ڈرون حملوں میں98 فیصد افراد بیگناہ مارے گئے،امریکی صحافی

آئی این پی  اتوار 21 اکتوبر 2012
نومبر2009میں6خصوصی عدالتیں قائم کی گئی تھیں، اب تک6ہزاراہلکاروںکوجیل بھیجاگیا

نومبر2009میں6خصوصی عدالتیں قائم کی گئی تھیں، اب تک6ہزاراہلکاروںکوجیل بھیجاگیا

تہران / واشنگٹن: امریکا کے سینئر صحافی کان ہالینان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونیوالے98 فیصد افراد عام قبائلی ہیں۔

اس بات کو کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ڈرون حملوں میں عام شہری مارے نہیں جاتے اور خود امریکی بھی اس بات کو نہیں مان سکتے ۔

ایرانی ٹی وی سے گفتگومیں کان ہالینان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں پر تحقیقات کرنیوالے برطانوی صحافی سمیت استنفورڈ اور نیویارک کی یونیورسٹیوں نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں میں ہونیوالی ہر 50 ہلاکتوں میں سے صرف ایک شخص شدت پسند تھا جبکہ دوسرے سب عام قبائلی تھے۔

تحقیقاتی ٹیم میں شامل کلیو اسٹیفورڈ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کا نتیجہ صرف عام شہریوں کی ہلاکت نہیں ہے بلکہ ان حملوں سے علاقے میں شدید خوف وہراس کا ماحول بھی قائم ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔