کرکٹ میچ ہو تو قوم ورنہ ایک ہجوم

شاہ زیب خانزادہ  اتوار 21 اکتوبر 2012

وہ قومیں جو اپنے مسائل کا ادراک نہیں کر سکتیں ناکامی بہر حال ان کا مقدر بن کر رہتی ہے۔

مگر اس قوم کا کیا ہو کہ جس میں عوام اور عوام کے لیڈران سب ہی مسائل سے بخوبی آشنا ہوں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ ان مسائل کو حل کرنا ان کے ملک کی بقاء کے لیے ناگزیر ہے پھر بھی سب ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے بیان بازی میں مصروف ہوں۔ اس قوم کا کیا ہو کہ جہاں ایک لیڈر کسی مسئلے کا حل مشرق کہے تو دوسرا مغرب اور انھیں لیڈران کی پیروی کرتے ہوئے عوام بھی مسائل کے حل کے بارے میں اسی طرح تقسیم ہوں۔ سیاست ہی سیاست۔ ہر بڑے قومی مسئلے پر سیاست بس ایک کرکٹ ہی رہ گئی ہے کہ جس پر یہ قوم متفق ہوتی ہے۔

متحد نظر آتی ہے۔ کرکٹ میچ ہو تو کوئی فرقہ نہیں‘ کوئی لسانیت نہیں اور کوئی سیاسی بیان بازی نہیں ٹیم جیت جائے تو سب ایک ہو کر بھنگڑے ڈالتے ہیں اور ہار جائے تو بیک آواز کھلاڑیوں کو گالیاں نکالتے ہیں۔ شکر ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی بھی سیاسی جماعتوں سے منسوب نہیں ورنہ یقیناً اس پر بھی بھرپور قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہو رہی ہوتی۔ ابھی تو شاہد آفریدی برا کھیلے تو وہ شاہد آفریدی کی برائی اور مصباح الحق بری کپتانی کرے تو وہ مصباح الحق کی غلطی۔ پھر اگلا میچ‘ پھر وہی توقعات‘ پھر قوم متحد‘ پھر بھنگڑے یا پھر گالیاں۔ مگر اس ملک کی بدقسمتی کہ قومی مسائل پر سیاست کا ایسا کھیل ہو رہا ہے کہ مسائل کا ادراک ہوتے ہوئے بھی سیاسی جماعتیں تقسیم اور نتیجتاً قوم بھی تقسیم۔

سب متفق ہیں کہ معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے اور اس بات پر بھی تمام لیڈران متفق کہ اس کام کے لیے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنا ہو گا۔ مگر جب ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس لگانے کا وقت آئے تو کھل کر سیاست۔ نہ ٹیکس لگنے دیا نہ حل تجویز کیا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی نو فیصد‘ معیشت زبوں حالی کا شکار اور سیاست کا بازار گرم۔ سب کا نعرہ کہ امریکی ڈالروں سے نجات چاہیے۔ ہلیری کلنٹن پاکستان میں بیٹھ کر فرما گئیں کہ ہماری عوام کے ٹیکس سے امداد لیتے ہیں خود ٹیکس نہیں لگاتے مگر غیرت سیاست کے آگے سو جاتی ہے یا پھر شاید سلا دی جاتی ہے۔ بس یہ نعرہ لگانے کے لیے جاگ جاتی ہے یا جگا دی جاتی ہے کہ کشکول توڑنا ہے۔ اغیار کے ڈالروں سے نجات پانی ہے۔ جناب کیا کوئی آسمانی نسخہ اترے گا کشکول توڑنے کے لیے اگر نہ حکومت کو ٹیکس لگانے دیں گے اور نہ ہی کوئی حل تجویز کریں گے۔ نتیجہ کیا؟ انتہائی اہم قومی مسئلہ اور سیاسی لیڈران تقسیم تو بس عوام بھی تقسیم۔

سب متفق ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ مگر جنھیں علیحدگی پسند بلوچ لیڈران مظلوم لگتے ہیں انھیں بلوچستان میں ہونے والے پنجابی اور ہزارہ کمیونٹی کے قتل نہیں نظر آتے اور جو اس قتل عام پر آواز اٹھاتے ہیں انھیں بلوچ علیحدگی پسندوں کے مسائل نہیں سمجھ آتے۔ جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذمے دار ٹھہراتے ہیں انھیں سرداروں اور سیاسی حکومتوں کی ناکامیاں نہیں دکھتیں اور جو بلوچستان کے مسئلے پر سیاستدانوں کے نقاد ہیں انھیں لگتا ہے کہ گویا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کارنامے جو کہ بہر حال بلوچستان کے مسئلے کو اس نوبت تک پہنچانے کی بڑی وجہ ہیں بالکل بری الذمے ہیں۔ نتیجہ کیا؟ انتہائی اہم قومی مسئلہ اور سیاسی لیڈران تقسیم تو بس عوام بھی تقسیم۔

سب متفق ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ چالیس ہزار پاکستانیوں کی جانیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اس اہم مسئلے کا ہی تحفہ ہے۔ مگر سیاست کی انتہا دیکھئے۔ کسی کے لیے شمالی وزیرستان آپریشن ناگزیر ہے تو کسی کے لیے الیکشن ملتوی کرنے کی سازش‘ کسی کے نزدیک یہ جنگ اپنی ہے تو کسی کے نزدیک امریکا کی۔ کسی کے نزدیک آپریشن ہی مسئلے کا واحد حل ہے تو کسی کے نزدیک مذاکرات۔ آپریشن کی بات کرنے والے یہ بتانے سے قاصر کہ کس گروپ کے خلاف آپریشن کرنا ہے اور کس گروپ کے خلاف آپریشن نہیں کرنا اور مذاکرات کی بات کرنے والے یہ نہیں بتا پا رہے کہ کس گروپ سے مذاکرات کرنے ہیں اور کس سے نہیں۔ کسی کی نظر میں ڈرون حملوں میں زیادہ تر دہشتگرد ہلاک ہوتے ہیں تو کسی کی نظر میں زیادہ معصوم شہری مارے جاتے ہیں۔

کوئی دلیل دیتا ہے کہ امریکا کے اس خطے سے جاتے ہی سارے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے تو کوئی یہ دلیل دیتا نظر آتا ہے کہ امریکا اس حال میں افغانستان کو چھوڑ کر چلا گیا تو وہی حالات ہوں گے جو نوے کی دہائی میں ہوئے تھے اور پاکستان مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ کسی کے لیے ملالہ یوسف زئی قوم کی بیٹی تو کسی کی نظر میں عافیہ صدیقی۔ اگر مشہور زمانہ گلوکارہ میڈونا ملالہ یوسف زئی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک کنسرٹ میں اپنے جسم پر ملالہ کا نام لکھ لے تو کسی کے لیے قابل تعریف اور کسی کے لیے قابل تنقید‘ کسی کے لیے انسانیت تو کسی کے لیے عریانیت۔ نتیجہ کیا؟ انتہائی اہم قومی مسئلہ اور سیاسی لیڈران تقسیم تو بس عوام بھی تقسیم۔

سب متفق ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ مگر کسی کی نظر میں حل کا طریقہ مذاکرات تو کسی کی نظر میں جہاد‘ کسی کی نظر میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی تو کسی کی نظر میں روگردانی۔ کسی کی نظر میں بھارت ماضی کا دشمن مگر مستقبل کا دوست مگر کسی کی نظر میں بھارت دائمی دشمن۔ نتیجہ کیا؟ انتہائی اہم مسئلہ اور سیاسی لیڈران تقسیم تو بس عوام بھی تقسیم۔

سب متفق ہیں کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور اس شہر میں امن و امان کا قائم ہونا ناگزیر ہے۔ مگر کسی کی نظر میں ذمے دار سیاسی جماعتیں تو کسی کی نظر میں کوئی بڑا لینڈ یاڈرگ مافیا اور طالبان۔ کسی کی نظر میں کراچی کو اسلحے سے پاک کر دیا جائے تو امن و امان قائم ہو جائے تو کسی کی نظر میں صرف کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے سے کچھ نہیں ہو گا اور ایسا کرنا ہے تو پورے ملک کو اسلحے سے پاک کیا جائے۔ کسی کی نظر میں مسئلے کا حل ایک اور فوجی آپریشن تو کسی کی نظر میں پولیس ہی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔

ایک سیاسی جماعت کا الزام کہ دوسری کے پاس عسکری ونگ ہے اور وہ قتل و غارت میں ملوث ہے تو دوسری کی بھی پہلی جماعت کے بارے میں یہی رائے۔ کسی کی نظر میں کراچی میں قتل و غارت کرنے والے دہشت گرد تو کسی کی نظر میں گرل فرینڈز اور بیویاں ‘ نتیجہ کیا؟ انتہائی اہم مسئلہ اور سیاسی لیڈران تقسیم تو بس قوم بھی تقسیم۔

بھلا مندرجہ بالا مسائل میں سے کوئی ایک مسئلہ بھی ایسا ہے کہ جس کا پاکستان میں کسی کو ادراک نہ ہو۔ کیا کوئی سیاسی لیڈر ایسا ہے کہ جو ان مسائل کو حل کرنے کی بات نہ کرتا ہو۔ جب مسئلے کے ادراک کا معاملہ ہو تو سب کا مؤقف ایک مگر جب حل کی بات آئے تو کوئی مشرق اور کوئی مغرب، ہر حل میں پوشیدہ سیاست اور کوٹ کوٹ کے بھری سیاسی پوائنٹ اسکورنگ۔ کیا ہم نے ایک ایسی قوم بننا ہے کہ جس کی دنیا آیندہ مثالیں دیں کہ بڑے عجیب لوگ تھے کہ اپنے تمام مسائل سے آشنا تھے مگر پھر بھی انھیں حل نہ کر کے اپنی بربادی کا سامان اکٹھا کر رہے تھے۔

عجیب لوگ تھے کہ جنہوں نے ایسے لیڈر بنائے کہ جن کے لیے سیاسی مفاد ہر قومی مفاد سے پہلے آتا تھا۔ عجیب لوگ تھے کہ جو صرف کرکٹ میچ کے وقت ایک قوم نظر آتے تھے مگر اہم قومی مسائل پر محض ایک ہجوم۔ لازمی ہے سیاسی لیڈران اپنے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک و قوم کا سوچیں۔ کہ ملک و قوم ہے تو سیاست بھی ہے ورنہ کونسی سیاست اور کونسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ۔ وگرنہ ساری دنیا کی کرکٹ ٹیموں سے التجا کریں کہ وہ صرف پاکستان سے کرکٹ کھیلیں۔ 365 دن کرکٹ میچز ہونگے تو ہم کبھی کبھی کیوں روزانہ ہی ایک قوم ہونے کا ڈرامہ کر لیا کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔