پھر بھی ہم مجرم ہیں (آخری حصہ)

جاوید چوہدری  ہفتہ 20 اکتوبر 2012
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

لیکن اس کا ہرگز ہر گز یہ مطلب نہیں میڈیا خامیوں سے پاک ہے‘ ہم میں بھی بے شمار خامیاں ہیں‘ ہم میں بھی کالی بھیڑیں ہیں۔

ہم بھی غلطیاں کرتے ہیں اور ہم میں بھی نالائق لوگ موجود ہیں مگر کیا چند لوگوں کی نالائقی‘ بلیک میلنگ یا خامی کی وجہ سے پورے شعبے کو گالی دینا ٹھیک ہوگا‘ ہم اگر موسیٰ گیلانی اور عبدالقادر گیلانی کی وجہ سے ملک کے تمام گیلانیوں کو حج اور ایفی ڈرین فروش کہیں تو کیاآپ کو اچھا لگے گا‘ ہم اگر مونس الٰہی اور محسن وڑائچ کی بنیاد پر ملک کے تمام وڑائچوں اورچوہدریوں کو کرپٹ کہیں‘ ہم جمشید دستی‘ حاجی پرویز‘ فیض ٹمن ‘ عبدالقیوم جتوئی ‘طارق تارڑ‘ حیات اﷲ ترین‘ دیوان عاشق اور نذیر احمد جٹ کی جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر تمام سیاستدانوں کو برا بھلا کہیں اور ہم اگر رمشا کیس میں محبوس خالد جدون کی وجہ سے ملک کے تمام پیش اماموں اور مولویوں کو برا کہیں تو کیا یہ ٹھیک ہو گا؟ اگر نہیں تو پھر چند لوگوں کی غلطی‘ بلیک میلنگ‘ نالائقی یا جہالت کی بنیاد پر پورے میڈیا کو گالی کیوں دی جاتی ہے؟ یہ درست ہے ہم میں خامیاں ہیں۔

ہم بھی نان ایشوز کو ایشوز بنا دیتے ہیں‘ ہم چیزوں کو ’’پلے اپ ‘‘ کر دیتے ہیں‘ ہم سیاستدانوں کا مذاق بھی اڑاتے ہیں اور سیریس صورتحال پر گانے لگا کر اسے نان سیریس بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے ‘ اس کے لیے آپ کو میڈیا کی تنظیم سمجھنا ہو گی۔ میڈیا کے دو حصے ہیں‘ ادارہ اور صحافی۔ اسکرین ہو یا اخبار کا صفحہ آپ کو اس کے فرنٹ پر ہم لوگ دکھائی دیتے ہیں‘ ہم واقعات رپورٹ بھی کرتے ہیں‘ اس پر تبصرہ بھی کرتے ہیں‘ کالم بھی لکھتے ہیں اور پروگرام بھی کرتے ہیں لیکن اس پروگرام نے کتنی دیر چلناہے‘ کب چلنا ہے اور کب نہیں چلنا ‘ کون سی خبر کس وقت نشر ہو گی اور کتنی بار دہرائی جائے گی۔

کس ایشو کو اسکرین پر کتنی دیر دکھایا اور چلایا جائے گااور اس کا کون سا اینگل اٹھایا جائے گا اور کس کو دبایا جائے گا اور یہ خبر کس وقت اسکرین سے غائب ہو جائے گی‘ اخبار میں کون سی خبر لیڈ لگے گی اور کس کو سنگل کالم جگہ ملے گی اور کون سی تصویر شایع ہو گی اور کون سی نہیں‘ اس کا فیصلہ میڈیا کی انتظامیہ کرتی ہے‘ یہ بھی درست ہے ہمیں اپنے کالموں اور ٹی وی کے کرنٹ افیئرز پروگرام میں آزادی ہوتی ہے‘ ہم موضوع اور مہمانوں کی چوائس میں خودمختار ہوتے ہیں‘ یہ اپنی مرضی سے لکھتے اور بولتے ہیں لیکن ان کی آزادی اور خود مختاری صرف اپنے پروگرام اور کالم تک محدود ہوتی ہے چنانچہ ہم صرف اپنے پروگرام اور کالم کے جوابدہ اور ذمے دار ہیں‘ ہمارے پروگرام کے علاوہ ٹی وی پر کیا چل رہا ہے اور ہمارے کالم کے ساتھ شایع ہونے والے دوسرے کالموں میں کیا چھپ رہا ہے ہم اس میں دخل نہیں دے سکتے ہیں۔

رپورٹرز کا معاملہ بھی یہی ہوتاہے‘ اخبارات اور ٹی وی کا رپورٹر صرف اپنی ’’بیٹ ‘‘کی خبریں دیتا ہے‘ یہ بھی دوسرے رپورٹرز پر اثرانداز نہیں ہو سکتا ۔ ملالہ کے ایشو کو سات دن تک دکھانے کا فیصلہ کسی اینکر یا رپورٹر نے نہیں کیا‘ یہ چینلز کی انتظامیہ کا فیصلہ تھا اور اس کے جوابدہ بھی یہ لوگ ہیں‘ آپ ہمارے پروگراموں کو دیکھئے‘ کیایہ ایشو کسی چینل کے کسی کرنٹ افیئرپروگرام پر ’’پلے اپ‘‘ ہوا ؟ کیا کوئی اینکراسے ہفتہ بھر اپنے پروگرام میں ڈسکس کرتارہا؟ اگر اس کا جواب ہاں ہو تو آپ اسے ضرور برا کہیں لیکن اگرہم نے اس ایشو پر ایک یا دو پروگرام کیے ہیں تو پھر ہم بے گناہ ہیں لیکن آپ اس کے باوجود ہم لوگوں کو برا بھی سمجھ رہے ہیں اور یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ بھی۔کیا یہ زیادتی نہیں۔

میڈیا پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے یہ بہت کمرشل ہے‘ یہ بے تحاشا اشتہارات دکھاتا ہے‘ یہ اعتراض بھی درست ہے لیکن آپ نے کبھی سوچا اس کی وجہ کیا ہے ؟ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا ایک مہنگا بزنس ہے‘ پاکستان میں صف اول کا نیوز چینل بنانے کے لیے دو سو کروڑ روپے اور ایک بڑا اخبار نکالنے اور چلانے کے لیے پچاس کروڑ روپے چاہئیں۔ پاکستان کے پانچ بڑے چینلز میںدو دو ‘ ڈھائی ڈھائی ہزار لوگ کام کر رہے ہیں‘ یہ لوگ ہر مہینے تنخواہ لیتے ہیں‘ ٹی وی کے آلات بھی بہت مہنگے ہیں اور یہ روزانہ مینٹینس بھی مانگتے ہیں اور پھر اس کے بعد دفاتر کے کرائے‘ بجلی کے بل‘ گیس کی پے منٹ‘ گاڑیاں اور بینکوں کی قسطیں ان کے لیے بھی رقم چاہیے اور کوئی سرمایہ دار صرف صحت مندانہ صحافت یا خدمت خلق کے لیے اپنا سرمایہ نہیں لگاتا‘ صحافت صرف ہم صحافیوں کے لیے جنون ہو سکتی ہے۔

یہ مالکان کے لیے انڈسٹری ہے اور کوئی انڈسٹری سرمائے کے بغیر نہیں چلتی چنانچہ اگر چینل کو اشتہار نہیں ملیں گے توسرمایہ نہیں آئے گا اوراگر سرمایہ نہیں آئے گا تو دفاتر کے کرائے‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول کے بل ادانھیں ہوں گے اور کارکنوں کو تنخواہیں نہیں ملیں گی اور اگر کارکنوں کو تنخواہیں نہیں ملیں گی تو میڈیا انڈسٹری نہیں چلے گی لہٰذا کون سرمایہ دار ہو گا جو اپنے دو ڈھائی ارب روپے اندھے کنوئیں میں پھینک دے۔ دنیا میں ایئرلائن حاجیوں کو مفت مکہ نہیں لے جاتیں‘ ڈاکٹر ایکسیڈنٹ میں زخمی شخص کا مفت علاج نہیں کرتا۔

دنیا میں کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے پچاس ساٹھ لاکھ روپے چاہئیں اور مسجدوں سے بھی بجلی کے بل وصول کیے جاتے ہیں لیکن آپ اس کمرشل دنیا میں چاہتے ہیں آپ کو اطلاع‘ علم اور تفریح مفت فراہم کی جائے‘ آپ انٹرنیٹ پر مفت ٹی وی دیکھیں‘ آپ کیبل آپریٹر کو مہینے کے دو سو روپے دے کر سو چینلز کے مزے لوٹیں‘ ایک کنکشن کی پے منٹ کر کے دس دس ٹی وی چلائیں اور آخر میں پوری میڈیا انڈسٹری کو گالی بھی دیں‘ کیا یہ ٹھیک ہو گا؟ آپ کیبل آپریٹر کو مہینے کے دو سو روپے دیتے ہیں۔

آج کے دور میں اس رقم میں صابن نہیں آتا‘ آپ اس سے سی ڈی 70 میں پٹرول نہیں ڈلوا سکتے لیکن آپ چاہتے ہیں آپ کے دو سو روپے میں ملک کے 70 ٹی وی چینلز بھی چلیں اور یہ اشتہارات بھی نہ چلائیں۔ آپ بتائیے یہ لوگ پھر کیا کریں؟ یہ میڈیا فرمز چلانے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں؟ یہ تنخواہیں اور اخراجات کہاں سے پورے کریں؟ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو گی پاکستان میں اس وقت کوئی میڈیا فرم پرافٹ میں نہیں جا رہی‘ میڈیا کا ملک کے معاشی حالات سے گہرا تعلق ہوتا ہے‘ ملک میں جب انڈسٹری‘ تجارت اور بزنس زوال پذیر ہوتا ہے تو میڈیا سب سے پہلے اس کا شکار بنتا ہے‘ ملک کے معاشی حالات آپ کے سامنے ہیں۔

پانچ سال سے ملک کی معیشت زمین بوس ہو چکی ہے چنانچہ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا شدید دبائو میں ہے‘ کمپنیوں نے اپنا ایڈورٹائزنگ بجٹ بھی کم کر دیا ہے چنانچہ معاشی دبائو کی وجہ سے میڈیا دو برسوں سے ڈائون سائزنگ کے عمل سے گزر رہا ہے‘ اخبارات کی حالت بھی بہتر نہیں لیکن صحافی ان حالات کے باوجود آپ کو خبر بھی دے رہے ہیں اور آپ کی گالیاں بھی کھا رہے ہیں‘ کیا یہ درست رویہ ہے! آپ دو گھنٹے کی فلم دیکھنے کے لیے تین سو روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ستر ٹی وی چینلز مفت دیکھتے ہیں اور ہمیں گالی بھی دیتے ہیں‘ آپ نے اگر آج تک کسی چینل‘ کسی پروگرام کے لیے ’’پے‘‘ کیا ہے تو آپ بے شک پوری میڈیا انڈسٹری کو جوتے مار لیں لیکن اگر ہم موت کے منہ میں بیٹھ کر آپ کو مفت اطلاع‘ علم اور تفریح دے رہے ہیں تو پھر آپ کو کم از کم ہمیں گالی نہیں دینی چاہیے۔

یہ کمرشل دور ہے‘ آپ کو اس دور میں داتا دربار اور بری امام کے مزار پر چڑھاوے کے لیے دیگ بھی خریدنا پڑتی ہے‘ آپ بازار سے قرآن مجید‘ جائے نماز اور تسبیح بھی خریدتے ہیں اور آپ کو کفن اور قبر کے لیے بھی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ یہ کمرشل دنیا کس قدر سنگدل ہے آپ اس کا اندازا ’’نیوز ویک‘‘ سے لگا لیجیے‘ یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا لیکن اشتہارات اور سرکولیشن کی کمی کے باعث یہ بند ہو رہا ہے‘31دسمبر کو نیوز ویک کا آخری شمارہ مارکیٹ میں آئے گا اوراس کے بعد صحافت کا 80 سال پرانا بین الاقوامی باب بند ہو جائے گا‘ کیوں؟ کیونکہ اس کی سرکولیشن چالیس لاکھ سے کم ہو کر پندرہ لاکھ رہ گئی ہے اور امریکی معیشت میں خسارے کی وجہ سے اس کے اشتہارات بھی آدھے رہ گئے ہیں چنانچہ نیوز ویک بند ہو رہا ہے ۔

آپ خود سوچئے اگر نیوز ویک کی انتظامیہ سرکولیشن اور اشتہارات کی کمی کے باعث دنیا کا سب سے بڑا ہفت روزہ بند کرنے پر مجبور ہوچکی ہے تو آپ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے توقع کرتے ہیں یہ آپ کو مفت سروسز بھی دے گی اور آپ کی گالیاں بھی کھائے گی‘ کیا یہ ممکن ہے؟حقیقت تو یہ ہے آپ اگر تیس سال کی عمر میں اپنے والد‘ اپنی والدہ کے ہاتھ پر اپنی کمائی نہ رکھیں‘ آپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو والدین آپ کو عاق کر دیتے ہیں یا اولاد چلا کر کہتی ہے ’’کھِلا نہیں سکتے تھے تو پیدا کیوں کیاتھا؟‘‘ مگر آپ میڈیا سے توقع کرتے ہیں یہ بھوکا بھی رہے‘ خطرے میں بھی رہے۔

آپ کو خبر اور اطلاع بھی دے اور آپ کی گالیاں بھی سنے‘کیا یہ رویہ ٹھیک ہے؟ یہ یقیناً درست نہیں ‘ آپ تربوز بھی خرید کر کھاتے ہیں لیکن آپ کو میڈیا مفت چاہیے اور آپ کو اس کے بعد اس سے نفرت کرنے اور اسے برا کہنے کا حق بھی چاہیے! کیا آپ نے کبھی ایک بار ‘ جی ہاں صرف ایک بار اپنے رویے پر غور کیا؟ شاید نہیں کیا کیونکہ آپ اگر ایک لمحے کے لیے سوچ لیتے تو آپ ہمیں کبھی برا نہ کہتے ‘ آپ ہمیں یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ بھی نہ سمجھتے۔ یقین کیجیے اگر ہم برے ہیں تو پھر اس معاشرے میں کوئی شخص اچھا نہیں اور اگر ہم یہودو نصاریٰ کے ایجنٹ ہیں تو پھر اس ملک میں کسی شخص کو حب الوطنی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔