لاکھوں مسلمان استعمار سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر مسلح جدوجہد کررہے تھے۔ مغربی ممالک بالعموم ان تحریکوں کے مخالف تھے، مگر کھلم کھلا انہیں دہشت گردی سے تشبیہ نہ دی جاتی بلکہ انسانی حقوق کی اکثر مغربی تنظیمیں مقہور مسلمان کی حالت زار سامنے لاتیں۔

واقعہ نائن الیون کے بعد خصوصاً مسلمانوں کی چلائی تحاریک آزادی دہشت گردی قرار پائیں۔ حتیٰ کہ مغربی ممالک نے مسلم ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ کشمیر، فلسطین، چیچنیا وغیرہ میں برسرپیکار مجاہدین کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں۔ غرض واقعہ نائن الیون نے یک دم مظلوموں کو دہشت گرد بنادیا، جبکہ ظالم قانون و انصاف کے رکھوالے بن بیٹھے۔ بدلتا ہے زمانہ رنگ کیسے کیسے!

1999ء سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل بھی عالمی ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف کئی قراردادیں پیش کرچکی۔ انہی میں سے اہم قراردادیں زیرتبصرہ کتاب میں شامل ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اقوام متحدہ مغربی طاقتوں کے زیر اثر اور ان کی لونڈی ہے۔ اسی لیے ان قراردادوں میں مخصوص مغربی نکتہ نظر نمایاں ہے۔ جو خاص طور پر مسلمانوں کی چلائی تحاریک آزادی کو دہشت گردی کا ہم مترادف سمجھتا ہے۔ پھر بھی دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے وضع کردہ عالمی قوانین سمجھنے اور جاننے کے لیے ان قراردادوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ مغربی انداز فکر کماحقہ انداز میں اجاگر کرتی ہیں۔

کتاب کے مرتب ممتاز وکیل اور بین الاقوامی قانون کے ماہر ہیں۔ انہوں نے عرق ریزی اور محنت سے سکیورٹی کونسل کی بکھری 52 ریزویشنز کتاب میں جمع کی ہیں۔ ناشر نے بھی اسے معیاری انداز میں شائع کیا۔ بین الاقوامی قانون اور دہشت گردی کے قانونی پہلو سے رغبت رکھنے والے اسے قیمتی دستاویز پائیں گے۔

FROM KUTCH TO TASHKENT
THE INDO PAKISTAN WAR OF 1965


کسی تنازع میں جو فریق جھوٹا ہوتا ہے‘ جس نے زیادتی کا ارتکاب کیا ہوتاہے‘ اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ معاملے کی تفصیلات اور تاریخی پس منظر میں ابہام پیدا کرے۔ وہ شعوری طور پر تنازعہ کے اصل خانے کو مسخ کرنے پر آمادہ رہتا ہے تاکہ یہ اتنا گنجلک ہو جائے کہ اسے سلجھانے کی ہر کوشش ناکامی سے دو چار ہو۔

اس کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ تنازع کو حل کرنے کی کسی کوشش کا ساتھ دینا اگر بین ا لاقوامی سطح پر مجبوری بن جائے تو اس کو مختلف حیلوں بہانوں سے ملتوی کیا جا ئے‘ اس کی پیش رفت کی رفتار اتنی کم رکھی جائے کہ جو فریق اس پر پیش رفت چاہتے ہیں ان کا صبر جواب دے جائے‘ نتیجہ میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو اور صورتحال ایسی ہو جائے کہ سنجیدہ کوشش سے فرار کا کوئی بہانہ میسر آ جائے۔

دوسری جانب جو فریق حق پر ہوتا ہے وہ چاہتا ہے کہ معاملہ میز پر آئے دنیا اس کو دیکھے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس کا دعویٰ مبنی بر حق ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر بھی ایسی نفسیاتی کشمکش کی بہترین مثال ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں بھارت کشمیر کے جس علاقے پر قابض ہو چکا ہے‘ تقسیم کے لئے طے شدہ اصول وضوابط کی پاسداری کے نتیجے میں وہ اس علاقے کی بھارت میں شمولیت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

جہاں بھارت اس معاملے کو پیچیدہ بنانے اور زیر التوا رکھنے پر ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اسی طرح پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کے احیاء کی کوشش کرے۔ دوسری طرف علمی سطح پر ایسے تحقیقی کام کی ضرورت ہے جو اس تنازع کے اصل حقائق پر وقت کی گرد نہ جمنے دے اور انہیں نئی نسلوں کے لئے آسان اور مدلل انداز میں پیش کرے۔ حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جسے بجا طور پر مسئلہ کشمیر اور جنگ ستمبر1965ء پر ایک قابل تحسین تحقیقی کام قرار دیا جا سکتا ہے اس کتاب کا نام
FROM KUTCH TO TASHKENT
THE INDO PAKISTAN WAR OF 1965

ہے اور اس کے مصنف فاروق باوجودہ ہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے والے فاروق باجوہ کی اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ پر بھی نہایت اہم تحقیقی کتاب

PAKISTAN: AN HISTORIC AND CON TEMPORARY LOOK
بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ جسے بجا طور پر تاریخ پاکستان پر انتہائی مستند تصنیف قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کی زیر نظر کتاب بھی اسی اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ مصنف نے پوری دیانت اور غیر جانبداری کے ساتھ حالات وواقعات کوپیش کیا ہے اوران کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ مصنف کا کوئی ایک بیان بھی ایسا نہیں جسے مضبوط حوالوں اور محکم دلیل کی سند حاصل نہ ہو۔

پاکستان کی موجودہ نسل کو تنازع کشمیر کی اصل حقیقت سے روشناس کرانے میں زیر نظر کتاب اور اس جیسی دیگر تصانیف غیر معمولی کردار اداکر سکتی ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ پاکستانی عوام کو کشمیر پر اپنے مؤقف کے بہترین دفاع اور جنگ ستمبر سے متعلق تمام ضروری معلومات سے لیس کر سکتا ہے۔ یہ کتاب القا پبلی کیشنز -12کے مین بلیوارڈ گلبرگ 2 لاہور نے شائع کی ہے۔415صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 995روپے ہے۔

’’ چرغ ِنیلی فام سے پرے ‘‘اور’’ متاعِ دل ‘‘
شاعر: ڈاکٹر محمد اسلم نوری اور انوارالدین انوار
قیمت :400روپے۔۔۔ناشر: نسیم شہناز اسلم ، 155/Gمرغزار کالونی ، ملتان روڈ ، لاہور


زیر تبصرہ کتاب میں دو شعری مجموعوں کو یک جا کرکے دو حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے حصہ اول ،’’ چرغِ نیلی فام سے پرے ‘‘ کے نام سے ہے جس کے شاعر ڈاکٹر محمد اسلم نوری ہیں اور حصہ دوم ’’ متاعِ دل ‘‘ کے نام سے ہے اور اس کے شاعر انوارالدین انوار ہیں ۔

اول الذکر شاعر کا یہ تیسرا مجموعہ کلام اور ثانی الذکر کا دوسرا شعری مجموعہ ہے ۔یہ مجموعہ کلام حمدونعت ، ملی اور اصلاحی نظموں ، غزلوں اور متفرق موضوعات پر مشتمل نظموں پر مشتمل ہے دونوں شعری مجموعوں میں سماجی اور اخلاقی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے اور اخلاقی اقدار اور انفرادی اوصاف کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔’’ ’’ چرغِ نیلی فام سے پرے ‘‘ اور ’’ متاعِ دل ‘‘ کے شاعر وں نے اپنے جذبات و احساسات کو شعری روپ میں پیش کیاہے اور اس میں قواعد و شعری لوازمات ، اوزان و بحور کی پابندی کو سردرد نہیں بنایا گیاجو پیغام وہ اپنے قارئین کو کو دینا چاہتے تھے وہ سادہ پیرائے میں دینے میں کامیاب رہے ہیں ۔

پندھ حرمین شریفین دا
مصنف: ملک محمد ایاز
ناشر: میراں جی پبلی کیشنز،مین بلیوارڈ ڈیفنس ،لاہور


پنجابی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب دراصل مصنف ملک محمد ایاز کے سفر کی روداد ہے جو انہوں نے حج اورعمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں حجا زمقدس کے کیے ہیں۔انہوں نے حج کے علاوہ چھ عمرے کیے ہیں اور وطن عزیز سے سفرآغاز کرنے سے لے کر سعودی عرب پہنچنے تک اور پھر مکہ اور مدینہ میں قیام اور اس دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کاتذکرہ کیاگیا ہے ۔

مصنف نے فریضہ ء حج کی ادائیگی اور عمر ہ کے دوران ان احساسات و کیفیات اور واردات کو بھی بیان کیا ہے جو دل پر گزرتی ہیں اسے ڈائری یا روزنامچہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ان کا انداز بیاں بڑا سادہ ، عام فہم اور جذب و عقیدت میں ڈوبا ہواہے۔پیرائیہ اظہار ایسا ہے کہ قاری بھی خود کو مصنف کے ساتھ سفر کرتا او ر انہی کیفیات سے گزرتا محسوس کرتا ہے ۔کتاب میں اہم مقامات کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جن سے کتاب میں مزید جازبیت پیدا ہوگئی ہے۔مضبوط جِلد اور خوبصورت ٹائٹل مصنف اور ناشر کے ذوق کا پتہ دیتے ہیں ۔آج کل حج کا سیزن ہے عازمین حج کے لیے یہ کتاب رہنمائی فراہم کرسکتی ہے۔

پرچول
مصنف: ملک محمد ایاز۔۔۔۔قیمت: 450 روپے
ناشر: میراں جی پبلی کیشنز ، ڈیفنس ،لاہور


ملک محمد ایاز ایک سابق بینکار ہیں ۔وہ اسٹیٹ بینک مین آفیسر رہے ہیں ۔ریٹائرمنٹ کے بعد مطالعہ اور تحریر سے ناتا جوڑ رکھا ہے ۔انہوںنے پنجابی زبان کو وسیلہ اظہار بنایا ہے۔ ان کی زیر تبصرہ کتاب ’’پرچول‘‘ ان کے ادبی ذوق کی آئینہ دار ہے ۔کتاب تین حصوں یا ابواب پر مشتمل ہے ۔پہلا باب پنجابی زبان کے بارے میں کھوج یا تحقیق سے متعلق ہے جس میں انہوںنے پنجابی زبان کے آغاز اس کی origin، اس کی تاریخ ، اس کے ارتقااور اہمیت پر بحث کی ہے اورمختلف کتابوں کے حوالے بھی دیئے ہیں ۔

بلاشبہ اس موضوع پر پہلے بھی کتب موجود ہیں اور اس باب میں انہی سے خوشہ چینی کرتے ہوئے زبان کے ڈانڈے ہڑپہ ،موہنجو ڈارواور ٹیکسلا سے ملائے ہیں۔ دوسرا باب صوفی ، تصوف اور صوفی شعراء کے بارے میں ہے۔اس طرح ایک طرف صوفیاء کے طرز زندگی اور کلام کی مدد سے اس دور کی زبان اورلہجوں سے آگاہی ملتی ہے تو دوسری طرف اس دور کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حوالے سے حالات وواقعات کا پتہ چلتاہے ۔

تیسرا باب پنجاب کے صوفی شعراء حضرت بابا فرید گنج شکرؒ ، حضرت شاہ حسین ؒ ، حضرت سلطان باہوؒ ، حضرت بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ اور حضرت خواجہ فرید ؒ کی زندگی ، ان کی شاعری، فکر، پیغام اور تعلیمات کے بارے میں ہے۔انہوںنے ان صوفیاء کے نظریہ اور فلسفہ زندگی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔جو ایک اچھی کاوش ہے۔پنجابی زبان و ادب کے طلبہ کیلئے یہ کتاب لائق ِمطالعہ ہے۔

کسک
شاعرہ: راحت عرفان
پبلشر: ضیائے ادب ،اردو بازار، لاہور


شاعری محسوسات اور آگہی کا سفر ہے، شاعر اپنے دل و دماغ پر بیتنے والے خیالات کو خوبصورت انداز میں دوسروں تک پہنچاتا ہے ۔ راحت عرفان شعبہ درس و تدریس سے وابستہ رہی ہیں ۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کے دوران ہی شاعری کو اپنے دل کی بات کہنے کا ذریعہ بنا لیا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا شعری مجموعہ طویل عرصے کے بعد ہمارے سامنے آیا ۔ انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور چھوٹے چھوٹے دکھوں ، کچھ سہانی ، کچھ تلخ یادوں ، کچھ جلتی بجھتی امیدوں کو لفظوں کی مالا میں پرو کر آپ کے سامنے خلوص سے پیش کر دیا ہے۔ وہ دل کی بات دل تک پہنچانا چاہتی ہیں ۔

وہ لفظ سے نکل کر دل میں اتر جانا چاہتی ہیں اور اس کوشش میں کامیاب نظر آتی ہیں ۔ ان کی شاعری میں توازن اور اعتدال نظر آتا ہے ۔ ان کی سوچ باسی پھولوں کی طرح نہیں بلکہ اس میں تازہ شگفتہ کلیوں کی مہک محسوس ہوتی ہے ۔ اپنی ذات کی شناخت اور خود شناسی نے ان کے شعروں کو جمال بخشا ہے ۔ راحت عرفان کے لہجے کی بے تکلفی دوسروں کو دوستی پر ابھارتی ہے ۔ ان کی شاعری ہم سے مکالمہ کرتی ہے اور ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

چڑھتے سورج کے دیس میں(سفرنامہ)
مصنف: ڈاکٹرآصف محمود جاہ۔۔۔۔قیمت: 300 روپے
ناشر:گوہر پبلی کیشنز، سیدپلازہ فسٹ فلور، A-3 چیٹرجی روڈلاہور


ڈاکٹرآصف محمود جاہ کسٹم کے محکمہ میں اعلیٰ افسر ہیں، بنیادی طورپر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور زیرنظرسفرنامہ دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ ایک اچھے مسافر اور سفرنامہ نگار بھی ہیں۔ کسٹم افسر وہ لگتے نہیں اپنی سادہ ، درویشانہ اور ہمدردانہ شخصیت کے سبب، البتہ وہ ڈاکٹر خوب لگتے ہیں کہ پاکستان میں جہاں آفت لوگوں کو متاثر کرتی ہے، یہ ہفتوں تک وہاں پائے جاتے ہیں، مصیبت کے ماروں کاعلاج معالجہ، ان کی رہائش اور دیگرضروریات پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

رہی بات ان کے سفرنامہ نگار ہونے کی، آج تک بہت سے سفرنامے دیکھنے کو ملے، ہرایک میں مسافروں کی ترجیحات کچھ اور ہی نظرآئیں تاہم زیرنظرسفرنامہ منفرد ہے۔ بقول ڈاکٹرصاحب’’ جاپان کا یہ سفر بہت یادگار، تفریحی اور معلوماتی رہا۔ جہاں جاپانیوں کی اچھی عادات نے متاثر کیا، وہیں ان کی مذہب سے دوری، اخلاقی بے راہ روی وغیرہ دیکھ کر دکھ بھی بہت ہوا۔ پورے مہینے کی داستان کو ڈائری کی شکل میں لکھ کر پیش کردیا ہے۔

اس ڈائری میں جاپانی معاشرے کے خدوخال، وہاں کے کلچر، رہن سہن اور اعلیٰ روایات کی تھوڑی بہت عکاسی کی گئی ہے۔ جاپانی بہت پیارے، محبت کرنے والے، بااخلاق، محنتی اور جانفشاں لوگ ہیں اور اپنی انہی خوبیوں کی بنا پر انھوں نے پوری دنیا سے اپنا لوہامنوایا ہے۔‘‘

سفرنامہ مسافرکی طرح خالص ہے، تصنع سے مکمل طورپر پاک لیکن مقصدیت سے بھرپور۔ یہ سفرنامہ سبق آموز ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیابیوں کے دروازے کیسے کھولے جاتے ہیں۔

ملانصرالدین کی کہانیاں
مرتب:شاہداقبال۔۔۔۔۔قیمت:380روپے
ناشر:بک کارنرشوروم بالمقابل اقبال لائبریری، بک سٹریٹ جہلم


ملا، خواجہ اور حکیم نصرالدین، ترکی کا اسی طرح مشہور مزاحیہ کردار ہے جیسے شیخ چلّی یا ملادوپیازہ ہیں۔ اگرچہ دیگرمتعدد ممالک افغانستان، ایران اور ازبکستان کا بھی دعویٰ ہے کہ ملا نصرالدین ان کے تھے تاہم زیادہ روایات ترکی کے حق میں ہیں۔ انھوں نے اناطولیہ میں زندگی بسر کی۔ ان کا دور تیرھویں صدی عیسوی کا ہے۔

ترکی میں ملا نصرالدین کے قصے بڑے مزے لے کر آج بھی بیان کئے جاتے ہیں۔کہاجاتاہے کہ ملا نصرالدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح بذریعہ مزاح کرنے کے لیے وہ بے وقوف بنا رہتا اور ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کے دوہرے ہوجاتے۔ ملا کی وہ کہانیاں جو مشرق وسطیٰ اور اردگرد کے خطے کے ممالک میں پڑھی یا سنی جاتی ہیں، خاصی دلچسپ ہیں۔ ملا نصرالدین کی کہانیوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف مزاحیہ ہیں بلکہ اخلاقی سبق سے بھی مالامال ہوتی ہیں، اسی طرح فلسفیانہ اور فکری لحاظ سے بھی یہ کہانیاں نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کے کئی خطوں میں داخل ہوئیں۔یوں یہ کہانیاں مختلف تہذیبوں کا حصہ بن گئیں۔

زیرنظرکتاب ملا کی 136 بالتصویرکہانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا ٹائٹل دیکھتے ہی آپ کی ہنسی کا فوارہ چھوٹ جائے گا۔ باقی رہے آپ کے بچے، یہ کہانیاں بنیادی طورپر انہی کے لئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔