اے مسیحاؤ، کیوں قاتل بنتے ہو؟

نور پامیری  بدھ 16 ستمبر 2015
ڈاکٹروں کی موجودگی کے باوجود مریضوں کا موت کے منہ میں چلے جانا ایک اندوہناک المیہ اورلمحہِ فکریہ ہے۔ فوٹو فائل

ڈاکٹروں کی موجودگی کے باوجود مریضوں کا موت کے منہ میں چلے جانا ایک اندوہناک المیہ اورلمحہِ فکریہ ہے۔ فوٹو فائل

گذشتہ دو ہفتوں سے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کراچی میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہڑتالوں کی موجودہ لہر کچھ سالوں سے جاری تنخواہ بڑھاؤ، ترقی دلاؤ، الاونس بڑھاؤ تحریک کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ ہڑتالوں نے پہلے سے ہی درہم برہم صحتِ عامہ کے نظام کا دھڑن تختہ کردیا ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے بہت سارے لوگ پریشان ہیں۔ بہت سے افراد کو غصہ بھی آرہا ہوگا۔ کچھ کو ہڑتال کرنے والوں سے نفرت بھی ہوگئی ہوگی، کیونکہ خبروں کے مطابق بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے صرف کراچی میں کم ازکم 9 افراد اپنی جاںوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹروں کی موجودگی کے باوجود مریضوں کا موت کے منہ میں چلے جانا ایک اندوہناک المیہ اورلمحہِ فکریہ ہے۔

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ ڈاکٹرز اور طِب کے پیشے سے منسلک افراد کے بہت سارے مسائل ہیں، جن کو فوری طور پر حل ہوجانا چاہیے۔ ڈاکٹرز طویل عرصے تک میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز میں مغز کھپانے کے بعد اگر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا سامان پیدا نہ کرسکے تو اس کی وجہ سے جھنجھلاہٹ، بے چینی اور ناراضگی کا پیدا ہونا قابلِ فہم ہے، اور یقینًا ایک جمہوری نظام میں اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کرنا ان کا قانونی اور اخلاقی حق بھی ہے۔

ان سب باتوں سے انکار اور حقیقتوں سے فرار ممکن نہیں ہے، لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے آئے روز ہڑتالوں کی وجہ سے امیروکبیر وزیروں، مشیروں اور بابوؤں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے؟ کیونکہ ہڑتال کے دوران علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے سرکاری اسپتال کے سامنے اسٹریچر پر (اگر خوش قسمتی سے دستیاب ہو تو)  یا زمین پر، یا پھر غلیظ راہداری میں مرتا ہے تو کوئی غریب مرتا ہے۔

کیا آپ تمام معزز طبیبانِ باشعور وغیور کو معلوم نہیں ہے کہ ہمارے جمہوری طور پر منتخب رہنما، ان کے بچے، ہمارے ملک کے افسرانِ شاہی اور ان کے بچے علاج معالجے کے لئے نجی اسپتالوں  کا رخ کرتے ہیں یا پھر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اس حقیقت سے واقف ہیں تو پھر بتائیں کہ وزیروں، مشیروں اور افسرانِ شاہی کی نالائقی کی سزا انہی موثر حکمران طبقات کے ہاتھوں ستائے ہوئے بیمار، غریب اور نادار مزدوروں، بوڑھوں اور بچوں کو دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ مرے ہوئے کو مارنا کہاں کا انصاف ہے؟

بہت سارے لوگ تو آپ مسیحاؤں پر الزام بھی لگاتے ہیں کہ آپ لوگ ہڑتال کے ذریعے مریضوں کی زندگیوں کو حکومت کے ساتھ تنخواہ بڑھانے اور مراعات کی خاطر سودے بازی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ سارے ایسا کرتے ہونگے، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ بعض ڈاکٹرز کارِ مسیحائی پر اتنا ایمان رکھتے ہیں کہ اپنی جیب سے مریضوں کو دوائیں اور انجیکشن تک خرید کر دیتے ہیں۔

آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ آئے روز ہڑتال کرکے وارڈز کو بند کردینے، مریضوں کی دیکھ بھال سے لاتعلقی کا اظہار کرنے، مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے، پولیس والوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے، اسپتال کے دروازوں کو تالے لگا کر ان میں ایلفی ڈالنے وغیرہ جیسی کاروائیوں سے آپ کے مسائل تو تیزی سے حل نہیں ہو رہے ہیں، لیکن آپ کے مقدس پیشے کی بدنامی ضرور ہو رہی ہے۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ اول تو کوشش کیجئے کہ ہڑتال کی نوبت نہ آئے۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ آپ جائز مطالبات سامنے رکھیں اور دھیرے دھیرے اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اگر اس سے کام نہ بنے تو بھی ایسے طریقے استعمال کریں کہ جن سے آپ کے پاس امیدیں لے کر آنے والے غریبوں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑجائیں، یا پھر ان کی تکلیف میں اضافہ نہ ہو۔ آپ ہڑتال پر چلے جاتے ہیں تو ہزاروں مریضوں کو جان کے لالے پڑجاتے ہیں، اس لئے میرے خیال میں آپ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے مریضوں کی تیمارداری سے لاتعلقی کا اظہار کرنا آخری آپشن بھی نہیں ہونا چاہیے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مطالبات کے حق میں ڈاکٹروں کا ہڑتال کرنا جائز ہے؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

نور پامیری

نور پامیری

مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں۔ ایک بین الاقومی غیر سرکاری ادارے میں کمیونیکیش ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ سے ٹوئٹر @noorpamiri پر کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔