راتوں رات امیر بننے کی ہوس نے گھر کے لاڈلے کی جان لے لی

نور محمد سومرو  ہفتہ 20 اکتوبر 2012
رات کے اندھیرے میں مقتول کی لاش کو ایئر پورٹ کے نزدیک کھیتوں میں پھینک دیا گیا۔  فوٹو : فائل

رات کے اندھیرے میں مقتول کی لاش کو ایئر پورٹ کے نزدیک کھیتوں میں پھینک دیا گیا۔ فوٹو : فائل

رحیم یار خان: جب زمانہ جاہلیت میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں شروع ہوتیں اور پھر یہ جب جنگ و جدل میں بدل جاتیں تو نعشوں کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔

اس دور میں یہ صرف اس لیے ہوتا تھا کہ تب انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہ تھا۔ دین کی کرنوں نے جب جاہلیت میں مبتلا انسان کے دل کو منور کیا تو شعور بیدار ہوا اور پھر نبی آخر الزمان حضور نبی کریمﷺ نے فتح مکہ کے خطبہ میں فرمایا کہ ’’اے لوگو! آج تم پر تمہارا دین مکمل کر دیا گیا‘ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں، آج کے بعد سب برابر ہیں اور تم سب بھائی بھائی ہو اور تمہارا خون ایک دوسرے پر حرام ہے‘‘۔

اسی طرح شیطان نے جب اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ مجھے بندوں کو قیامت تک گمراہ کرنے کی اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے بندے ہوں گے وہ تیری راہ پر نہیں چلیں گے لیکن شیطان کی راہ پر چلنے والے بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ شیطان کے ان پیروکاروں نے آج بھی اپنے کھیل کو جاری رکھا ہوا ہے مگر یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز اور ظالم کی رسی دراز ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ دراز رسی کھینچتا ہے تو ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے اور مظلوم انصاف پاتا ہے، سچ ہے کہ خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں‘ تین سال بعد سنایا جانے والا عدالتی فیصلہ مقتول نوجوان کے ضعیف والدین کو مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ جہاں نشان عبرت بنا وہاں لوگوں کے لیے انصاف کا علم بھی بلند ہوا۔

زرگر رانا توحید احمد کا نوجوان بیٹا رانا جنید 2009ء میں امتحان سے فراغت کے بعد مقامی سطح پر کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنے جاتا تھا کہ نیٹ کیفے کے مالک احسن جہانزیب اور اس کے دوستوں محمد افضل اور محمد اعظم نے راتوں رات امیر بننے کے لیے 22 اگست 2009ء کے دن رانا جنید احمد کو اغوا کرتے ہوئے اس کے والد سے 5 لاکھ روپے تاوان طلب کر لیا۔

اغوا کی واردات نے صرافہ برادری سمیت دیگر شہریوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا‘ مغوی کے والدین نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے نیٹ کیفے کے مالک پر مقدمہ درج کرایا تو بی ڈویژن پولیس انسپکٹر جمشید علی شاہ اور تفتیشی عبداللطیف کیانی نے ملزم احسن جہانزیب کو گرفتار کر کے پولیس کے روایتی انداز میں تفتیش شروع کی تو ملزم نے اقرار جرم کرتے ہوئے واردات کی ساری روداد بیان کر دی۔

واقعات کے مطابق تینوں ملزمان رانا جنید احمد کو اغوا کرنے کے بعد ملزم محمد افضل کے گھر واقع دستگیر کالونی لے گئے تھے اور چائے میں نشہ آور گولیاں پلا کر بے ہوش کرنے کے بعد رسی سے اس کے ہاتھ پائوں باندھ دیے اور رانا توحید سے بچے کی بازیابی کے عوض 5 لاکھ تاوان کا مطالبہ کیا۔

مرکزی چیئرمین پاکستان صرافہ ڈویلپمنٹ فائونڈیشن رانا امیر محمد خان سمیت صرافہ و تاجر برادری اور شہریوں نے واردات کی شدید مذمت کی۔ رسی میں بندھے نوجوان جنید نے جب ہوش میں آنے کے بعد واویلا کرنا شروع کر دیا تو ملزمان نے راز فاش ہونے اور گرفتاری کے خوف سے جنید احمد کو گلا دباکر قتل کر دیا ۔

رات کے اندھیرے میں مقتول کی لاش کو ایئر پورٹ کے نزدیک کھیتوں میں پھینک آئے اور خود مطمئن ہو گئے کہ انہوں نے واردات کے سارے ثبوت ختم کر دیئے ہیں مگر جب پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا تو ملزمان سے مقتول کے جوتے، لاکٹ، چین، انگوٹھی، کالنگ کارڈ اور گھڑی سمیت وہ کپڑا جس سے گلا دبا کر مارا گیا اور رسی جس سے باندھا گیا سب کچھ برآمد ہو گیا۔

مقتول جنید فرسٹ ایئر کا طالب علم بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا، گھر والوں کا لاڈلا اور خاندان کا پیارا تھا‘ مگر اس کی ابترشدہ لاش کو دیکھ کر جہاں والدین بے ہوش ہو گئے تو دوسری جانب بہن بھائیوں پربھی غشی کے دورے پڑنے لگے، اس دن ہر شخص کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا‘ یا اللہ قاتلوں کو عبرت ناک سزا دینا۔

تین سال کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے استغاثہ کے گواہان پر جرح کر کے بیانات میں تضاد اور ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر انسداد دہشت گردی بہاولپور کے جج مسٹر جسٹس سہیل اکرم نے وکلا کی بحث کے بعد جو فیصلہ دیا اس نے انصاف کا بول بالا کر دیا۔

ملزمان محمد اعظم اور محمد افضل کو قتل کی دفعہ 302 میں سزائے موت، اغوا و دیگر الزامات کے تحت عمر قید اور ملزمان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم بھی سنایا جبکہ تیسرا ملزم احسن جہانزیب جو فیصلے سے دو ماہ قبل بہاولپور کورٹ میں موجود بخشی خانے کی سلاخیں توڑ کر پولیس حراست سے فرار ہو چکا تھا اور وہ اس وقت عدالتی مفرور و اشتہاری ہے اُس کی گرفتاری کے لیے پنجاب پولیس کوشاں ہے۔

انسانی زندگیوں سے کھیلا جانے والا یہ کھیل ازل سے جاری ہے۔ اغوا برائے تاوان اور معصوم نوجوان کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی توتین سال سے عدالت کی چوکھٹ پر بیٹھے ضعیف والدین کو انصاف مل گیا
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے جرم کی حوصلہ شکنی اور جرائم کا خاتمہ ہوگا؟ مقتول کے والد رانا توحید احمد کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ سے ہم سب مطمئن اور اللہ کی رضا پر راضی ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ انہوں نے قاتلوں کا پردہ فاش کیا اور ہماری مدد فرمائی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔